ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نام ونسب: اسم گرامی: رملہ یا ہند۔لقب: ام المؤمنین۔کنیت: ام سلمہ۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: سیدہ ام سلمہ بنت   ابو امیہ حذیفہ ( بعض مؤرخین کےنزدیک سہیل ہے)  بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم بن لقیظہ بن مُرہ بن کعب تھا۔ قریش کی ایک شاخ ’’بنو مخزوم‘‘سے تعلق تھا۔۔ مکے کے دولت مند لوگوں میں سے تھے۔جو بڑے مخیر اور فیاض تھے سفر میں جاتے تو تمام قافلہ والوں کی کفالت خود کرتے اسی لئے آپ کا لقب ’’زاد الراکب‘‘ مشہور تھا۔ والدہ  کا سلسلہ نسب: ام سلسلہ  بنتِ عاتکہ بنت عامر  بن ربیعہ بن مالک۔سیدہ والد اور والدہ دونوں طرف سے’’قریشی‘‘ تھیں۔بعض تذکرہ نگاروں نےآپ کی والدہ عاتکہ کو جناب عبدالمطلب کی بیٹی اور سید عالمﷺ کی پھوپھی تحریر کیا ہے۔یہ صحیح نہیں ہے۔(ضیائے ازواج مطہرات:402/سیرتِ مصطفیٰ:664)

قبولِ اسلام: آپ رضی اللہ عنہا قدیم الاسلام تھیں۔

پہلانکاح:  ان کا نکاح پہلے حضرت ابوسلمہ عبداﷲ بن عبدالاسد سے ہوا تھاجو حضورﷺ کے رضاعی بھائی اور پھوپھی زاد تھے۔حضورﷺ کی پھوپھی برہ بنت عبدالمطلب کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں میاں بیوی اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی دامن اسلام میں آ گئے تھے اور سب سے پہلے ان دونوں نے حبشہ کی طرف  ہجرت کی پھر یہ دونوں حبشہ سے مکہ مکرمہ آ گئے اور مدینہ منورہ کی طرف فرمائی۔

دورِ ابتلاء:  شروعِ اسلام میں دیگر حضرات کی طرح یہ  بھی کفار مکہ کےظلم وستم کا نشانہ بنے۔جب  حضرت ابو سلمہ نے مدینۃ المنورہ  کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا اور اونٹ پر کجاوہ باندھا اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ اور اپنے فرزند سلمہ کو کجاوہ میں سوار کر دیا مگر جب اونٹ کی نکیل پکڑ کر حضرت ابو سلمہ روانہ ہوئے تو حضرت اُمِ سلمہ کے میکے والے بنو مغیرہ دوڑ پڑے اور ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم اپنے خاندان کی اس لڑکی کو ہر گز ہر گز مدینہ نہیں جانے دیں گے اور زبردستی ان کو اونٹ سے اتار لیا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو سلمہ کے خاندانی لوگوں کو بھی طیش آ گیا اور ان لوگوں نے غضب ناک ہو کر کہا کہ تم لوگ اُمِ سلمہ کو محض اس بنا پر روکتے ہو کہ یہ تمہارے خاندان کی لڑکی ہے تو ہم اس کے بچہ ’’سلمہ‘‘کوہرگزہرگزتمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے اس لئے کہ یہ بچہ ہمارے خاندان کا ایک فرد ہے۔ یہ کہہ کر ان لوگوں نے بچہ کو اس کی ماں کی گود سے چھین لیا مگر حضرت ابو سلمہ نے ہجرت کا ارادہ ترک نہیں کیا بلکہ بیوی اور بچہ دونوں کو چھوڑ کر تنہا مدینہ منورہ چلے گئے۔

 حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر اوربچے کی جدائی پر صبح سے شام تک مکہ کی پتھریلی زمین میں کسی چٹان پر بیٹھی ہوئی تقریباً سات دنوں تک زارو قطار روتی رہیں ان کا یہ حال دیکھ کر ان کے ایک چچا زاد بھائی کو ان پر رحم آ گیا اور اس نے بنو مغیرہ کو سمجھا بجھا کر یہ کہا کہ آخر اس مسکینہ کو تم لوگوں نے اس کے شوہر اور بچے سے کیوں جدا کر رکھا ہے؟ تم لوگ کیوں نہیں اس کو اجازت دے دیتے کہ وہ اپنے بچہ کو ساتھ لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی جائے۔ بالآخر بنو مغیرہ اس پر رضامند ہو گئے کہ یہ مدینہ چلی جائے۔ پھر حضرت ابوسلمہ کے خاندان والے بنو عبدالاسد نے بھی بچے کو حضرت اُمِ سلمہ کے سپرد کر دیا اور حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پر سوار ہو گئیں اور اکیلی مدینہ کو چل پڑیں مگر جب مقام ’’تنعیم‘‘میں پہنچیں تو عثمان بن طلحہ سے ملاقات ہوگئی جو مکہ کا مانا ہوا ایک نہایت ہی شریف انسان تھا اس نے پوچھا کہ اے اُمِ سلمہ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں اپنے شوہر کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔ اس نے کہاکہ کیا تمہارے ساتھ کوئی دوسرا نہیں ہے؟ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے درد بھری آواز میں جواب دیا کہ نہیں میرے ساتھ اﷲ اور میرے اس بچہ کے سوا کوئی نہیں ہے۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ کی رگ شرافت پھڑک اُٹھی اور اس نے کہا کہ خداکی قسم! میرے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ تمہاری جیسی ایک شریف زادی اور ایک شریف انسان کی بیوی کو تنہا چھوڑ دوں۔ یہ کہہ کر اس نے اونٹ کی مہار اپنے ہاتھ میں لے لی اور پیدل چلنے لگا حضرت اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ خدا کی قسم! میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ شریف کسی عرب کو نہیں پایا۔ جب ہم کسی منزل پر اترتے تو وہ الگ کسی درخت کے نیچے لیٹ جاتا اور میں اپنے اونٹ کے پاس سو رہتی۔ پھر روانگی کے وقت جب میں اپنے بچہ کو گود میں لے کر اونٹ پرسوارہو جاتی تو وہ اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتا۔ اسی طرح اس نے مجھے قبا تک پہنچا دیا اور وہاں سے وہ یہ کہہ کر مکہ چلا گیا کہ اب تم چلی جاؤ تمہارا شوہر اسی گاؤں میں ہے۔ چنانچہ حضرت اُمِ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس طرح بخیریت مدینہ منورہ پہنچ گئیں۔یہ دونوں میاں بیوی عافیت کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہنے لگے مگر 4 ہجری میں جب ان کے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا (زرقانی جلد۳ ص۲۳۹)

شرفِ ام المؤمنین: حضرت ابوسلمہ کےانتقال کےبعد ماہ شوال 4 ہجری میں حضور ﷺنے ان سے نکاح فرما لیا اور یہ اپنے بچوں کے ساتھ کاشانہ نبوت میں رہنے لگیں اور ام المؤمنین کے معزز لقب سے سرفراز ہو گئیں۔(امہات المؤمنین:41)

سیرت وخصائص: حضرت بی بی ام سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عقل و فہم کے کمال کا بھی ایک بے مثال نمونہ تھیں۔ امام الحرمین کا بیان ہے کہ میں حضرت ام سلمہ کے سوا کسی عورت کو نہیں جانتا کہ اس کی رائے ہمیشہ درست ثابت ہوئی ہو۔ صلح حدیبیہ کے دن جب رسول اﷲﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ اپنی اپنی قربانیاں کرکے سب لوگ احرام کھول دیں اور بغیر عمرہ ادا کئے سب لوگ مدینہ واپس چلے جائیں کیونکہ اسی شرط پر صلح حدیبیہ ہوئی ہے۔ تو لوگ اس قدر رنج و غم میں تھے کہ ایک شخص بھی قربانی کے لئے تیار نہیں تھا ۔حضورِ اقدس ﷺ کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اس طرزِ عمل سے روحانی کوفت ہوئی اور آپ نے معاملہ کا حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تذکرہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ یارسول اﷲ!ﷺآپ کسی سے کچھ بھی نہ فرمائیں اورخوداپنی قربانی ذبح کرکے اپنا احرام اتار دیں۔ چنانچہ حضور ﷺنے ایسا ہی کیا یہ دیکھ کرکہ حضور ﷺنے احرام کھول دیا ہے سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم مایوس ہو گئے کہ اب حضور ﷺ صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ہر گز ہر گز نہ بدلیں گے اس لئے سب صحابہ نے بھی اپنی اپنی قربانیاں کرکے احرام اتار دیا اور سب لوگ مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔حسن و جمال اور عقل و رائے کے ساتھ ساتھ فقہ و حدیث میں بھی ان کی مہارت خصوصی طور پر ممتاز تھی۔ تین سو اٹھتر حدیثیں انہوں نے رسول اﷲ ﷺ سے روایت کی ہیں اور بہت سے صحابہ و تابعین حدیث میں ان کے شاگرد ہیں اور ان کے شاگردوں میں حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بھی شامل ہیں۔

ایک بار جبرئیل علیہ السلام دحیہ کلبی کی صورت میں نبی مکرمﷺ سے ملنے آئے ۔حضرت ام سلمہ پاس تھیں۔کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ رخصت ہوئے تو آپ نے حضرت ام سلمہ سے پوچھا: یہ کون تھے؟ ان کا جواب تھا: دحیہ۔ فرماتی ہیں: مجھے بالکل ایسا ہی لگا تھا، لیکن جب آپ نے ان سے ہونے والی گفتگو کو جبریل علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا تو مجھے معلوم ہوا(بخاری،رقم3634)

حضرت ام سلمہ کے بیٹے عمر جو آپﷺ کے پاس رہتے تھے،بیان کرتے ہیں: جب اﷲ کایہ فرمان’’اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللہُ لِیُـذْھِبَ عَنۡکُمُ الرِّجْسَ اَہۡلَ الْبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیۡرًا ﴿ۚ۳۳﴾ترجمہ کنزالایمان:اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب ستھرا کردے ۔(سورت الاحزاب:33) حضرت ام سلمہ کے گھر میں نازل ہواتو رسول اﷲ ﷺنے حضرت فاطمہ،حضرت علی،حضرت حسن اورحضرت حسین کو بلاکران پر چادر اوڑھائی ۔حضرت علی پیچھے کھڑے تھے ، ان پر بھی چادر ڈالی۔پھر فرمایا:اے اﷲ، یہ میرے اہل بیت ہیں۔اے اﷲ، ان سے آلودگی دور کر کے انھیں خوب پاک کر دے۔حضرت ام سلمہ نے کہا:اﷲ کے نبی، میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ آں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو بھی چادر میں داخل کر لیا۔(مسندامام  احمد : 26550)

حضرت حسن بصری سیدہ کے رضاعی بیٹے:آپ کی والدہ ماجدہ حضرت امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ تھیں، اِس لیے آپ نے بھی ان کو آغوشِ عاطفت میں پرورش پائی، حالتِ شیر خوارگی میں اگر کبھی آپ کی والدہ صاحبہ کسی کام میں ہوتیں تو حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے پستانِ مبارک آپ کے منہ میں دے دیتیں، بقدرتِ خدا ان سے چند قطرات دودھ کے آپ کے حلق مبارک میں گرتے اور آپ کی تسلّی و تسکین ہوجاتی۔ (مسالک السّالکین جلد اوّل ص 271 ) اسی طرح سیف اللہ حضرت خالد بن ولید﷜آپ کےچچا زاد بھائی تھے۔(ضیائے ازاوج مطہرات:414)

تایخِ وصال: امہات المومنین میں سے حضرت ام سلمہ نے سب سے آخر میں نوے(یا چوراسی) سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی تاریخ وفات شوال یا رمضان  59ھ بھی بتائی گئی ہے، تاہم عام خیال یہی ہے کہ آپ 3/ربیع الاول61/62ھ میں فوت ہوئیں جب سیدنا امام حسین﷜ کی شہادت کی خبر آ چکی تھی اور یزید نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔مدینہ کی گورنری مروان بن حکم (یا ولید بن عتبہ ) کے پاس تھی۔ذہبی کہتے ہیں کہ سیدنا حسین کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام سلمہ پر غشی طاری ہو گئی۔ انھوں نے قاتلین حضرت حسین پر لعنت ملامت کی پھر وہ مغموم رہنے لگیں اور اسی کیفیت میں ان کی وفات ہوئی۔ فرماتی تھیں :میں نے جِنّ عورتوں کو حسین کا مرثیہ کہتے سناہے۔ ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔حضرت ام سلمہ کے بیٹے حضرت سلمہ ،حضرت عمر اور ان کے بھتیجے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ قبر میں اترے ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی، جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔

ماخذ ومراجع:  مدارج النبوت۔ضیائے ازواج النبی۔امہات المؤمنین۔سیرت مصطفیٰ۔حدائق الاصفیاء۔

مزید

تجویزوآراء