امام حسن عسکری

امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ

نام ونسب: اسم گرامی: حسن بن علی۔کنیت:ابو محمد۔القاب: زکی،سراج،خالص،عسکری۔امام حسن عسکری  سے ہی  مشہور ہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت امام حسن عسکری بن امام محمد تقی بن امام محمد نقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن امام حسن بن علی المرتضی۔رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین۔آپ کی والدہ محترمہ ام وَلد تھیں۔ والدہ محترمہ کا اسم گرامی سوسن تھا۔(خزینۃ الاصفیاء قادریہ:119/سفینۃ الاولیاء:45)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 8/ ربیع الثانی 232ھ،مطابق 3/دسمبر846ء بروز پیر،مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:  جملہ حالات میں مثل اپنے آبائے کرام رضی اللہ عنہم کے تھے، اللہ تعالیٰ نے طفولیت میں ہی اِن کو ولایت و کرامت و کمال علم و عقل و فہم و فراست عطا فرمادیاتھا۔مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ وہ علوم لامتنا ہی جو خاندان اہل بیت کو آنحضرتﷺ سے ملے تھے ہر فرزند عالی مقام پر مسند امام پر بیٹھتے ہی فوراً منکشف ہوجاتےتھے۔آپ﷜اپنے وقت کےجید فقیہ اور عظیم محدث تھے۔(شریف التواریخ جلد اول:391)

بیعت وخلافت: آپ آئمہ اہل بیتِ اطہار میں گیارہویں امام اور حضرت امام محمد تقی﷜ کےخلیفہ ہیں۔

سیرت وخصائص: عارف حقائق اشیائےکمالی،مخصوص بعلوم حضرت رسالت پناہی،جگر گوشۂ مولا علی،حضرت امام حسن عسکری﷜، آپ﷜ علوم و اسرار خاندان اہل بیت کےعارف ،اور رسول اللہﷺ کےعلمی و  خاندانی وارثِ کامل  تھے۔خاندانی نجابت کےساتھ علمی وجاہت میں اپنی مثال آپ تھے۔آپ کے چہرے سے تقویٰ وعبادت کا نور عیاں تھا۔دیکھنے والا دیکھتے ہی محسوس کرلیتا تھا کہ امام الانبیاء خاتم النبینﷺ کے عظیم خاندان کا عظیم فرد ہے۔بچپن سے ہی اللہ جل شانہ نے  آپ کو کمالات وکرامات سے نواز دیا تھا۔زمانے کےعام بچوں سے بالکل مختلف تھے۔شریف التواریخ میں ہے:  کہ زمانہ لڑکپن میں  حضرت بہلول دانا ﷫ نے دیکھا کہ اور لڑکے کھیل رہے ہیں، اور یہ پاس کھڑے رو رہے ہیں،حضرت  بہلول ﷫ نے کہا میاں صاحبزادے! میں تمہیں کھیلنے کی چیز  لےکر دیدیتا ہوں تم بھی ان کے ساتھ کھیلو۔(حضرت بہلول دانا یہ سمجھے کہ شاید ان کےپاس کھیلنے کی کوئی چیز نہیں ہے اس لئے یہ نہیں کھیل رہے)۔حضرت امام حسن عسکری نے فرمایا  اے دیوانہ! ہم کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ علم و عبادت کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ بہلول﷫ نے کہا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا؟فرمایا: افحسبتم انما خلقنٰکم عبثًا وّانّکم الینا لا ترجعون۔(المؤمنون) بہلول ﷫ نے نصیحت چاہی، انہوں نے چند اشعار پڑھے، اور بیہوش ہوکر گِر پڑے، جب افاقہ ہوا، بہلول﷫نے کہا ابھی تو آپ بچے ہیں، کوئی خطا نہیں کی،اِس قدر غم کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا میں نے اپنی ماں کو آگ سُلگاتے دیکھا ہے، جب تک چھوٹی لکڑیاں نہیں جلاتیں بڑی لکڑیوں کو آگ نہیں لگتی، اِسی طرح مجھے بھی خوف ہے کہ کہیں جہنم کی چھوٹی لکڑی نہ بنوں۔(شریف التواریخ جلد اول:391)

جن کی بچپن میں ایسی تربیت کی گئی ہو،اور پھر جس میں رسول اللہﷺکا نور اور جانشین بھی ہو اس کےکمالات کیا کہنے۔آپ سے اس قدر کرامات کا ظہور ہو اکہ احاطۂ تحریر سے باہر ہے۔ بالخصوص بے انتہاء سخی تھے۔اللہ جل شانہ نے  اپنے حبیب پاک ﷺکو فرمایا ہے: واما السائل فلا تنھر۔کہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹانا،تیرے رب کے خزانے تمھاری ملکیت ہیں،جس کو جتنا چاہو عطاء کردو۔حضرت امام حسن عسکری﷜ اپنے جد اعلیٰ کی سخاوت کا  کامل نمونہ تھے۔جو سائل آیا کبھی خالی نہ بھیجا۔

محمد بن علی ابراہیم بن موسیٰ جعفر فرماتے ہیں:کہ ایک دفعہ معیشت بڑی مشکل ہوگئی۔ میرے باپ نے مجھے کہا کہ آؤ حضرت حسن بن علی﷜ کے پاس چلیں۔ وہ کرم و سخا میں بڑے مشہور ہیں۔ وُہ گھر سے نکل کر حضرت کے انتظار میں راستے میں کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا: اگر امام مجھے پانچ سو درہم دے دیں تو دو سو روپے کے کپڑے بنالوں گا۔ ایک سو کا آٹا خرید لُوں گا۔ ایک سو روپیہ سے متفرق اشیاء خرید لوں گا۔ ایک سو روپیہ سے خچر خرید کر کوہستان کے علاقہ میں چلا جاؤں گا۔ امام صاحب کے آنے میں کچھ دیر ہُوئی تو خود ہی امام کے دروازے پر جاپہنچے اور کسی سے گفتگو کیے بغیر دروازے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اسی اثنا میں آپ کا ایک خادم باہر آیا اور کہنے لگا علی ابن ابراہیم اور ان کے صاحبزادے اگر باہر ہوں تو اندر آجائیں۔ ہم اندر گئے اور سلام کیا۔ آپ نے بوچھا: علی! بتاؤ تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے اور اتنی مدت ہوئی تمہیں ہمارے پاس آنے کو کون سی چیز مانع تھی۔ میں نے بتایا کہ سیّد سے شرم آتی تھی کہ اس تنگ دستی میں آپ کے پاس آتا۔ ملاقات کے بعد ہم اٹھے اور باہر نکلے ہی تھے کہ آپ کا ایک خادم پیچھے سے آیا اور پانچ سو روپیہ کی تھیلی ہمیں دے کر کہا۔ دوسو کے کپڑے بنا لینا۔ ایک سو کا آٹا، ایک سو کے مختلف اخراجات اور ایک سو کا خچر خرید لینا تاکہ کوہستان جانے میں آسانی ہو۔ لیکن حضرت امام نے فرمایا کہ کوہستان نہ جانا بلکہ فلاں جگہ جانا تاکہ وہاں زیادہ فائدہ ہو۔ میں حضرت کے حکم کے مطابق وہاں ہی گیا۔خزینۃ الاصفیاء قادریہ: 119)

ایک شخص نے بتایا کہ میں خلفائے عباسیہ کے زمانے میں ناحق قید میں پڑا تھا۔ میں قیدوبند کی صعوبتوں سے تنگ آگیا۔ میں نے ناچار ہوکر حضرت امام کے پاس شکایت لکھی۔ میں نے چاہا کہ اپنی تنگ دستی کی داستان بھی لکھوں لیکن مجھے شرم آئی اور میں نے نہ لکھا۔ آپ نے میرے جواب میں تحریر کیا آج تم ظہر کی نماز اپنے گھر پڑھو گے۔ چنانچہ ظہر سے پہلے ہی مجھے قید خانے سے رہا کردیا گیا۔ میں گھر گیا، نماز پڑھی ہی تھی کہ مجھے حضرت امام کا ایک خادم آتا دکھائی دیا۔ میں استقبال کےلئے آگے بڑھا۔ اس نے مجھے ایک تھیلی اور رقعہ دیا۔ اس میں لکھا تھا کہ تم نے شرماتے ہوئے مجھے کچھ نہ لکھا۔ یہ روپے لے لو، خرچ کرو اور پھر ضرورت ہو تو لکھنا۔(سفینۃ الاولیاء:46)

ایک شخص نے اپنا واقعہ  اس طرح بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت امام کی خدمت میں ایک خط لکھا اور پوچھا: ’’مشکٰوۃ‘‘ کے معنی کیا ہیں؟ میری بیوی حاملہ تھی۔ میں نے التجائے دُعا کی اور ہونے والے بچّے کا نام بھی دریافت کیا۔ آپ نے میرے خط کے جواب میں تحریر کیا کہ مشکٰوۃ قلبِ رسول پاکﷺ ہے لیکن میرے بیٹے یا بیوی کے متعلق کُچھ نہ لکھا سوائے اس عبارت کے جو رقعہ کے آخر میں لکھی تھی اعظم اللہ اجرک واخلف علیک۔ چنانچہ میری بیوی کے ہاں مُردہ بچّہ پیدا ہُوا۔ اس کے بعد دوسری بار حاملہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے بچّہ دیا۔(خزینۃ الاصفیاء قادریہ:121)

تاریخِ وصال: آپ کا وصال  بروز جمعۃ المبارک،8/ربیع الاول260ھ مطابق 29/دسمبر873ءکو  حاکم ِبغداد کے اشارے سے معاندین اہل بیت نے کھانے میں زہر دے دیا اور اسی سے آپ کی شہادت ہوئی۔(خزینۃ الاصفیاء:122)۔ جس دن  آپ  کا انتقال ہوا تمام سامرہ میں ہل چل پڑگئی، شور  برپا ہوا، غم میں دکانیں بند ہوگئیں، اور سب خاص و عام جنازے میں شریک  ہوئے۔سرمن رائے المعروف سامرہ (عراق)میں اپنے والدِ بزرگ وار حضرت امام علی نقی ﷜کے پہلو میں دفن ہوئے۔

ماخذ ومراجع: خزینۃ الاصفیاء قادریہ۔بارہ امام۔سفینۃ الاولیاء۔شریف التواریخ جلد اول۔

مزید

تجویزوآراء