منظومات  

لطف ان کا عام ہو ہی جائیگا

لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گاشاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا جان دے دو وعدۂ دیدار پرنقد اپنا دام ہو ہی جائے گا شاد ہے فردوس یعنی ایک دنقسمتِ خدّام ہو ہی جائے گا یاد رہ جائیں گی یہ بے باکیاںنفس تو تو رام ہو ہی جائے گا بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیںمٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا یادِ گیسو ذکرِ حق ہے آہ کردل میں پیدا لام ہو ہی جائے گا ایک دن آواز بدلیں گے یہ سازچہچہا کہرام ہو ہی جائے گا سائلو! دامن سخی کا تھام لوکچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا یادِ ابر...

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کا

محمد مظہرِ کامل ہے حق کی شانِ عزّت کانظر آتا ہے اِس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا یہی ہے اصلِ عالم مادّہ ایجادِ خلقت کایہاں وحدت میں برپا ہے عجب ہنگامہ کثرت کا گدا بھی منتظر ہے خلد میں نیکوں کی دعوت کاخدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت کا گنہ مغفور، دل روشن، خنک آنکھیں، جگر ٹھنڈاتَعَالَی اللہ ماہِ طیبہ عالم تیری طلعت کا نہ رکھی گُل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جا باقیچٹکتا پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا بڑھا یہ سلسلہ رحمت کا دَورِ زلفِ والا میں...

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرااونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرااَولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا کیا دبے جس پہ حمایت کا ہو پنجہ تیراشیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتّا تیرا تو حسینی حسنی کیوں نہ محیّ الدین ہواے خضر! مجمعِ بحرین ہے چشمہ تیرا قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھےپیارا اللہ تِرا چاہنے والا تیرا مصطفیٰ کے تنِ بے سایہ کا سایہ دیکھاجس نے دیکھا مِری جاں! جلوۂ زیبا تیرا ابنِ زہرا ک...

تو ہے وہ غوث کہ ہرغوث ہے شیدا تیرا

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیراتو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبےافقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا مرغ سب بولتے ہیں بول کے چپ رہتے ہیںہاں اصیل ایک نوا سنج رہے گا تیرا جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گےسب ادب رکھتے ہیں دل میں مِرے آقا تیرا بقسم کہتے ہیں شاہانِ صریفین و حریمکہ ہوا ہے نہ ولی ہو کوئی ہمتا تیرا تجھ سے اور دہر کے اقطاب سے نسبت کیسیقطب خود کون ہے خادم تِرا چیلا تیرا سارے اقطاب جہاں کرتے ہی...

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا

الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرامر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا بادلوں سے کہیں رکتی ہے کڑکتی بجلیڈھالیں چھنٹ جاتی ہیں اٹھتا ہے جو تیغا تیرا عکس کا دیکھ کے منھ اور بھپر جاتا ہےچار آئینہ کے بل کا نہیں نیزا تیرا کوہ سرمکھ ہو تو اِک وار میں دو پَر کالےہاتھ پڑتا ہی نہیں بھول کے اوچھا تیرا اس پہ یہ قہر کہ اب چند مخالف تیرےچاہتے ہیں کہ گھٹا دیں کہیں پایہ تیرا عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتےیہ گھٹائیں، اُسے منظور بڑھانا تیرا وَرَفَعْنَا ل...

ہم خاک ہیں اورخاک ہی ماویٰ ہے ہمارا

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہماراخاکی تو وہ آدم جَدِ اعلیٰ ہے ہمارا اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میںیہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیّدِ عالماُس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے ہمارا خم ہوگئی پشتِ فلک اِس طعنِ زمیں سےسُن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا اُس نے لقبِ ’’خاک‘‘ شہنشاہ سے پایاجو حیدرِ کرّار کہ مولا ہے ہمارا اے مدّعیو! خاک کو تم خاک نہ سمجھےاِس خاک میں مدفوں شہِ بطحا ہے ہمارا ہے خاک سے ت...

غم ہوگئے بے شمار آقا

غم ہوگئے بے شمار آقابندہ تیرے نثار آقا بگڑا جاتا ہے کھیل میراآقا آقا سنوار آقا منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹیدے ہاتھ کہ ہوں میں پار آقا ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میریلِلّٰہ یہ بوجھ اتار آقا ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہبھاری ہے تِرا وقار آقا مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہےتم کو تو ہے اختیار آقا میں دور ہوں تم تو ہو مِرے پاسسن لو میری پکار آقا مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہوگاتم سا نہیں غم گُسار آقا گرداب میں پڑ گئی ہے کشتیڈوبا ڈوبا، اتار آقا تم وہ کہ کرم کو ناز تم سےم...

ہم خاک ہیں اورخاک ہی ماویٰ ہے ہمارا

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماوا ہے ہماراخاکی تو وہ آدم جَدِ اعلیٰ ہے ہمارا اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میںیہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سیّدِ عالماُس خاک پہ قرباں دلِ شیدا ہے ہمارا خم ہوگئی پشتِ فلک اِس طعنِ زمیں سےسُن ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا اُس نے لقبِ ’’خاک‘‘ شہنشاہ سے پایاجو حیدرِ کرّار کہ مولا ہے ہمارا اے مدّعیو! خاک کو تم خاک نہ سمجھےاِس خاک میں مدفوں شہِ بطحا ہے ہمارا ہے خاک سے ت...

واہ کیا جودوکرم ہےشہ بطحا تیرا

واہ کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرانہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیراتارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرّہ تیرا فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیراآپ پیاسوں کے تجسّس میں ہے دریا تیرا اَغنیا پلتے ہیں در سے وہ ہے باڑا تیرااَصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستا تیرا فرش والے تِری شوکت کا عُلو کیا جانیںخسروا! عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا آسماں خوان، زمیں خوان، زمانہ مہمانصاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا میں تو مالک ہی کہ...

بندہ ملنے کو قریب حضرت قادرگیا

بندہ ملنے کو قریبِ حضرتِ قادر گیالمعۂ باطن میں گمنے جلوۂ ظاہر گیا تیری مرضی پا گیا سورج پھرا الٹے قدمتیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چِر گیا بڑھ چلی تیری ضیا اندھیر عالَم سے گھٹاکُھل گیا گیسو تِرا رحمت کا بادل گھر گیا بندھ گئی تیری ہوا ساوہ میں خاک اڑنے لگیبڑھ چلی تیری ضیا آتش پہ پانی پھر گیا تیری رحمت سے صفیّ اللہ کا بیڑا پار تھاتیرے صدقے سے نجیّ اللہ کا بجرا تِر گیا تیری آمد تھی کہ بیت اللہ مجرے کو جھکاتیری ہیبت تھی کہ ہر بُت تھر تھرا کر ...

خراب حال کیا دل کو پر ملال کیا

خراب حال کیا دِل کو پُر ملال کیاتمھارے کوچے سے رخصت کیا نہال کیا نہ روئے گل ابھی دیکھا نہ بوئے گل سونگھیقضا نے لا کے قفس میں شکستہ بال کیا وہ دل کہ خوں شدہ ارماں تھے جس میں مل ڈالافغاں کہ گورِ شہیداں کو پائمال کیا یہ رائے کیا تھی وہاں سے پلٹنے کی اے نفسسِتم گر الٹی چھری سے ہمیں حلال کیا یہ کب کی مجھ سے عداوت تھی تجھ کو اے ظالمچھڑا کے سنگِ درِ پاک سر و بال کیا چمن سے پھینک دیا آشیانۂ بلبلاُجاڑا خانۂ بے کس بڑا کمال کیا تِرا ستم زدہ آنکھوں ن...

شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیا

شورِ مہِ نَو سن کر تجھ تک میں دَواں آیاساقی میں تِرے صدقے مے دے رمضاں آیا اِس گُل کے سوا ہر پھول با گوشِ گراں آیادیکھے ہی گی اے بلبل جب وقتِ فغاں آیا جب بامِ تجلّی پر وہ نیّرِ جاں آیاسر تھا جو گرا جھک کر دل تھا جو تپاں آیا جنّت کو حَرم سمجھا آتے تو یہاں آیااب تک کے ہر اک کا منھ کہتا ہوں کہاں آیا طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فنا ہوں گےدیکھو گے چمن والو! جب عہدِ خزاں آیا سر اور وہ سنگِ در آنکھ اور وہ بزمِ نورظالم کو وطن کا دھیان آیا تو کہاں آیا...

نہ آسمان کو یوں سر کشیدہ ہونا تھا

نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھاحضورِ خاکِ مدینہ خمیدہ ہونا تھا اگر گُلوں کو خزاں نا رسیدہ ہونا تھاکنارِ خارِ مدینہ دمیدہ ہونا تھا حضور اُن کے خلافِ ادب تھی بے تابیمِری اُمید تجھے آرمیدہ ہونا تھا نظارہ خاکِ مدینہ کا اور تیری آنکھنہ اس قدر بھی قمر شوخ دیدہ ہونا تھا کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیںدِلِ حزیں تجھے اشکِ چکیدہ ہونا تھا پناہِ دامنِ دشتِ حرم میں چین آتانہ صبرِِ دل کو غزالِ رمیدہ ہونا تھا یہ کیسے کھلتا کہ ان کے سوا شفیع نہیںعبث ن...

لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جانا

لَمْ یَاتِ نَظِیْرُکَ فِیْ نَظَرٍ مثلِ تو نہ شد پیدا جاناجگ راج کو تاج تو رے سر سو ہے تجھ کو شہِ دو سَرا جانا اَلْبَحْرُ عَلَا وَالْمَوْجُ طَغٰے من بے کس و طوفاں ہوشربامنجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا موری نیا پار لگا جانا یَا شَمْسُ نَظَرْتِ اِلٰی لَیْلِیْ چو بطیبہ رسی عرضے بکنیتوری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مِری شب نے نہ دن ہونا جانا لَکَ بَدْرٌ فِی الْوَجْہِ الْاَجْمَلْ خط ہالۂ مہ زلف ابرِ اجلتورے چندن چندر پرو کنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا اَنَ...

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیاساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلم دان گیا لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیامیرے مولیٰ مِرے آقا ترے قربان گیا آہ وہ آنکھ کہ نا کامِ تمنّا ہی رہیہائے وہ دل جو تِرے در سے پُر ارمان گیا دل ہے وہ دل جو تِری یاد سے معمور رہاسر ہے وہ سر جو تِرے قدموں پہ قربان گیا اُنھیں جانا اُنھیں مانا نہ رکھا غیر سے کاملِلہِ الْحَمْد میں دنیا سے مسلمان گیا اور تم پر مِرے آقا کی عنایت نہ سہینجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا آج لے ا...

باقیِ اَسیاد یا سجاد یا شاہِ جواد

ترزبانیِ مدح نگار بذکرِ بقیہ ائمّۂ اَطہار ودیگر اولیائے کبار تا حضرتِ غوثیّت مَدار عَلَیْہِمْ رِضْوَانُ الْغَفَّار   باقیِ اَسیاد یا سجاد یا شاہِ جواد خضرِ ارشاد آدمِ آلِ عَبا امداد کُن اے بقیدِ ظلم و صد قیدی زِ بندِ غم کُشا اے تہِ بے داد و کانِ دادہا امداد کُن باقرا یا عالمِ سادات یا بحر العلوم از علومِ خود بَدَفعِ جہلِ ما امداد کُن جعفرِ صادق بحق ناطق بحق واثق توئی بہرِ حق ما را طریقِ حق نما امداد کُن شانِ حلماً کانِ علماً جانِ س...

مِلکِ خاصِ کبریا ہو

مِلکِ خاصِ کبریا ہو مالکِ ہر ما سوا ہو کوئی کیا جانے کہ کیا ہوعقلِ عالَم سے ورا ہو کنزِ مکتومِ ازل میں دُرِّ مکنونِ خدا ہو سب سے اوّل سب سے آخر ابتدا ہو انتہا ہو تھے وسیلے سب نبی، تم اصلِ مقصودِ ہُدیٰ ہو پاک کرنے کو وضو تھےتم نمازِ جاں فزا ہو سب بِشارت کی اذاں تھے تم اذاں کا مُدّعا ہو سب تمھاری ہی خبر تھے تم مؤخّر مبتدا ہو قربِ حق کی منزلیں تھےتم سفر کا مُنتہیٰ ہو قبلِ ذکر اضمار کیا جب رتبہ سابق آپ کا ہو طورِ موسیٰ چرخِ عیسیٰ کیا مُسا...

یَا الٰہی! ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ را

مِسْکُ الْخِتَامْ وَفَذْلَکَۃُ الْمَرَامْ وَ رُجُوْعُ الْکَلَامْ اِلَی الْمَلِکِ الْمِنْعَامْ جَلَّ وَعَلَا یَا الٰہی! ذیلِ ایں شیراں گِرفتم بندہ رااز سگانِ شاں شمارد دائما امداد کُن بے وسائل آمدن سوئے تو منظورِ تو نیست زاں بہر محبوبِ تو گوید رضا امداد کُن مظہرِ عون اَند و ایں جا مغزِ حرفی بیش نیستیعنی اے ربِّ نبیّ و اولیا امداد کُن نیست عون از غیرِ تو بَل غیرِ تو خود ہیچ نیستیَا اِلٰہَ الْحَقّ اِلَیْکَ الْمُنْتَہٰی امداد کُن حدائق بخشش...

یا ابن ہذا المُرتجی یا عبد رزاق الوری

تسلیہ خاطر بذکرِ عاطر بقیّہ اکابر تا جنابِ سَحاب برکات ماطر قَدَّسَ الْقَادِر اَسْرَارَہُمُ الْاَطَاہِر   یَا ابْنَ ہٰذَا الْمُرْتَجٰی یَا عَبْدَ رَزَّاقِ الْوَرٰی تا کہ باشد رزقِ ما عشقِ شما امداد کُن یا ابا صالح صَلاحِ دین و اِصلاحِ قلوب فاسدم گلزارِ و در جوشِ ہوا امداد کُن جانِ نَصْری یا محی الدین فَانْصُرْ وَانْتَصِرْ اے علی اے شہر یارِ مرتضیٰ امداد کُن سیّدِ موسیٰ! کلیمِ طورِ عرفاں المدد! اے حسن اے تاجْدار مجتبیٰ امداد کُن ...

تاب مرآت سحر

تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب غازۂ روئے قمر دودِ چراغانِ عرب   اللہ اللہ بہارِ چمنستانِ عرب پاک ہیں لَوثِ خزاں سے گُل و رَیحانِ عرب   جوشِش ابر سے خونِ گلِ فردوس کرے چھیڑ دے رگ کو اگر خارِ بیابانِ عرب   تشنۂ نہرِ جِناں ہر عربی و عجمی! لبِ ہر نہرِ جِناں تشنۂ نیسانِ عرب   طوقِ غم آپ ہوائے پرِ قمری سے گرے اگر آزاد کرے سروِ خرامانِ عرب   مہر میزاں میں چھپا ہو تو حمل میں چمکے ڈالے اِک بوند شبِ دے میں جو بار...

پھر اٹھا ولولۂ یاد مغیلانِ عرب

پھر اٹھا ولولۂ یادِ مغیلانِ عربپھر کھنچا دامنِ دل سوئے بہابانِ عرب باغِ فردوس کو جاتے ہیں ہزارانِ عربہائے صحرائے عرب ہائے بیابانِ عرب میٹھی باتیں تِری دینِ عجم ایمانِ عربنمکیں حُسن تِرا جانِ عجم شانِ عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہرِ دامانِ عربجس میں دو لعل تھے زہرا کے وہ تھی کانِ عرب دل وہی دل ہے جو آنکھوں سے ہو حیرانِ عربآنکھیں وہ آنکھیں ہیں جو دل سے ہوں قربانِ عرب ہائے کس وقت لگی پھانس اَلم کی دل میںکہ بہت دور رہے خارِ مغیلانِ عرب فصلِ گل لا...

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائیِ دوست

جوبنوں پر ہے بہارِ چمن آرائیِ دوستخلد کا نام نہ لے بلبلِ شیدائیِ دوست تھک کے بیٹھے تو درِ دل پہ تمنّائیِ دوستکون سے گھر کا اُجالا نہیں زیبائیِ دوست عرصۂ حشر کجا موقفِ محمود کجاساز ہنگاموں سے رکھتی نہیں یکتائیِ دوست مہر کس منھ سے جلو داریِ جاناں کرتاسائے کے نام سے بیزار ہے یکتائیِ دوست مرنے والوں کو یہاں ملتی ہے عمرِ جاویدزندہ چھوڑے گی کسی کو نہ مسیحائیِ دوست ان کو یکتا کیا اور خلق بنائی یعنیانجمن کرکے تماشا کریں تنہائیِ دوست کعبہ و عرش می...

طوبیٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخ

طوبیٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخمانگوں نعتِ نبی لکھنے کو روحِ قدس سے ایسی شاخ مولیٰ گلبن رحمت زہرا سبطین اس کی کلیاں پھولصدّیق و فاروق و عثماں، حیدر ہر اک اُس کی شاخ شاخِ قامتِ شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیںسنبل نرگس گل پنکھڑیاں قُدرت کی کیا پھولی شاخ اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دےجس سے نخلِ دل میں ہو پیدا پیارے تیری ولا کی شاخ یادِ رخ میں آہیں کرکے بَن میں مَیں رویا آئی بہارجھومیں نسیمیں، نیساں برسا، کلیاں چٹکیں، ...

زہے عزّت و اعتلائے محمد

زہے عزّت و اعتلائے محمدﷺکہ ہے عرشِ حق زیرِ پائے محمدﷺ مکاں عرش اُن کا فلک فرش اُن کامَلک خادمانِ سرائے محمدﷺ خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالمخدا چاہتا ہے رضائے محمدﷺ عجب کیا اگر رحم فرما لے ہم پرخدائے محمد برائے محمدﷺ محمد برائے جنابِ الٰہی!جنابِ الٰہی برائے محمدﷺ بسی عطرِ محبوبیِ کبریا سےعبائے محمد قبائے محمدﷺ بہم عہد باندھے ہیں وصلِ ابد کارضائے خدا اور رضائے محمدﷺ دمِ نزع جاری ہو میری زباں پرمحمد محمد خدائے محمدﷺ عصائے کلیم اژدہائے غضب تھ...

اے شافعِ امم شہ ذی جاہ لے خبر

اے شافعِ اُمَم شہِ ذی جاہ لے خبرلِلّٰہ لے خبر مِری لِلّٰہ لے خبر دریا کا جوش، ناؤ نہ بیڑا، نہ نا خدامیں ڈوبا، تو کہاں ہے مِرے شاہ لے خبر منزل کڑی ہے رات اندھیری میں نابلداے خضر لے خبر مِری اے ماہ لے خبر پہنچے پہنچنے والے تو منزل مگر شہاان کی جو تھک کے بیٹھے سرِ راہ لے خبر جنگل درندوں کا ہے میں بے یار شب قریبگھیرے ہیں چار سمت سے بد خواہ، لے خبر منزل نئی عزیز جُدا لوگ ناشناسٹوٹا ہے کوہِ غم میں پرِ کاہ لے خبر وہ سختیاں سوال کی وہ صورتیں مہیب...

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادر

بندہ قادر کا بھی قادر بھی ہے عبدالقادرسرِّ باطن بھی ہے ظاہر بھی ہے عبدالقادر مفتیِ شرع بھی ہے قاضیِ ملّت بھی ہےعلمِ اَسرار سے ماہر بھی ہے عبدالقادر منبعِ فیض بھی ہے مجمعِ افضال بھی ہےمہرِ عرفاں کا منور بھی ہے عبدالقادر قطبِ ابدال بھی ہے محورِ ارشاد بھی ہےمرکزِ دائرۂ سِرّ بھی ہے عَبدالقادر سلکِ عرفاں کی ضیا ہے یہی درِّ مختارفخرِ اشباہ و نظائر بھی ہے عَبدالقادر اُس کے فرمان ہیں سب شارحِ حکمِ شارعمظہرِ ناہی و آمر بھی ہے عبدالقادر ذی تصرف بھی...

گزرے جس راہ سے وہ

گذرے جس راہ سے وہ سیّدِ والا ہو کررہ گئی ساری زمیں عنبرِ سارا ہو کر رُخِ انور کی تجلّی جو قمر نے دیکھیرہ گیا بوسہ دہِ نقشِ کفِ پا ہو کر وائے محرومیِ قسمت کہ میں پھر اب کی برسرہ گیا ہمرہِ زوّارِ مدینہ ہو کر چمنِ طیبہ ہے وہ باغ کہ مرغِ سدرہبرسوں چہکے ہیں جہاں بلبلِ شیدا ہو کر صرصرِ دشتِ مدینہ کا مگر آیا خیالرشکِ گلشن جو بنا غنچۂ دل وا ہوکر گوشِ شہ کہتے ہیں فریاد رَسی کو ہم ہیںوعدۂ چشم ہے بخشائیں گے گویا ہو کر پائے شہ پر گرے یا رب تپشِ مہر س...

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارضظلمتِ حشر کو دِن کردے نہارِ عارض میں تو کیا چیز ہوں خود صاحبِ قرآں کو شہالاکھ مصحف سے پسند آئی بہارِ عارض جیسے قرآن ہے ورد اُس گلِ محبوبی کایوں ہی قرآں کا وظیفہ ہے وقارِ عارض گرچہ قرآں ہے نہ قرآں کی برابر لیکنکچھ تو ہے جس پہ ہے وہ مَدح نگارِ عارض طور کیا عرش جلے دیکھ کے وہ جلوۂ گرمآپ عارض ہو مگر آئینہ دارِ عارض طرفہ عالم ہے وہ قرآن اِدھر دیکھیں اُدھرمصحفِ پاک ہو حیران بہارِ عارض ترجمہ ہے یہ صفت کا وہ خود آ...

تمھارے ذرّے کے پرتو ستارہائے فلک

تمھارے ذرّے کے پرتو ستارہائے فلکتمھارے نعل کی ناقص مثل ضیائے فلک اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوںمگر تمھاری طلب میں تھکے نہ پائے فلک سرِ فلک نہ کبھی تا بہ آستاں پہنچاکہ ابتدائے بلندی تھی انتہائے فلک یہ مٹ کے ان کی رَوِش پر ہوا خود اُن کی رَوِشکہ نقش پا ہے زمیں پر نہ صوتِ پائے فلک تمھاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھرچلی نسیم ہوئے بند دیدہائے فلک نہ جاگ اٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیندچلا یہ نرم نہ نکلی صدائے پائے فلک یہ اُن کے جلوے نے کیں ...

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گل

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گلپامال جلوۂ کفِ پا ہے جمالِ گل جنّت ہے ان کے جلوہ سے جو یائے رنگ و بواے گل ہمارے گل سے ہے گل کو سوالِ گل اُن کے قدم سے سلعۂ غالی ہوئی جناںواللہ میرے گل سے ہے جاہ و جلالِ گل سنتا ہوں عشقِ شاہ میں دل ہوگا خوں فشاںیا رب یہ مژدہ سچ ہو مبارک ہو فالِ گل بلبل حرم کو چل غمِ فانی سے فائدہکب تک کہے گی ہائے وہ غنج و دَلالِ گل غمگیں ہے شوقِ غازۂ خاکِ مدینہ میںشبنم سے دھل سکے گی نہ گردِ ملالِ گل بلبل یہ کیا کہا میں کہاں...

سر تا بقدم ہیں تن سلطان زمن پھول

سر تا بقدم ہے تنِ سلطانِ زمن پھوللب پھول، دہن پھول، ذقن پھول، بدن پھول صدقے میں تِرے باغ تو کیا، لائے ہیں بَن پھولاس غنچۂ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بَن پھول تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتاتم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول وَاللہ! جو مِل جائے مِرے گل کا پسینہمانگے نہ کبھی عِطر نہ پھر چاہے دلھن پھول دل بستہ و خوں گشتہ نہ خوشبو نہ لطافتکیوں غنچہ کہوں ہے مِرے آقا کا دہن پھول شب یاد تھی کن دانتوں کی شبنم کہ دمِ صبحشوخانِ بہاری کے جڑاؤ ہیں ک...

ہے کلام الہی میں شمس الضحے

ہے کلامِ الٰہی میں شمس و ضُحٰی تِرے چہرۂ نور فزا کی قسمقسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا کہ حبیب کی زلف ِ دوتا کی قسم تِرے خُلق کو حق نے عظیم کہا تِری خلق کو حق نے جمیل کیاکوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تِرے خالقِ حُسن و ادا کی قسم وہ خدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملاکہ کلامِ مجید نے کھائی شہا تِرے شہر و کلام و بقا کی قسم ترا مسندِ ناز ہے عرشِ بریں تِرا محرمِ راز ہے رُوحِ امیںتو ہی سرورِ ہر دو جہاں ہے شہا تِرا مثل نہیں ہے خدا ...

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم

پاٹ وہ کچھ دَھار یہ کچھ زار ہم یا الٰہی! کیوں کر اتریں پار ہم کس بَلا کی مے سے ہیں سرشار ہمدن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم تم کرم سے مشتری ہر عیب کےجنسِ نا مقبولِ ہر بازار ہم دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تمدوستوں کی بھی نظر میں خار ہم لغزشِ پا کا سہارا ایک تمگرنے والے لاکھوں ناہنجار ہم صَدقہ اپنے بازوؤں کا المددکیسے توڑیں یہ بُتِ پندار ہم دم قدم کی خیر اے جانِ مسیحدر پہ لائے ہیں دلِ بیمار ہم اپنی رحمت کی طرف دیکھیں حضورجانتے ہیں جیسے ہیں بدکار...

عارض شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاںعرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں جا بہ جا پرتو فگن ہیں آسماں پر ایڑیاںدن کو ہیں خورشید شب کو ماہ و اختر ایڑیاں نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤںعرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں دب کے زیرِ پا نہ گنجایش سمانے کو رہیبن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاججس کی خاطر مرگئے منعَم رگڑ کر ایڑیاں دو قمر دو پنجۂ خور دو ستارے دس ہلالان کے تلوے پنجے...

عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

عشقِ مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامنیا خدا جَلد کہیں آئے بہارِ دامن بہہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پرکہ نہیں تار نظر جز دو سہ تارِ دامن اشک بر ساؤں چلے کوچۂ جاناں سے نسیمیا خدا جلد کہیں نکلے بخارِ دامن دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجومبیدل آباد ہوا نام دیارِ دامن مشک سا زلف شہ و نور فشاں روئے حضوراللہ اللہ حَلَبِ جیب و تتارِ دامن تجھ سے اے گل میں سِتم دیدۂ دشتِ حرماںخلشِ دل کی کہوں یا غمِ خارِ دامن عکس افگن ہے ہلالِ لبِ شہ جیب نہیں...

رشک قمر ہوں رنگ رخ آفتاب ہوں

رشکِ قمر ہوں رنگِ رخِ آفتاب ہوںذرّہ تِرا جو اے شہِ گردوں جناب ہوں درِّ نجف ہوں گوہَرِ پاکِ خوشاب ہوںیعنی ترابِ رہ گزرِ بو تراب ہوں گر آنکھ ہوں تو اَبر کی چشمِ پُر آب ہوںدل ہوں تو برق کا دلِ پُر اضطراب ہوں خونیں جگر ہوں طائرِ بے آشیاں، شہا!رنگِ پریدۂ رُخِ گل کا جواب ہوں بے اصل و بے ثبات ہوں بحرِ کرم مددپروردۂ کنارِ سراب و حباب ہوں عبرت فزا ہے شرمِ گنہ سے مِرا سکوتگویا لبِ خموشِ لحد کا جواب ہوں کیوں نالہ سوز لَے کروں کیوں خونِ دل پیوںسیخِ ک...

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفے کہ یوں

  پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوںکیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں قصرِ دَنیٰ کے راز میں عقلیں تو گُم ہیں جیسی ہیںرُوحِ قدس سے پوچھیے تم نے بھی کچھ سُنا کہ یوں میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گمیںصبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں ہائے رے ذوقِ بے خودی دل جو سنبھلنے سا لگاچھک کے مہک میں پھول کی گرنے لگی صبا کہ یوں دل کو دے نور و داغِ عشق پھر میں فدا دو نیم کرمانا ہے سن کے شقِ ماہ آنکھوں سے اب دکھا کہ یوں دل...

پھر کے گلی گلی تباہ

پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوںدل کو جو عقل دے خدا تیری گلی سے جائے کیوں رخصتِ قافلہ کا شور غش سے ہمیں اُٹھائے کیوںسوتے ہیں ان کے سائے میں کوئی ہمیں جگائے کیوں بار نہ تھے حبیب کو پالتے ہی غریب کوروئیں جو اب نصیب کو چین کہو گنوائیں کیوں یادِ حضور کی قسم غفلتِ عیش ہے ستمخوب ہیں قیدِ غم میں ہم کوئی ہمیں چھڑائے کیوں دیکھ کے حضرتِ غنی پھیل پڑے فقیر بھیچھائی ہے اب تو چھاؤنی حشر ہی آ نہ جائے کیوں جان ہے عشقِ مصطفیٰ روز فزوں کرے خداجس...

یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوںبیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئیپوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں چھوڑ کے اُس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آ بسوپھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لٹ گئی سب کمائی کیوں باغِ عرب کا سروِ ناز دیکھ لیا ہے ورنہ آجقمریِ جانِ غمزدہ گونج کے چہچہائی کیوں نامِ مدینہ لے دیا چلنے لگی نسیمِ خلدسوزشِ غم کو ہم نے بھی کیسی ہوا بتائی کیوں کِس کی نگاہ کی حیا پھرتی ہے میری آن...

اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں

اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریںجاتی ہے امّتِ نبوی فرش پر کریں اِن فتنہ ہائے حشر سے کہہ دو حذر کریںنازوں کے پالے آتے ہیں رہ سے گزر کریں بد ہیں تو آپ کے ہیں بھلے ہیں تو آپ کےٹکڑوں سے تو یہاں کے پلے رخ کدھر کریں سرکار ہم کمینوں کے اَطوار پر نہ جائیںآقا حضور اپنے کرم پر نظر کریں ان کی حرم کے خار کشیدہ ہیں کس لیےآنکھوں میں آئیں سر پہ رہیں دل میں گھر کریں جالوں پہ جال پڑ گئے لِلّٰہ وقت ہےمشکل کشائی آپ کے ناخن اگر کریں منزل کڑی ہے شان تبسم کرم ک...

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں

وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیںتیرے دن اے بہار پھرتے ہیں جو تِرے در سے یار پھرتے ہیںدر بہ در یوں ہی خوار پھرتے ہیں آہ کل عیش تو کیے ہم نےآج وہ بے قرار پھرتے ہیں ان کے ایما سے دونوں باگوں پرخیلِ لیل و نہار پھرتے ہیں ہر چراغِ مزار پر قدسی کیسے پروانہ وار پھرتے ہیں اُس گلی کا گدا ہوں میں جس میں مانگتے تاج دار پھرتے ہیں جان ہیں جان کیا نظر آئےکیوں عدو گردِ غار پھرتے ہیں لاکھوں قدسی ہیں کامِ خدمت پرلاکھوں گردِ مزار پھرتے ہیں وردیاں بولتے ہیں ہرکا...

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادیے ہیں

اُن کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیے ہیںجس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیے ہیں جب آ گئی ہیں جوشِ رحمت پہ اُن کی آنکھیں جلتے بھجا دیے ہیں روتے ہنسا دیے ہیں اِک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا تم نے تو چلتے پھرتے مُردے جِلا دیے ہیں ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہوجب یاد آ گئے ہیں سب غم بھلا دیے ہیں ہم سے فقیر بھی اب پھیری کو اٹھتے ہوں گےاب تو غنی کے دَر پر بستر جما دیے ہیں اسرا میں گزرے جس دم بیڑے پہ قدسیوں کے ہونے لگی سلامی پرچم جھکا دیے ہیں آن...

ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہے

ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میںسنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں بے نواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحریرِ دسترہ گئیں جو پا کے جودِ یزالی ہاتھ میں کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھاراہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں جودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جویا ہے آپکیا عجب اڑ کر جو آپ آئے پیالی ہاتھ میں ابرِ نیساں مومنوں کو تیغِ عریاں کفر پرجمع ہیں شانِ جمالی و جلالی ہاتھ میں مالکِ کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیںدو جہاں کی نعمتیں ہیں ان...

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیںمصطفیٰ ہے مسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں ہوں مسلماں گرچہ ناقص ہی سہی اے کاملو!ماہیت پانی کی آخر یم سے نم میں کم نہیں غنچے مَآ اَوْحٰی کے جو چٹکے دَنیٰ کے باغ میں بلبلِ سدرہ تک اُن کی بُو سے بھی محرم نہیں اُس میں زم زم ہےکہ تھم تھم اس میں جم جم ہے کہ بیشکثرتِ کوثر میں زم زم کی طرح کم کم نہیں پنجۂ مہرِ عرب ہے جس سے دریا بہہ گئےچشمۂ خورشید میں تو نام کو بھی نم نہیں ایسا امّی کس لیے منّت کشِ استاد ہوکیا کفای...

وہ کمال حسن حضورہیں

وہ کمالِ حُسنِ حضور ہے کہ گمانِ نقص جہاں نہیںیہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانیِ دل و جاں نہیںکہو کیا ہے وہ جو یہاں نہیں مگر اک نہیں کہ وہ ہاں نہیں میں نثار تیرے کلام پر ملی یوں تو کس کو زباں نہیںوہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہو وہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفر مقرجو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں کرے مصطفیٰ کی اہانتیں کھلے بندوں اس پہ یہ جرأتیںکہ ...

رخ دن ہے یا مہرِ سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رخ دن ہے یا مہرِ سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیںشب زلف یا مشکِ ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاںحیراں ہوں یہ بھی ہے خطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حق یہ کہ ہیں عبدِ الٰہ اور عالمِ امکاں کے شاہبرزخ ہیں وہ سرِّ خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں بلبل نے گل اُن کو کہا قمری نے سروِ جاں فزاحیرت نے جھنجھلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمربے پردہ جب وہ رُخ ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں...

وصفِ رخ ان کا کیا کرتے ہیں

وصفِ رخ اُن کا کیا کرتے ہیں شرحِ والشمس و ضحیٰ کرتے ہیںاُن کی ہم مدح وثنا کرتے ہیں جن کو محمود کہا کرتے ہیں ماہِ شق گشتہ کی صورت دیکھو کانپ کر مہر کی رجعت دیکھومصطفیٰ پیارے کی قدرت دیکھو کیسے اعجاز ہوا کرتے ہیں تو ہے خورشیدِ رسالت پیارے چھپ گئے تیری ضیا میں تارےانبیا اور ہیں سب مہ پارے تجھ سے ہی نور لیا کرتے ہیں اے بلا بے خِرَدِیِّ کفّار رکھتے ہیں ایسے کے حق میں انکارکہ گواہی ہو گر اُس کو درکار بے زباں بول اٹھا کرتے ہیں اپنے مولیٰ کی ہے بس ...

برتر قیاس سے ہے مقام ابوالحسین

بر تر قیاس سے ہے مقامِ ابو الحسینسدرہ سے پوچھو رفعتِ بام ابو الحسین وارستہ پائے بستۂ دامِ ابو الحسینآزاد نار سے ہے غلامِ ابو الحسین خطِّ سیہ میں نورِ الٰہی کی تابشیں کیا صبحِ نور بار ہے شام ابو الحسین ساقی سنادے شیشۂ بغداد کی ٹپک مہکی ہے بوئے گل سے مدامِ ابو الحسین بوئے کبابِ سوختہ آتی ہے مے کشو!چھلکا شرابِ چشت سے جامِ ابو الحسین گلگوں سحر کو ہے سَہَرِ سوزِ دل سے آنکھسلطانِ سہرورد ہے نامِ ابو الحسین کرسی نشیں ہے نقشِ مراد اُن کے فیض سے مو...

زائرو پاس ادب رکھو ہوس جانے دو

زائرو! پاسِ ادب رکھو ہوس جانے دو آنکھیں اندھی ہوئی ہیں اُن کو ترس جانے دو سوکھی جاتی ہے امیدِ غربا کی کھیتیبوندیاں لکۂ رحمت کی برس جانے دو پلٹی آتی ہے ابھی وجد میں جانِ شیریں نغمۂ ’’قُم‘‘ کا ذرا کانوں میں رس جانے دو ہم بھی چلتے ہیں ذرا قافلے والو! ٹھہرو گھٹریاں توشۂ امّید کی کس جانے دو دیدِ گل اور بھی کرتی ہے قیامت دل پرہم صفیرو! ہمیں پھر سوئے قفس جانے دو آتشِ دل بھی تو بھڑکاؤ ادب واں نالوکون کہتا ہے کہ تم ضبطِ نفس ...

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسو

چمنِ طیبہ میں سنبل جو سنوارے گیسوحور بڑھ کر شکنِ ناز پہ وارے گیسو کی جو بالوں سے تِرے روضے کی جاروب کشیشب کو شبنم نے تبرک کو ہیں دھارے گیسو ہم سیہ کاروں پہ یا رب! تپشِ محشر میں سایہ افگن ہوں تِرے پیارے کے پیارے گیسو چرچے حوروں میں ہیں دیکھو تو ذرا بالِ براق سنبلِ خلد کے قربان اتارے گیسو آخرِ حج غمِ امّت میں پریشاں ہو کرتیرہ بختوں کی شفاعت کو سدھارے گیسو گوش تک سنتے تھے فریاد اب آئے تا دوشکہ بنیں خانہ بدوشوں کو سہارے گیسو سوکھے دھانوں پہ ہ...

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہد گل کو

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کوالٰہی طاقتِ پرواز دے پر ہائے بلبل کو بہاریں آئیں جوبن پر گھرا ہے ابر رحمت کالب مشتاق بھیگیں دے اجازت ساقیا مل کو ملے لب سے وہ مشکیں مُہر والی دم میں دم آئےٹپک سن کر ’’قُمِ‘‘ عیسیٰ کہوں مستی میں قلقل کو مچل جاؤں سوالِ مدّعا پر تھام کر دامنبہکنے کا بہانہ پاؤں قصدِ بے تأمل کو دُعا کر بختِ خفتہ جاگ ہنگامِ اجابت ہے ہٹایا صبحِ رخ سے شانے نے شب ہائے کاکُل کو زبانِ فلسفی سے امن خرق وال...

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن وجاں ہم کو

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کوپھر دکھا دے وہ رخ اے مہر ِفروزاں ہم کو دیر سے آپ میں آنا نہیں ملتا ہے ہمیں کیا ہی خود رفتہ کیا جلوۂ جاناں ہم کو جس تبسّم نے گلستاں پہ گرائی بجلیپھر دکھا دے وہ ادائے گُلِ خنداں ہم کو کاش آویزۂ قندیلِ مدینہ ہو وہ دل جس کی سوزش نے کیا رشکِ چراغاں ہم کو عرش جس خوبیِ رفتار کا پامال ہوادو قدم چل کے دکھا سروِ خراماں ہم کو شمعِ طیبہ سے میں پروانہ رہوں کب تک دورہاں جَلا دے شرِرِ آتشِ پنہاں ہم کو خوف ہے سمع خر...

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو

حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھوکعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو رکنِ شامی سے مٹی وحشتِ شامِ غربتاب مدینے کو چلو صبحِ دل آرا دیکھو آبِ زم زم تو پیا خوب بجھائیں پیاسیں آؤ جودِ شہِ کوثر کا بھی دریا دیکھو زیرِ میزاب ملے خوب کرم کے چھینٹےابرِ رحمت کا یہاں زور برسنا دیکھو دھوم دیکھی درِ کعبہ پہ بے تابوں کیاُن کے مشتاقوں میں حسرت کا تڑپنا دیکھو مثلِ پروانہ پھرا کرتے تھے جس شمع کے گرد اپنی اُس شمع کو پروانہ یہاں کا دیکھو خوب آنکھوں سے لگایا ہے ...

پل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو

پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہوجبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو کانٹا مِرے جگر سے غمِ روزگار کایوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو فریاد اُمّتی جو کرے حالِ زار میںممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو کہتی تھی یہ بُراق سے اُس کی سبک روییوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں اے مرتضیٰ عتیق و عمر کو خبر نہ ہو ایسا گما دے اُن کی وِلا میں خدا ہمیںڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو آ دل! حرم کو روکنے والو...

یاالٰہی ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو

یا الٰہی! ہر جگہ تیری عطا کا ساتھ ہوجب پڑے مشکل شہِ مشکل کشا کا ساتھ ہو یا الٰہی! بھول جاؤں نزع کی تکلیف کوشادیِ دیدارِ حُسنِ مصطفیٰ کا ساتھ ہو یا الٰہی! گورِ تیرہ کی جب آئے سخت رات اُن کے پیارے منھ کی صبحِ جاں فزا کا ساتھ ہو یا الٰہی! جب پڑے محشر میں شورِ دار و گیرامن دینے والے پیارے پیشوا کا ساتھ ہو یا الٰہی! جب زبانیں باہر آئیں پیاس سے صاحبِ کوثر شہِ جود و عطا کا ساتھ ہو یا الٰہی! سرد مہری پر ہو جب خورشیدِ حشرسیّدِ بے سایہ کے ظِلِّ لِوا...

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمہاری واہ واہ

کیا ہی ذوق افزا شفاعت ہے تمھاری واہ واہقرض لیتی ہے گنہ پرہیزگاری واہ واہ خامۂ قدرت کا حُسنِ دست کاری واہ واہکیا ہی تصویر اپنے پیارے کی سنواری واہ واہ اشک شب بھر انتظارِ عَفوِ امّت میں بہیںمیں فدا چاند اور یوں اختر شماری واہ واہ اُنگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کرندّیاں پنجابِ رحمت کی ہیں جاری واہ واہ نور کی خیرات لینے دوڑتے ہیں مہر و ماہاٹھتی ہے کس شان سے گردِ سواری واہ واہ نیم جلوے کی نہ تاب آئے قمر ساں تو سہیمہر اور ان تلووں کی ...

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہکہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ جس کو قُرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو!اُن کے خوانِ جود سے ہے ایک نانِ سوختہ ماہِ من یہ نیّرِ محشر کی گرمی تابکےآتشِ عصیاں میں خود جلتی ہے جانِ سوختہ برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اس پر ایک بارآج تک ہے سینۂ مہ میں نشانِ سوختہ مہرِ عالم تاب جھکتا ہے پئے تسلیم روزپیشِ ذرّاتِ مزارِ بیدلانِ سوختہ کوچۂ گیسوئے جاناں سے چلے ٹھنڈی نسیم بال و پر افشاں ہوں یا رب بلبلانِ سوختہ بہرِ حق ...

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺ

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ﷺسب سے بالا و والا ہمارا نبی ﷺ اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی ﷺدونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی ﷺ بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوانورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی ﷺ جس کو شایاں ہے عرشِ خُدا پر جلوسہے وہ سلطانِ والا ہمارا نبی ﷺ بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی ﷺ جس کے تلووں کا دھووَن ہے آبِ حیاتہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی ﷺ عرش و کرسی کی تھیں آئینہ بندیاسوئے حق جب سدھارا ہمارا نبی ﷺ خَلق سے اولیا، ...

نظمِ معطر

نظم معطر[1309ھ]حمد حمداََ یا مفضل عبدالقادر یا ذا الافضالیا منعم یا مجمل عبد القادر انت المتعال مولاے بما منت بالجود علی من دون سوالامنن واجب سائل عبدالقادر جد بالآمال صلوٰۃ بارد ز خدا بر جد عبدالقادرمحمود خدا حامد عبدالقادر باران درودے کہ چکیدہ زرخشبارد بسر سید عبدالقادرـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتمہیدیا رب کہ دمد سنائے عبدالقادرہر حرف کند ثنائے عبدالقادر ہمزہ بردیف الف آید یعنیخم کردہ قدش برائے عبدالقادر ردیف ا...

دل کو ان سے خدا جدانہ کرے

دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرےبے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے اس میں روضے کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیںکون ان جرموں پر سزا نہ کرے سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب آہ عیسیٰ اگر دوا نہ کرے دل کہاں لے چلا حرم سے مجھےارے تیرا برا خدا نہ کرے عذرِ اُمّید عَفْو گر نہ سنیںرُو سیاہ اور کیا بہانہ کرے دل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضورکاش جوشِ ہوس ہوا نہ کرے حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گےمنکر آج ان سے التجا نہ کرے ضعف مانا...

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سےتعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مَرے دل سے واللہ وہ سن لیں گے فریاد کو پہنچیں گےاتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے بچھڑی ہے گلی کیسی بگڑی ہے بنی کیسیپوچھو کوئی یہ صدمہ ارمان بھرےدل سے کیا اس کو گرائے دہر جس پر تو نظر رکھےخاک اُس کو اٹھائے حشر جو تیرے گرے دل سے بہکا ہے کہاں مجنوں لے ڈالی بنوں کی خاک دم بھر نہ کیا خیمہ لیلیٰ نے پَرے دل سے سونے کو تپائیں جب کچھ مِیل ہو یا کچھ مَیلکیا کام جہنّم کے دھرے کو کھر...

اللہ اللہ کے نبی سے

اللہ اللہ کے نبی سےفریاد ہے نفس کی بدی سے دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائیلاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے شب بھر سونے ہی سے غرض تھیتاروں نے ہزار دانت پیسے ایمان پہ مَوت بہتر او نفستیری ناپاک زندگی سے او شہد نمائے زہر در جامگم جاؤں کدھر تِری بدی سے گہرے پیارے پرانے دل سوز گزرا میں تیری دوستی سے تجھ سے جو اٹھائے میں نے صدمےایسے نہ ملے کبھی کسی سے اُف رے خود کام بے مروّت پڑتا ہے کام آدمی سے تونے ہی کیا خدا سے نادم تونے ہی کیا خجل نبی سے کیسے آقا کا حک...

یاالٰہی رحم فرما مصطفیٰ کے واسطے

یا الٰہی! رحم فرما مصطفیٰ کے واسطےیارسولَ اللہ! کرم کیجے خدا کے واسطے مشکلیں حل کر شہِ مشکل کُشا کے واسطےکر بلائیں رد شہیدِ کربلا کے واسطے سیّدِ سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے علمِ حق بے باقرِ علمِ ہُدیٰ کے واسطے صدقِ صادق کا تَصدّق صادق الاسلام کربے غضب راضی ہو کاظم اور رضا کے واسطے بہرِ معروف و سَری معروف دے بے خود سَریجُندِ حق میں گِن جُنیدِ با صفا کے واسطے بہرِ شبلی شیرِ حق دُنیا کے کتوں سے بچا ایک کا رکھ عبدِ واحد بے ریا کے واسطے بو...

عرشِ حق ہے مسند رفعتِ رسول اللہ کی

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کیدیکھنی ہے حشر میں عزّت رسول اللہ کی قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کےجلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی کافروں پر تیغِ والا سے گری برقِ غضباَبر آسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا اُن سے ملابٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مستغنی ہواہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی سورج الٹے پاؤں پلٹے چاند اشارے سے ہو چاکاندھے نجدی دیکھ لے قدرت رسول اللہ کی ت...

قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی

قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کیمشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی لاج رکھ لی طَمَعِ عفو کے سودائی کیاے میں قرباں مِرے آقا بڑی آقائی کی فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضربس قسم کھائیے اُمّی تِری دانائی کی شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال دھوم وَالنَّجْم میں ہے آپ کی بینائی کی پانسو (۵۰۰) سال کی راہ ایسی ہے جیسے دو گامآس ہم کو بھی لگی ہے تِری شنوائی کی چاند اشارے کا ہلا حکم کا باندھا سورجواہ کیا بات شہا! تیری توانائی کی تنگ ٹھہری ہے رؔضا جس ک...

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گےآپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ ہم سے پیاسوں کے لئے دریا بہاتے جائیں گے کُشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے گُل کِھلے گا آج یہ اُن کی نسیمِ فیض سےخون روتے آئیں گے ہم مسکراتے جائیں گے ہاں چلو حسرت زدو سنتے ہیں وہ دن آج ہےتھی خبر جس کی کہ وہ جلوہ دکھاتے جائیں گے آج عیدِ عاشقاں ہے گر خدا چاہے کہ وہابروئے پیوستہ کا عالم دک...

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والےمِرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے مدینے کے خطّے خدا تجھ کو رکھے غریبوں، فقیروں کے ٹھہرانے والے تو زندہ ہے واللہ! تو زندہ ہے واللہ!مِرے چشمِ عالَم سے چھپ جانے والے میں مجرم ہوں آقا! مجھے ساتھ لے لو کہ رستے میں ہیں جا بہ جا تھانے والے حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقع ہے او جانے والے چل اٹھ جبہہ فرسا ہو ساقی کے در پردرِ جود اے میرے مستا...

انکھیں روروکے سجانے والے

آنکھیں رو رو کے سُجانے والےجانے والے نہیں آنے والے کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہےارے او چھاؤنی چھانے والے ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے دیس کیوں گاتے ہیں گانے والے ارے بد فال بری ہوتی ہے دیس کا جنگلا سنانے والے سن لیں اَعدا! میں بگڑنے کا نہیںوہ سلامت ہیں بنانے والے آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغاماو درِ یار کے جانے والے پھر نہ کروٹ لی مدینے کی طرفارے چل جھوٹے بہانے والے نفس! میں خاک ہوا تو نہ مٹاہے مِری جان کے کھانے والے جیتے کیا دیکھ کے ہیں اے ح...

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

کیا مہکتے ہیں مہکنے والےبو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے جگمگا اٹھی مِری گور کی خاکتیرے قربان چمکنے والے مہِ بے داغ کے صدقے جاؤںیوں دمکتے ہیں دمکنے والے عرش تک پھیلی ہے تابِ عارضکیا جھلکتے ہیں جھلکنے والے گُل طیبہ کی ثنا گاتے ہیں نخل طوبیٰ پہ چہکنے والے عاصیو! تھام لو دامن اُن کاوہ نہیں ہاتھ جھٹکنے والے ابرِ رحمت کے سلامی رہناپھلتے ہیں پودے لچکنے والے ارے یہ جلوہ گہِ جاناں ہے کچھ ادب بھی ہے پھڑکنے والے سنّیو! ان سے مدد مانگے جاؤپڑے بکتے رہیں ...

راہ پرخار ہے کیا ہونا ہے

راہ پُر خار ہے کیا ہونا ہےپاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے خشک ہے خون کہ دشمن ظالم سخت خوں خوار ہے کیا ہونا ہے ہم کو بدِ کر وہی کرنا جس سےدوست بیزار ہے کیا ہونا ہے تن کی اب کون خبر لے ہے ہےدل کا آزار ہے کیا ہونا ہے میٹھے شربت دے مسیحا جب بھیضد ہے انکار ہے کیا ہونا ہے دل کہ تیمار ہمارا کرتا آپ بیمار ہے کیا ہونا ہے پَر کٹے تنگ قفس اور بلبل نو گرفتار ہے کیا ہونا ہے چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ وہ خبر دار ہے کیا ہونا ہے ارے او مجرم بے پروا دیک...

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہےہر طرف دیدۂ حیرت زدہ تکتا کیا ہے مانگ من مانتی منھ مانگی مرادیں لے گا نہ یہاں ’’نا‘‘ ہے نہ منگتا سے یہ کہنا ’’کیا ہے‘‘ پند کڑوی لگے ناصح سے ترش ہواے نفس زہرِ عصیاں میں ستمگر تجھے میٹھا کیا ہے ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرےاس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے ان کی امّت میں بنایا انھیں رحمت بھیجایوں نہ فرما کہ تِرا رحم میں دعویٰ کیا ہے صدقہ پیا...

سرور کہوں کہ مالک ومولیٰ کہوں تجھے

سَرور کہوں کہ مالک و مَولیٰ کہوں تجھے باغِ خلیل کا گُلِ زیبا کہوں تجھے حرماں نصیب ہوں تجھے امّید گہ کہوں جانِ مراد و کانِ تمنّا کہوں تجھے گلزارِ قُدس کا گُلِ رنگیں ادا کہوں درمانِ دردِ بلبلِ شیدا کہوں تجھے صبحِ وطن پہ شامِ غریباں کو دوں شرف بے کس نواز گیسوؤں والا کہوں تجھے اللہ رے تیرے جسمِ منوّر کی تابشیں اے جانِ جاں میں جانِ تجلّا کہوں تجھے بے داغ لالہ یا قمرِ بے کلف کہوں بے خار گلبنِ چمن آرا کہوں تجھے مجرم ہوں اپنے عفو کا ساماں کروں شہا ی...

مژدہ باد اے عاصیو! شافع شہِ ابرار ہے

مژدہ باد اے عاصیو! شافع شہِ ابرار ہے تہنیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غفّار ہے عرش سا فرشِ زمیں ہے فرشِ پا عرشِ بریں کیا نرالی طرز کی نامِ خُدا رفتار ہے چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدے کریں بَارَکَ اللہ مرجعِ عالَم یہی سرکار ہے جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھر دیےصدقہ اُن ہاتھوں کا پیارے ہم کو بھی درکار ہے لب زلالِ چشمۂ کُن میں گندھے وقتِ خمیر مُردے زندہ کرنا اے جاں تم کو کیا دشوار ہے گورے گورے پاؤں چمکا دو خدا کے واسطے نور کا تڑکا ہو پیارے گور ...

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے بزم ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو ساری بہارِ ہشت خُلد چھوٹا سا عطردان ہے عرش پہ جاکے مرغِ عقل تھک کے گراغش آ گیااور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے اِک تِرے رخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہوجان ہیں وہ...

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما غضب سے اُن کے خدا بچائے جلالِ باری عتاب میں ہے جلی جلی بو سے اُس کی پیدا ہے سوزشِ عشقِ چشمِ والا کبابِ آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے اُنھیں کی بو مایۂ سمن ہے اُنھیں کا جلوہ چمن چمن ہے اُنھیں سے گلشن مہک رہے ہیں اُنھیں کی رنگت گلاب میں ہے تِری جلو میں ہے ماہِ طیبہ ہلال ہر مرگ و زندگی...

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تو ہی والی ہے نہ ہو مایوس آتی ہے صدا گورِ غریباں سے نبی امّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لےاندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے ارے یہ بھیڑیوں کا بن ہے اور شام آ گئی سر پرکہاں سویا مسافر ہائے کتنا لا اُبالی ہے اندھیرا گھر اکیلی جان دم گھٹتا دل اُکتاتا خدا کو یاد کر پیارے وہ ساعت آنے والی ہے زمیں تپتی کٹیلی راہ بھاری بوجھ گھائل پ...

گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے

گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے مُبارک ہو شفاعت کے لیے احمد سا والی ہے قضا حق ہے مگر اس شوق کا اللہ والی ہے جو اُن کی راہ میں جائے وہ جان اللہ والی ہے تِرا قدِ مبارک گلبنِ رحمت کی ڈالی ہے اسے بو کر تِرے رب نے بنا رحمت کی ڈالی ہے تمھاری شرم سے شانِ جلالِ حق ٹپکتی ہے خمِ گردن ہلالِ آسمانِ ذوالجلالی ہے زہے خود گم جو گم ہونے پہ ڈھونڈے کہ کیا پایا ارے جب تک کہ پانا ہے جبھی تک ہاتھ خالی ہے میں اک محتاجِ بے وقعت گدا تیرے سگِ در کا تِری سرکار و...

نہ عرش ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے

نہ عرش ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے نہ لطفِ اُدْنُ یَا اَحْمَدْ نصیبِ لَنْ تَراَنِیْ ہے نصیبِ دوستاں گر اُن کے دَر پر مَوت آنی ہے خدا یوں ہی کرے پھر تو ہمیشہ زندگانی ہے اُسی در پر تڑپتے ہیں مچلتے ہیں بلکتے ہیں اٹھا جاتا نہیں کیا خوب اپنی ناتوانی ہے ہر اِک دیوار و در پر مہر نے کی ہے جبیں سائی نگارِ مسجدِ اقدس میں کب سونے کا پانی ہے تِرے منگتا کی خاموشی شفاعت خواہ ہے اُس کی زبانِ بے زبانی ترجمانِ خستہ جانی ہے کھلے کیا رازِ محبوب و م...

حرزِ جاں ذکر شفاعت کیجئے

حرزِ جاں ذکرِ شفاعت کیجیےنار سے بچنے کی صورت کیجیے اُن کے نقشِ پا پہ غیرت کیجیے آنکھ سے چھپ کر زیارت کیجیے اُن کے حُسنِ با ملاحت پر نثار شیرۂ جاں کی حلاوت کیجیے اُن کے در پر جیسے ہو مٹ جائیے ناتوانو! کچھ تو ہمّت کیجیے پھیر دیجے پنجۂ دیوِ لعیں مصطفیٰ کے بل پہ طاقت کیجیے ڈوب کر یادِ لبِ شاداب میں آبِ کوثر کی سباحت کیجیے یادِ قامت کرتے اٹھیے قبر سے جانِ محشر پر قیامت کیجیے اُن کے در پر بیٹھیے بن کر فقیر بے نواؤ! فکرِ ثروت کیجیے جس کا حُسن اللہ ک...

دشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

دشمنِ احمد پہ شدّت کیجیےملحدوں کی کیا مروّت کیجیے ذکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجیے مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل ’’یَا رَسُوْلَ اللہ‘‘ کی کثرت کیجیے کیجیے چرچا اُنھیں کا صبح و شام جانِ کافر پر قیامت کیجیے آپ درگاہِ خُدا میں ہیں وجیہ ہاں شفاعت بالوجاہت کیجیے حق تمھیں فرما چکا اپنا حبیب اب شفاعت بالمحبّت کیجیے اِذن کب کا مل چکا اب تو حضور ہم غ...

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے نا شکر! یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے کس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفاتجھ کو قسم جنابِ مسیحا کے سر کی ہے آبِ حیاتِ روح ہے زرقا کی بوند بوند اکسیرِ اعظمِ مسِ دل خاکِ در کی ہے ہم کو تو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سُنا کیے ہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے وہ دیکھو جگمگاتی ہے ...

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا کو یہ عظمت کس سفر کی ہے ہم گردِ کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے کالک جبیں کی سجدۂ در سے چھڑاؤ گےمجھ کو بھی لے چلو یہ تمنّا حجر کی ہے ڈوبا ہوا ہے شوق م...

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کےلیے تھے بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارکمَلک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھے وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکیوہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئنے تھے نئی دلھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کےسنورا، سنور ...

رباعیات

آتے رہے انبیا کَمَا قِیْلَ لَھُمْوَالْخَاتَمُ حَقُّکُمْ کہ خاتم ہوئے تم یعنی جو ہو دفترِ تنزیل تمامآخر میں ہوئی مہر کہ اَکْمَلْتُ لَکُمْ شب لحیہ و شارب ہے رُخِ روشن دنگیسو و شبِ قدر و براتِ مومنمژگاں کی صفیں چار ہیں، دو ابرو ہیںوَالْفَجْر کے پہلو میں لَیَالٍ عَشْرٍ اللہ کی سر تا بہ قدم شان ہیں یہ اِن سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیںایمان یہ کہتا ہے مِری جان ہیں یہ بوسہ گہِ اصحاب وہ مہر سامیوہ شانۂ چپ میں اُس کی عن...

اَلَآ یٰٓاَیُّھَاالسَّاقِیْٓ اَدِرْ کَاسًا وَّنَاوِلْھَا

اَلَآ یٰٓاَیُّھَاالسَّاقِیْٓ اَدِرْ کَاسًا وَّنَاوِلْھَاکہ بر یادِ شہِ کوثر بنا سازیم محفلہا بلا بارید حُبِّ شیخِ نجدی بر وہابیّہکہ عشق آساں نمود اوّل ولے افتاد مشکلہا وہابی گرچہ اخفا می کند بغضِ نبی لیکن نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفلہا توہّب گاہ ملکِ ہند اقامت را نمی شاید جرس فریاد می دارد کہ بر بندید محملہا صلائے مجلسم در گوش آمد بیں بیا بشنوجرس مستانہ می گوید کہ بر بندید محملہا مگر داں رُو ازیں محفل رہِ اربابِ سنّت رَوکہ سالک بے ...

صبح طیبہ میں ہوئی

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کاصدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کابارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا سدرہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا عرش بھی فردوس بھی اس شاہ والا نور کایہ مُثمّن بُرج وہ مشکوئے اعلیٰ نور کا آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کاماہِ سنّت مہرِ طلعت لے لے بدل...

اُمّتان و سیاہ کاریہا

اُمّتان و سیاہ کاریہا شافعِ حشر و غم گساریہا دور از کوئے صاحبِ کوثر چشم دارد چہ اشکباریہا در فراقِ تو یا رسولَ اللہ!سینہ دارد چہ بے قراریہا ظلمت آبادِ گورِ روشن شدداغِ دل راست نور باریہا چہ کند نفس پردہ در مولیٰ چوں توئی گرمِ پردہ داریہا سگِ کوئے نبی و یک نگہےمن و تا حشر جاں نثاریہا سَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ تَرْضٰیحق نمودت چہ پاس داریہا دارم اے گل بیادِ زلف و رختسحر و شام آہ و زاریہا تازہ لطفِ تو بر رضؔا ہر دممرہمِ کہنہ دل فگاریہا ح...

تِرا ذرّہ مہِ کامل ہے یا غوث

تِرا ذرّہ مہِ کامل ہے یا غوثتِرا قطرہ یمِ سائل ہے یا غوث کوئی سالک ہے یا واصل ہے یا غوث وہ کچھ بھی ہو تِرا سائل ہے یا غوث قدِ بے سایہ ظِلِّ کبریا ہے تو اُس بے سایہ ظل کا ظل ہے یا غوث تِری جاگیر میں ہے شرق تا غربقلمر و میں حرم تا حل ہے یا غوث دلِ عشق و رخِ حُسن آئینہ ہیںاور ان دونوں میں تیرا ظل ہے یا غوث تِری شمعِ دل آرا کی تب و تابگُل و بلبل کی آب و گِل ہے یا غوث تِرا مجنوں تِرا صحرا تِرا نجدتِری لیلیٰ تِرا محمل ہے یا غوث یہ تیری چمپئ ر...

جو تیرا طفل ہے کامل ہے یا غوث

جو تیرا طفل ہے کامل ہے یا غوثطُفیلی کا لقب واصل ہے یا غوث تصوّف تیرے مکتب کا سبق ہے تَصرّف پر تِرا عامل ہے یا غوث تِری سَیرِ اِلَی اللہ ہی ہے فِی اللہکہ گھر سے چلتے ہی مُوصل ہے یا غوث تو نورِ اوّل و آخر ہے مولیٰتو خیرِ عاجل و آجل ہے یا غوث ملک کے کچھ بشر کچھ جن کے ہیں پیر تو شیخِ عالی و سافل ہے یا غوث کتابِ ہر دل آثارِ تَعرّفتِرے دفتر ہی سے ناقل ہے یا غوث فُتُوْحُ الْغَیْب اگر روشن نہ فرمائےفُتُوْحَات و فُصُوْص آفل ہے یا غوث تِرا منسوب...

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوثتِرے ہی در سے مستکمل ہے یا غوث جو تیری یاد سے ذاہل یا غوث وہ ذکر اللہ سے غافل ہے یا غوث اَنَا السَّیَّاف سے جاہل ہے یا غوث جو تیرے فضل پر صائل ہے یا غوث سخن ہیں اصفیا، تو مغزِ معنیٰ بدن ہیں اولیا، تو دل ہے یا غوث اگر وہ جسمِ عرفاں ہیں تو تو آنکھاگر وہ آنکھ ہیں تو تل ہے یا غوث اُلوہیّت نبوّت کے سوا تو تمام افضال کا قابل ہے یا غوث نبی کے قدموں پر ہے جز نبوّت کہ ختم اس راہ میں حائل ہے یا غوث اُلوہیّت ہی احمد نے نہ...

طلب کا منہ تو کس قابل ہے یا غوث

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث مگر تیرا کرم کامل ہے یا غوث دوہائی یا محی الدیں! دوہائیبلا اسلام پر نازل ہے یا غوث وہ سنگیں بدعتیں وہ تیزیِ کفر کہ سر پر تیغ، دل پر سل ہے یا غوث عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَالْقِتَالٖمدد کو آدمِ بسمل ہے یا غوث خدارا نا خدا آ دے سہاراہوا بگڑی بھنور حائل ہے یا غوث جِلا دے دیں جَلا دے کفر و الحادکہ تو محیی ہے تو قاتل ہے یا غوث تِرا وقت اور پڑے یوں دین پر وقت نہ تو عاجز نہ تو غافل ہے یا غوث رہی ہاں شامتِ اعمال یہ...

کعبے کے بدرالدجیٰ تم پہ کروڑوں درود

کعبے کے بدر الدجیٰ تم پہ کروڑوں درودطیبہ کے شمس الضحیٰ تم پہ کروڑوں درود (الف) شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود جان و دلِ اَصفیا تم پہ کروڑوں درودآب و گِلِ انبیا تم پہ کروڑوں درود لائیں تو یہ دوسرا دوسرا جس کو ملاکوشکِ عرش و دنیٰ تم پہ کروڑوں درود اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلاجب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود طور پہ جو شمع تھا چاند تھا ساعیر کانیّرِ فاراں ہوا تم پہ کروڑوں درود دل کرو ٹھنڈا مِرا و...

زعکست ماہِ تاباں آفریدند

ز عکست ماہِ تاباں آفریدندز بوئے تو گلستاں آفریدند نہ از بہر تو صرف ایمانیانندکہ خود بہرِ تو ایماں آفریدند صبا را مست از بویت بہر سوچناں افتاں و خیزاں آفریدند برائے جلوۂ یک گلبنِ نازہزاراں باغ و بستاں آفریدند ز مہرِ تو مثالے برگرفتندوزاں مہرِ سلیماں آفریدند چو انگشتِ تو شد جولاں دہِ برققمر را بہرِ قرباں آفریدند ز لعلِ نوش خندِ جاں فزایتزُلالِ آبِ حیواں آفریدند نہ غیرِ کبریا جان آفرینے نہ خود مثلِ تو جاناں آفریدند پئے نظّارۂ محبوبِ لاہو...

وظیفۂ قادریہ

وظیفۂ قادریہ۱۳۲۱ ھجریفارسی ترجمہ : اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالٖٖ فَقُلْتُ لِخُمْرَتِیْ نَحْوِیْ تَعَالٖ داد عِشقم جامِ وصلِ کبریا پس بِگُفتَم بادہ ام را سویم آ اَلصَّلَا اے فضلہ خورانِ حضور شاہ بر جودست و صہبا در وُفور بخش کردن گر نِہ عزمِ خسروِی ستآخر ایں نوشیدہ خواندن بہرِ چیست سَعَتْ وَمَشَتْ لِنَحْوِیْ فِیْ کَئُوْسٖٖفَھِمْتُ لِسُکْرَتِیْ بَیْنَ الْمَوَالِیْٖشُد دواں در...

خوشا دلے کہ دہندش ولائے آلِ رسول

خوشا دلے کہ دہندش ولائے آلِ رسولخوشا سَرے کہ کُنِنْدَش فدائے آلِ رسول گناہِ بندہ بِبخش اے خدائے آلِ رسولبرائے آلِ رسول از برائے آلِ رسول ہزار دُرجِ سعادت بر آرد از صدفےبہاے ہر گہرِ بے بہائے آلِ رسول سیہ سَپید نہ شد گر رشید مصرش دادسیہ سپید کہ سازد عطائے آلِ رسول اِذَ رُؤُا ذُکِرَ اللہ معائنہ بینی!مَن و خدائے من آنست ادائے آلِ رسول خبر دَہد زِ تگِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہفنائے آلِ رسول و بقائے آلِ رسول ہزار مِہر پَرَد در ہوائے او چو ہَبا برو...

اے شافع تر دامناں

اے شافعِ تر دامناں وَے چارۂ دردِ نہاںجانِ دل و روحِ رواں یعنی شہہِ عرش آستاں اے مَسنَدت عرشِ بریں وَے خادمت روحِ امیںمِہرِ فلک ماہِ زمیں شاہِ جہاں زیبِ جِناں اے مرہمِ زخمِ جگر یاقوت لب والا گہر غیرت دِہِ شمس و قمر، رشکِ گُل و جانِ جہاں اے جانِ من، جانانِ من، ہم درد، ہم درمانِ من دینِ من و ایمانِ من، امن و امانِ اُمّتاں اے مقتدا شمعِ ہُدیٰ نورِ خُدا ظلمت زِدا مِہرت فدا، ماہت گدا، نورت جدا از این و آں عینِ کرمِ زینِ حرمِ ماہِ قدم انجم خدم وال...

مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلامشمعِ بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام مِہرِ چرخِ نبوّت پہ روشن دُرودگُلِ باغِ رسالت پہ لاکھوں سلام شہر یارِ اِرم تاجْدارِ حرم نو بہارِ شفاعت پہ لاکھوں سلام شبِ اَسریٰ کے دولھا پہ دائم دُرودنوشۂ بزمِ جنّت پہ لاکھوں سلام عرش کی زیب و زینت پہ عرشی دُرودفرش کی طِیب و نزہت پہ لاکھوں سلام نورِ عینِ لطافت پہ اَلطف دُرودزیب و زَینِ نظافت پہ لاکھوں سلام سروِ نازِ قِدَم مغزِ رازِ حِکَم یکّہ تازِ فضیلت پہ لاکھوں سلام نقطۂ س...

یا خدا بہرِ جنابِ مصطفیٰ امداد کُن

یا خدا بہرِ جنابِ مصطفیٰ امداد کُنیا رسولَ اللہ از بہرِ خدا امداد کُن یَا شَفِیْعَ الْمُذْنِبِیں یَا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیںیَا اَمَانَ الْخَآئِفِیں یا مُلْتَجٰی امداد کُن حِرْزَ مَنْ لَّا حِرْزَ لَہٗ یَا کَنْزَ مَنْ لَّا کَنْزَ لَہٗعِزَّ مَنْ لَّا عِزَّ لَہٗ یَا مُرْتَجٰی امداد کُن ثروتِ بے ثروتاں اے قوّتِ بے قوّتاں اے پناہِ بے کساں اے غم زِدا امداد کُن یَا مُفِیْضَ الْجُوْد یَا سِرَّالْوُجُوْد اے تخمِ بُود اے بہارِ ابتدا و انتہا امداد کُ...

مرتضیٰ شیرِ خُدا مَرحَب کُشا خیبر کَشا

مرتضیٰ شیرِ خُدا مَرحَب کُشا خیبر کَشاسَروَرا لشکر کَشا مشکل کُشا امداد کُن حیدرا اژدر دَرا ضَرغام ہائل منظراشہرِ عرفاں را دَرا روشن دُرا امداد کُن ضیغما غیظ و غماز یغ و فتن را راغماپہلوانِ حق امیرِ لا فتیٰ امداد کُن اے خدا را تیغ و اے اَندامِ احمد را سپریا علی یا بوالحسن یا بوالعُلیٰ امداد کُن یا یُداللہ یا قوی یا زورِ بازوے نبیمن زِ پا افتادم اے دستِ خدا امداد کُن اے نگارِ راز دارِ قصرِ اللہ انتجیٰاے بہارِ لالہ زار اِنَّمَا امداد کُن ...

یا شہیدِ کربلا یا دافعِ کرب و بلا

یا شہیدِ کربلا یا دافعِ کرب و بلاگُل رُخا شہزادۂ گلگوں قَبا امداد کُن اے حُسین اے مصطفیٰ را راحتِ جاں نورِ عینراحتِ جاں نورِ عینم دِہ بیا امداد کُن اے زِ حسنِ خلق و حسنِ خلقِ احمد نسخۂسینہ تا پا شکلِ محبوبِ خدا امداد کُن جانِ حُسنِ ایمانِ حُسن اے کانِ حُسن اے شانِ حُسناے جمالت لَمعِ شمعِ مَنْ رَاٰی امداد کُن جانِ زَہرا و شہیدِ زَہر را زور و ظہیرزہرتِ اَزہارِ تسلیم و رضا امداد کُن اے بَواقع بے کسانِ دہر را زیبا کَسےوَے بظاہر بے کسِ دشتِ ج...

یلّلے خوش آمدم در کوئے بغداد آمدم

یلّلے خوش آمدم در کوئے بغداد آمدمرقصم و جوشد زِ ہر مویم ندا امداد کُن طُرفہ تر سازے زَنم بر لب زَدَہ مُہرِ ادب خیزد از ہر تارِ جیبِ مَن صَدا امداد کُنبوسہ گستاخانہ چِیدَن خواہم از پائے سگش ورنہ بخشد پیشِ شہ گریم شہا امداد کُن حدائقِ بخشش ...

آہ یا غَوثاہ یا غیثاہ یا امداد کُن

آہ یا غَوثاہ یا غیثاہ یا امداد کُنیَا حَیَاۃَ الْجُوْد یَا رُوْحَ الْمَنَا امداد کُن یَا وَلِیَ الْاَوْلِیَآء اِبْنَ نَبِیِّ الْاَنْبِیَآءاے کہ پایت بر رِقابِ اَولیا امداد کُن دست بخشِ حضرتِ حمّاد زیبِ دستِ خوداز تو دَستے خواہَد ایں بے دست و پا امداد کُن مجمعِ ہر دو طریق و مرجعِ ہر دو فریق فاصلان و واصلاں را مقتدا امداد کُن واشیاں بر بندہ از ہر سو ہجوم آوردہ اندیَا عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْوَغَا امداد کُن بہرِ ’’لَاخَوْ...

شاہِ برکات اے ابو البرکات اے سلطانِ جود

شاہِ برکات اے ابو البرکات اے سلطانِ جود بَارَکَ اللہ! اے مُبارک بادشا امداد کُن عِشقیِ اے مقتولِ عشق اے خوں بہایت عینِ ذات اے زِ جاں بِگزشتہ جاناں واصلا امداد کُن بے خودا و با خدا آلِ محمد مصطفٰیسیّدا حق واجدا یا مقتدا امداد کُن اے حریمِ طیبۂ توحید را کوہِ اُحُدیا جبل یا حمزہ یا شیرِ خُدا امداد کُن اے سراپا چشم گشتہ در شہودِ عینِ ہوزاں سبب کردند نامت عینیا امداد کُن یا ابو الفضل آلِ احمد حضرتِ اچھے میاں شاہ شمس الدین ضیاءُ الاصفیا امداد ...

بندہ ام وَالْاَمْرُ اَمْرُک آنچہ دانی کن بمن

بندہ ام وَالْاَمْرُ اَمْرُک آنچہ دانی کن بمن من نمی گویم مرا بِگزار یا امداد کُن خانہ زادانِ کریماں گر بشدّت می زَنیدایں مَن و اِینک سرم ورنَے مرا امداد کُن دستِ من بگر فتی و برتست پاسش بعد ازیں یا تو دانی یا ہماں دستِ تو یا امداد کُن گر بَدوزخ می رَوَم آخر ہمی گویند خَلقکاں رسولی می رَوَد غیرت بَرا امداد کُن عار باشد بر شَبانِ دِہ اگر ضائع شَوَد یک رَسن در دشت یا حَامِی الْحُمٰی امداد کُن حدائقِ بخشش ...

مصطفیٰ خیر الورٰی ہو

مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہوسَرورِ ہر دو سَرا ہو اپنے اچھوں کا تَصَدُّقہم بدوں کو بھی نباہو کس کے پھر ہوکر رہیں ہمگر تمھیں ہم کو نہ چاہو بَد ہنسیں تم اُن کی خاطر رات بھر رو و کراہو بد کریں ہر دم بُرائیتم کہو اُن کا بھلا ہو ہم وہی ناشستہ رُو ہیں تم وہی بحرِ عطا ہو ہم وہی شایانِ رد ہیںتم وہی شانِ سخا ہو ہم وہی بے شرم و بد ہیں تم وہی کانِ حیا ہو ہم وہی ننگِ جفا ہیں تم وہی جانِ وفا ہو ہم وہی قابل سزا کے تم وہی رحمِ خدا ہو چرخ بدلے دہر بدلے تم ...

اَلسَّلَام اے احمدت صہر و برادر آمدہ

اَلسَّلَام اے احمدت صہر و برادر آمدہ حمزہ سردارِ شہیداں عمِّ اکبر آمدہ جعفرے کو می پرد صبح و مسا با قدسیاںبا تو ہم مسکن بہ بطنِ پاکِ مادر آمدہ بنتِ احمد رونقِ کاشانہ و بانُوے تو گوشت و خونِ تو بَلَحْمَش شیر و شکر آمدہ ہر دو رَیحانِ نبی گلہائےتو زاں گل زمیں بہرِ گل چینت زمینِ باغِ بر تر آمدہ می چمیدی گلبنا در باغِ اسلام و ہنوزغنچہ ات نشگفت و نے نخلے دِگر بر آمدہ نرم نرم از بزمِ دامن چیدہ رفتہ بادِ تند یا علی چوں بر زبانِ شمعِ مضطر آمدہ ما...

اے بدورِ خود امامِ اہلِ ایقاں آمدہ

اے بدورِ خود امامِ اہلِ ایقاں آمدہ جانِ انس و جانِ جان و جانِ جاناں آمدہ قامتِ تو سَروِ نازِ جوئبارِ معرفتروئے تو خورشیدِ عالَمتابِ ایماں آمدہ موئے زلفِ عنبرینت قوّتِ روحِ ہُدیٰرنگِ رُویت غازۂ دینِ مسلماں آمدہ زنگ از دلہا زواید خاک بوسیِ درتتابناک از جلوہ ات مِرآتِ احساں آمدہ صد لطائف می کُشاید یک نگاہِ لطفِ تودستِ فیضانت کلیدِ بابِ عرفاں آمدہ نامت آلِ احمد و احمد شفیع المذنبیں زاں دل از دستِ گنہ پیش تو نالاں آمدہ پُرصدا شد باغِ قدس از نغ...

زمین و زماں تمھارے لیے مکین و مکاں تمھارے لیے

زمین و زماں تمھارے لیے مکین و مکاں تمھارے لیےچنیں و چناں تمھارے لیے بنے دو جہاں تمھارے لیے دہن میں زباں تمھارے لیے بدن میں ہے جاں تمھارے لیے ہم آئے یہاں تمھارے لیے اٹھیں بھی وہاں تمھارے لیے فرشتے خِدَم رسولِ حِشم تمامِ اُمَم غُلامِ کرموُجود و عَدم حُدوث وقِدم جہاں میں عیاں تمھارے لیے کلیم و نجی، مسیح و صفی، خلیل و رضی، رسول و نبیعتیق و وصی، غنی و علی؛ ثنا کی زباں تمھارے لیے اِصالتِ کُل، اِمامتِ کُل، سِیادتِ کُل، اِمارتِ کُلحکومتِ کُل، وِلایتِ ...

نظر اک چمن سے دوچارہے

نظر اِک چمن سے دو چار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے عجب اُس کے گل کی بہار ہے کہ بہار بلبلِ زار ہے نہ دلِ بشر ہی فگار ہے کہ مَلک بھی اس کا شکار ہےیہ جہاں کہ ہَژدہ ہزار ہےجسے دیکھو اس کا ہزار ہے نہیں سر کہ سجدہ کُناں نہ ہو نہ زباں کہ زمزمہ خواں نہ ہونہ وہ دل کہ اس پہ تپاں نہ ہو نہ وہ سینہ جس کو قرار ہے وہ ہے بھینی بھینی وہاں مہک کہ بسا ہے عرش سے فرش تک وہ ہے پیاری پیاری وہاں چمک کہ وہاں کی شب بھی نہار ہے کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوششِ حُس...

ایمان ہے قالِ مصطفائی

ایمان ہے قالِ مصطفائیقرآن ہے حالِ مصطفائی اللہ کی سلطنت کا دولھا نقشِ تِمثالِ مصطفائی کُل سے بالا رسل سے اعلیٰ اجلال و جلال مصطفائی اصحاب نجومِ رہنما ہیں کشتی ہے آل مصطفائی اد بار سے تو مجھے بچالےپیارے اقبال مصطفائی مرسل مشتاقِ حق ہیں اور حق مشتاق وصال مصطفائی خواہان وصالِ کبریا ہیں جویان جمال مصطفائی محبوب و محب کی ملک ہے ایک کونین ہیں مال مصطفائی اللہ نہ چھوتے دست دل سے دامانِ خیال مصطفائی ہیں تیرے سپرد سب امیدیں اے جودو نوال مصطفائی رو...

ذرے جھڑکر تیری پیزاروں کے

ذرّے جھڑ کر تیری پیزاروں کے تاجِ سر بنتے ہیں سیّاروں کے ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم خلعتِ زر بنیں پشتاروں کے میرے آقا کا وہ در ہے جس پر ماتھے گھِس جاتے ہیں سرداروں کے میرے عیسیٰ تِرے صدقے جاؤں طور بے طور ہیں بیماروں کے مجرمو! چشمِ تبسم رکھوپھول بن جاتے ہیں انگاروں کے تیرے ابرو کے تصدق پیارے بند کرّے ہیں گرفتاروں کے جان و دل تیرے قدموں پر وارےکیا نصیبے ہیں ترے یاروں کے صدق و عدل و کرم و ہمت میں چار سو شُہرے ہیں اِن چاروں کے بہر تسلیم علی میدا...

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیا

سر سوئے روضہ جھکا پھر تجھ کو کیادل تھا ساجد نجدیا پھر تجھ کو کیا بیٹھتے اٹھتے مدد کے واسطے یارسول اللہ کہا پھر تجھ کو کیا یا غرض سے چھُٹ کے محض ذکر کونام پاک اُن کا جپا پھر تجھ کو کیا بے خودی میں سجدۂ دریا طواف جو کیا اچھا کیا پھر تجھ کو کیا ان کو تملیک ملیک الملک سے مالکِ عالم کہا پھر تجھ کو کیا ان کے نام پاک پر دل جان و مال نجدیا سب تج دیا پھر تجھ کو کیا یٰعبادی کہہ کے ہم کو شاہ نے اپنا بندہ کرلیا پھر تجھ کو کیا دیو کے بندوں سے کب ہے یہ ...

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو ترا آستاں بتایا تجھے حمد ہے خدایا تمہیں حاکم برا تمہیں قاسم عطایاتمہیں دافع بلایا تمہیں شافع خطایا کوئی تم سا کون آیا وہ کنواری پاک مریم وہ نَفَخْتُ فیہ کادمہے عجب نشانِ اعظم مگر آمنہ کا جایا وہی سب سے افضل ایا یہی بولے سدرہ والے چمن جہاں کے تھالے سبھی میں نے چھال ڈالے ترے پایہ کانہ پایا تجھے یک نے یک بنایا فَاِاَفَرَغْتَ فَانْصَبْ یہ ملا ہے تم کو منصب جو گدا بنا چکے اب اٹھو وقت ب...

بکار خویش حیرانم اغثنی یا رسول اللہ

بکار خویش حیرانم اغثنی یا رسول اللہپریشانم پریشانم اغثنی یا رسول اللہ ندارم جز تو ملجائے ندانم جز تو ماوائےتوئی خود سازو سا مانم اغثنی یا رسول اللہ شہا بیکس نوازی کن طبیبا چارہ سازی کن مریض دردِ عصیانم اغثنی یا رسول اللہ نرفتم راہ بینا یاں فتادم درچہِ عصیاں بیا اے حبل رحما نم اغثنی یا رسول اللہ گنہ بر سر بلا بارد دِلم دردِ ہوا داردکہ داند جز تو در مانم اغثنی یا رسول اللہ گنہ بر سر بلا بارد دلم دردِ ہوا دارد کہ داند جز تو در مانم اغثنی یا...

لحد میں عشقِ رخ شہ کا داغ لے کے چلے

لحد میں عشقِ رُخ شہ کا داغ لے کے چلے اندھیری رات سُنی تھی چراغ لے کے چلے ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خداوہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے جنان بنےگی محبّانِ چار یار کی قبر جو اپنے سینہ میں یہ چار باغ لے کے چلے گیے، زیارتِ در کی، صدر آہ واپس آئے نظر کے اشک پیچھے دل کا داغ لے کے چلے مدینہ جانِ جنان وجہاں ہے وہ سن لیں جنہیں جنون جناں سوئے زاغ لے کے چلے ترے سحاب سخن سے نہ نم کہ نم سے بھی کمبلیغ بہر بلاغت بلاغ لے کے چلے حضور طیبہ سے بھی...

اکسیرِ اعظم

اکسیر اعظمقصیدۃ مجیدۃ مقبولۃ انشاء اللہ تعالیٰ فی منقبت سیدنا الغوث الاعظمرضی اللہ تعالیٰ عنہ مطلع تشبیب و ذکر، عاشق شُدن حبیبایکہ صد جاں بستہ در ہر گوشۂ داماں توئی دامن افشانی وجاں بار و چرا بیجاں توئیآں کدا میں سنگدل عیارۂ خونخوارۂ کر غمش باجانِ نازک درتپ ہجراں توئیسروِ ناز خویشتن را برکہ قمری کردۂ عندلیب کیستی چوں خود گلِ خنداں توئیہم رخاں آئینہ داری ہم لباں شکر شِکن خود بخود نغمہ آئی باز خود حیراں توئی جوئے خوں نرگس چہ ریزد گر بچشماں ن...

انبیاء کو بھی اجل آنی ہے

انبیا کو بھی اجل آنی ہےمگر ایسی کہ فقط آنی ہے پھر اُسی آن کے بعد اُن کی حیات مثل سابق و ہی جسمانی ہے روح تو سب کی ہے زندہ ان کا جسم پر نور بھی روحانی ہے اوروں کی روح ہو کتنی ہی لطیف اُن کے اجسام کی کب ثانی ہے پاؤں جس خاک پہ رکھ دیں وہ بھی روح ہے پاک ہے نورانی ہے اس کی ازواج کو جائز ہے نکاح اس کا ترکہ بٹے جو فانی ہے یہ ہیں حَیّ ابدی ان کو رضؔاصدق وعدہ کی قضا مانی ہے حدائقِ بخشش ...

منقبتِ غوثِ اعظم

اکسیر اعظمقصیدۃ مجیدۃ مقبولۃ انشاء اللہ تعالیٰ فی منقبت سیدنا الغوث الاعظمرضی اللہ تعالیٰ عنہمطلع تشبیب و ذکر، عاشق شُدن حبیبایکہ صد جاں بستہ در ہر گوشۂ داماں توئیدامن افشانی وجاں بار و چرا بیجاں توئی آں کدا میں سنگدل عیارۂ خونخوارۂ کر غمش باجانِ نازک درتپ ہجراں توئی سروِ ناز خویشتن را برکہ قمری کردۂ عندلیب کیستی چوں خود گلِ خنداں توئی ہم رخاں آئینہ داری ہم لباں شکر شِکنخود بخود نغمہ آئی باز خود حیراں توئی جوئے خوں نرگس چہ ریزد گر بچشماں ن...

مثنوی رد امثالیہ

مثنوی رد ّامثالیہ گریۂ کن بلبلا از رنج وغم چاک کن اےگل گریباں ازام سنبلا از سینہ برکش آہِ سرد اے قمراز فرطِ غم شوروی زرد ہاں صنوبر خیز و فریادی بکن طوطیا جز نالہ ترک ہر سخن چہرہ سُرک ازا اشک خونی ہر گلیست خوں شواے غنچہ زمانِ خندہ نیست پارہ شواے سینۂ مہ ہمچو من داغ شو اے لالۂ خونیں کفن خرمن عیشت بسوز اےبرق تیزاے زمیں بر فرق خود خاکے بریز آفتا با آتش غم بر فروز شب رسید اے شمع روشن خوش بسوز ہمچو ابراے بحر در گریہ بجوش آسماناجامۂ ماتم بپوش خشک ...

رباعیاتِ نعتیہ

رباعیات نعتیہپیشہ مِرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کوہاں شرع کا البتہ ہے جنبہ مجھ کومولیٰ کی ثنا میں حکم مولیٰ کا خلاف لوزینہ میں سیر تو نہ بھایا مجھ کو دیگرہوں اپنے کلام سےنہایت محظوظبیجا سے ہے المنتہ للہ محفوظ قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھییعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ دیگرمحصُور جناندانی دعالی میں ہےکیا شبہ رضا کی بے مثالی میں ہےہر شخص کو اِک وصف میں ہوتا ہے کمالبندے کو کمال بے کمالی میں ہے دیگرکس منھ سے کہوں رشک عنادل ہوں میں شاعر ہوں فصیح بے مماث...

قطعہ

    قطعہ نہ مرانوش زتحسیں مرانیش زطعننہ مراگوش بمدحےنہ مراہوش ذمے منم وکنج خمولی کہ نگنجد دروے جزمن وچند کتابے و دوات وقلمے یہ قطعہ مُبارک اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کی مکمل سوانح عمری ہے جو خود اعلیٰحضرت قدس سرہٗ نے تحریر فرمایا ہے۔ ...

اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیرا

اے رضا مرتبہ کتنا ہوا بالا تیراہند تو ہند عرب میں ہوا شہرہ تیرا نام اعلیٰ ہے تِرا حضرتِ اعلیٰ تیراکام اَولیٰ ہے تِرا اے شہِ والا تیرا کوئی کیا جانے بڑا کتنا ہے رتبہ تیرااصفیا چومنا چاہیں وہ ہے تلوا تیرا کارِ تجدید ادا کرتا تھا خامہ تیراسر پہ باطل کے اٹھا کرتا تھا تیغا تیرا کتنا اونچا کیا اللہ نے رتبہ تیراغوثِ اعظم کو کیا آقا و مولیٰ تیرا تیرے اچھوں نے کیا ہے بڑا اچھا تیراپھر بھلا کیا کوئی بد خواہ کرے گا تیرا نسبتِ آلِ رسولی بھی عجب نسبت ہ...