محمد بن ادریس امام شافعی

حضرت محمد بن ادریس امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

کنیت ابوعبداللہ، لقب شافعی، نام محمد بن ادریس تھا۔ آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کا نسب نامہ آٹھ واسطوں سے حضرت عبدالمطلب سے ملتا ہے۔ آپ کی والدہ کا نام حضرت ام الحسن بنت حمزہ بن قاسم بن زید بن حسن بن علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہے۔ اسی لیے آپ کو قریشی، ہاشمی، علوی اور فاطمی کہا جاتا ہے۔ ائمہ اربعہ میں سے امام سوئم ہیں۔ جب تک مدینہ میں رہے حضرت امام مالک سے پڑھتے رہے۔ جب عراق میں آئے امام محمد بن حسن شاگردِ حضرت امام اعظم سے استفادہ کیا۔ آپ کی ولادت بمقام غرہ یا عسقلان یا بقول دیگر مناور ۱۵۰ھ میں ہوئی۔

امامِ شافعی رحمۃ اللہ علیہ تیرہ سال کی عمر میں حرم میں کہہ رہے تھے: سلونی بما شئتم۔ جو چاہتے ہو مجھ سے پوچھو۔ پندرہ سال کی عمر میں فتویٰ دینے لگے۔ امام احمد بن حنبل﷫ جنھیں تین ہزار احادیث یاد تھیں آپ کی شاگردی میں فخر محسوس کرتے تھے اور آپ کی حاشیہ برداری میں راحت محسوس کرتے  تھے۔ لوگوں نے ایک بار آپ سے کہا: آپ بایں علم و فضیلت ایک بچے کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہیں اور مشائخ و اساتذہ کی صحبت ترک کردی ہے۔ آپ نے فرمایا: جو چیز ہمیں یاد ہے شافعی ان کے معنیٰ جانتا ہے۔ فقہ کا دروازہ بند ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی برکت سے کھول دیا۔

حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسالت مآبﷺ کو خواب میں دیکھا۔ آپ نے دریافت فرمایا: بیٹا تمھارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی کہ میں آپ کے کمترین غلاموں میں سے ہوں۔ آپ نے مجھے اپنے پاس بلاکر اپنا لعاب دہن میرے منہ میں ڈالا اور فرمایا کہ اللہ کی برکات تجھے نصیب ہوں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنی انگشتری اتار کر مجھے پہنادی۔ اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے انوار اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے علوم مجھے نصیب ہوئے۔

حضرت امام شافعی کی والدہ زاہدہ، عابدہ اور امینہ تھیں۔ لوگ اپنی امانتیں آپ کے سپرد کر جاتے ایک دفعہ  دو آدمی آئے۔ ایک صندوقچہ جو مال و سامان کا بھرا ہوا تھا آپ کے حوالے کردیا۔ کچھ عرصہ کے بعد ان میں سے ایک شخص آیا اور وہ صندوقچہ لے گیا۔ کچھ  عرصہ کے بعد دوسرا بھی آیا اور صندوقچہ مانگا۔ تو حضرت بی بی نے بتایا  کہ تمہارا ساتھی لے گیا ہے۔ اس نے کہا کہ دونوں کی حاضری کے بغیر آپ نے ایک شخص کو کیوں دے دیا۔ حضرت شافعی جن کی عمر پندرہ سال تھی آگئے۔ سارا واقعہ سننے کے بعد والدہ ماجدہ سے کہنے لگے آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں۔ مدعی سے آپ نے پوچھا کہ صندوقچہ دیتے وقت آپ لوگوں نے یہ شرط رکھی تھی کہ ہم دونوں آئیں تو امانت دی جائے۔  اب تم  جاؤ اور اپنے دوست کو ہمراہ لے آؤ تاکہ صندوقچہ دونوں کو دیا جائے۔ جب تک تم دونوں اکٹھے نہیں آؤ گے صندوقچہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ مدعی متحیر ہوکر چلا گیا۔

ہارون الرشید ایک رات اپنی بیگم زبیدہ سے اُلجھ پڑا۔ زبیدہ نے ہارون کو دوزخی کہہ دیا۔ ہارون نے کہا: اگر میں دوزخی ہوں تو تمھیں طلاق ہوگئی۔ چنانچہ دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے۔ زبیدہ ہارون کی محبوب بیوی تھی اور ہارون پر دل و جان سے فدا تھی۔ چنانچہ دونوں اس اتفاقیہ تلخ کلامی سے ایک جدائی میں مبتلا ہوئے۔ ہارون نے علماء بغداد کو جمع کرکے اس مسئلہ کا حل دریافت کیا اور فتویٰ چاہا کہ زبیدہ اس پر حلال ہوجائے۔ علماء کے لیے کوئی جواب نہ تھا اور کہا کہ خدائے عالم الغیب ہی جانتا ہے کہ ہارون دوزخی ہے یا جنتی! اس مجلس سے ایک بارہ سالہ لڑکا اٹھا اور اس نے کہا: میں جواب دوں گا۔ علماء  و امراء اس کی اس جرأت پر حیران رہ گئے۔ اور کہنے لگے تم دیوانے ہو۔ لیکن ہارون الرشید نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا اگر ہوسکتا ہے تو جواب دو۔ یہ لڑکے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ حضرت امام شافعی نے خلیفہ کو کہا۔ چونکہ آپ سائل ہیں اس لیے تخت سے نیچے آجائیں اور مجھے تخت پر بٹھا دیں۔ علماء وارث انبیاء ہوتے ہیں اور جانشین رسول ہیں ہارون تخت سے اتر آیا اور امام شافعی تخت نشین ہوگئے۔ ہارون نے ایک سائل کی حیثیت  سے مسئلہ بیان کیا۔ حضرت امام شافعی نے کہا: جو کچھ میں پوچھوں اس کا صحیح جواب دیا جائے اور جھوٹ قطعاً نہ ملایا جائے۔ اب تم اپنی زندگی پر نظر دوڑا کر بتاؤ کبھی تم معصیت پر قادر ہوکر خوفِ خداوندی سے ڈر کر رُک گئے ہو۔  ہارون نے کہا: ہاں ایک دفعہ بغداد کے ایک امیر کی ایک خوبصورت اور جواں سال لڑکی میری توجہ کا مرکز بنی، اسے میرا کچھ خیال نہ تھا۔ ہزار ہا حیلہ و مکر کے بعد میں نے اسے طلب کرلیا اور تخلیہ میں لے جاکر اظہارِ مدعا کیا۔ جب وہ بھی آمادۂ زنا ہوگئی تو میں خدا کے خوف سے کانپ اٹھا اور اس عورت سے علیحدہ ہوگیا۔ حضرت شافعی﷫ فرمانے لگے: اگر تم اس واقعے میں سچے ہو تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ تم دوزخی نہیں جنتی ہو۔ اگر جھوٹ بول رہے ہو تو اس کا عذاب تمہاری گردن پر ہوگا۔ اس فتویٰ کو  سنتے ہی علماءِ مجلس نے شور برپا کردیا کہ آپ کس دلیل سے یہ فیصلہ دے رہے ہیں۔ آپ نے قرآن پاک کی یہ آیت تلاوت کی:

وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾

ترجمۂ کنز الایمان :اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرااور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانا ہے(سورۃ النزعت،۴۰،۴۱)

لوگوں نے پوچھا کہ ہارون کے سچا ہونے کی کیا دلیل ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس نے یہ واقعی حلفاً بیان کیا ہے۔ ہارون الرشید نے دوبارہ حلف اٹھایا اور اس واقعہ کی تصدیق کی۔ علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حضرت امام شافعی کے زمانے میں دیگر مذاہب کے بعض علماء نے علمائے اسلام سے مناظرہ شروع کردیا۔ بغداد میں بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دریائے دجلہ پر بحث و مناظرہ شروع ہوا۔ حضرت امام شافعی جو علمائے اسلام کی طرف سے آئے ہوئے تھے دریائے دجلہ کے پانی پر مصلی بچھا کر بیٹھ گئے اور کہا: غیر مذاہب کے جو علماء بحث کرنا چاہتے ہیں میرے سامنے آکر بیٹھ جائیں۔ مگر کسی میں یہ جرأت نہ ہوئی۔ تمام شرمسار ہوکر چلے گئے۔ آپ کی وفات بروز جمعہ ماہ رجب ۲۰۴ھ میں ہوئی۔ مزار پُر انوار قرانہ مصر میں ہے۔

سال ترخیلِ آں یگانہ بگو
حبیبِ اصفیا کر دم رقم ہم سال وصل او
۲۰۴ھ

 

سرورِ اصحابِ زمانہ بگو
کہ ذاتِ او امام و مقتداء مومناں آید

مزید

شاگرد و تلامذہ   (1)

تجویزوآراء