حضرت شیخ ابوسعیدمبارک مخزومی﷫

حضرت شیخ ابوسعیدمبارک مخزوم﷫

نام ونسب: اسمِ گرامی:مبارک بن علی۔کنیت:ابوسعید۔لقب:قاضی القضاۃ،مصلح الدین،قبیلہ بنی مخزوم کی نسبت سے"مخزومی"کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:شیخ ابوسعید مبارک مخزومی بن علی بن حسین بن بندار البغدادی۔(علیہم الرحمۃ والرضوان)

مولدوموطن:  آپ کی ولادت باسعادت 446ھ،کومحلہ"مخرّم"بغدادمعلی(عراق)میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اورشیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ کی صحبت سے فیضِ کامل اورعلمِ نافع  پایا۔آپ حنبلی المذہب اور فقیہ العصرتھے، اور جماعتِ حنابلہ کے اصول و فروع میں شیخ و امام تسلیم کیے جاتے تھے۔آپ بغدادکے"قاضی القضاۃ "(چیف جسٹس)کےمنصب  پرفائزتھے۔

بیعت وخلافت:  آپ شیخ ابوالحسن علی ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے مریدوخلیفۂ اعظم تھے۔ان کے علاوہ آپ نے سید یونس رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ صمد ابدال رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ ابو الفضل سرخسی رحمۃ اللہ سے بھی فیض یاب ہوئے۔

سیرت وخصائص:سراج العالمین، فخر السّالکین، قطب الاقطاب، مظہر رب الارباب، محافظِ قواعد الاسلام، مبیّن الحلال و الحرام، سلطان الاولیاء، بُرھان الاتقیاء، قدوۂ عارفاں، قبلۂ سالکاں، پیرِ طریقت، واقفِ حقیقت، جامع علوم ظاہر و باطن حضرت شیخ ابوسعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ  علیہ۔ آپ علیہ الرحمہ  حضرت شیخ ابو الحسن علی  ہکاری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفۂ اعظم تھے۔ آپ نے اٹھارہ سال اپنے شیخ کی خدمت میں رہ کر  ریاضتِ شاقہ کیں اور کامل واکمل ہوکر خرقۂ خلافت حاصل کیا۔آپ نے مدرسہ "باب الازج بغداد "کی بنیاد رکھی، اور علومِ شرعیہ کی تعلیم و تدریس شروع کی، اکثر فضلائے زمانہ آپ کے تلامذہ میں سے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں ہی یہ مدرسہ حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا۔آپ ہروقت اشاعتِ علم میں مشغول رہتے تھے۔اس وقت دینی درسگاہوں میں ہی طلباء کو ظاہری تعلیم کے ساتھ باطنی علوم کی دولت حاصل ہوتی تھی۔اساتذہ تعلیم کے ساتھ تربیت وتزکیۂ نفس پر بھی خاص توجہ دیتے تھے۔یہی وجہ  ہےکہ اس وقت کا طالب علم جب فارغ التحصیل  ہوکر (صرف) ایک عالم نہ ہوتا بلکہ اللہ کاولی ِ کامل بھی ہوتا تھا۔آپ کو حضرت خضر علیہ السلام کی مصاحبت حاصل تھی، اُن سے بہت فوائد علوم ظاہری و باطنی اخذ کیے۔آپ نے اپنے مریدِ کامل،حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سےایک مرتبہ فرمایا:"اےعبدالقادر!وہ زمانہ بہت قریب ہے کہ جب تمہارا آستانہ مرجعِ خلائق ہوگا،اور تم دینِ محمدی کے زندہ کرنےوالےاورلوگوں کوفیضِ عام عطاءکرنیوالے بن جاؤگے"۔حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کے خلیفۂ اعظم ہیں۔ (تذکرہ قادریہ:97)

وصال: آپ کاوصال بروزاتوار،7/محرم الحرام513ھ،مطابق 20/اپریل1119ءکوہوئی۔ آپ کا مزار پر انوار بغداد شریف "باب الازج" میں  مرجعِ خلائق ہے۔

ماخذومراجع: شریف التواریخ۔تذکرہ قادریہ۔

مزید

تجویزوآراء