حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی

حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

نام ونسب: اسم گرامی: علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی﷫۔لقب: آفتابِ پنجاب،علامۂ زمان۔والد کا اسم گرامی:  شیخ شمس الدین۔آپ﷫خاندانی طور پر ’’شیخ صدیقی‘‘ تھے۔سلسلہ ٔ نسب  کئی واسطوں سے حضرت عبد الرحمن  بن حضرت ابوبکر صدیق ﷜ تک منتہی ہوتاہے۔ماضی قریب کے بزرگ خلیفۂ اعلیٰ حضرت،قطبِ مدینہ،شیخ العرب والعجم شیخ ضیاء الدین مدنی﷫ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی سےجا ملتاہے۔

تاریخِ ولادت:آپ  کی تاریخِ پیدائش کسی تذکرے میں نہیں ملی۔البتہ پروفیسر محمد الدین فوقؔ صاحب مرحوم کےقیاس  کے مطابق 968ھ ہے۔

تحصیلِ علم:  مولانا کی ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش اُسی طرح ہوئی جس طرح ایک عام غریب گھرانوں کے بچوں کی ہوتی ہے۔البتہ ان کی پیشانی پر ستارۂ بلندی کی جھلک ضرور دکھائی دیتی تھی۔بچپن میں ہی آثارِ سعادت و فطانت صورت سے عیاں  تھے۔پھر قسمت نے یاوری کی  کہ علامۂ زماں،معلمِ ثقلین ،و علامۂ مشرقَین حضرت علامہ مولانا کمال الدین کشمیری﷫، رافضی حاکم ِ کشمیر کے ظلم و جبر کی وجہ سے کشمیر سے سیالکوٹ ہجرت کرآئے۔ میاں وارث کشمیری مرحوم، عہدِ اکبری کے ایک نامور جاگیردار تھے۔انہوں نے مولانا کمال الدین﷫ کو اپنی عالی شان مسجد’’مسجد میاں وارث‘‘ کے ساتھ  مدرسے کےلئے جگہ دی۔مولانا نے قرآن و حدیث ودیگر علوم عقلیہ  ونقلیہ کا درس جاری کیا۔جہاں علم کے پیاسے جوق در جوق آکر سیراب ہونے لگے۔مولانا کی محنت اور تعلیم کی برکت سے فقہ، حدیث، تفسیر، اور منطق و فلسفہ میں ایسے نامور لوگ پیدا ہوئے کہ مولانا کمال الدین کی ہرطرف شہرت  ہوگئی۔ہندوستان کے تمام علاقوں سے طلباء آنے لگے۔مولانا کمال الدین کاانتقال 1017ھ بعہدِ جہانگیر سیالکوٹ میں ہوا۔انسانوں کے علاوہ جنات بھی آپ سے تحصیلِ علم کرتےتھے۔مولانا سے بے شمار لوگوں نے تحصیلِ علم کیا ہوگا۔مگرتین ایسے شاگرد ہیں جن پر جتنا فخر کیاجائے کم ہے۔قطبِ ربانی حضرت مجدد الفِ ثانی۔آفتابِ پنجاب، علامۂ زماں حضرت علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی،اور علامی فہامی نواب سعد اللہ خان(وزیر اعظم شاہ جہاں)۔علیہم الرحمہ۔ان کے علاوہ  نظام الملک طوسی شاہانِ سلجوق کا ایک نامور وزیر بنا یہ بھی آپ کا شاگردتھا۔(سوانح علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی:13)

بیعت و خلافت: علامہ عبد الحکیم سیالکوٹی اور حضرت مجدد الفِ ثانی علیہما الرحمہ دونوں ہم سبق تھے۔تحصیلِ علم سے فراغت کے بعد ہر طالب علم اپنے اپنے علاقے میں چلاگیا۔اس وقت ذرائع ابلاغ میں صرف خط وکتابت کا سلسلہ ہوتا تھا۔حضرت مجدد اور علامہ میں زمانۂ طالب علمی کے تیس سال بعد از سر نو تعلقات ہوئے،اس طویل عرصے میں دونوں ہم مکتبوں کی شہرت دور دور تک پہنچ چکی تھی۔حضرت مجدد احیائے دین اور رد بدعات و مفسدات میں مصروف تھے،تو علامہ سیالکوٹی چراغِ علم سے دلوں کو روشن کررہےتھے۔1022ھ کا واقعہ ہے کہ مولانا کا ایک شاگرد جو تمام شاگردوں سے لائق اور فائق تھا،اتفاقاً متواتر چند یوم تک درس میں شریک نہ ہوا۔مولانا نے ایک طالب علم اس کی خبر گیری کےلئے روانہ کیا۔وہ شاگرد اسی وقت حاضر ہوا،اور کہنے لگا۔اس غیر حاضری کی وجہ یہ تھی کہ چند ورق میرے ہاتھ لگے ہیں،ان کے مطالعے نے ایسی لذت اور استغراق پیدا کیا کہ کسی اور کتاب کی طرف جی ہی نہیں چاہتا،اور پھر وہ چند صفحات مولانا کو دیدیئے اور عرض کیا آپ بھی ان کامطالعہ کریں،جب آپ نے اس کا مطالعہ کیا تو اس میں علوم و معارف کےایسے موتی تھے کہ بے ساختہ پوچھا یہ کس بزرگ کا کلام ہے۔ایک شخص جو قریب ہی بیٹھا تھا اور سرہند میں حضرت مجدد کی مجلسوں میں شامل رہ چکا تھا کہا یہ کلام حضرت شیخ احمد سرہندی کاہے۔پھر حضرت علامہ سیالکوٹی کو حضرت مجدد کی ذات سے قلبی اعتقاد پیدا ہوگیا۔1023ھ یا1024ھ میں سیالکوٹ سے سرہند حاضر ہوئے،اور بہت دنوں تک سرہند میں رہے،ظاہری و باطنی علوم کی صحبتیں گرم رہیں۔اسی ملاقات میں علامہ عبدالحکیم فاضل سیالکوٹی ﷫ حضرت مجدد الفِ ثانی ﷫ سے بیعت ہوئے۔

مجدد الفِ ثانی لقب:  امام ربانی حضرت شیخ احمد سرہندی﷫ کو  سب سے پہلے ایک خط میں ’’مجدد الفِ ثانی‘‘ کا لقب علامہ سیالکوٹی نے تحریر کیا تھا۔اس لقب کی ایسی شہرت ہوئی کہ صدیاں بیت جانے کےبعد  بھی لوگ اسی لقب سے آپ کو جانتے ہیں۔بلکہ بہت سے لوگ ایسے ہیں  جو مقبول عام

خطاب ’’مجدد الفِ ثانی‘‘کے مقابلے میں ان کے اصل نام ’’شیخ احمد‘‘سے بہت کم آگاہ ہیں۔اسی طرح حضرت مجدد الفِ ثانی﷫ علامہ سیالکوٹی کے تبحر ِعلمی کے پیش نظر ان کو ’’آفتابِ پنجاب‘‘ کہتے تھے۔(ایضا:19)

سیرت وخصائص: جامع العلوم العقلیہ والنقلیہ،بحر العلوم،حاویِ جمیع علوم و فنون،سید العلماء،زبدۃ الحکماء،عمدۃ  الاتقیاء،آفتابِ پنجاب،حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم سیالکوٹی﷫۔آپ ﷫اکابر علماء اور اعاظم فضلائے زمانہ میں سے تھے۔ ظاہری علوم میں فریدالدہر اور باطنی رموز میں وحید العصر تھے۔ حدیث، فقہ اور علم تفسیر میں وحیدِ  زمانہ تھے۔میر غلام علی آزاد بلگرامی فرماتے ہیں: آپ اپنے زمانے کے ایک عالم ِمتبحر اور اہل زمانہ کےلیے سرمایۂ نازش تھے۔آپ ایک درویش کامل بھی تھے۔اس میں شک نہیں کہ تمام درسی علوم میں آپ جیسا عالم و فاضل اور ماہر علوم و فنون ہندوستان کی سرزمین پر کوئی دوسرا پیدا نہیں ہوا۔جس نے اپنی غیر معمولی عقل و دانش اور فراست و حسنِ قبولیت کے باعث ایسے گہرے نقوش زمانہ کے دل و دماغ میں چھوڑے ہوں۔فراغت کے بعد درس وتدریس اپنے وطن سیالکوٹ میں شروع کی۔چند ہی دنوں میں علوم ظاہر و باطن میں ایسا کمال حاصل کیا گویا وہ ایک ماہِ کامل تھے۔جس کی نورانیت سے ایک جہاں منور ہوگیا،اور ایک ایسا سر چشمۂ فیض تھے جس کی برکات سے عرصہ تک خلق اللہ سیراب اور فیض یاب ہوتی رہی۔(مآثر الکرام:284)

آپ نے حضرت  شاہ بلاول قادری لاہوری کے ارشاد پرحضرت غوث الاعظم﷫ کی مشہور کتاب غنیۃ الطالبین کا فارسی میں  ترجمہ کیا تھا۔ آپ کو مغل بادشاہ جہانگیر اور شاہ جہاں کے دربار میں اعلیٰ  مقام حاصل تھا۔ بادشاہ کے حکم پر لاہور میں درس قرآن دینا شروع کیااور علمی وعملی  شہرت نے دربارِ مغلیہ میں پہنچا دیا دربار شاہی میں دوبارچاندی سے تلوایا گیا اور چاندی آپ کو بخش دی گئی وہ آپ نے اپنے شاگردوں میں تقسیم کردی۔ جاگیر عطا ہوئی تو طلبا پر وقف کردی۔ سلطانِ وقت نے ایک لاکھ روپیہ ماہانہ مقرر کیاتوغرباء میں تقسیم کردیتےتھے۔

مولانا فقیر محمد جہلمی فرماتے ہیں: مولاناعبدالحکیم سیالکوٹی بڑے عالم فاضل فقیہ محدث،مفسر خصوصاً علم معقولات میں طاق،یگانۂ آفاق،محسود علمائے معقول ہندوستان اور صاحبِ تصانیف عالیہ تھے۔جہانگیر و شاہجہان کے دربار میں آپ کی بڑی عزت و توقیر تھی اور آپ شہزادگان کے استاد تھے چنانچہ شاہجہان نے آپ کو دو دفعہ میزان میں تلوایا اور ہر دفعہ چھ چھ ہزار روپیہ دیا۔آپ کو سیالکوٹ میں سوا لاکھ روپیہ کی جاگیر ملی ہوئی تھی جو آپ کی اولاد کے پاس نسل بعد نسل موجود رہی اور اخیر کو گھٹتے گھٹتے اب سرکار انگلشیہ کے عہد میں بسبب انقطاع خاندان کے بالکل ضبط ہوگئی،بادشاہ کی اجازت سے آپ نے لاہورمیں درس جاری کیا اور آپ کے لکھے ہوئے فتاویٰ پر کسی کو علمائے ہند و پنجاب میں سے جائے چوں و چرانہ ہوئی تھی۔ آپ کےخلف الرشید ملا عبداللہ الملقب بہ لبیب بھی بڑے عالم فاضل،ماہر متبحر تھے۔چنانچہ عالمگیر بادشاہ ان کی بڑی عزت کرتا تھا اور کتاب تفریح بر تلویح ان کی تالیفات سے یادگار ہے۔(حدائق الحنفیہ:435)

تصانیف:تفسیرصاوی کے حاشیہ اور تکملہ عبدالغفور کے علاوہ آپ نے مقدمات تلویح، حاشیہ مطول، شرح مواقف،شرح شریفیہ، شرح عقائد تفتازانی شرح عقائد دوانی، حاشیہ خیالی،شرح شمسیہ،شرح مطالع میبذی، مراح الارواح وغیرہ  پر گراں قدر حواشی لکھے۔ جو آج تک اساتذہ درس نظامی کےلئے راہنما ہیں۔سیدی ضیاء الدین مدنی القادری میں بتیس کتب کی فہرست دی گئی ہے۔

تاریخِ وصال:آپ 18/ربیع الاول 1067ھ مطابق 3جنوری/1657ءکو واصل باللہ ہوئے۔سیالکوٹ میں مزار مرجعِ خلائق ہے۔ (سیدی ضیاء الدین مدنی القادری،جلد اول،صفحہ163)۔اس کے علاوہ مآثر الکرام، اور سوانح علامہ عبدالحکیم سیالکوٹی میں تاریخِ وصال 12/ربیع الاول 1068ھ ہے۔حدائق الحنفیہ۔خزینۃ الاصفیاء میں 1068ھ درج ہے۔

مزید

تجویزوآراء