سید عبد اللہ شاہ غازی

سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ

نام و نسب: آپ کا اسمِ گرامی سید عبد اللہ، کنیت ابو محمد اور لقب الاشتر ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں حضرت سیدنا امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ سے کاکر ملتا ہے۔پورا سلسلہ نسب یوں ہے:سید عبد اللہ بن سید محمد ذو النفس الذکیہ بن سید عبد اللہ المحض بن سید حسن مثنیٰ بن سیدنا امام حسن بن علی (رضی اللہ تعالٰی عنہم)

تاریخ ومقامِ ولادت: آپ کی ولادتِ باسعادت 98 ھ مدینۃ المنورہ میں ہوئی۔

تحصیلِ علم: آپ کی تعلیم وتربیت اپنے والد محترم حضرت سید محمد نفس ذکیہ کے زیرِ سایہ ہوئی۔علمِ حدیث میں ملکہ تام رکھتے تھے۔بعض مصنفین نے آپ کو محدثین میں شمار کیا۔

سیرت وخصائص:سید عبد اللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پیکرِ علم وعمل تھے۔ اللہ تبارک وتعالٰی کی رضا پر آپ کی خاص توجہ مرکوز تھی۔ مخلوق کی رہنمائی کرنے میں بھی آپ نے کامل توجہ دی، اور خدا کے خدائی کی ایک تعداد تھی جو آپ کے فیض سے مستفیض ہوئی۔آپ ہی کیذات گرامی وادی سندھ میں سادات کی وہ قدیم ترین شخصیت ہیں کہ جنہوں نے وادی سندھ میں اسلام کو متعارف کرایا۔آپ نے کئی لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے متعارف کراکر دائرہ اسلام میں داخل کیا۔آج سندہ میں جو اسلام کا جھنڈا لہراہا ہے وہ آپ ہی کی مرہونِ منت ہے۔ آپ کو خلافت سے زیادہ اسلام کی تبیغ واشاعت عزیز تھی جس کے خاطر آپ سرزمین سندھ میں وارد ہوئے۔عموماًپوراسندھ اور خصوصاً کراچی کی شہرت بھی درحقیقت آپ کی ذاتِ گرامی کا صدقہ ہے۔(یہ انہی بزرگانِ دین کا فیضان ہے آج ہم سرکارِ دو عالم ﷺ کے نام کا کلمہ پڑھنے والے ہیں۔اگر یہ اللہ تبارک وتعالٰی کے اولیاء یہاں تشریف نہیں لاتے تو ہم نہ جانے کس باطل مذہب کی پیروی کررہے ہوتے۔آج انہی کی بدولت ہم نے اللہ تعالی کو پہچانااس کے حبیب ﷺ کی معرفت حاصل کی، ابدی جہنم کے عذاب سے نجات پائی۔اللہ کے اولیاء کے اس احسان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہما وقت اس بات کو اپنے ذہنوں میں رکھنا چاہئے۔ ان کے مزار پر انوار پر عقیدت واحترام اور شریعت کے دائرے میں رہ کر حاضری دینا اور جتنا ہوسکے ان کے ایصالِ ثواب کرنا چاہئے۔)

وصال: آپ کا وصال 20 ذو الحجہ 151 ھ/بمطابق جنوری  769 ء کوہوا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا عرس بڑے شاندار طریقے سے بڑے اہتمام اور بہت نظم وضبط کے ساتھ  20,21,22 ذو الحجہ کو عقیدت واحترام کے ساتھ کراچی کلفٹن میں منایا جاتا ہے۔

ماخذو مراجع:تذکرہ اولیاء سندھ

تجویزوآراء