برہان الواصلین حضرت خواجہ پیر  غلام محی الدین نقشبندی (نیریاں شریف)

برہان الواصلین حضرت خواجہ پیر  غلام محی الدین نقشبندی (نیریاں شریف)رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

          حضرت خواجہ پیر غلام محی الدین ابن خواجہ محمد اکبر خاں قدس سرہما نستان کے مروم خیز محلہ غزنی میں ۱۔۱۳۲۰ھ؍۱۹۰۲ء میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم اپنے موموں حضرت مولانا گل محمد رحمہ اللہ تعالیٰ سے حاصل کی ۔آپ کا سلسلۂ نسب حضرت سید اخادلین ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے[1]

          اوائل عمر میں اخروٹ کی تجارت کیا کرتے تھے ، ان دنوں بھی دینداری کا یہ عالم تھا کہ رات کو عبادت الٰہی میں مصروف رہتے ۔ ایک دفعہ سر راہ بابا اقبال سے ملاقات ہو گئی ، انہوں نے استفسا ر پر بتایا کہ مین اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ محمد قاسم موہڑوی کی خدمت میں حاضری دینے جا رہا ہوں آپ نے اس نام میں اتنا کیف و سرور محسوس کیا کہ جو کچھ جیب میں تھا ، نکال کر بابا اقبال کو دے دیا اور کہا کہ غزنی کے ایک مسافر کا سلام اور یہ نذرانہ حضرت کی خدمت میں پیش کردینا، ’’جب حضر ت خواجہ محمد قاسم کی خدمت میں با با اقبال نے وہ نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے فرمایا: دوبارہ ملاقات ہو تو اس شخص سے کہنا کہ :

’’ہمیں تمہاری ضرورت ہے نذرہ و نیاز کی ضرورت نہیں ہے‘‘

          پھر کیا تھا کشاں کشاں بارگاہ شیخ میں حاضر ہو کر بیعت ہوئے اور واپس آگئے کاروبار تجارت ایک مرتبہ خوب چمکا لیکن کچھ ہی عرصہ بعد حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہتمام پس انداز رقم بھی خسارے کی نذر ہوگئی ، صرف تین سو روپے باقی رہ گئے ، اسی عالم میں بارگاہ شیخ میں حاضر ہوئے اور رقم پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ اسے بطور امانت رکھ لیں تاکہ بوقت ضرورت کسی سے مانگنے کی نوبت نہ آئے ۔مرشد کامل نے وہ رقم فقراء میں تقسیم کردی جس سے آپ حددرجہ کبیدہ خاطر ہوئے۔ حضرت باباجی موہڑوی قدس سرہ نے کیفیت دیکھی تو فرمایا: پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ، میں نے تمہارے لئے ایسا سودار کھا ہوا ہے جس کے خرید مشرق اور مغرب سے تمہارے پاس پہنچیں گے۔‘‘ اس فرمان سے اطمینان قلبی حاصل ہو گیا اور آپ یک سوئی سے شیخ کی خدمت اور عبادت و ریاضت میںمشغول ہو گئے۔

          بارہ سال تک منازل طریقت طے کرنے کے بعد مرشد کامل نے حکم دیا کہ آزد کشمیر کے بے آباد مقام ڈناپوٹھی میر خاں(نیز یاں شریف ) کو اپنا مرکز بنا کر رشد وہدایت کا فریضہ انجام دو ،  و مقام جہاں دن کے وقت بی جاتے ہوئے لوگ گھبراتے تھے آپ کے قدوم میمنت لزوم سے اس طرح آباد ہوا کہ رات کے وقت بھی وہاں کی فضا ذکر و فکر کرنے والوں کے دم قدم سے معمور رہتی ۔

          سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد آپ کے مبارک ہاتھوں پر بیعت کر کے معصیت و نافرمانی کی زندگی سے تائب ہو گئے ۔ آپ نے رولپنڈی ،کیمبل پور ، مظفر آباد، مردان ، پوـٹھوہار ، میر پور، جہلم اور ہزارہ کے علاقوں کے متعدد دور ے کئے ، عوام الناس کو اتبع شریعت کی تلقین کی ، بد مذہبوں سے کنارہ کشی اورمسلک اہل سنت و جماعت پر ثابق قدمی کا خوب درس دیا ۔ ھق یہ ہے کہ ان کے وجود مسعود کی بدولت مسلک اہل سنت کوبہار تازہ حاصل ہوئی تھی ،خدا کر ے کہ یہ بہار ان کے گرامی قدر صاحبزاد گان کے ذریعہ ترقی پذیر رہے ۔ راقم الحروف چکوال میں ان کی زیارت سے مشرف ہواتھا، کم گو ،بارعب اور پر وقار شخصیت کے مالک تھے۔ مزاج میں استغناء بدرجۂ اتم موجود تھا۔ اتباع شریعت اور معمولات کی ادائیگی کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔

          آپ نے قریباً تیس حضرات کو خلافت عطا فرمائی ، چند حضرات کے اسماء یہ ہیں :۔

۱۔  حضرت مولانا مفتی پیر ہدایت الحق مدظلہ ،مہتمم مدرسہ حقائق العلوم ، حضرو۔

۲۔   جناب فیض محمد  آف تتا پانی۔

۳۔جناب غلام محمد ،       ساہیوال۔

۴۔جناب محمد شفیع ،       گوجرخاں۔

۵۔جناب محمد امیر ،       افغانستان۔

        غالباً ۱۹۳۵ء میں آپ کی پہلی شادی ہوئی جس سے دو صاحبزادے یادگار ہیں:

۱۔حضرت مولانا الحاج علامہ علاؤ الدین صدیقی مدظلہ۔

۲۔جناب نظام الدین قاسمی۔

        دوسری بیوی سے پانچ صاحبزادے ہیں:

۱۔جناب امام ربانی                ۳۔فضل ربانی

۲۔غلام ربانی            ۴۔شیر ربانی             ۵۔شمس العارفین

        اول الذکر مولانا علاؤ الدین قدس سرہ کے پیٹ میں ایک گولا سا پیدا ہو گیا، آپریشن ہوا تو پانی کی خاصی مقدار خارج ہو جانے کی وجہ سے کمزوری بہت ہو گئی لیکن آپ بدستور وضو کر کے باقاعدگی سے نماز ادا کرتے رہے۔ آپ کے معالج جناب جنرل شوکت علی اور آئی ڈی حسن نے وضو کرنے سے منع  کیا اور نماز عشاء اشارے  سے پڑھنے کو کہا  تاکہ آپریشن کے ٹانکے ٹوٹنے نہ پائیں، آپ نے فرمایا:

        "چھیالیس سال تک کوئی وقت بغیروضو کے نہیں گزرا، اب مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ  زندگی بھر  کا معمول چھوڑ دوں، نماز حسبِ سابق ادا کروں گا، ٹانکے ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹتے رہیں۔"

        ۲۸ماہِ ربیع الاوّل، ۱۱/اپریل[1] (۱۳۹۵ھ/۱۹۷۵ء) کو نیریاں شریف کا نیّرِ تاباں چشمِ ظاہر بیں سے روپوش ہو گیا جسے خلقِ خدا حضرت خواجہ  غلام محی الدین قدس سرہٗ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ نیریاں شریف (تراڑکھل۔آزاد کشمیر) میں آج بھی آپ کے مزار سے سکونِ قلبی حاصل کرتے ہیں۔

        حضرت پیر کرم شاہ مدظلہ، مدیّرِ اعلیٰ ضیائے حرم، تعزیتی کلمات لکھتے ہوئے رقمطراز ہیں:

        "پچاس سال کے قریب یہ مردِ کامل اپنی مسیحا نفسی سے مردہ دلوں کو حیاتِ جاوید بخشتا رہا، ہزاروں گم کردہ راہ لوگوں نے ان کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور اپنے دلوں میں عشقِ الہی کا چراغ روشن کیا، آپ کے اخلاقِ حسنہ کا دامن اتنا وسیع تھا کہ اپنے قدموں میں حاضر ہونے والوں کو کبھی محروم واپس نہیں کیا، آپ کی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تبلیغِ دین میں بسر ہوئی۔ آپ سنتِ نبوی کا حسین پیکر تھے، ہم انتہائی قلبی رنج و اندوہ کے ساتھ لکھ رہے کہ صدحیف! وہ چراغ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا جس کی تابناک کرنوں سے ہزاروں سینے منور ہو رہے تھے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔"[2]

[1] محمد معراج الاسلام مولانا:                        حضرت پیر صاحب نیریاں شریف        ،           ماہنامہ ضیا حرم، لاہور، مئی۱۹۷۵ء، ص ۵۷-۶۲

[2] محمد کرم شاہ الازہری، مولانا پیر:      اداریہ ضیائے حرم        مئی ۱۹۷۵ء  ،           ص۱۲

[1] ریاض احمد صمدانی ،مولانا: پیر صاحب نیز یا شریف ، ماہنامہ ضیائے حرم ، بھیرہ، مئی ۱۹۷۶ء، ص ۳۵

(تذکرہ اکابرِاہلسنت)

مزید

تجویزوآراء