سیدنا امام محمد باقر

حضرت سیدنا امام محمد باقر﷜

نام ونسب:اسمِ گرامی:سیدامام محمد۔(آپ کانام جدامجد سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے نامِ نامی اسمِ گرامی پررکھاگیا)کنیت:ابوجعفر۔لقب:باقر،شاکر،ہادی۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سیدنا امام حسین بن علی المرتضی ۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی سیدہ فاطمہ بنت سیدنا امام حسن تھا۔ یہ آپ کی خصوصیات میں سے ہیں کہ آپ کاسلسلہ نسب دونوں طرف سے سیدالانبیاء حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ تک پہنچتاہے۔(رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)
باقر کی وجہ تسمیہ:باقر، بقرہ سے مشتق ہے اوراسی کا اسم فاعل بھی ہے ۔اس کے معنی شق کرنے اور وسعت دینے کے ہیں(المنجد)۔حضرت امام محمد باقر کواس لقب سے اس لیے ملقب کیا گیا تھا کہ آپ نے علوم ومعارف کونمایاں فرمایا اورحقائق احکام وحکمت ولطائف کے وہ سربستہ خزانے ظاہرفرما دئیے جو لوگوں پرظاہر و ہویدا نہ تھے۔(صواعق محرقہ،شواہدالنبوت)
تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت بروز جمعہ 3/ صفرالمظفر57ھ،بمطابق 15/دسمبر676ء کو اپنے دادا سیدنا امام حسین کی شہادت سے تین سال پہلے مدینہ منورہ میں ہوئی۔
تحصیلِ علم: اپنے والدِ گرامی اور فقہاء مدینۃ المنورہ سے علم حاصل کیا۔ طبقات الحفاظ میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد ماجد، اور جد امجد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور ایک طائفہ صحابہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اِن سے اِن کے صاحبزادے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ و عطاء رضی اللہ عنہ و ابن جریج رضی اللہ عنہ و امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ و اوزاعی رضی اللہ عنہ و زُہری رضی اللہ عنہ وغیرہ نے حدیث کو لیا ہے، اور ابن شہاب زہری رضی اللہ عنہ جنہوں نے سب سے پہلے حدیث کی تدوین کی ہے اِن کو حدیث میں ثقہ لکھا ہے، اور امام نسائی رضی اللہ عنہ نے اہلِ مدینہ کے فقہائے تابعین میں اِن کا ذکر کیا ہے۔ علم احادیث،علم سنن اورتفسیر قرآن وعلم السیرت ودیگر علوم وفنون کے ذخیرے جس قدرامام محمد باقر رضی اللہ عنہ سے ظاہر ہوئے اتنے حسنین کریمین کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔
بیعت وخلافت: آپ اپنے والدِ گرامی کےجانشین ہوئے،اور آئمہ اہل بیت میں سے پانچویں امام ہیں۔
سیرت وخصائص:کاشفِ اسرار،مطلعِ انوار،آثارِ سیدالمرسلین ﷺ وارثِ حسن وحسین حضرت سیدنا امام محمد باقر رضی اللہ عنہ۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے اوراس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم وزہد اورشرف وفضیلت میں بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ آپ علم القرآن، علم الآثار،علم السنن اورہرقسم کے علوم ، حکم،آداب وغیرہ کے جامع تھے۔بڑے بڑے تابعین،اورعظیم القدرفقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے۔ عطاء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ میں نے علمائے کرام کو ازروئے علم کے کسی کے پاس اس قدر اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا کہ اِن کے رو برو دیکھا۔
علامہ ابن حجرمکی لکھتے ہیں: کہ حضرت امام محمد باقررضی اللہ عنہ کے علمی فیوض وبرکات اورکمالات واحسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہو گیا ہواورجس کی طینت وطبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ"باقرالعلوم" علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں۔آپ کا دل صاف، علم وعمل روشن و تابندہ ، اورخلقت شریف تھی۔ آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسر ہوتے تھے۔عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اورگہرے نشانات نمایاں ہو گئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اورعاجز و ماندہ ہیں ۔ آپ کے ہدایات وکلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کا احصاء اس کتاب میں ناممکن ہے(صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔
علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں: کہ امام محمد باقرعلامہ زمان اور سردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحراور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان)۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں :کہ آپ بنی ہاشم کے سرداراورمتبحر علمی کی وجہ سے باقرمشہورتھے ۔ آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اورآپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔
آپ اپنےآباؤاجدادکی طرح بے پناہ عبادت کرتے تھے ۔ساری رات نمازپڑھنا، اورسارا دن روزہ سے گزارناآپ کی عادت تھی ۔آپ کی زندگی زاہدانہ تھی۔آپ بڑے عابد، زاہد، خاشعِ، خاضع، پاک طینت اور بزرگ نفس تھے، تمام اوقات کو عبادت و طاعتِ الٰہی سے معمور رکھتے، آدھی رات کو رویا کرتے، اور بارگاہِ الٰہی میں نہایت عاجزی سے مناجات کیا کرتے تھے۔ ہدایاجوآتے تھے اسے فقراء ومساکین پرتقسیم کردیتے تھے غریبوں پربے حدشفقت فرماتے تھے تواضع اورفروتنی ،صبروشکرغلام نوازی صلہ رحمی وغیرہ میں اپنی نظیرآپ تھے۔آپ فقیروں کی بڑی عزت کرتے تھے اورانہیں اچھے نام سے یادکرتے تھے (کشف الغمہ )۔
سیدالمرسلین ﷺ کا سلام بھیجنا:حضرت امام باقر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دن میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوا اور ان کو سلام کیا۔ اس وقت وہ نابینا ہوچکے تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں۔ میں نےکہا محمد بن علی بن حسین ہوں۔ یہ سنتے ہی فرمایا:اے میرے بیٹے آگے آؤ! جب میں آگے ہوا تو آپ نے میرے ہاتھ پر بوسہ دیا ،اس کے بعد میرے پاؤں پر بوسہ دینا چاہا کہ میں دور ہوگیا۔ آپ نے کہا :"رسول اللہ ﷺ نے آپ کوسلام بھیجا ہے"۔میں نے جواب دیا: اللہ کے حبیب ﷺ پر بھی صلوۃ وسلام ہواور اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمتیں اوربرکتیں ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حضرت یہ واقعہ کس طرح ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا :کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے مجھے فرمایا تھا کہ اے جابر!شاید تم میرے ایک فرزند کے آنے تک زندہ رہوگے۔ اور اس سے ملاقات کروگے۔ اس کا نام محمد بن علی بن حسین ہوگا۔ خدا تعالیٰ ان کو نورو حکمت عطا کرے گا میرا اس کو سلام پہنچادینا۔ (بارہ امام :مولانا جامی)
وصال: آپ کاوصال 7/ذوالحجہ 114ھ، بمطابق جنوری/733ء کو 57سال کی عمر میں ہوا۔آپ کی قبرِ انور امام حسن مجتبیٰ اور حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہماکےساتھ (جنت البقیع،مدینۃ المنورہ) میں ہے۔
ماخذومراجع: خزینۃ الاصفیا۔الصواعق المحرقہ۔اقتبا س الانوار۔بارہ امام۔

 

مزید

تجویزوآراء