جرنیل اہلسنت جناب محمد سلیم قادری

جرنیلِ اہلِ سنّت جناب محمد سلیم قادری  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

(امیر شہدائے اہلِ سنت، بانی سنی تحریک)

 

اسمِ گرامی:  آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسمِ گرامی سلیم قادری اور والدِ ماجد کا اسمِ گرامی ابراہیم رحمۃ اللہ علیہما تھا۔

ولادت: جناب محمد سلیم قادری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت 1960 ء میں، کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک آل بلدیہ اسکول بلدیہ ٹائون سے پاس کیا۔

بیعت: جناب سلیم قادری امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری مدظلہٗ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اس لئے قادری کہلائے۔

سیرت وخصائص: جرنیلِ اہلسنّت جناب محمد سلیم قادری  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا خاندان مذہبی تھا، بچپن سے صالحین اور علماء اہلسنت کی صحبت میسر تھی۔سلیم قادری کو قدرت نے بچپن سے مسلک کی تڑپ دے رکھی تھی ان میں دینی جذبہ تھا، وہ کچھ کرنا چاہتے تھے انہی دنوں 1980ء میں علماء اہلسنت کی سر پرستی میں تبلیغ قرآن و سنت کیلئے ایک تحریک چلی جو ایک تنظیم ’’دعوت اسلامی‘‘ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اس سے متاثر ہو کر امیرِ دعوتِ اسلامی سے بیعت ہوئے اور 9برس تک مبلغ بن کر کام کیا۔ خود عمامہ باندھا، سنتوں پر عمل کرنے لگے اور تبلیغ بھی کرتے رہے درس دیا، قافلہ کے ساتھ تبلیغی سفر کیا ، گلی کوچوں میں صلوٰۃ و سنت کی دعوت دی۔ بلدیہ ٹائون سعید آباد میں چند نوجوانوں کو جمع کرکے انجمن اشاعت اسلام کے نام سے تنظیم قائم کی۔ اس کے تحت لائبریری کا قیام عمل میں آیا، مدرسہ لگنے لگا اور دینی کتابوں کی مفت اشاعت ہونے لگی۔1980ء کو احباب کے اسرار پر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعید آباد بلدیہ ٹائون میں رہائش اختیار کی۔ اس کے بعد جمعیت علمائے پاکستان میں کام کرنے لگے اور1988ء کے انتخابات میں جمعیت کی پارلیمانی کمیٹی نے محمد سلیم قادری کو بلدیہ ٹائون سے صوبائی الیکشن کے امیدوار کا ٹکٹ دیا۔

 سنی تحریک کا قیام: سلیم قادری کے دل میں  مسلک کیلئے لگن تھی وہ کچھ کرنا چاہتے تھے ، یہی لگن انہیں مختلف پلیٹ فارم پر لے گئی لیکن انہیں تسلی نہ ہوئی، وہ جس اندا زمیں تحریک چلانا چاہتے تھے وہ ادارے موزوں نہیں تھے۔ اسلئے انہوں نے اہلسنت و جماعت کے غیور جوانوں کی جماعت تیار کی جو آگے چل کر ’’سنی تحریک‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ اس پلیٹ فارم سے وہ اپنے انداز میں کام کرنے لگے اغراض و مقاصد کے تحت منزل کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ حقوقِ اہلسنّت کے حصول کی جنگ عمر بھر لڑتے رہے کبھی بھی اپنے منشور سے پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ سنی تحریک کے نہ صرف قائد تھے  بلکہ پر جوش خطیب بھی تھے آپ کی تقریر روایتی تقریر نہیں تھی بلکہ ایک دردِ دل کا پیغام تھا۔ آپ کا خطاب اذھان کو جھنجوڑنے والا آلہ تھا۔ غافل لوگوں کو بیدار کرنے والا ولولہ تھا، ملک کے جس بھی علاقے میں گئے سنیت کا درد بانٹتے رہے، غیرت مند نوجوانوں کا قافلہ در قافلہ تیار کرتے رہے۔ انہیں متحد کیا، منظم کیا، ان مین سنی سوچ بانٹی ، بلکہ انہیں عزت سے جینے کا قرینہ سکھایا۔ نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون سیکٹر 19 ڈی میں 14 سال فی سبیل اللہ خطاب کیا۔

تاریخِ وصال:23صفر المظفر1422ھ بمطابق 18 مئی 2001ء بروز جمعۃ المبارک قائد سنی تحریک محمد سلیم قادری نے نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون میں نماز جمعہ کی امامت کیلئے تیاری کی، غسل کیا، سفید لباس زیب تن کیا، سر پر عمامہ کا تاج سجایا، بعض رشتہ داروں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکلے ۔ ایک بج کر 35 منٹ سیکٹر19 ڈی پر ایک بڑا اسپیڈ بریکر آیا ، اب کیا ہوگیا کہ آنا فاناً چاروں طرف سے گولیاں چلائی گئیں سلیم قادری نے اپنے کمسن بچوں بلال رضا قادری اور اویس رضا قادری کو سیٹ کے نیچے پائوں میں جھکا دیا اور اپنے سینے کو آگے کردیا اور سلیم قادری گولیوں کی زد میں آکر شہید ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ دوسرے روز بعد نماز مغرب عید گاہ قصابان (ایم اے جناح رود) کی شاہراہ پر  نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کی امامت تحریک کے سینئر رہنما افتخار بھٹی نے کروائی۔ نماز جنازہ میں سنی تحریک کے کارکنان، عوام اہل سنت کے علاوہ اہلِ سنت و جماعت کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔ مثلاً علامہ شاہ احمد نورانی، علامہ سید شاہ تراب الحق قادری، پروفیسر شاہ فرید الحق، مولانا حسن حقانی، مفتی محمد جان نعیمی، مولانا قاری رضاء المصطفی اعظمی، سید عبداالقادر شاہ صاحب (دعوت اسلامی کے نگراں) وغیرہ کے علاوہ سنی ، سیاسی و رفاہی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ سلیم قادری اور ان کے رفقاء کو اہلِ سنت خدمت کمیٹی ہسپتال (سعید آباد بلدیہ ٹائون کراچی) کے صحن میں دفن کیا گیا۔ جہاں روضہ تعمیر ہوگا۔

ماخذ ومراجع: انوارِ علمائے اہلسنت

مزید

تجویزوآراء