حضرت ابو الفرح طرطوسی﷫

حضرت ابو الفرح طرطوسی﷫

اوصافِ جمیلہ :

آپ امام العاشقین، امیر المتورعین، سلطان الواصلین، رئیس السّالکین، حجت رب العالمین، قطب الدنیا والدّین، قدوۂ اولیائے زمان، زبدۂ مشائخ جہان، سلطانِ طریقت، برہانِ حقیقت، صاحبِ مقاماتِ بلند و کراماتِ ارجمند تھے، حضرت شیخ عبد الواحد تمیمی رحمۃ اللہ علیہ کے اعاظم خلفا میں سے تھے۔

 نام و نسب:

 آپ کا نامِ نامی محمد، یوسف، کنیت ابو الفرح، لقب علاؤ الدین۔

 والد بزرگوار کا نام شیخ عبد اللہ بن یونس تھا۔

آپ کے آبا و اجداد کا مسکن شہر طر طوس [۱] [۱۔ خزینۃ الاصفیا جلد اوّل ص ۹۰] تھا جو ملکِ اَندلَس [۱] [۱۔ تحفۃ الابرار ۱۲] کا ایک پُر رونق شہر ہے۔

 بیعت و خلافت:

 آپ کی بیعتِ طریقت حضرت شیخ ابو الفضل عبد الواحد یمنی تمیمی رحمۃ اللہ علیہ سے تھی، انہیں کی خدمت میں رہ کر خرقہ خلافت حاصِل کیا۔ [۱] [۱۔ مسالک السّالکین جلد  اول ص ۳۲۷]

بیعتِ روحی:

 آپ کو روحی بیعت حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خواجہ فُضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے تھی۔ [۱] [۱۔ آئینہ تصوف ۱۲]

 مشائخ صحبت:

 آپ نے اپنے والد ماجد حضرت شیخ عبد اللہ طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ سے فیضِ کامل پایا، نیز سیّد موسیٰ مختومی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی نعمتِ باطنی حاصل ہوئی۔ [۱] [۱۔ آئینہ تصوف ۱۲]

توکل و تجرید:

 آپ صبر و ریاضت و توکل میں قدم محکم رکھتے تھے، اور تجرید و تفرید میں یگانۂ وقت تھے۔ [۱] [۱۔ خزنیۃ الاصفیا جلد اول ص ۹۰ شرافت]

کرامات :

کتاب آئینہ تصوّف میں ہے کہ آپ سے سات سو خوارق ظہور میں آئے۔

 علمیات:

 برائے رحمتِ الٰہی آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ اٹھارہواں اسم منگلوار کی رات کو اسی (۸۰) بار پڑھے، اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوگی، اٹھارہواں (۱۸) اسم یہ ہے۔ یارءوف انت الذی لا ترد المحتاجین والمساکین محرومًا من بابہٖ۔ [۱] [۱۔ جواہر الاولیا جوہر پنجم۔ مگر اس  میں آپ کا نام شیخ یوسف بن یونس رحمۃ اللہ علیہ لکھا ہے ۱۲]

خلفائے کرام:

 صاحبِ آئینہ تصوّف نے لکھا ہے کہ خلیفہ اکبر آپ کے اس سلسلۂ خاص میں صرف ایک حضرت شیخ ابو الحسن ہکّاری رحمۃ اللہ علیہ ہوئے ہیں، ان کا ذکر آگے آئے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، اور خلیفۂ اصغر نو، اور صاحبِ مجاز سات تھے۔

 شیخ ابو اسمٰعیل احمد بن محمد بن حمزۃ الصوفی الملقب بہ شیخ عمو رحمۃ اللہ علیہ (متوفی رجب 441ھ) نے شیخ ابو الفرح طر طوسی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا اور فیض پایا تھا۔ [۱] [۱۔ نفحات الانس ص ۲۳۷ شرافت]

 سلسلہ طر طوسیہ :

آپ سے جو سلسلہ فقر چلا اُس کا نام صنفِ فقرا میں طر طوسیہ کہا جاتا ہے۔ بعض طوسیہ بھی کہتے ہیں۔

تاریخ وفات:

 حضرت شیخ ابو الفرح طرطوسی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بقول صاحبِ مسالک السّالکین جلد اوّل و انوار العارفین و تحفۃ الابرار بتاریخ سوم ماہِ شعبان المعظم 447 چار سو  سینتالیس ہجری مطابق 28؍ اکتوبر 1055ء ایک ہزار پچپن عیسوی میں بعہدِ خلافت القائم بامر اللہ ابو جعفر محمد الذخیرۃ بن القادر خلیفہ بست ششم (۲۶) عباسی کے ہوئی۔

مدفن پاک :

آپ کا مزارِ پُر انوار شہر طرطوس میں ہے۔ رحمۃ اللہ علیہ

قطعہ تاریخ

از مولانا شاہ غلام مصطفٰے صاحب نوشاہی ادام اللہ برکاتہٗ

بو الفرح چول رفت از دُنیائے دُول

گشت در فردوس طیّب غیر باک

جست نوشاہی ز ہاتف وصلِ پیر

زود گفتا ہادیِ ۴۴۷ ابرار پاک

 

 منہ

چوں رفت پیراز ما شد در جناں چو ماہ

تاریخِ انتقالش خواں شایقِ الہ (۴۴۷)

منہ

الوداع چوں گشت پیرِ رہنما

سالِ رحلت قطب زاہد پیشوا (۴۴۷)

منہ

گشت از ما جدا چو آں اعظم

ہست تاریخ عالم و مکرم (۴۴۷)

 منہ

درجناں خورد شیخ جامِ دَہق

وصلِ اوگشت پیر واصل حق (۴۴۷)

منہ

چو رخصت شد ولیِ پاک اکرم

بگفتم انتقالش شاہِ عالم (۴۴۷)

دیگر

از اسماء الحسنیٰ

شافی مبدی (۴۴۷)

رفیق مجید (۴۴۷)

مصوّر اعلٰی (۴۴۷)

مرسل معزّ (۴۴۷)

قھار منّان (۴۴۷)

قاھر منّان (۴۴۷)

بصیر مھیمن (۴۴۷)

مدبّر نافع (۴۴۷)

کبیر طاھر (۴۴۷)

 

کبیرا طہر (۴۴۷)

 

(شریف التواریخ)

مزید

تجویزوآراء