حضرت خواجہ محمد مقتدی امکنگی

حضرت خواجہ محمد مقتدی امکنگی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

آپ کا اسم مبارک محمد مقتدی ہے۔ آپ موضع امکنہ کے رہنے والے ہیں جو بخارا کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔ اس گاؤں کی نسبت سے آپ کو امکنگی کہتے ہیں۔ آپ کی تربیتِ ظاہری و باطنی اپنے پدر بزرگوار حضرت خواجہ درویش محمد قدس سرہ سے ہے اور اپن ہی سے آپ کو خلافت ہے۔

آپ حضرت خواجۂ خواجگان خواجہ سید بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کے اصل طریقہ نقشبندیہ کی بڑی سختی سے پابندی فرماتے تھے اور اس طریقہ میں جو نئی باتیں بعض نقشبندی بزرگوں کی وجہ سے پیدا ہوگئی تھیں مثلاً ذکر بالجہر اور جماعتِ نمازِ تہجد وغیرہ، ان سے پرہیز کرتے تھے۔ حضرت خواجہ نقشبند قدس سرہ کے بالکل قدم بقدم چلتے تھے۔ نہایت عابد و زاہد و صاحب کرامات و خوارق بزرگ تھے۔ اپنے حالات کے اخفاء کی بہت کوشش کرتے تھے۔ اپنے وقت میں طالبانِ طریقت کے مرجع تھے۔ تصرفِ باطنی کا یہ عالم تھا کہ علماء و فضلاء اور امرا و فقراء مستفید و مستفیض ہونے کے لیے آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضری دیا کرتے تھے بلکہ ملوک و سلاطینِ وقت آپ کے آستانہ عالیہ کی خاک  کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ خان والئی توران آپ کا بہت معتقد و مرید تھا۔

آپ نے تیس برس تک مسندِ خلافت و شیخیت کو رونق بخشی، اگرچہ بڑھاپے کی وجہ سےد ست مبارک میں رعشہ آگیا تھا مگر مہمانوں کی خدمت خود کرتے تھے خود ہی مہمانوں کے لیے کھانا لاتے بلکہ بسا اوقات اُن کے خادموں اور سواریوں کی بھی خود خبر گیری فرماتے تھے۔ آپ کی کشف و کرامات سورج سے زیادہ روشن ہیں۔

کرامات:

۱۔       عبداللہ خان والئی توران نے خواب میں دیکھا کہ ایک عظیم الشان خیمہ کھڑا ہے۔ جس میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں۔ ایک بزرگ بارگاہ اقدس کے دروازے پر ہاتھ میں عصا لیے عرض بیگی (وہ شخص جو لوگوں کی درخواستیں بادشاہ یا کسی امیر کے حضور پیش کرے) کی خدمت بجا  لا رہے ہیں اور خلائق کے معروضات حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ بیکس پناہ میں پیش کرکے جواب لا رہے ہیں چنانچہ حضور  اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس بزرگ کے ہاتھ ایک تلوار مجھے ارسال فرمائی اور انہوں نے آکر میری کمر میں لٹکا دی، اس کے بعد عبداللہ  خان کی آنکھ کھل گئی اور لوگوں کو اُس بزرگ کا حلیہ بتاکر تلاش شروع کردی، اُس کے ایک مصاحب نے عرض کیا کہ اس حلیہ کے بزرگ حضرت خواجہ امکنگی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا، اور بڑے شوق سے ہدایا و تحائف لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ کا حلیہ مبارک بعینہ ٖ وہی پایا جو خواب میں دیکھا تھا۔ نہایت تواضع اور نیاز مندی سے نذرانہ قبول کرنے کی التماس کی مگر حضرت خواجہ قدس سرہ نے قبول نہ کیا اور فرمایا کہ فقر کی حلاوت و شیرینی، نامرادی اور قناعت میں ہے۔ بادشاہ نے آیہ شریفہ

اَطِیْعُو اللہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (سورۂ نساء ع۸)

’’حکم مانو اللہ اور اُس کے رسول کا اور اُن کا جو تم میں اختیار والے ہیں‘‘۔

پیش کی، تب آپ نے مجبوراً قبول فرمالیا۔ اس کے بادشاہ ہر روز صبح کے وقت نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ آپ کی قدمبوسی کے لیے حاضر ہوا کرتا تھا۔

۲۔       پیر محمد خاں والئی ماوراء النہر نے پچاس ہزار سواروں کے ساتھ سمر قند پر چڑھائی کی حاکمِ سمر قند، باقی محمد خاں کے پاس صرف چودہ ہزار سوار و پیادہ تھے۔ وہ بغرضِ استمداد حضرت خواجہ قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس پر آپن ے پیر محمد خاں کے پاس تشریف لے جاکر اُسے نصیحت کی مگر وہ صلح و آشتی پر رضا مند نہ ہوا اور آپ خفا ہوکر واپس آگئے، پھر باقی محمد خاں سے فرمایا کہ اگر تو دل سے تائب ہوجائے کہ آئندہ خلقِ خدا پر کبھی ظلم و تشدد نہیں کرے گا اور عدل و انصاف سے حکومت کرے گا تو فتح و نصرت تیرے قدم چومے گی، باقی محمد خاں نے عہد کیا کہ میں  آئندہ ظلم و تعدی نہ کروں گا۔ اس پر آپ نے حکم دیا کہ جاؤ! جاکر حملہ کرو، ماوراء النہر کی سلطنت تجھے مبارک ہو۔ یہ فرما کر دستِ شفقت اُس کی پیٹھ پر رکھا او راپنی تلوار مبارک اس کی کمر پر باندھ کر روانہ کیا۔ اُس کے پیچھے پیچھے آپ بھی درویشوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے اور شہر کے کنارے پر ایک پرانی مسجد میں رو بقبلہ مراقب ہو بیٹھے۔ اور بار بار سر اقدس اُٹھا کر پوچھتے تھے کہ کیا خبر ہے؟ دریں اثنا یہ خبر آئی کہ باقی محمد خاں نے فتح پائی اور پیر محمد خاں مارا گیا ہے۔ اس پر آپ مراقبہ سے اُٹھ کر اپنی قیامگاہ پر تشریف لے آئے۔

۳۔      آپ کا ایک مرید درویش بیان کرتا ہے کہ ایک رات آپ کہیں تشریف لے جا رہے تھے  میں بھی دیگر خدام کے ساتھ ہمرکاب تھا۔ میرے پاؤں ننگے تھے۔ اتفاقاً ایک کانٹا چبھا جس سے میں بے قرار ہوگیا۔ مجھے خیال آیا کہ اگر حضرت مجھ کو جوتا عنایت فرماتے تو کیا اچھا ہوتا، آپ نے اس خیال سے آگاہ ہوکر فرمایا:

’’اے بھائی! جب تک پاؤں میں کانٹا  نہیں چبھتا، پھول ہاتھ نہیں آتا‘‘۔

۴۔      ایک دفعہ تین طالب علم مختلف ارادوں سے آپ کی خدمت میںآئے، ایک نے نیت کی اگر حضرت فلاں قسم کا کھانا کھلائیں تو بے شک صاحبِ کرامت ہیں، دوسرے نے دل میں کہا کہ اگر فلاں قسم کا میوہ مجھے عطا فرمائیں تو ولی ہیں، تیسرے نے خیال کیا کہ اگر فلاں حسین لڑکے کو مجلس میں حاضر کردیں تو صاحبِ خوارق ہیں۔ حضرت اقدس نے پہلے دونوں کو تو اُن کے خیال و خواہش کے مطابق کھانا اور میوہ عطا کیا مگر تیسرے کو فرمایا کہ درویشوں نے جو کمالات حاصل کیے ہیں وہ صاحب  شریعت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اتباع سے  کیے ہیں لہٰذا ان سے کوئی کام خلافِ شریعت صادر نہیں ہوتا۔ اس کے بعد تینوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ امرِ مباح کی نیت سے بھی درویشوں کے پاس نہیں آنا چاہیے کیونکہ بسا اوقات وہ  ایسے کاموں کی طرف توجہ نہیں کرتے اور آنے والے بد اعتقاد ہوکر اُن کی صحبت کی برکات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ فقراء کے ہاں کرامتوں کا کوئی اعتبار نہیں، اُن کے پاس خالصتاً لوجہ اللہ آنا چاہیے تاکہ فیضِ باطنی کا کچھ حصہ مل سکے۔

حق گوئی و بے باکی:

ایک دفعہ آپ کے قصبہ المکنہ میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا، آپ تمام معاملہ سے آگاہ تھے۔ جب دونوں آدمیوں نے فیصلہ کے لیے قاضی کی طرف رجوع کیا تو قاضی صاحب نے آپ سے شہادت طلب کی، آپ نے اُس شخص کی حمایت میں شہادت دی جو جائز حقدار تھا، فریق مخالف نے کہا کہ ’’جب تک آپ قسم نہ کھائیں ہم ان کی شہادت نہیں مانتے‘‘۔ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ

’’سچی قسم کھانا شریعت مطہرہ میں جائز ہے لہٰذا میں شرعی کام میں تاخیر نہیں کروں گا‘‘۔

وفات:

آپ نے اپنی وفات سے چند روز پہلے اپنے خلیفہ حضرت خواجہ محمد باقی اللہ قدس سرہ کو ایک خط لکھا تھا جس کے آخر میں یہ دو شعر درج تھے ؎

زماں تا زماں مرگ یاد آیدم
جدائی مبادا مرا از خدا

 

ندانم کنوں تاچہ پیش آیدم
دگر ہرچہ پیش آیدم شایدم

اس خط کے پہنچتے ہی آپ کی وفات ہوگئی۔ اُس وقت آپ کی عمر شریف نوے برس کی تھی اور تاریخ وفات ۲۲؍شعبان ۱۰۰۸ھ/ ۱۶۰۰ء ہے۔ قصبہ امکنہ میں آپ کا مزار مقدس بنا۔

برصغیر پاک و ہند کی سر زمین آپ کی احسان مند ہے کہ آپ نے اپنے خلیفۂ اعظم حضرت خواجہ باقی اللہ قدس سرہ کو یہاں بھیجا تاکہ روحانیت کی پیاسی یہ سر زمین بھی سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے فیوض و برکات سے مستفید و مستفیض ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔ آمین

 

 (تاریخِ مشائخ نقشبند)

مولانا خواجگی اِمکنگی قدس سرہ

آپ کا اسم مبارک خواجگی ہے۔ جس کے لفظی معنی منسوب بہ خواجہ ہیں۔ آپ موضع اِمکنہ میں رہا کرتے تھے جو بخارا کے دیہات میں سے ایک گاؤں ہے۔ اس گاؤں کی طرف منسوب کرکے آپ کو اِمکنگی بولتے ہیں۔

ظاہری و باطنی تربیت:

آپ کی تربیت ظاہری و باطنی اپنے والد بزرگوار خواجہ درویش محمد قدس سرہ سے ہے اور اُن ہی سے آپ کو خلافت ہے۔

آپ تیس برس تک مسند خلافت پر رونق افروز رہے۔ اگرچہ معمر ہوگئے تھے۔ مگر آنے جانے والوں کی خدمت خود کیا کرتے تھے۔ مہمانوں کے لیے کھانا خود لاتے بلکہ بسا اوقات مہمانوں کے خادموں اور سواریوں کی بھی خود خبر گیری کرتے تھے۔

آپ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند قدس سرہ کے اصل طریقہ کے پابند تھے۔ اور ذکر جہرہ وغیرہ محدثات طریقہ سے پرہیز کرتے تھے۔ عابد و زاہد اور صاحب کرامات و خوارق تھے اپنے حالات کے اخفاء میں بہت کوشش کرتے تھے۔ اپنے وقت میں طالبان طریقت کے مرجع تھے۔ تصرف باطنی کا یہ عالم تھا کہ علماء و فضلاء اور امراء و فقراء استفاضہ کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے بلکہ ملوک و سلاطین آپ کے آستانہ عالیہ کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے تھے۔

کرامات:

(۱)      عبد اللہ خان والیِ  تو ران نے خواب میں دیکھا کہ ایک عظیم الشان خیمہ کھڑا ہے۔ جس میں جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم التحیۃ والصلوٰۃ تشریف رکھتے ہیں۔ ایک بزرگ بارگاہ کے دروازے پر عصا ہاتھ میں لیے عرض بیگی (پیغام رساں )کی خدمت بجالا رہے ہیں۔ اور خلائق کے معروضات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں پیش کرکے جواب لارہے ہیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اُس بزرگ کے ہاتھ ایک تلوار مجھے ارسال فرمائی اور انہوں نے آکر میری کمر میں لٹکادی۔ اس کے بعد عبد اللہ خان کی آنکھ کھل گئی۔ خان موصوف نے اس بزرگ کا حلیہ بتا کر تلاش شروع کی۔ آخر کار اس کے ایک مصاحب نے عرض کیا کہ اس حلیہ کے بزرگ مولانا خواجگی ہیں۔ بادشاہ یہ سُن کر بہت خوش ہوا۔ اور بڑے شوق سے ہدایا و تحائف لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ کا حلیہ بعینہٖ وہی پایا جو خواب میں دیکھا تھا۔ نہایت تواضع اور نیاز مندی سے نذرانہ قبول کرنے کی التماس کی۔ مگر مولانا نے قبول نہ کیا۔ اور فرمایا کہ فقر کی حلاوت ،با مرادی ،قناعت میں ہے۔ بادشاہ نے آیہ شریفہ اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم پیش کی۔ تب آپ نے مجبوراً قبول فرمایا۔ اس کے بعد بادشاہ ہر روز صبح کے وقت نہایت انکساری کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا۔

حاکم سمر قند کو فتح دلادی:

سنا گیا ہے کہ پیر محمد خاں نے پچاس ہزار سوار ساتھ لے کر سمر قند پر چڑھائی کی۔ باقی محمد خاں حاکم سمر قند کے پاس صرف چودہ ہزار سوار و پیادہ تھے۔ وہ بغرض استمداد حضرت مولانا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت نے بذاتِ خود پیر محمد خاں کے پاس جاکر نصیحت کی۔ مگر وہ صُلح پر راضی نہ ہوا۔ اس لیے آپ خفا ہوکر واپس آئے۔ اور باقی محمد سے فرمایا کہ اگر تو دل سے تائب ہو جائے کہ آیندہ خلقِ خدا پر کبھی ظلم نہ کرے گا اور انصاف و عدل سے حکومت کرے گا تو فتح پائے گا۔ باقی محمد نے عہد کیا کہ میں آیندہ ظلم و تعدی نہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ حملہ کرو ملک ماوراء النہر کی سلطنت تجھے مبارک ہو۔ یہ فرما کر دستِ شفقت اُس کی پیٹھ پر رکھا اور اپنی قرص مبارک اس کی کمر پر باندھ دی القصہ باقی محمد رخصت ہوا اُس کے پیچھے مولانا بھی درویشوں کی ایک جماعت کے ساتھ روانہ ہوئے اور شہر کے کنارے ایک پرانی مسجد میں قبلہ رو مراقب ہو بیٹھے۔ اور بار بار سر اُٹھا کر پوچھتے تھے کہ کیا خبر ہے۔ اس اثناء میں یہ خبر آئی کہ باقی محمد خان نے فتح پائی اور پیر محمد مارا گیا۔ اُس وقت مولاانا مراقبہ سے اُٹھ کر اپنے قیام گاہ کو تشریف لائے۔

قلبی خیال سے آگاہی:

ایک درویش جو حضرت مولانا کا مرید تھا ناقل ہے کہ ایک رات حضرت کہیں تشریف لے جارہے تھے۔ میں بھی دیگر خدام کے ساتھ ہمر کاب تھا۔ میرے پاؤں ننگے تھے۔ اتفاقاً ایک کانٹا چبھا جس سے میں بے قرار ہوگیا۔ مجھے خیال آیا کہ اگر حضرت مجھ کو پاپوش عنایت فرماتے تو کیا اچھا ہوتا۔ حضرت نے اس خیال سے آگاہ ہوکر فرمایا۔ ’’جب تک پاؤں میں کانٹا نہیں چبھتا پھول ہاتھ نہیں آتا۔‘‘

تین طالب علموں کی نیت:

حضرت مولانا کے بڑے بڑے مریدوں سے سنا گیا ہے کہ تین طالب علم مختلف ارادوں سے حضرت کی خدمت میں آئے۔ ایک نے نیت کی کہ اگر حضرت فلاں قسم کا کھانا کھلائیں تو بے شک صاحب کرامت ہیں۔ دوسرے نے دل میں کہا کہ اگر فلاں قسم کا میوہ مجھے عطا فرمائیں تو ولی ہیں۔ تیسرے نے خیال کیا کہ اگر فلاں حسین لڑکے کے کو مجلس میں حاضر کردیں تو صاحب خوارق ہیں۔ مولانا نے پہلے دو کو ان کے خیال کے مطابق کھانا اور میوہ عطا کیا۔ اور تیسرے سے فرمایا کہ درویشوں نے جو کمالات حاصل کیے ہیں وہ صاحب شریعت علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اتباع سے کیے ہیں۔ لہٰذا ان سے کوئی کام خلافِ شریعت صادر نہیں ہوتا۔ اس کے بعد تینوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ امر مباح کی نیت سے بھی درویشوں کے پاس نہیں آنا چاہیے۔ کیوں کہ بسا اوقات وہ ایسے کاموں کی طرف بھی متوجہ نہیں ہوتے۔ اور آنے والے بد اعتقاد ہوکر ان کی صحبت کی برکات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ فقراء کے ہاں کرامتوں کا کوئی اعتبار نہیں۔ ان کے پاس خالصۃً لوجہ اللہ آنا چاہیے تاکہ فیض باطنی کا کچھ حصہ ملے۔

وصال مُبارک:

حضرت مولانا نے اپنی وفات سے چند روز پہلے اپنے خلیفہ خواجہ محمد باقی قدس سرہ کو ایک خط میں یہ دو شعر تحریر فرمائے۔؎

زماں تا زماں مرگ یاد آیدوم
جدائی مبادا مرا از خدا

 

 

ندانم کنوں تا چہ پیش آیدم
دگر ہرچہ پیش آیدم شایدم

 

اس خط کے پہنچتے ہی حضرت کی وفات کی خبر خواجہ ممدوح کو پہنچی۔ آپ کی عمر نوے سال کی تھی۔ تاریخ وصال ۱۰۰۸ھ ہے۔ آپ کا مولد و مرقد قریہ امکنہ ہے۔(حضرت القدس۔ خزینۃ الاصفیاء)

(مشائخِ نقشبندیہ)

مزید

تجویزوآراء