حضرت خواجہ غلام حسن المعروف پیر سواگ نقشبندی

حضرت خواجہ غلام حسن المعروف پیر سواگ نقشبندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام ونسب: اسمِ گرامی: حضرت خواجہ غلام حسن۔لقب: پیرسواگ۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت خواجہ غلام حسن ا لمعروف پیر سواگ نقشبندی بن ملک لعل بن احمد یا ربن یار محمد۔(علیہم الرحمہ)

تاریخ ولادت: آپ کی ولادت تقریباً  1267ھ،مطابق 1850ء کو موضع" ڈگر سواگ "لعل عیسن کروڑ، چاہ گاڑہ ،ضلع لیہ میں ہوئی۔

تحصیل ِعلم:  آپ ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ کر حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی علیہ الرحمۃ کے خلیفہ مولانا غلام حسن پونگر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ابتدائی تعلیم ان سے حاصل کی۔ اور صَرف مولانا محمد علی شہاب ضلع جھنگ سے پڑھی اور کروڑ کے ایک خدا رسیدہ بزرگ مولانا جان محمد کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد" سیواں "ضلع میانوالی تشریف لا کر مولانا غلام محمد کی خدامت میں رہ کر اکتساب علم کرنے لگے۔پھر آپ سیواں سے رخصت ہو کر "چکڑالہ" میں حضرت مولانا نور خان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مولانا نور خان حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی علیہ الرحمۃ کے خلفاء میں سے تھے۔ آپ نے بقیہ تمام تعلیم مولانا نور خان سے حاصل کی اور ظاہری  وباطنی علوم میں کامل ہوئے۔

بیعت وخلافت: آپ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی نقشبندی علیہ الرحمۃ کے دست حق پرست پر بیعت سے مشرف ہوئے اور نہی سے خرقۂ خلافت پا کر سرفراز و ممتاز ہوئے۔

سیرت و خصائص: خواجۂ خواجگان،حامیِ دینِ متین،جامع شریعت وطریقت،واقف اسرارِرحمانی،وارثِ علومِ امامِ ربانی، حضرت خواجہ پیرغلام حسن سواگ رحمۃ اللہ علیہ۔آپ کی تمام عمر دین اسلام اور شریعت مصطفیٰ ﷺ کے احکام کی اشاعت فرمانے میں گذری۔ لاتعداد ہندو ،سیکھ ،عیسائی صرف آپ کے روئے تاباں کی زیارت سے مشرف ہو کر داخلِ اسلام ہوئے۔آپ کا معمول تھا کہ اگر کوئی ہندو یا غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوتا تو آپ حسب ِضرورت اس کی مالی معاونت و امداد کرنے کے لیے اپنا مال، جان، اولادتک قربان کرنے سے دریغ نہ فرماتے۔ آپ کا معمول تھا کہ جہاں کہیں بھی وعظ کے لیے تشریف لے جاتے تو لوگوں کو غیر شرعی رسومات چھوڑنے اور احکام شریعت پر عمل کرنے کی ترغیب فرماتے۔ آپ کلمہ حق کہنے میں بھی بڑی دلیری اور بے باکی سے کام لیتے اور اس سلسلہ میں کسی بڑے سے بڑے آدمی کی بھی پروانہ کرتے۔

آپ اپنے وقت کےولیِ کامل تھے،ساری زندگی اسلام کی اشاعت وتبلیغ میں گزاری۔آپ اپنے احوال لوگوں سے پوشیدہ رکھتے تھے۔شریعت کی خاص پابندی تھی،رسول اللہ ﷺ کی ہر سنت پرعمل پیراہوتے تھے۔استحباب کابھی خاص اہتمام تھا۔آپ نے حضرت خواجہ دامانی علیہ الرحمہ کی  چالیس سال   خدمت کی ہے،اور آپ کے خلیفۂ اعظم خواجہ محمد عبداللہ بارو علیہ الرحمہ نے آپ کی ساٹھ سال تک  خدمت فرمائی ہے۔آپ صاحبِ کرامات بزرگ تھے۔آپ کی کرامتیں زبانِ عام وخاص ہیں۔ایک دن ارشاد فرمایا :کہ میں نے سات سال تک نماز با جماعت فوت نہیں ہونے دی۔ اب اگر جنگل میں بھی جاؤں تو نماز جماعت سے حاصل ہو جاتی ہے۔ اور بارہ سال تک کسی سے سوال نہیں کیا۔ اس کی برکت یہ ہے کہ جنگل میں بھی جاؤں تو اللہ تعالیٰ لنگر کا سامان اسی جگہ عطا کر دیتا ہے اور ہوائی رزق آجاتا ہے۔اکثر یہ رباعی پڑھتے تھے۔۔۔

؏: پیر  سکھائی  ایہا ریت۔۔۔بہہ  وچ  حجرے  یا  مسیت

پھٹا پرانا کپڑا پا، بیا پروتھا ،ٹکڑا ،کھا۔۔۔۔ غیر دے در تے مول نہ جا

وصال باکمال: آپ کا وصال 13 جمادی الآخر 1358ھ،کو ہوا۔ مزار پر انوار سواگ شریف تحصیل کروڑ ضلع لیہ میں مرجع خاص و عام ہے۔

مزید

تجویزوآراء