سیّدنا قثمابن عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ

 

 بن ہاشم قریشی ہاشمی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازادبھائی تھے ان کی والدہ ام الفضل لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ تھیں۔وہ پہلی خاتون ہیں جو حضرت خدیجہ کے بعد مکہ میں اسلام لائیں یہ کلبی کاقول ہے۔عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کہتےتھے کہ ایک روز میں اورعبیداللہ اورقثم فرزندان عباس باہم کھیل رہے تھے اس طرف سےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر گزرے آپ نے فرمایااس بچہ کومیرےپاس لاؤ چنانچہ مجھ کوآپ نے اپنے آگے بٹھا لیااورفرمایاکہ قثم کولاؤ اوران کواپنے پیچھے بٹھالیاحضرت عباس کو عبیداللہ سے زیاد ہ محبت تھی مگر ان کو حضر ت نے نہیں بلایا۔زبیرنے ابواسحاق سے روایت کی ہے کہ کسی۱؎نے قثم سے پوچھاکہ علی کیوں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہوئے اورتم لوگ کیوں وارث نہ ہوئےقثم نے کہاکہ ہم سے سے پہلے اسلام لائے تھے اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر باش رہتے تھے لوگوں نے بیان کیاہے کہ یہ سوال کرنے والے عبدالرحمن ابن خالد تھےانھوں نے قثم سےپوچھا کہ کیاوجہ ہے کہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورجس قدرتقرب علی کو تھاعباس کو نہ تھاتوقثم نے وہ جواب دیاتھاجو اوپرمذکورہوا۔یہ قثم وہ شخص ہیں کہ سب سے آخر میں ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہواتھاآپ کی قبراقدس میں جولوگ اترے تھےان میں یہ بھی تھےاوریہ سب کے بعد نکلے تھے اس کو علی اورابن عباس نے بیان کیاہے۔ہمیں ابویاسر بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد ے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے میں حضرت عمرکے زمانہ میں حضرت علی ابن ابی طالب کے ہمراہ عمرہ کررہا تھاجب حضرت علی اپنے عمرہ سے فارغ ہوئے توکچھ لوگ عراق کے رہنے والے ان کے پاس آئے اورانھوں نے کہاکہ اے ابوالحسن ہم آپ سے ایک بات پوچھنے آئے ہیں چاہتے ہیں کہ آپ وہ بات ہم سے بیان کردیں حضرت علی نے کہاشاید تم سے مغیرہ بن شعبہ نے بیان کیاہے کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زیارت میں سب سے سابق القدم ہیں ان لوگوں نے کہاہم اسی کے متعلق آپ سے پوچھنے آئے ہیں حضرت علی نے کہاتویہ فضیلت قثم بن عباس میں ہے۔جب حضرت علی خلیفہ ہوئے توانھوں نے قثم بن عباس کومکہ کاعامل مقررکیایہ برابر اسی عہدہ پررہےیہاں تک حضرت علی شہیدہوگئےیہ خلیفہ کا قول ہے اورزبیر نے بیان کیاہے کہ ان کو مدینہ کا عامل بنایاتھاپھر قثم حضرت معاویہ کے زمانے میں سعید بن عثمان بن عفان کےہمراہ سمرقند چلے گئےتھےاوروہیں شہید ہوئے۔یہ قثم رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ہم شکل تھے۔ہمیں یحییٰ بن محمود بن سعد نے اجازۃًاپنی سندکے ساتھ ابوبکربن عاصم سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوبکربن ابی شیبہ نےبیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے اسمعیل بن علیہ نے عینیہ بن عبدالرحمن سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھےابن عباس وک جب ان کے بھائی قثم کی وفات کی خبرسنائی گئی تواس وقت وہ سفر میں تھے انھوں نے اناللہ واناالیہ راجعون پڑھااورراستہ سے ہٹ کر دورکعت نمازپڑھی اوران میں بہت دیر تک قعود کیاپھراپنی سواری پر یہ پڑھتےہوئے سوار ہوگئے واستعینوبالصبروالصلوۃ وانھالکبیرۃ الاعلی الخاشعینقثم نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔

۱؎یہ روایت صحیح نہیں ہے اہل اسلام کے نزدیک کوئی شخص انبیاکاوارث نہیں ہوتابلکہ ان کے علوم کے تمام امت بقدراپنی استعداد کے وارث ہوئی ہے اوراگروراثت سے وراثت مال دنیا مراد ہو تو وہ انبیاکے لیے قطعاً مفقود ہے ظاہراً یہ معلوم ہوتاہے کہ حدیث تصحیف ہوگئی ہے اصل لفظ قرب تھا جس کو راوی نے وارث سمجھاجیساکہ دوسری روایت سے واضح ہے کہ سوال تقرب سے تھانہ وراثت سے واللہ اعلم۔

(اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )

مزید

تجویزوآراء