حضرت امُ المومنین سیدہ میمونہ

حضرت امُ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

 نام ونسب: اسمِ گرامی:آپ کانام  بَرّہ تھا۔آپ ﷺ نے میمونہ رکھا۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:میمونہ بنتِ حارث بن خزن بن بجیر بن ھرم بن رویبہ بن عبد اللہ بن ہلال بن عامر  بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان بن مضر بن نزار ۔والدہ  کا نام ہند بنت  عوف تھا۔ حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی والدہ ""ہند بنت عوف""کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ دامادوں کے اعتبار سے روئے زمین پر کوئی بڑھیا ان سے زیادہ خوش نصیب نہیں ہوئی کیونکہ ان کے دامادوں کی فہرست میں مندرجہ ذیل ہستیاں ہیں۔

(۱) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم (۲) حضرت ابوبکر (۳) حضرت علی(۴)حضرت حمزہ(۵) حضرت عباس(۶)حضرت شداد بن الہاد۔رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ سب کے سب بزرگوار ""ہند بنت عوف"" رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے داماد ہیں۔ ھند بنت عوف کی دوسری خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کی دوبیٹیاں یکے بعد دیگرے حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے عقد میں رہیں۔ (1)(زرقانی جلد۳ ص۲۵۱ و مدارج جلد۲ ص۴۸۴)

شرفِ نکاح:حضورﷺ 7 ھ  میں عمرۃ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو یہ بیوہ ہو چکی تھیں حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کے بارے میں حضور ﷺ سے گفتگو کی اور آپ نے ان سے نکاح فرما لیا اور عمرۃ القضاء سے واپسی پر مقام ""سرف"" میں ان کو اپنی صحبت سے سرفراز فرمایا۔    جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی طرف سے انہیں نکاح کا پیام ملا وہ اونٹ پر سوار تھیں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا: اونٹ اورجواس پرہے اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے لئے ہے۔ (التفسیر القرطبی،الجزء الرابع عشر، الاحزاب:۵۰،ج۷،ص۱۵۴)

   حضرت بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے کل چھہتر حدیثیں مروی ہیں جن میں سے سات حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں اور ایک حدیث صرف بخاری میں ہے اور ایک ایسی حدیث ہے جو صرف مسلم میں ہے اور باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔یہ حضور ﷺ کی آخری زو جہ مبارکہ ہیں ان کے بعد حضورِ اقدس ﷺ نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا ان کے انتقال کے سال میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔ مگر قول مشہور یہ ہے کہ انہوں نے   51 ھ میں بمقام ""سرف"" وفات پائی جہاں رسول اﷲ ﷺ نے ان سے زفاف فرمایا تھا۔ ابن سعد نے واقدی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے   61ھ میں وفات پائی اور ابن اسحاق کا قول ہے کہ 63ھ  ان کے انتقال کا سال ہے۔ واﷲ تعالیٰ اعلم۔

    ان کی وفات کے وقت ان کے بھانجے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما موجود تھے اور انہوں ہی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو قبر میں اتارا، محدث عطا ء کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے ساتھ حضرت بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے جنازہ میں شریک تھے۔ جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے بہ آواز بلند فرمایا کہ اے لوگو!یہ رسول اﷲﷺ کی بیوی ہیں۔ تم لوگ ان کے جنازہ کو بہت آہستہ آہستہ لے کر چلو اور ان کی مقدس لاش کو نہ جھنجھوڑو۔

عجیب اتفاق: یہ عجیب اتفاق ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح، زفاف اور وصال ایک ہی مقام پر واقع ہوا جسے "سرف" کہتے ہیں اور یہ مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے۔مسجِدِ تنعیم کے بالکل قریب ہے۔

ماخذومراجع: شریف التواریخ:جنتی زیور۔سیرتِ مصطفیٰ ﷺ۔

مزید

تجویزوآراء