شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی

شیخُ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب: آپ کا اسمِ گرامی محمد ہاشم، کنیت ابوعبدالرحمن ، القاب شیخ الاسلام ، شمس الملت والدین ، اورمخدوم المخادیم ہیں ۔ آپ کا شجرہ نسب اس طرح ہے۔ محمد ہاشم بن عبدالغفور بن عبدالرحمن بن عبداللطیف بن عبدالرحمن بن خیر الدین حارثی (رحمہم اللہ تعالیٰ)۔

تاریخِ ولادت:بروز جمعرات 10/ ربیع الاول1104ھ بمطابق 1292ء کو بٹھورہ شہر (ضلع ٹھٹھہ ، سندھ ) میں ہوئی ۔

تحصیلِ علم:ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد سے حاصل کی،صرف 6 ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کیا،باقی علو م کی تکمیل حضرت مخدوم محمد سعید اور مولانا محمد ضیاء الدین  سے کی ۔علومِ حدیث آپ نے مخدوم محمد معین ٹھٹھوی  سے حاصل کیے۔ تمام علوم وفنون 9 سال کے مختصر عرصے میں حاصل کیے۔

بیعت وخلافت:قطبِ ربانی سید سعد اللہ قادری  بن سید غلام محمد سورتی قادری علیہ الرحمہ (المتوفیٰ 1138ھ) کے  دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔حضرت نے آپکو خرقۂ خلافت عطا فرمایا۔

سیرت وخصائص:شیخ الاسلام مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم المخادیم ، سند الاقالیم ، ملجأ الفقھاء والمحدثین نسباحارثی (پنھور ) مسلکا حنفی ، مشربًا قادری اور مولدًا سندھی تھے ۔شیخ الاسلام علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی علم وفضل، معرفت وعرفان اور تصوف  وایقان کے بے تاج بادشاہ تھے۔حضرت مخدوم صاحب قدس سرہ العزیز کو علمی دنیا اور مذہبی تاریخ میں ایک خاص اہمیت اور عظمت حاصل ہے۔ وہ ذاتِ فرشتہ صفات ایک رحمت کا خورشید تھا جو خلقِ خداکو بہم  روشنی پہنچاتا تھا،اور رحمت کا ایک بادل تھا کہ دنیا اس عنایت کی بارش سے فیض حاصل کرتی تھی ۔ تقریبًا نصف صدی تک ان کی خانقاہ علم و فضل کا گہوارہ اور ارشاد وتلقین کا مرکز رہی ۔ ہزاروں تشنگان ِعلم نے وہاں آکر اپنی پیاس بجھائی اور سینکڑوں گم گشتگان علم نے وہاں آکر روشنی حاصل کی۔ آپ بتاریخ ۹، رجب المرجب بروز جمعرات ۱۱۳۶ھ مدینہ طیبہ میں سر کار دو عالم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے جس کو آپ نے بطور یادداشت ایک کتاب کے حاشیہ میں تحریر فرمایا۔ " بندہ روضۂ رسول اکرم ﷺ پر حاضر ہوا اور  صلوۃ وسلام کا نذرانہ پیش کیا تو سر کار دو عالم ﷺ نے اس حقیر کو جواب دیا اور فرمایا:"وعلیکم السلام یا محمد ھاشم التتوی۔" اس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ کو دربارِ رسالت مآب ﷺ میں کیا مرتبہ حاصل ہے۔حضر ت شیخ الاسلام قدس سرہ العزیز کی زندگی کا تخصص ہی عشق رسول اکرم ﷺ  تھا ۔ عشق رسالت مآ ب ﷺ آپ کو ورثہ میں ملا تھا ۔ جس کا اثر آپ کی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھا۔ آپ کا سب کچھ سنت رسولﷺ کے مطابق ہوتا تھا ۔ آپ سنت مطہرہ کا بہترین نمونہ تھے ۔آپ کی تعلیمات و ارشادات سے غیر مسلمین کی کثیر تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوئی۔اسی طرح سندھ کے عوام اہلِ  سنت  کے عقائد آپکی ذات ِ والا صفات سے محفوظ ہوئے۔ آپ نے اہلِ اسلام کیلئے تصانیف کا مفید ذخیرہ یاد گار چھوڑا ہے۔

وصال:بروز جمعرات 6/رجب المرجب1174ھ،بمطابق/1716ءکو آپکا وصال ہوا شہر مکلی ( ضلع ٹھٹھہ ) میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے۔

 

مزید

تجویزوآراء