اعلی حضرت امام احمد رضا خاں



شجرہ طریقت   (37)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ 1294ھ/1877ءکو شیخ المشائخ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی ﷫ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے۔آپ ﷫ کو تمام سلاسل میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔لیکن قلبی میلان حضرت غوث الاعظم﷜ کی نسبت سے سلسلہ عالیہ قادریہ کی طرف تھا۔آپ﷫ اکثر سلسلہ عالیہ قادریہ میں ہی بیعت فرماتے تھے۔

شجرہ نسب   (15)

اسمِ گرامی:محمد۔تاریخی نام ’’المختار‘‘ جدامجدمولانا رضاعلی خان ﷫نے’’احمدرضا‘‘ نام رکھا،اوراسی نام سے مشہور ہوئے۔ القاب:اعلیٰ حضرت،امام اہلِ سنت،مجدداسلام،شیخ الاسلام،حامیِ سنت،ماحیِ بدعت وغیرہ۔سلسلہ نسب:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بن مولانا نقی علی خاں بن مولانا رضا علی خاں بن حافظ کاظم علی خاں بن محمد اعظم خاں بن محمد سعادت یار خاں بن محمد سعید اﷲخاں۔)علیہم الرحمۃ والرضوان)۔آپ کاتعلق ’’افغانستان‘‘ کے معززقبیلہ’’بڑھیچ پٹھان ‘‘سے ہے۔اعلیٰ حضرت ﷫ کے شجرہ ٔ طریقت و شجرہ ٔ نسب اورتلامذہ و خلفاء پر’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ نے تفصیلی کام کیا ہے، جو اپنے موضوع پر منفرد اور جامع کام ہے۔

اساتذہٗ کرام   (8)

اعلیٰ حضرت ﷫ کی رسمِ بسم اللہ کے بعد تعلیم کا سلسلہ جاری ہوگیا آپ نےچاربرس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید مکمل کرلیا۔چھ سال کی عمر میں ماہِ ربیع الاول شریف کی تقریب میں ایک بہت بڑے اجتماع کے سامنے ’’میلاد شریف‘‘کے موضوع پر ایک پر مغز اور جامع بیان کرکےعلمائے کرام اور مشائخ عظام سےتحسین و آفرین کی دادوصول کی۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 14؍شعبان المعظم 1286ھ،مطابق 19؍نومبر 1869ء کو فارغ التحصیل ہوئے اور دستارِ فضیلت سے نوازے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوتِ حافظہ سے خوب نواز تھاصرف مغرب اور عشاء کے درمیانی وقت میں ایک پارہ حفظ کرلیتے تھے،اور ایک ماہ میں قرآنِ مجید مکمل کرلیا۔اعلیٰ حضرت ﷫کے اساتذہ کی فہرست توبہت مختصر ہے،لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کے حبیبﷺ کی عطاء سےآپ کاسینہ علم ومعرفت کا خزینہ تھا۔یہی وجہ ہےکہ آپ بہت سے علوم کے بانی و موجد ہیں۔ اساتذہ کرام میں والد ماجد مولانا نقی علی خاں، حضرت شاہ آل رسول مارہری، حضرت شاہ ابو الحسین نوری، حضرت شیخ احمد بن زینی دحلان شافعی مکی، حضرت شیخ عبد الرحمن سراج مکی، حضرت شیخ حسین بن صالح جمل الیل، مولانا حکیم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی، مولانا عبد العلی خاں رام پوری﷭۔

خلافت و اجازت   (6)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ 1294ھ/1877ءکو شیخ المشائخ حضرت شاہ آلِ رسول مارہروی ﷫ کے دستِ حق پرست پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خلافت سے مشرف ہوئے۔علاوہ ازیں حضرت علامہ شیح احمد زینی بن دحلان شافعی مکی، اور اپنے والد گرامی رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خاں ، سراج السالکین شاہ ابو الحسین نوری،حضرت علامہ شیخ عبد الرحمن سراج مکی ، حضرت شیخ حسین بن صالح جمل اللیل شافعی مکی﷭۔

اولادِ امجاد   (2)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ کوتین صاحبزادے حجۃ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا خاں ﷫، حضرت محمو د رضا خان ( آپ 6 ماہ کی عمر میں وصال فرما گئے) ، مفتی ِاعظم ہند مولانا شاہ مصطفیٰ رضا خاں نوری بریلوی﷫؛ اور پانچ صاحبزادیاں عطا ہوئیں۔

خلفاء کرام   (106)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ اپنے وقت کے مجدد و عظیم مصلح اور عبقری فقیہ تھے۔فتنہ و فساد کے زمانے میں آپ﷫نےتجدیدی بنیادوں پر دین ِاسلام کی خدمت فرمائی ہے، تصنیف و تالیف کے علاوہ ایسے افراد تیار کیے کہ ان میں سے ہرایک اپنی ذات میں انجمن تھا۔ یہ امام اہل سنت﷫ کی خصوصیت تھی کہ جس میں جو وصف پایا اس کو اسی میں چمکایا۔جس شخص کی نسبت بھی امام اہل سنت﷫سے ہوئی وہ علم و معرفت میں کامل و اکمل ہوگیا۔ ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ نے ’’خلفاء اعلیٰ حضرت‘‘ پر وسیع کام کیا ہے۔ابتدا میں اعلیٰ حضرت﷫نے ایک اشتہار کے ذریعے اپنے خلفاء کے نام شائع فرمائے تھے، اور بعد میں بھی اجازت و خلافت کا سلسلہ جاری رہا، کچھ نام ایسے تھے کہ جو گوشہ گمنامی میں تھے۔بعض کے تذکرے نہیں تھے۔الحمد للہ! انجمن ضیاء طیبہ نے اپنی ویب سائٹ پر تذکروں کےساتھ تمام نام پوری دنیا کےلئے شائع کردیئے ہیں۔

شاگرد و تلامذہ   (38)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫اپنے وقت کی ایک عبقری شخصیت تھے۔اللہ جل شانہ نے آپ کو مرجع ُالخلائق بنایا تھا۔آپ﷫ کے زمانے میں ہندوستان میں اسلامی حکومت کا خاتمہ اور انگریز کا غلبہ ہوچکا تھا۔انگریز بدباطن کو اصل خطرہ اہل اسلام سے تھا۔اس لئےاس نے سادہ لوح مسلمانوں کو تقسیم کرنے کےلئے انہیں میں سے چندافراد تیار کیے جو نئے نظریات کےساتھ وارد ہوئے،اہل اسلام کے نظریات تبدیل کرنے کےلئےانگریز کے سرمائے سے پورے ملک میں باطل کالٹریچروسیع پیمانے پرشائع ہونے لگا؛ اس لئے احقاق ِ حق اور ابطالِ باطل امام اہل سنت ﷜ کا اوڑھنا بچھونا رہا۔باطل نظریات کےرد کےلئے آپ کی مکمل توجہ تصنیفات کی طرف رہی۔اس لئے تدریس کی طرف التفات نہ فرمایا۔ چند حضرات کو پڑھایا ہے، جن میں ایک نام آپ کے صاحبزادے حجۃ الاسلام ﷫ کا ہے، البتہ کچھ خاص لوگ جو حصولِ برکت اور شرفِ تلمذ کےلئے حاضر ہوتے توانہیں بھی محروم نہ فرماتے۔سیرت کی کتب میں ایسے حضرات کے چند نام تھے۔الحمد للہ! انجمن ضیاء طیبہ نے نہایت محنت و تحقیق سے اس میں کافی اضافہ فرمایا ہے۔

تصنیفات و تالیفات   (317)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ چودہویں صدی ہجری کےلئے مسلمانوں کےلیے اللہ جل شانہ کا ایک عظیم احسان تھے؛ جنہوں نے بروقت تمام معاملات میں اہل اسلام کی صحیح راہنمائی فرمائی۔ اُس وقت لٹریچر کے ذریعے مسلمانوں کے عقائد و نظریات میں بدعقیدگی کازہرگھولا جارہاتھا۔کیونکہ اکثریت صحیح العقیدہ مسلمانوں کی تھی، وہ صدیوں سے اپنے معمولات پر کاربندتھے، کہ اچانک ان کےنظریات پرکفر و شرک کےفتوے لگائے جانےلگے، پھر ستم بالائے ستم ایک دجال و کذاب قادیانی کےلئے نبوت کا دروازہ کھول دیا گیا۔ان حالات میں ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کےایما ن کےتحفظ کےلئے ہرمیدان میں علماء ِاہل سنت کی عظیم خدمات ہیں؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے امام اہل سنت کو اسلام کی خدمت کےلئے خصوصیت کےساتھ منتخب فرمایاتھا۔ تمام علوم و فنون میں کم و بیش ایک ہزارتصانیف، اور بہت سے علوم کے موجد و بانی قرار پائے۔اردو زبان میں ترجمہ’’کنزالایمان‘‘ اور ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ اور رد المحتار پر حاشیہ ’’جدالممتار‘‘ وغیرہ آپ کے علمی سطوت پر شاہد ہیں،آپ﷫نے اپنی ذات کو تصنیفات و تالیفات کےلئےمکمل وقف کردیاتھا۔آپ﷫ کی شان مجددیت کا نظارہ آپ کی تصنیفات و تالیفات سےکیا جاسکتاہے۔اعلیٰ حضرت﷫ پاک وہندمیں اہل حق کی علامت ہیں، اور باطل آج بھی’’اعلیٰ حضرت‘‘ کےنام سے لرزتا ہے۔

آپ پر تحقیق   (4)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ کی ذات جامع صفات تھی؛ آپ﷫ کی سیرت و کردار اور علمی خدمات پرسینکڑوں مضامین و کتب دنیا کی مختلف زبانوں میں تحریر کی گئیں، اور ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔اس سلسلہ کی سب سے پہلی کڑی ملک العلماء حضرت مولانا ظفر الدین بہاری﷫ کی سیرت اعلی حضرت پر مشتمل کتاب ’’حیات اعلی حضرت‘‘ ہے۔پھر مختلف زبانوں میں علماء کرام نے آپ کی شخصیت پر مستقل کتب تحریر فرمائیں۔اعلیٰ حضرت ﷫ عالم اسلام کی ایسی عظیم شخصیت ہیں کہ جن پر 2016ء تک مجموعی طور پر عالمی جامعات سے76 (PHD) اسناد جاری ہوچکی ہیں؛ اور جب کہ 32 تکمیل کے مراحل میں تھیں، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

منظومات

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ کی زندگی کا خوب صورت اور نمایاں ترین پہلو ’’عشقِ رسولﷺ‘‘ تھا۔آپ﷫ عاشق صادق تھے۔اس لئے آپ کو ’’امام العاشقین‘‘ کہا جاتاہے۔اعلیٰ حضرت﷫نے عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں مستغرق ہوکر ثناء ِمصطفیٰ ﷺ فرمائی ہے۔ فی زمانہ بہت سے لوگ اس معاملے میں بےباک ہوچکے ہیں۔حالانکہ اس میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔اعلیٰ حضرت﷫ارشاد فرماتے ہیں: ’’ اور حقیقۃً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اِس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ اگر بڑھتا ہے تو اُلوہیت میں پہنچا جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص (یعنی شان میں کمی یا گستاخی)ہوتی ہے ۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اِس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے ۔غرض حمد میں ایک جانب اصلاً حدنہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت حدبندی ہے‘‘۔(ملفوظات اعلیٰ حضرت،ص227)، آپ ﷫ کا کلام ’’حدائق بخشش‘‘ کے نام سے معروف ِ زمانہ ہے۔

مضامین   (71)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ کی سیرت کے مختلف پہلوؤں پر اہل علم حضرات نے روشنی ڈالی ہے۔ انجمن ضیاء طیبہ نے کثیر تعداد میں ’’مضامین‘‘ اپلوڈ کردیئے ہیں، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔

ضیائی دعاء   (15)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ وظائف وادعیہ ماثورہ کاورد پابندی کےساتھ فرماتے تھے۔ان وظائف و اذکار کے مجموعہ کا نام ’’الوظیفۃ الکریمۃ‘‘ہے۔اس سروس میں ان دعاؤں کو امیج کی شکل دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘ نے الوظیفۃ الکریمۃ کو تصحیح ِ اعراب اور بہترین ورق میں شائع کرکےمحافل میں فی سبیل اللہ تقسیم کیا جاتا ہے۔ادارے کی سب سے پہلی اشاعت کا مبارک سلسلہ اسی سے شروع ہوا۔جدید تقاضوں کے مطابق ’’الوظیفۃ الکریمۃ ایپلی کیشن‘‘ بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کو علمی حلقوں میں نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھاگیا ہے۔

درود شریف   (2)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ نے اپنی تصنیفات کے خطبے میں صلوۃ و سلام کے مختلف صیغوں کا استعمال فرمایا ہے۔ایک درود رضویہ بھی لکھا جو عقیدت مندوں اور سلسلہ میں بطور وظیفہ پڑھا جاتا ہے۔

تصاویر   (99)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫سے منسوب تبرکات و نوادرات اور آپ کے ارشادات و نصائح کو ’’پیغام ِرضا‘‘ کے نام امیج کی شکل میں اس سروس میں جمع کیا گیاہے۔

 

کرامات   (32)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ عبقری فقیہ اور عظیم مفسر و محدث ہونے کے ساتھ معرفت و روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔آپ﷫ ’’طریقت تابع شریعت‘‘ کےداعی تھے۔ہر وہ کام جو خلاف شریعت ہے، وہ خلاف طریقت بھی ہے؛ اور ان دونوں میں فرق روا نہیں سمجھتے تھے۔آپ کا مشہور قول ہے: ’’ ایسی طریقت جو خلاف شریعت ہو ’’زندیقیت‘‘ہے‘‘۔آپ﷫ کی سب سے کرامت استقامت علی الشریعت تھا؛ اوریہی ولی کی پہچان بھی ہے کہ اس کا ہرہر فعل سنتِ مصطفیٰﷺ کےسانچے میں ہوتا ہے۔اللہ جل شانہ نے امام اہل سنت کو کرامت سے بھی مشرف فرمایا تھا۔اس سروس میں اعلی حضرت ﷫ کی کرامات کو جمع کیا گیا ہے۔

نیوز   (18)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ اعراس مبارکہ و فاتحہ و پرگرامز کےاشتہار و نیوز پر مشتمل یہ سروس ہے؛ اور انجمن ضیاء طیبہ ہراسلامی ماہ کی پچیس تاریخ کو اہتمام کےساتھ آپ﷫ کی ماہانہ فاتحہ کی محفل’’میمن مسجد، مزار حضرت قاری مصلح الدین صدیقی﷫،مصلح الدین گارڈن‘‘ سابقہ کھوڑی گارڈن کراچی میں منعقد ہوتی ہے۔

میڈیا لائبریری   (49)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ کے کلام اور آپ پر تحقیقی و علمی تقاریر کو آواز کی صورت میں اس سروس میں جمع کیا گیا ہے۔آن لائن سماعت اور ڈاؤن لوڈ کی سہولت کی موجود ہے۔

اقوال زریں   (4)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫کی ہرمجلس علم و عرفان کی مجلس ہوتی تھی جس میں کلام کرنے والے ایک بحربےکنارتھے۔آپ﷫ کی کتب میں نصائح و اقوال کو اس سروس میں جمع کیا گیا ہے۔

ایپس   (1)

مختلف شخصیات و موضوعات پر ’’انجمن ضیاء طیبہ‘‘نےایپس متعارف کروائی ہیں۔ اعلیٰ حضرت ﷫ کے اوراد و ظائف پرمشتمل ’’الوظیفۃ الکریمۃ‘‘ کی ایپ گوگل پلے پر موجود ہے۔جبکہ آپ ﷫ کی مکمل سوانح حیات پر مشتمل ایپلی کیشن ’’ضیائے رضا ‘‘ کے نام سے گوگل پلے پر موجود ہے۔

تاریخی مقامات   (7)

شیخ الاسلام و المسلمین اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی﷫ سے منسوب مقامات کی تصاویر اس سروس میں جمع کی گئیں ہیں۔

تجویزوآراء