حضرت سید عبدالرزاق جیلانی﷫

حضرت  سید  عبدالرزاق   جیلانی﷫

نام ونسب: اسم گرامی: سید عبدالرزاق۔کنیت:عبدالرحمان،ابوالفرح۔لقب: تاج الدین۔سلسلہ نسب: قطب ربانی شہباز لامکانی قندیل نورانی حضرت سیدنا محی الدین شیخ عبدالقادر جیلانی ﷜ کےفرزند ارجمند ہیں۔

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 18/ذیقعد 528ھ مطابق  9/ستمبر 1134ء کوبغداد میں ہوئی۔

تحصیل علم:  اپنے والد بزرگوار سے تفقہ حاصل کیا، اور حدیث سنی، اس کے علاوہ ابو الحسن محمد بن الصّائغ ، قاضی ابو الفضل محمد الاموی،ابو القاسم سعید بن البَنّا ، حافظ ابو الفضل محمد بن ناصر ، ابو بکر محمد بن الزّاغوانی، ابو المظفر محمد الہاشمی، ابو المعانی احمد بن علی السّمین ، ابو الفتح محمد بن البطر رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ شیوخ سے بھی حدیث سنی۔ صاحب روض الزّاھر کا بیان ہے کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ و ابن النجار رحمۃ اللہ علیہ و عبد الطیف رحمۃ اللہ علیہ و تقی البلدانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ بہت سے مشاہیر نے ان سے روایت کی ہے۔ اور شیخ شمس الدین عبد الرحمٰن رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ کمال عبد الرحیم رحمۃ اللہ علیہ اور احمد شیبان رحمۃ اللہ علیہ اور خدیجہ بنت شہاب رحمۃ اللہ علیہ اور اسمٰعیل عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کو انہوں نے اجازتِ حدیث دی ہے۔ وقت کےبہت بڑے محدث  اور نامور مدرس تھے۔

بیعت وخلافت: اپنے والد گرامی غوث صمدانی حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی﷜ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے،اور سلسلہ عالیہ قادریہ میں خلافت سے مشرف ہوئے۔

سیرت وخصائص:  محدث،مفسر،متکلم،فقیہ،جامع شریعت وطریقت،جامع علوم عقلیہ ونقلیہ حضرت تاج الدین عبدالرزاق جیلانی بن سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی علیہماالرحمہ۔آپ علیہ الرحمہ مفتی ِعراق ،اورجامع علوم عقلیہ ونقلیہ تھے۔تمام عمر درس وتدریس وعظ ونصیحت میں مصروف رہے۔ثقاہت و صداقت، تواضع و انکساری میں مشہور تھے۔صبر و شکر و اخلاق حسنہ و عفت شعاری میں معروف تھے۔ زہد و خاموشی اِن کا شیوہ تھا، عموماً لوگوں سے کنارہ کش رہتے، سوائے ضرورت دینی کے گھر سے نہ نکلتے۔ کتاب جلاء الخواطر ملفوظات حضرت غوث الاعظم ﷫ انہوں نے ترتیب دی ہے۔

ایک مرتبہ آپ اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم ﷫ کی محفل میں شریک تھے۔اچانک آپ نے اوپر کی طرف نگاہ اٹھائی تو ڈر گئے حضرت غوث الاعظم ﷫ نے فرمایا ڈرو مت یہ رجال الغیب ہیں ،اور تم بھی انہیں میں سے ہو۔

آپ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں اپنے والد گرامی حضرت غوث الاعظم﷫ کےساتھ نماز جمعہ پڑھ کر آرہے تھے، اور میرے دو بھائی بھی ساتھ تھے۔خلیفہ ٔ بغداد کےلئے شراب کےمٹکے اس کےسپاہی لے کر جارہےتھے۔آپ نے انہیں روکا وہ نہیں رکے بلکہ سواری اور تیز کردی آپ نےسواری سےفرمایا رک جا وہ رک گئی۔ملازمین درد قولنج میں تڑپ نےلگے،جب انھوں نےمعافی طلب کی تو آپ نےمعاف فرمادیا اور شراب کے مٹکوں کو سرکے میں تبدیل کردیا۔پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لےگئے۔جب خلیفہ تک یہ با ت پہنچی تو آپ کی خدمت حاضر ہوکر تائب ہوا۔

تاریخِ وصال:  آپ کاوصال بروز ہفتہ،6/شوال المکرم 603ھ مطابق 5/1207ء کوہوا۔بغداد باب الحرب میں مدفون ہوئے۔

ماخذومراجع: شریف التواریخ۔ 

مزید

تجویزوآراء