حضرت بو علی قلندر

حضرت بو علی قلندر رحمۃ اللہ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی: حضرت شاہ شرف الدین۔لقب: بو علی قلندر۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: کہ حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر بن سالار فخر الدین زبیر بن سالار حسن بن سالار عزیز بن ابوبکر غازی بن فارس بن عبدالرحمٰن بن عبدالرحیم بن دانک بن امام اعظم ابو حنیفہ  نعمان  بن ثابت  رضی اللہ تعالیٰ عنہم۔ (اقتباس الانوار:516)۔آپ علیہ الرحمہ پانی پت کےقدیم باشندے ہیں۔چنانچہ آپکے والدین یعنی سالار فخر الدین اور بی بی حافظہ جمال کے مزارات پانی پت کے شمال کی طرف اب  بھی موجود ہیں۔(ایضا:516)

بوعلی قلندر کہلانے کی وجہ تسمیہ:حضرت علی کرم اللہ وجہہ نےجب آپ کودریاسےباہرنکالاآپ اسی وقت سےمست الست ہوگئے ،ہر وقت حالتِ جذب میں رہنے لگے،اور اسی دن سے شرف الدین بوعلی قلندرکہلانےلگے۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:87)۔( رافضی ملنگوں نے عوام میں یہ مشہور کیا ہوا ہےکہ  اللہ تعالیٰ نےحضرت شرف الدین قلندرسےپوچھا  مانگ کیا مانگتا ہے: حضرت  قلندر نےعرض کیا باری تعالیٰ! مجھے مولا علی جیسا بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے  فرمایا:علی نہیں بن سکتا۔تجھے علی جیسا بنانے کےلئےمجھے دوسرا کعبہ بنانا پڑےگا۔لہذا تجھے ’’بو علی‘‘ بنادیتا ہوں،مولا علی کی خوشبو۔یعنی مولا علی بنانا تو  آسان ؟،اور کعبہ مشکل ہے۔لاحول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔تونسوی غفرلہ)

تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 605ھ،مطابق 1209ء کو پانی پت (ہند) میں ہوئی۔

تحصیلِ علم:آپ نے اکتسابِ علم میں بہت کوشش کی۔حدیث،فقہ،صرف ونحو،تفسیرمیں اعلیٰ قابلیت حاصل کی،عربی و فارسی زبان میں عبورحاصل تھا،آپ نےجلدہی تحصیل علوم ظاہری سے فراغت پائی۔آپ تحصیلِ علم سے فارغ ہوکررُشدوہدایت میں مشغول ہوئے۔مسجدقوت الاسلام میں وعظ فرماتے تھے اور یہ سلسلہ بارہ سال تک جاری رہا۔

بیعت وخلافت: آپ کی بیعت وخلافت میں بہت اختلاف ہے۔بعض کاخیال ہے کہ آپ مریدوخلیفہ قطب الاقطاب حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی(رحمتہ اللہ علیہ)اورتعلیم یافتہ حضرت شیخ شہاب الدین کےعاشق تھے۔بعض کاخیال ہےکہ آپ مریدوخلیفہ حضرت نجم الدین قلندرکےتھے۔بعض کےنزدیک آپ مریدوخلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین عاشق خداکےتھے،جومریدوخلیفہ حضرت امام الدین ابدال کے تھےاوروہ مریدوخلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیارکاکی(رحمتہ اللہ علیہ)کےتھے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ مریدوخلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء(رحمتہ اللہ علیہ)کےہیں۔ کہاجاتاہےکہ حضرت نظام الدین اولیاء(رحمتہ اللہ علیہ)نےآپ کوعصرکےوقت جمناکےکنارے بیعت سے مشرف فرمایا۔(تذکرہ اولیائے پاک وہند:88/اقتباس الانوار:517/اخبار الاخیار:335)

سیرت وخصائص:  غواص بحرِ عشق ومحبت،سالار قافلۂ  میخانۂ وحدت،امام العارفین،قدوۃ السالکین،عارف اسرارِ رحمانی،واصل انوار ربانی،حضرت شیخ شرف الدین بوعلی قلندر رحمۃ اللہ علیہ۔حضرت بو علی قلندر علیہ الرحمہ اولیائے کبار،اور مشائخِ نامدار میں سے ہیں۔آپ علیہ الرحمہ صاحبِ کرامت وفضیلت بزرگ ہیں۔آپ خاندانی،نسبی،علمی شرافتوں اورفضیلتوں سے مالا مال  تھے۔آپ کے والد گرامی اور والدہ ماجدہ صاحبِ تقویٰ وکرامت تھے۔آپ کے والدین نےآپ کی  تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی،آپ کاشمار اس وقت کےفاضلین وواعظین میں ہونے لگا۔آپ نے تیس سال تک قطب مینار دہلی میں تدریس فرمائی۔(اقتباس الانوار:517)۔

ایک مرتبہ آپ  مسجد میں لوگوں کو وعظ فرمارہےتھےکہ مسجدمیں ایک درویش آیااوربآوازبلندیہ کہہ کر چلاگیاکہ "شرف الدین جس کام کےلئےپیداہواہےاس کوبھول گیا،کب تک اس قیل وقال میں رہےگا"۔یعنی حال کی طرف کب آؤ گے۔بس اس فقیر کی صدا  ایک چوٹ بن کر دل پر لگی ۔ویرانے کی طرف عبادت وریاضت میں مشغول ہوگئے،پھرطبیعت پر  جذب کی کیفیت کا غلبہ ہوگیا۔جب جذب و سکر کی انتہا ہوگئی تو اپنی تمام کتابوں اور قلمی یاد داشتوں کو دریا میں پھینک دیا،اور دریا میں مصروفِ عبادت ہوگئے۔آپ ایک عرصے تک دریامیں کھڑےرہے۔پنڈلیوں کاگوشت مچھلیاں کھاگئیں۔حضرت خضر علیہ السلام سےملاقات ہوئی،اسی طرح بارہ سال گزرگئے۔

ایک روزغیب سےآواز آئی۔"شرف الدین!تیری عبادت قبول کی،مانگ کیامانگتاہے"۔دوبارہ پھرآوازآئی کہ۔"اچھاپانی سےتونکل"۔آپ نےعرض کیاکہ"خودنہیں نکلوں گاتواپنےہاتھ سےنکال"۔توحضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نےاپنے ہاتھ مبارک سےآپ کودریا سےنکالا۔اس سےوجدانی کیفیت اوراستغراق میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آخر آپ مجذوب ہوگئے اور جذب و شوق میں اس قدر مستغرق ہوئے کہ دائرہ تکلیف شرعی سے باہر ہوگئے۔۔

شیخ محمد اکرم قدوسی صاحبِ اقتباس الانوار فرماتے ہیں: ’’حضرت شاہ شرف الدین بو علی قلندر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فردِ کامل اور مظہر کل تھے اور آپ کا تفرد کلی (مکمل فرد ہونا) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے طفیل تھا کیونکہ آپ کو حضرت امیرالمومنین علی سے بلاواسطہ تربیّت حاصل ہوئی تھی۔ جس کی بدولت آپ جمیع کمالات  و ولایت و خلافت ِکبریٰ پر فائز ہوئے۔اسی طرح حضرت بو علی قلندر کی نسبت اویسیہ حاصل  ہوئی،اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپ کے مربی تھے۔ اس فقیر راقم الحروف کو ابتدائے سلوک میں جس قدر فیوض و برکات حضرت بوعلی قلندر سے حاصل ہوئے اگر انکو بیان کیا جائے تو ایک مستقل کتاب وجود میں آجائیگی‘‘۔(اقتباس الانوار:518)

حالتِ جذب میں احترامِ شریعت: اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ  فرماتے ہیں: حقیقی مجذوب  کی علامت یہ ہے کہ حالتِ جذب میں بھی شریعتِ مصطفیٰﷺ کی مخالفت نہیں کرےگا،اور شریعتِ مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرےگا۔(ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت:217)۔    حضرت بو علی شاہ قلندر پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجذوب کی پہچان دُرُود شریف سے(بھی) ہوتی ہے۔اس کے سامنے دُرُود پاک پڑھا جائے تو مُؤدَّب (یعنی با ادب)ہوجاتا ہے ۔

آپ علیہ الرحمہ نےتیس سال تک سخت سےسخت مجاہدےکئے۔ہروقت عبادت الٰہی میں مشغول ومستغرق رہتےتھے۔آپ پرجذب الٰہی اس درجہ غالب تھاکہ آپ کو اپنی خبرنہ تھی۔قلندرانہ روش اورمجذوب ہونےکےباوجود آپ شریعت کا بہت احترام کرتےتھے۔ایک مرتبہ ایسا ہواکہ آپ کی مونچھوں کےبال بڑھ گئےکسی کی ہمت نہ تھی کہ آپ سےکہتاکہ مونچھوں کےبال کٹوادیں۔آخرکارمولاناضیاءالدین سنامی سےرہانہ گیا۔مولاناضیاءالدین سنامیرحمتہ اللہ علیہ نےاس کو خلاف ِشرع سمجھ کرآپ کی داڑھی پکڑی اورقینچی ہاتھ میں لےکر آپ  کی مونچھوں کےبال کاٹ دیے۔آپ نےکوئی اعتراض نہ کیا۔اس واقعہ کےبعدآپ اپنی داڑھی کو چوماکرتےتھےاورفرماتےتھے:"یہ شریعت محمدی ﷺ کےراستے میں پکڑی جاچکی ہے"۔(تذکرہ  اولیائے پاک وہند:92/اقتباس الانوار:521/اخبار الاخیار:336)

آپ نےکئی کتابیں لکھی ہیں۔آپ کی ایک کتاب "حکم نامہ شرف الدین"کےنام سےمشہورہے۔آپ شاعربھی تھے۔آپ کاکلام حقائق ومعارف ،ترک وتجرید،عشق ومحبت کی چاشنی میں ڈوباہوا ہے۔آپ کےخطوط مشہورہیں۔یہ خطوط آپ نے اختیارالدین کےنام تحریرفرمائےہیں۔آپ کےخطوط تصوف کابیش بہاخزانہ ہیں۔آپ کے مرید اور خلفاء کا ایک سلسلہ تھا جو برصغیر کے علاوہ عالم اسلام میں پھیلاہوا تھا۔ دہلی کے حکمران علاء الدین خلجی اور جلال الدین خلجی بھی آپ کے حلقۂ مریدین میں شامل  تھے۔

تاریخِ وصال: آپ کا وصال 13/رمضان المبارک 724ھ،مطابق ستمبر1324ء کوہوا۔آپ کامزار پرانوار پانی پت میں مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذومراجع: اقتباس الانوار۔اخبار الاخیار۔تذکرہ اولیائے پاک وہند۔ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت۔

مزید

تجویزوآراء