حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی

حضرت خواجہ فقیر محمد چوراہی  رحمۃ اللہ علیہ

تیزئ شریف (افغانستان) ۱۲۱۳ھ/۱۷۹۸ء ۔۔۔ ۱۳۱۵ھ/۱۸۹۷ء چُورہ شریف ضِلع اٹک (پنجاب)

 

قطعۂ تاریخِ وفات

جہاں بھر میں پھیلے ہیں اُن کے مریدیں
منوّر منوّر ہیں عالم میں صؔابر

 

تھے وہ اعلیٰ رتبہ فقیر مُحَمّد
’’چراغِ مُصَفّا فقیرِ مُحَمّد‘‘
۱۸۹۷ء

 

(صابر براری، کراچی)

 

حضرت خواجہ فقیر محمد المعروف بابا جی تیراہی رحمۃ اللہ علیہ حضرت خواجہ نُور محمد تیراہی چوراہی قدس سرّہ کے دوسرے صاحبزادے تھے۔ آپ کی ولادت ۱۲۱۳ ھ میں جَدِّ امجد حضرت خوجہ فیض اللہ تیراہی (ف۸؍ ربیع الاوّل ۱۲۴۵ھ) کی زندگی میں تیزئی شریف نزد تیراہ(افغانستان) میں ہُوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب خلیفۂ ثانی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سے ملتا ہے۔ جس کی تفصیل آپ کے جدّ امجد میں حضرت خواجہ محمد فیض اللہ تیراہی قدس سرّہ کے حالات میں دی جا چکی ہے۔

آپ پیدائش ولی اللہ تھے۔ جس دن آپ کی ولادت ہوئی، اپنی والدہ ماجدہ کا دودھ نہ پیتے تھے۔ یہ معاملہ سُن کر جدّ امجد خواجہ محمد فیض اللہ تشریف لائے تو آپ کے روئے انور کو دیکھ کر فرمایا کہ: ’’یہ تو ابھی سے اپنا حصّہ طلب کرتے ہیں‘‘۔ چنانچہ انہوں نے اپنی زبان مبارک آپ کے منہ میں ڈال دی جِسے آپ دیر تک چوستے رہے اور پھر والدہ ماجدہ کا دودھ پینا بھی شروع کردیا۔ اس طرح سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدّدیہ کی مبارک و اعظم نسبت رو زاوّل سے ہی آپکو عنائیت فرمادی گئی۔ جدّامجد نے ارشاد فرمایا کہ یہ لڑکا بڑا نیک بخت ہوگا اور اس کے وجود سے خلق خدا کو بہت فیض پہنچے گا۔ آپ کا چہرہ مبارک اُسی روز سے انوارِ الٰہی کی تابانیوں سے آفتاب و ماہتاب کی طرح چمکتا تھا۔

آپ نے علومِ ظاہری و باطنی کی تحصیل اپنے والد ماجد حضرت خواجہ نور محمد رحمۃ اللہ علیہ سے ہی کی تھی۔ آیامِ صغر سنّی سے ہی ذکر و فکر و مراقبہ و اتباعِ شریعت میں مصروف و مشغول رہتے تھے اور تمام اُمور میں والد ماجد کے نقش قدم پر چلتے تھے۔

بالائے سرش زہو شمندی

 

می تافت ستارۂ بلندی

’’بچپن سے ہی آپ کے سر اقدس پر بلندی کا ستارہ چمکتا تھا‘‘۔

قطع ماسویٰ اللہ کا طریق آپ کو پہلے ہی مرغوب تھا۔ والد ماجد کے ساتھ ابتدا ہی سے صحبت و رابطہ حاصل تھا جس کی وجہ سے آپ کھانے پینے اُٹھنے بیٹھنے، طریق کلام اور اخلاق اعمال وغیرہ میں بالکل متحد الاوصاف ہوگئے تھے۔ غریبوں، مسکینوں اور مفلسوں کی مجلس و صحبت میں زیادہ خوش رہتے تھے۔ پابندئی شریعت میں بے مثال تھے۔ آپ کی علمیّت کا یہ حال تھا کہ قرآن مجید کے ایک ایک حرف کے جدا جدا اسرار ور موز بیان فرماتے تھے جسے سُن کر بڑے بڑے علماء انگشت بد نداں رہ جاتے تھے۔ اپنے وقت کے ابدال شمار کیے جاتے تھے۔ آپ کو وہ کمالات حاصل تھے جو دوسروں کو عشیر بھی نصیب نہ ہوئے تھے۔

آپ کے انہی ظاہری و باطنی کمالات کے پیشِ نظر آپ کے والد گرامی قدر نے بیس سال کی عمر میں خرقۂ خلافت سے سرفرار فرمایا اور آپ اپنے برادرِ اصغر حضرت خواجہ دین محمد چوراہی(ف ۱۳۲۵ھ) کے ہمراہ پنجاب کے تبلیغی سفر پر روانہ ہوئے تو باؤلی شریف ضِلع گجرات تشریف لے گئے۔ خلیفہ حضرت محمد خان عالم رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند گرامی قدر حضرت خواجہ غلام محی الدین رحمۃ اللہ علیہ و دیگر بہت سے لوگ آپ سے بیعت کی۔ غرض دو ماہ تک پنجاب کے طول و عرض میں دورہ کیا تو ہزاروں لوگ آپ کے دامنِ عقیدت سے وابستہ ہوگئے۔ کشف و کرامات کا ظہور بھی ہوا۔

آپ کا قد مبارک دراز، چہرہ گندم گوں، بینی سُرخ و دراز، ریش مبارک سفید، چشم مبارک موزوں، گیسو مُبارک شانوں تک معلق رہتے، پیشانی کشادہ، انگشت مبارک نرم اور لمبی، سینہ فراخ اور باوجود ضعیف العمری کے بینائی اور سماعت میں فرق نہ تھا۔ رات کو سُرمہ طاق سلائیاں لگاتے۔ بالوں پر حنا(مہندی) لگاتے۔ جب باہر تشریف لے جاتے تو سَر پر لُنگی رکھ لیتے۔ پیرانہ سالی کے باوجود رفتار کافی تیز ہوا کرتی تھی بلکہ بہت سے آدمیوں سے آگے بڑھ جاتے تھے۔

نمازِ تہجّد کے بعد ذکر میں مشغول رہتے۔ پھر بعد از نمازِ فجر طلوعِ آفتاب تک مراقبہ میں رہتے، پھر تلاوتِ قرآن پاک دو تین سیپارہ کے بعد ختم شریف پڑھتے۔ طعام قبل از دوپہر تناول فرما کر قیلولہ فرماتے۔ اکثر و بیشتر نمازِ ظہر سے عشاء تک کی نمازیں ادا کرتے۔ ظہر کے بعد تلاوتِ قرآن فرماتے۔ اس کے بعد احباب کی حاجات کی طرف متوجہ ہوتے۔ حاضرین کو حسبِ ضرورت دُعااور تعویذ دیتے۔ نمازِ عصر کے بعد ختم شریف حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ پڑھا کرتے نماز باجماعت ادا کرنے کے عادی تھے۔ بعد از نماز مغرب طعام تناول فرماتے۔ نمازِ عشاء اوّل وقت میں ادا فرماتے، جہاں کہیں بھی تشریف لے جاتے آپ کا قیام مسجد میں ہی ہوتا تعویز نویسی زیادہ پسند نہ تھی لہٰذا اکثر دعا فرماتے اور اسی سے لوگوں کے اکثر مسائل حل ہوجاتے بفضلِ ایزوی آپ چاروں سلاسل طریقت کے صاحبِ مجاز وارث و ارشاد تھے لیکن صرف نقشبندیہ طریقت میں بیعت فرماتے۔ آپ کو اشعار سے بھی کسی قدر دلچسپی تھی۔ بعض اوقات صرف بیعت فرماکر خلفاء سے حلقہ کراتے کبھی کبھی خود بھی توجہ فرماتے۔ اور یہ اشعار پڑھتے۔

یَا رَسُولَ اللہ اُنْظُر حَالَنَا
اِنَّنِیْ فِی بَحْرِ ھَمِ مّغرقٌ

 

یَا حَبِیْبَ اللہِ اِسْمَعْ قَا لَنَا
خُذْیَدی سَھْلِ النَّا اَشْکَا لَنَا

 

’’اے اللہ کے رسول! میرے حال پر نظر فرمایئے اے اللہ کے حبیب! میری عرض سنیے۔ میں غموں کے مسندر میں غوطہ زن ہوں میری دستگیری فرمایئے اور مشکلیں آسان کردیجیے‘‘۔

ہر دم خدا را یاد کن دلہائے غمگیں شاد کن

 

بُلبل صفت فریاد کن مشغول شودر ذکر ہُو

’’ہر وقت خدا کو یاد کر، افسردہ دلوں کو خوش کر بُلبل کی طرح فریاد کر اور اللہ کے ذکر میں مشغول رہ‘‘۔

غافلی کفر است پہناں در وجودِ آدمی

 

ایں چنیں کا فرشدن راحاجتِ زنّار نیست

’’عفلت کُفر ہے جو آدمی کے وجود میں چھپا ہوا ہے۔ اس طرح کافر ہونے کے لیے زنّار کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

آپ عمومنا سادہ نیلگوں لباس پہنتے۔ شرعی سفید پاجامہ، سر پر کلاہ اور اُس پر لُنگی۔ خط دار یا سنبر دستار پہنتے۔ بدن پر کبھی نیلگوں لنگی یا چادر اوڑھتے۔ پوٹھوہاری جوتا استعمال فرماتے۔ ہمیشہ اپنے دستِ مبارک میں عصا رکھتے۔ آپ کی طبیعت میں تصنّع و ریا و تکلیف بالکل نہ تھا۔ غرور و تکبّر، فخر و خود پسندی آپ کے نزدیک نہ پھٹکا تھا۔ مسکنت و تملکنت و وقار آپ کے اندر کُورٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ صدیقی انور و برکات آپ کے چہرۂ اقدس سے عیاں تھے۔ آپ کی طبیعت میں جمالیّت اس قدر تھی کہ سالہا سال تک کسی پر غصّہ نہ فرماتے اور نہ کبھی آپ سے کسی کو ضرر و نقصان پہنچا کیونکہ جلالی فقراء سے ضرر زیادہ اور نفع بہت کم ہوتا ہے اور جمالی فقراء سے نفع زیادہ اور نقصان کم ہوتا ہے۔ آپ کسی دوست کے متعلق شکایت سننا گوارا نہ کرتے تھے۔ تحمّل و بُردباری میں اپنی مثال تھے۔ کبھی کسی سے کوئی غلطی ہوجاتی تو فوراً معاف فرما دیتے۔ امراء سے زیادہ خوش نہ ہوتے تھے بلکہ مخلص دوست کو (خواہ وہ انتہائی غریب ہی کیوں نہ ہو) پسند فرماتے۔ سکون و خاموش کو بہت پسند فرماتے تھے۔ آپ کی مجلس میں بڑے بڑے علماء و امراء حاضر رہتے تھے مگر آپ کی ذی وقار اور با رعب شخصیت کے سامنے کسی کو لب کشائی کی جرأت نہ ہوتی تھی۔ یہ آپ کی صحبت کی برکت و کشش تھی جو بیٹھ جاتا پھر اُٹھنے کا نام نہ لیتا تھا۔ ہمیشہ صاف ستھرے رہتے اور پاکیزہ اشیاء کو پسند  فرماتے تھے۔ کیونکہ:

اَللہُ جَمِیْلٌ وَّ یُحِبُ الْجَمَال

اللہ تعالیٰ خود خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔

آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی جو خمیری روٹی اور کھچڑی پر مشتمل تھی۔ کسی خاص چیز کے عادی نہ تھے جو کچھ حاضر ہوتا برضاء رغبت تناول فر مالیتے تھے۔ آپ کی اصل غذا ذکرِ حق تھی۔ آپ حتی الامکان کسی کا احسان نہ اٹھاتے تھے لیکن اگر کوئی احسان کرتا تو آپ اُسے یاد رکھتے حتّٰی کہ اُس کا دس گنا بدلہ عنایت فرماتے جس کسی کی ایک دفعہ دعوت قبول کر لیتے دوبارہ مشکل سے ہی قبول کرتے۔ آپ شہروں میں کم از کم تین روز اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن قیام فرماتے اور  جیسی جگہ ہوتی ویسا ہی مقیم ہوتے ہوتے۔ آپ کے ساتھ ہمیشہ چند خلفاء اور درویش سفر میں رہتے۔ آپ زاہد خشک یا محض ظاہر پرست نہ تھے۔ بلکہ لوگوں کی درستگی باطن کا خیال زیادہ رکھتے اور کبھی بھی اتباعِ سنّت سے قدم باہر نہ رکھتے۔ آخیر عمر میں احبابِ راولپنڈی کے اصرار پر چائے پینا شروع کردی تھی۔ ایّامِ سرما میں تین تین ماہ تک پانی نہ پیتے تھے۔ اکثر  شب بیدار رہتے تھے جب لیٹتے تو سر سے پاؤں تک سیاہ لُنگی اوڑھ  لیتے۔ جن لوگوں کو دیکھ کر خدا یاد آجاتا ہے آپ انہی میں سے ہی مجذوبِ سالک تھے۔

آپ جب عام لوگوں کو نصیحت فرماتے تو ارشاد  کرتے کہ اپنے باطن درست  کرو کیونکہ مرنے کے بعد اعمالِ باطنی ہی سے نجات مل سکتی ہے مگر ظاہری احکامِ شرعیہ  کا لحاظ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اعمال باطنی کی صحت و درستگی کی علامت بھی ظاہری اعمال و  افعال ہیں۔الظاھرعنوان الباطن (ظاہر باطن کا عنوان ہے) اور وہ ظاہر بھی سُنّت و  آثارِ صحابہ کے موافق ہو۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ خدا کو خدا  کے لیے پیار کرو اور یاد کرو کیونکہ مقصد کے لیے یاد کرنا صرف مقصد کی یاد ہے خدا کی یاد بغیر کسی نفسانی خواہشات کے کرنی چاہیے اور جب کبھی خاص احباب اور  خلفاء کو مخاطب کرتے  تو یہ حدیث قدسی بیان فرمایا کرتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتے ہیں کہ:

مَنْ لَمْ یَرْضِ بِقَضَائِی وَلَمْ یَصْبِرْ عَلٰی بَلَا ئِی وَلَمْ یَشْکُرْ عَلٰی نُعمْاَئِیْ وَلَمْ یَقْنَعْ بِعَطَائِیْ فَلْیَطْلُبْ رَبًّا سِوائِیْ

’’جو شخص میرے حکم پر راضی نہیں اور  میری بلا پر راضی نہیں اور میری نعمتوں پر شاکر نہیں اور  میرے عطیہ پر قانع نہیں تو وہ بے شک میرے سوا کسی اور کو اپنا رب بنالے‘‘۔

اس کے علاوہ یہ  حدیث شریف بھی بیان فرماتے:

خَیْرُ النَّاسِ مَنْ یَنْفَعُ النَّاسَ

’’بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے‘‘۔

آپ کے پاس اگر کوئی زاہد خشک یا باتونی شخص بیٹھتا تو آپ فرماتے کہ مجھے باتیں نہیں آتیں۔ آپ اپنے خلفاء اور  اجازت یا فتوں کی بھی توقیر کرتے اور اُن کی قدر و منزلت زیادہ ہی کرتے تاکہ وہ اپنے عقیدت مندوں کی نظر میں دقیع اور ذی اقتدار ہی رہیں۔ جس خلیفہ کے حلقہ میں تشریف لے جاتے وہاں پر اُسی کے مشورہ  و صلاح سے ہر اک کام کرتے یہاں تک کہ اکثر تعویذات اور وظائف وغیرہ بھی انہی کی تحویل میں رکھتے۔ آپ کے دل میں دنیاوی شان و شوکت اور وقعت و عزّت مچھر کے برابر بھی نہ تھی۔ آپ کبھی کبھی خاص احباب سے معانقہ فرماتے ورنہ اکثر مصافحہ پر ہی اکتفا فرماتے آپ کو جس طریقہ پر سلف صالحین نے مقرر کیا تھا، آخر تک اُسی پر ثابت قدم رہے۔

آپ اپنے غلاموں کو لفظ مرید سے نہ پکارتے تھے بلکہ لفظ ’’یار‘‘ یا ’’دوست‘‘ سے یاد فرماتے تھے۔ ایک دن آپ کے بنیرہ نے کہہ دیا کہ فلاں شخص تو ہمارا مرید ہے، اس پر آپ اُن پر سخت ناراض ہوئے یہاں تک کہ کلام بھی نہ کیا۔ صاحبزادہ بنیرہ نے نماز وغیرہ ترک کردی۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ نے سب کچھ ترک کردیا ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے جواب دیا کہ جب حضرت بابا جی قبلہ و کعبہ ناراض ہیں تو ان چیزوں کا کیا فائدہ؟ کیونکہ عبادات کی قبولیّت تو آپ کی رضا کے ساتھ ہے۔ جب آپ ناراض ہیں تو پھر ضرورت نہیں۔ جب بابا جی کو یہ خبر پہنچی تو صاحبزادہ کو بلوا کر  ارشاد  فرمایا کہ نہ میرے باپ دادا نے کسی کو لفظ مرید سے پکارا اور  نہ میں نے کسی  کو مرید  کے نام سے بلایا، پھر تم  اس  قابل کہاں کہ مرید کے لفظ سے پکارو۔ جاؤ! آئندہ توبہ  کرو  اور پھر کسی کو  لفظ مرید  سے نہ پکارنا۔

آپ کی کرامات بے شمار و  قطار ہیں۔ چند ایک درجہ ذیل ہیں۔

۱۔       آپ سیّدوں کے ایک گاؤں میں تشریف لے گئے جس میں ایک دو گھروں کے سوائے سب لوگ شیعہ تھے۔ آپ کی تشریف آوری سے خدا  نے سب کو ایسی ہدایت دی کہ وہ سب لوگ سُنّی العقیدہ ہوگئے اور عاشق  صادق بن گئے۔ آپ کی برکت سے وہ ایسے صوفی بن  گئے کہ وہ نماز، روزہ کے علاوہ صاحبِ ذکر اور تہجّد گزار بن گئے۔ اس سے بڑھ کر  اور  کیا  کرامت ہوسکتی ہے۔

۲۔       آپ جب بھی راولپنڈی تشریف  لے جاتے تو  محلہ ملیار مسجد میاں دارث میں قیام فرماتے تھے۔ ایک دن اتفاقاً  مسجد کو آگ لگ گئی۔ مسجد کا دروازہ بند تھا۔ مسجد کا سارا  فرش  جل گیا  مگر وہ جگہ جہاں آپ  تشریف فرما  ہوتے تھے، محفوظ و مامون رہی۔

۳۔      ایک دفعہ آپ امر تسر میں مسجد خیر دین میں تشریف  رکھتے تھے کہ ایک بیوہ  حاضرِ خدمت ہوئی اور عرض کیا کہ میرا لڑکا  علی محمد بی۔ اے میں پڑھتا تھا کہ اس  کا والد فوت ہوگیا۔ میں نے گھر کا  سازو سامان فروخت کر کے، مصائب و آلام برداشت  کر کے اُسے امتحان دلوایا مگر بدقسمتی سے وہ فیل ہوگیا ہے۔ اب میرے لیے کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ یہ کہہ کر  وہ رونے لگی۔ آپ نے اسے تسلّی دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’جا وہ  تو پاس ہے‘‘ جب وہ عورت گھر واپس آئی تو اسے ایک تار ملا کہ علی محمد پاس ہے اور اس کے بجائے ایک سکھ کا  لڑکا فیل ہوا ہے۔ پہلے اطلاع غلط دی گئی ہے۔ یہ  دیکھ کر وہ عورت خوشی سے پھولے نہ  سماتی تھی اور سب کو بتاتی تھی کہ میرا لڑکا حضرت خواجہ فقیر محمد کی دعا و توجہ سے پاس  ہُوا ہے۔

وہ لڑکا وہیں آپ کی  خدمت میں حاضر ہوکر شرفِ بیعت سے مشرف ہوا اور کافی مدّت تک راولپنڈی میں سینئر جج کے عہدے پر فائز رہا اور سیشن جج کے عہدے سے ریٹائر  ہوا۔

۴۔      راولپنڈی صدر میں گرجا  سے متصل آپ کا ایک مخلصِ صادق میاں پیر بخش رہتا تھا۔ اس  کا بیان ہے کہ ہمارے آبائی گاؤں میں پانی نہیں تھا کیونکہ زمین بہت  سنگلاخ تھی لوگ بہت دُور دراز سے پانی لاتے تھے۔ آپ کی خدمت میں اس وقّت اور  تکلیف کے ازالہ کے لیے عرض کیا گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس جگہ کنواں کھودو۔ پیر بخش نے چار سو روپیہ خرچ کر  کے کنواں کھد وایا  مگر پانی نہ نکلا۔ پھر اُس نے حکومت سے امداد لے کر مزید کھدوائی کرائی مگر پانی نہ نکلا۔ لوگ پیر بخش کو لعن طعن کرنے لگے کہ تیرے پیر نے تجھے برباد کردیا۔ جب آپ دوسرے سال تشریف لائے تو یہ تمام باتیں آپ کی خدمت میں عرض کی گئیں، آپ نے نہایت خاص حالت میں اٹھ کر فرمایا کہ ’’پیر بخش کے حق میں دعا کرو‘‘ پھر فرمایا! میاں پیر بخش جاؤ، خدا تعالیٰ پانی دے دے گا۔ گھبرانے اور غم و فکر کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

میاں پیر بخش اتفاقاً باہر نکلے تو دیکھا کہ بچے کنویں پر جمع ہیں اور ایک شور و غوغا ہو رہا  ہے۔ ایک بچّے نے کہا کہ بابا! پانی آگیا ہے۔ پیر بخش نے دیکھا تو  نیچے  سے بڑے زور سے پانی اوپر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسا معلوم  ہوتا ہے کہ گویا غیب سے ایک نہر  آرہی ہے۔ پیر بخش کا بیان ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے پانی کنویں کے کنارے تک آگیا۔ پانی بھی ایسا میٹھا اور سرد تھا کہ شاید ہی ایسا پانی کسی نے دیکھا اور پیا ہو۔ لوگ پانی استعمال کرتے تھے اور خوشی کے شادیانے بجاتے تھے۔

انہی دنوں محمد بخشی نامی ایک شخص نے خواب دیکھا کہ حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ تیراہ شریف (افغانستان) سے وہ پانی لا رہے ہیں اور کنویں میں گراتے جاتے ہیں۔ سچ ہے کہ

گفتۂِ اُو گفتہِ اللہ بود

 

گرچہ ز حلقومِ عبداللہ بُود

’’اُس کا کہا  ہُوا، اللہ ہی کا کہا ہُوا ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ کے بندے کے حلق سے ادا ہوتا ہے‘‘ (رُومی)

۵۔       ایک دفعہ حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ موضع نازنگ ضِلع سیالکوٹ (غالباً نازنگ منڈی حال ضلع شیخو پورہ) کی مسجد میں قیام فرماتے تھے۔ وہاں بڑ کا  ایک بہت بڑا  درخت تھا جو نمازِ مغرب کے بعد ہلنے لگا۔ آپ نے لوگوں سے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو  انہوں نے عرض کیا کہ یہ  ہر  روز اسی وقت اور اسی طرح ہلتا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ بہت  سے لوگ یہاں نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے، آپ اُسی  وقت مراقب ہوگئے اور  تھوڑی دیر کے بعد سر اٹھا کر فرمایا: ’’وَت نہ ہلسی‘‘ یعنی اب یہ کبھی نہیں ہلے گا۔ لوگوں نے عرض  کیا کہ حضور! اس میں کیا راز ہے؟ فرمایا کہ اس درخت کے دامن  میں ایک جن کا ڈیرہ تھا۔ وہ شام  کو پرندوں کو  اڑانے کے لیے درخت کو ہلاتا تھا۔ اب میں نے اُس کو کہہ دیا ہے کہ اس حرکت سے باز آجاؤ اور پرندوں، جانوروں اور نمازیوں کو پریشان نہ کرو۔ وہ چلا گیا ہے۔ اس لیے آئندہ یہ  درخت نہ ہلے گا۔ چنانچہ  ایسا ہی ہُوا۔

تو ہم گردن ازجکم داور نہ پیچ

 

کہ گردن نہ پیچد ز حکم تو ہیچ

’’تُو اللہ تعالیٰ کے حکم سے گردن نہ پھیرتا کہ کوئی بھی تیرے حکم سے گردن نہ  پھیرے‘‘۔

۶۔       ایک مرتبہ آپ موضع بن علاقہ پنڈی گھیپ کی ایک مسجد میں تشریف فرما تھے۔ وہاں عقیدت مندوں کے جم غفیر کی وجہ سے بہت اژو حام تھا جو گرد و نواح سے زیارت کے لیے آئے ہوئے تھے۔ بڑی پُر لطف اور پُر کیف مجلس ہو رہی تھی کہ آپ اچانک اُٹھ کھڑے ہُوئے اور  فرمایا کہ سب دوست فوراً باہر نکل جاؤ۔ لوگ پریشان و حیران ہوگئے اور فوراً باہر نکل گئے۔ جب تک سارا سامان اور دوست باہر نہ نکل آئے آپ مسجد  کے اندر  ہی ٹھہرے رہے۔ جو نہی آپ نے اپنا قدم باہر رکھا مسجد کی چھت گر گئی۔

۷۔      ایک دفعہ حسن دین نامی ایک صوبیدار نے عرض کیا کہ میری عمر حدِّ شباب سے تجاوز کر گئی ہے اور اب تک میرے گھر میں اولاد نہیں ہوئی۔ آپ دُعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس آخری وقت میں ہی اولادِ نرینہ عطا فرمادے۔ آپ نے ایک تعویذ عنایت فرمایا اور  ارشاد کیا کہ ہمارا مالک و خالق تم کو لڑکا عطا کرے گا، اُس کا نام عبداللطیف رکھنا۔ چنانچہ دوسرے سال جب آپ دوبارہ تشریف لائے تو اُس صوبیدار نے بچّے کو آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضور! یہی وہ بچّہ ہے جو آپ کی دعا سے خدا تعالیٰ نے عنایت فرمایا ہے۔

۸۔      ایک دفعہ آپ موضع ڈیریا نوالہ ضلعِ سیال کوٹ کی مسجد پٹھاناں میں جلوہ افروز تھے کہ ایک یار ولی داد خاں نے حاضر ہوکر عرض کی، حضور! میرے ہاں چھ بیٹیاں ہیں مگر لڑکا ایک بھی نہیں ہے۔ آپ نے قند سیاہ (گڑ) پڑھ کر دیا اور فرمایا کہ اپنی بیوی کو کھلا دو اور دعا فرما کر  کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں لڑکا عطا فرمائے گا، اُس کا نام محمد  شریف رکھنا۔ چنانچہ جب آپ اگلے سال تشریف لائے تو ولی داد خاں نے بچّہ حاضر کر کے عرض کی کہ یہ وہی بچّہ ہے جس کا نام آپ نے محمد شریف رکھا تھا۔

۹۔       امیرِ ملّت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ محدّث  علی پوری قدس سرہ نے اپنے گاؤں علی پور  سیّداں شریف میں ایک کنواں کھدوایا تو  اس سے پانی نہ نکلا، لوگوں کو بڑی پریشانی ہوئی۔ انہی ایّام میں حضرت بابا جی تشریف لائے تو لوگوں نے پانی کی شکایت کی۔آپ نے ارشاد کیا کہ اب کنواں کھداؤ، اللہ تعالیٰ پانی عطا فرمائے گا۔ چنانچہ جب کنواں کھدوایا گیا تو بفضلِ خدا  اس  قدر پانی آیا کہ کبھی خشک نہ ہوا۔ حالانکہ اس کے اردگرد کے کنویں خشک پڑے تھے۔

آپ کے پانچ صاحبزادے تھے۔ حضرت خواجہ گل نبی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ محمد  نبی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ احمد نبی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ سعید شاہ اور حضرت خواجہ قادر شاہ رحمۃ اللہ علیہ۔ سب صاحبزادگان کامل و اکمل تھے۔

آپ کے خلفاء کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے، بطور اختصار صرف پنجاب کے چند خلفاء کرام کے اسمائے گرامی درج ہیں۔ جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اِس آفتابِ معرفت سے کیسے کیسے با کمال لوگوں نے روشنی حاصل کر کے ایک عالم کو منوّر کیا۔

۱۔      سنوسئیِ ہند امیر ملّت حضرت حضرت پیر سیّد حافظ جماعت علی شاہ محدّث علی پوری قدس سرہ

یہ آپ کے بڑے محبوب مرید اور خلیفہ تھے۔ ایک دفعہ آپ کے دیگر خدّام میں سے ایک نے شکایت کی کہ ہم برسوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہیں اور حتی الامکان ریاضت و مجاہدہ بھی کرتے ہیں مگر جس قدر آپ کی نظرِ کرم حضرت حافظ جماعت علی شاہ صاحب پر ہے ویسی اوروں پر نہیں۔ آپ نے صرف ایک ہفتہ میں ہی اُنہیں صاحب ارشاد بنا دیا ہے۔ اس پر حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ فقیر کے پاس خدا کا دیا ہُوا سب کچھ ہے مگر ہر ایک کی قسمت اور مقدّر جُدا جُدا ہے۔

اک باپ  کے دوبیٹے قسمت جُدا جُدا ہے
اک تھان کے دو ٹکڑے قسمت جُدا جُدا  ہے
اک سیپ  کے دو  موتی قسمت جُدا جُدا ہے

 

اک تخت کا ہے  وارث اک خاک چھانتا ہے
اک نازنین کے سر پر اک لاش پر پڑا ہے
اک پس گیا کَھرل میں ایک تاج میں جڑا ہے

 

 

سنو! حافظ جماعت  علی شاہ صاحب کے پاس چراغ بھی تھا، تیل بھی تھا، بتی بھی تھی اور دیا  سلائی بھی تھی۔ میں نے تو صرف سلگانے کی محنت کی ہے۔ خدا  تعالیٰ نے روشن چراغ کردیا۔

یہ مرتبہ بلند مِلا جس کو مل گیا

 

ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں

۲۔       حضرت حافظ عبدالکریم رحمۃ اللہ علیہ صاحب راولپنڈی  (عید گاہ شریف)۔

۳۔      حضرت خلیفہ محمد خان عالم  رحمۃ اللہ علیہ باؤلی شریف ضلع  گجرات۔

۴۔      حضرت خلیفہ صاحبزادہ غلام محی الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ باؤلی شریف ضِلع گجرات۔

۵۔       حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ ثانی علی پوری رحمۃ اللہ علیہ۔

۶۔       حضرت مولوی غلام نبی قریشی رحمۃ اللہ علیہ چک قریشاں ضِلع سیال کوٹ۔

۷۔      حضرت مولوی محمد حسن گجراتی رحمۃ اللہ علیہ۔

۸۔      حضرت مولانا غلام محمد  بگوی رحمۃ اللہ علیہ امام شاہی مسجد لاہور۔

۹۔       حضرت صاحبزادہ نواب الدّین علی رحمۃ اللہ علیہ ساکن بشندور۔

۱۰۔      حضرت حافظ فتح دین رحمۃ اللہ علیہ، رنگپورہ سیال  کوٹ۔

۱۱۔      راجہ شیر باز  خاں رحمۃ اللہ علیہ موضع بڑکی تحصیل گوجر خاں ضِلع راولپنڈی۔

۱۲۔      حضرت مولانا مست علی رحمۃ اللہ علیہ  موضع متر انوالی ضِلع سیال کوٹ۔

۱۳۔     حضرت غلام قادر شاہ رحمۃ اللہ علیہ کوٹلی سیّداں۔

۱۴۔     حضرت حافظ جی رحمۃ اللہ علیہ، جوڑی والا۔

۱۵۔      حضرت سیّد چنن شاہ رحمۃ اللہ علیہ آلو مہار شریف ضِلع سیال کوٹ۔

آپ کی وفات حسرت آیات ۲۹؍ محرم الحرام ۱۳۱۵ھ/۳۰؍جون ۱۸۹۷ء کو بعمر شریف ایک سو دو سال چودہ شریف ضِلع اٹک میں ہوئی۔ مزار مقدس آج بھی مرجعِ خاص و عام ہے۔ مادۂ تاریخ وفات ’’غفرلہ‘‘ ۱۳۱۵ھ ہے۔

وصال فرمانے سے قبل احباب کو جو وصیّت فرمائی، وہ یہ تھی۔

۱۔       جس جگہ جاؤ تو یاروں میں حمد و شکر نہ چھوڑ جاؤ، یعنی یاروں کو بوجہ تکلیف یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ خدا کا شکر ہے کہ پیر صاحب چلے گئے۔

۲۔       یاروں کو آپس میں حسد  و کینہ نہیں ہونا چاہیے جس کو خدا  خیر و  برکت دے، اُس سے مستفید و مستفیض ہونا چاہیے۔

۳۔      سفر میں ذکر کو ہر حال میں مقدّم رکھنا چاہیے۔ اگر کسی جگہ ذکر میں کچھ قصور واقع ہو تو اُس جگہ نہ رہیں کیونکہ وہاں کے لوگ فیض سے محروم رہیں گے۔

۴۔      یاروں کے ساتھ سیر کو نہ جانا چاہیے، جب تک وہ خود خواہشمند نہ ہوں۔

۵۔       پیر کو چاہیے کہ انتظار کے بغیر ہی چلا جائے تاکہ لوگوں کو کسی طرح کی بدگمانی یا بدخیالی پیدا نہ  ہو۔

ارشاداتِ قُدسیہ:

۱۔       اپنا باطن درست کرو کیونکہ بعد  ازمرگ اعمالِ باطن ہی سے نجات مل سکے گی۔ مگر ظاہری احکامِ شرعیہ کا لحاظ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ ظاہری درستگی  کے بغیر باطنی اعمال کی درستگی نا  ممکن ہے۔

۲۔       خدا  سے خدا کے لیے پیار  کرو اور یاد کرو۔ کیونکہ مقصد کے لیے یاد کرنا صرف مقصد کی یاد ہے خدا کی یاد بلا اغراضِ نفسانی ہونی چاہیے۔

۳۔      خصوصی احباب سے اکثر یہ حدیث قدسی بیان فرمایا کرتے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو  فرماتا ہے کہ جو شخص میرے حکم پر راضی نہیں اور میری بلا پر صابر نہیں اور میری نعمتوں پر شاکر نہیں اور میرے عطیہ پر قانع  نہیں تو وہ شخص میرے سوا کسی اور کورب بنالے‘‘۔

۴۔      اور یہ حدیث شریف بھی بیان فرماتے کہ ’’بہتر وہ شخص ہے جو لوگوں کو نفع پہنچائے‘‘۔

 (تاریخِ مشائخ نقشبند)

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مزید

تجویزوآراء