سید اللہ رکھا قادری ضیائی

 حضرت سید اللہ رکھا قادری ضیائی اطال اللہ عمرہ

(مؤسس اعلیٰ انجمن ضیاء طیبہ کراچی)

محترم المقام قبلہ الحاج سید اللہ رکھا قادری ضیائی بن  سید عمر میاں  بن سید ابراہیم میاں بن سید جہانگیر میاں۔﷭۔ سادات ِ کرام کےچشم وچراغ ہیں۔قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی صاحب کی ولادت باسعادت یکم رجب المرجب1374ھ، مطابق  ماہ 2؍ مارچ؍1955ء کوشہر کراچی کے اولڈ سٹی ایریا گئو گلی میٹھادر میں ہوئی۔گھر کاماحول مذہبی تھا،گھر کےافراد دین سےمحبت کرنے والے اوردین پر عمل کرنےوالے،اور پھر بزرگانِ دین سےعقیدت مندی،بالخصوص امام اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں بریلوی﷫ سےعشق کی حد تک وارفتگی،تو شاہ صاحب کی طبیعت ابتدا سےہی مذہبی ماحول کی طرف راغب تھی۔تصلب فی المسلک، ہمدردی ِمسلک رضا ،اور فروغ ِمسلک  حق ،اوائل عمر میں اللہ جل شانہ نے آپ کےقلب میں نقش کردیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اوائل عمر میں جب اہل سنت وجماعت کی دعوت وتبلیغ  کی کوئی  باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت موجود تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل  سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس  عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔

ابتدائی تعلیم:

قبلہ سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ نےابتدائی تعلیم ِقرآن ِمجید،عارف باللہ پیر طریقت رہبر شریعت حضرت علامہ مولانا قاری محمد مصلح الدین صدیقی ﷫ سےحاصل کی۔قاری صاحب کے زہدوتقویٰ اورہمدردی مسلک ،اور ان کی مصلحانہ ومخلصانہ  تربیت نےسونے پہ سہاگہ والاکام کیا۔اسی طرح مسائل سیکھنے،اور شرعی معلومات کےلئے اپنےرفقاء کےہمراہ جن میں حضرت مولانا الیاس عطار قادری صاحب ، و دیگربھی ہوتےتھے،مفتیِ اعظم پاکستان خلیفۂ صدرالشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد وقارالدین ﷫ کی خدمت میں حاضر ہوتےتھے،اورفیضان ِ صدرالشریعہ ﷫ سےاپنےقلوب واذہان کومنور کرتےتھے۔

انجمن اشاعت اسلام کا قیام:

اہل سنت وجماعت کی کوئی اصلاحی جماعت نہیں تھی، جس کا فائدہ بد مذہبوں کی عالمگیر اورمنظم تبلیغی جماعت اٹھارہی تھی،جس کانشانہ سادہ لوح سنی مسلمان تھے،اور سنی ان کےظاہری لباس وحلیہ ،اور میٹھی باتوں سے متاثر ہوکر بدمذہب بن جاتےتھے۔یہ حالات اہل  سنت کےنظریاتی لوگوں کےلئےناقابل برداشت تھے،شاہ صاحب بھی ان حالات سےمتأثر ہوئے،اوراپنے چند احباب جن میں حضرت مولانا محمد الیاس  عطارقادری بھی تھے’’انجمن اشاعت ِاسلام‘‘کےنام سےتبلیغِ دین کےسلسلے میں تنظیم بنائی۔یہ حضرات مختلف علاقوں میں جاکر لوگوں کو بدمذہبوں کی گستاخیاں دکھاتے،اور ان کوبدمذہبوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے،احکام ِ دینیہ پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔

1970ءکو اس کا پہلا جلسہ  یوم رضاکے سلسلہ میں کاغذی بازار میں ہوا۔ جس کی صدرات قاری مصلح الدین صدیقی﷫، اور خطاب حضرت  شاہ تراب الحق قادری صاحب﷫ اور نظامت امیر دعوت اسلامی مولانا محمد  الیاس قادری صاحب زیدمجدہ نےکی۔ یہی وجہ ہےکہ جب دعوت اسلامی کی تشکیل میں اکابر جمع تھے،اور اس پر کام جاری تھا،تورئیس القلم حضرت مولانا ارشد القادری ﷫ نےاس  تنظیم کےامیر کےلئےنام طلب کیاتوحضرت مفتی وقارالدین ﷫ نےمولانا محمد الیاس قادری صاحب  کانام پیش کیا،اور فرمایا کہ یہ نوجوانوں کی ایک جماعت ہےپہلےاسی طرح کاکام حسبِ استطاعت انجام دےرہی ہے،اور ان میں جذبہ بھی ہے،تو ان کو’’انجمن اشاعت اسلام‘‘کی بدولت دعوت اسلامی  کاامیر مقرکیاگیا۔چند برسوں کے بعد یہی انجمن اشاعتِ اسلام’’جمعیت اشاعت اہل سنت‘‘کےنام سےموسوم ہوئی۔قبلہ شاہ صاحب تقریباً  سات سال تک اس کے صدر رہے۔آپ کی عصری تعلیم بی ۔اے ہے۔

نکاح :

آپ کا نکاح،  16؍فروری 1979ء کو حضرت قاری محمد مصلح الدین صدیقی ﷫ نے پڑھایا تھا۔

پہلا حج:

  1990ء میں والدہ ماجدہ اور اپنی رفیقہ حیات کےہمراہ کیا،اور ان کی دعاؤں سےخوب مستفیض ہوئے۔جبکہ ٹور آپریٹر کی حیثیت سے 1998 سے حج و زیارات  کا سلسلہ جاری ہے ۔

اسفار:

زیارات  ِعراق ، ترکی، ایران، انڈیا، عرب امارات، جرمنی، چین ، جاپان؛ شامل ہیں۔

شرفِ بیعت:

1970ء میں شیخ العرب والعجم قطب مدینہ حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین مدنی ﷫ (خلیفۂ اعلیٰ حضرت ﷫)سے بذریعہ خط شرفِ بیعت حاصل کی۔خلافت واجازت کا شرف بیہقی ِ وقت شیخ القرآن والحدیث حضرت علامہ مولانا منظور احمد فیضی ﷫ سے پایا۔جبکہ متفرق علماو مشایخ سے اوراد و وظائف و ۔۔۔۔

المؤذن حج و عمرہ:

جمعیت اشاعت اہل سنت کے تحت نور مسجد کی چٹائی پر حج وعمرہ سروسز کاآغاز(profit no) اور(no loss)کی بنیاد پرکیا،اللہ جل شانہ نےآپ کی سچی محنت،اورخلوص،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کےمہمانوں کی دعاؤں کی بدولت اس میں خوب برکتیں عطاء فرمائیں،اس وقت یہ منفردخصوصیات کاحامل ’’المؤذن حج وعمرہ سروسز‘‘ کےبابرکت نام سےموسوم ہے۔اس کی بدولت اللہ  تعالیٰ کے مہمانوں کی خدمت،اور اہل سنت وجماعت کےفروغ واشاعت اور حرمین طیبین میں شعائر اہل سنت ،اورسنی مسلمانوں کےعقائد وایمان کی حفاظت،اس کی اولین ترجیحات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے شاہ صاحب کواعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں سےخوب نوازاہے،یہی وجہ ہےکہ ’’حج  آر گنائزیشن‘‘ حکومتِ پاکستان  کی کمیٹی میں شامل ہیں،اورصوبہ سندھ کےحج گروپ تنظیم (HOUAP) میں جنرل سیکٹری  کی حیثیت سے بھی  خدمات انجام دیں ۔

رفاہِ عامہ:

سید اللہ رکھا قادری ضیائی زید مجدہ  ایک سماجی اوررفاہی شخصیت ہیں،سماجی کاموں  میں خوب حصہ لیتے ہیں،ملت اسلامیہ کےدکھ درد، اورغم کو محسوس کرتےہیں،اوران کےغم  میں شریک ہوتےہیں۔غریبوں کی مدد کرنا،ان کی کفالت کرنا، اجتماعی شادی بیاہ اوردیگر فلاحی  کاموں میں معاونت فرماتےرہتے ہیں۔ آپ کا اپنی برادری ’’واڈلا سید  جماعت‘‘ اور ’’ واڈلا سید والینٹر کورپس‘‘  کی ترقی وفلاح میں اہم کردار ہے،جو ایک عرصےتک یادرکھاجائےگا۔ پہلےوالینٹر کورپس کے آپ ’’جنرل سیکٹری‘‘ رہے، اوراس وقت  مجلس عاملہ سپریم کونسل کاحصہ ہیں۔آپ نےاپنی جماعت کے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ واڈلا سید جماعت کی اصلاح وترقی کےلئے راہنما اصول بنائےہیں،جس میں دین داری،مسلک حق کےساتھ وابستگی،دینی تعلیم،اورنوجوانانِ قوم  کوبےراہ روی  سےبچانا،شادی بیاہ،اور دیگر تقریبات میں انسدادِ فضول خرچی،برےرسومات وبدعات  وخرافات کی روک تھام کےقوانین شامل ہیں۔

انجمن ضیاءِ طیبہ کا قیام:

آپ کاسب سےبڑاکارنامہ ،اورباالخصوص اہل سنت وجماعت پر آپ کاسب سےبڑااحسان ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ کاقیام عمل میں لاناہے، جوجدیدذرائع ابلاغ کےاصولوں پرکاربندہے، ہر شخص جانتاہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی اورانٹرنیٹ کادوردورہ ہے، بدمذہب اس کوخوب استعمال کرکےنوجوان نسل کےایمان پر ڈاکہ ڈال رہےتھے،آپ نےبروقت ان کاسدباب کرتےہوئے اس طرف مثبت پیش رفت فرمائی۔الحمدللہ! اس وقت انجمن ضیاء طیبہ اہل سنت کاایک عظیم ادارہ ہے،جس میں پوری دنیاء کےعلماء ومشائخ تشریف لاکرآپ کےاس اقدام کوخراج تحسین پیش کرچکےہیں۔یہ سب حضرت قطب مدینہ مولانا ضیاء الدین مدنی ﷫ کافیض ِ پاک ہے،یہ ادارہ آپ کےاسم شریف کی نسبت سےمعنون ہے۔اس میں کثیر شعبہ جات مصروف عمل ہیں،قلیل عرصےمیں اتنی ترقی کرلیناآپ کی اعلیٰ تنظیمی صلاحیتیں،اورخلوص کاثمرہ ہے۔

ضیائی مدارس:

اس کےساتھ ساتھ ’’ضیائی مدارس‘‘ کاایک نیٹ ورک دین اسلام کےفروغ وترقی میں مصروفِ عمل ہے،جن میں کثیر طلباء علم کےنورسےاپنےسینوں کومنور کررہےہیں۔

اصلاحی دروس:

اسی طرح کراچی کےمختلف مقامات پر ’’دروسِ قرآن وحدیث،اورفقہ‘‘ کاسلسلہ  کامیابی کےساتھ جاری وساری ہے۔مختلف اہم موضوعات  پرکتب کی اشاعت اوران کی مفت تقسیم کی سعادت بھی حاصل ہے۔

عرسِ اعلیٰ حضرت وایام بزرگانِ دین:

عرسِ اعلیٰ حضرت﷫ ہرسال بڑی عقیدت واحترام سےمنعقد کرتےہیں،جس میں ملک بھر سےعلماء،ثناءخوان،اور مشائخِ عظام تشریف لاتےہیں،کراچی میں اپنی نوعیت کایہ ایک منفرد پروگرام ہوتا ہے۔ایک ایسی  پروقار تقریب ہوتی ہےجو اپنی مثال آپ ہے۔اس کےساتھ لنگرِ رضویہ کاوسیع اہتمام ہوتاہے،اور بالخصوص توشۂ اعلیٰ حضرت پر عمل کیاجاتاہے۔شرکاء ِ محفل اور مہمانانِ گرامی کونہایت  ہی عزت ووقار کےساتھ لنگرپیش کیاجاتاہے۔پنڈال میں علوم اعلیٰ حضرت کےبینرزآویزاں کرکےشرکاء کی معلومات میں اضافہ کیاجاتاہے۔الغرض اپنی نوعیت کاایک منفردپروگرام ہوتاہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، اہل بیت اطہار ، ازواجِ مطہرات، آئمہ شریعت و طریقت، مشائخِ کرام کےایام پر فاتحہ کا خصوصی اہتمام فرماتے ہیں۔ بعض اوقات عرب و عجم کےمشائخ کرام ان محافل کےمہمان ِ خصوصی ہوتے ہیں۔

قبلہ سید اللہ رکھا ضیائی قادری اطال اللہ عمرہ سےبندۂ ناچیز(فقیر تونسوی غفرلہ)کوکئی مرتبہ  ملاقات و زیارت کاشرف حاصل ہواہے۔ آپ نہایت،کریم، رحیم، حلیم،خلیق،ملنسار،معاملہ فہم اورمنکسرالمزاج شخصیت کے حامل ہیں،علماءِ کرام اور ساداتِ عظام کا بہت احترام کرتےہیں۔دین ِ اسلام اور اہل سنت کی زبوں حالی پر افسردہ رہتےہیں،اورمختلف موا قع پر اس کا نہایت دردبھرے لہجے اظہار فرماتےرہتے ہیں۔اپنے حلقۂ احباب کومسلک ِ حق کےفروغ وترقی کےلئےمحنت کی تلقین کرتےرہتےہیں۔بہت بزرگوں سےصحبت حاصل رہی اور ان سے فیض حاصل کیا ہے۔آپ جہاندیدہ اور وسیع تجربےکےمالک ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی تمام دینی خدمات کو شرف قبولیت عطافرماکرقبول ِ عام عطاء فرمائے،اور آپ کےمدارس اوربالخصوص انجمن ضیاء طیبہ کومزید ترقی وعروج عطاء فرمائے۔آپ کاسایہ اہل سنت پرتادیر قائم  ودائم رکھے۔آمین بجاہ النبی الامینﷺ۔

مزید

تجویزوآراء