جرنیل اہلسنّت جناب محمد سلیم قادری

 

بھارت کے شہر گجرات سے نقل مکانی کرکے اانے والے محمد ابراہیم قریشی نے اپنی زوجہ آمنہ بی بی کے ساتھ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقہ  نانک وارہ پان منڈی میں رہائش اختیار کی۔ انہیں تین بیتے اور دوبیٹیاں تولد ہوئیں۔ دو بیٹوں کے بعد ایک سعادت مند بیٹا۔ ۱۹۶۰ء میں تولد ہوا جس کا نام محمد سلیم رکھا گیا۔ محمد ابراہیم نے ۱۹۶۸ء میں بلدیہ ٹائون کراچی میں رہائش اختیار کی۔

تعلیم و تربیت:

آپ کا خاندان مذہبی تھا، بچپن سے صالحین اور علماء اہلسنت کی صحبت میسر تھی۔ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک آل بلدیہ اسکول بلدیہ ٹائون سے پاس کیا۔

بیعت:

امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری مدظلہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اسلئے قادری کہلائے۔

مبلغ دعوت اسلامی:

سلیم قادری کو قدرت نے بچپن سے مسلک کی تڑپ دے رکھی تھی ان میں دینی جذبہ تھا، وہ کچھ کرنا چاہتے تھے انہی دنوں ۱۹۸۰ء میں علماء اہلسنت کی سر پرستی میں تبلیغ قرآن و سنت کیلئے ایک تحریک چلی جو ایک تنظیم ’’دعوت اسلامی‘‘ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ اس سے متاثر ہو کر امیر دعوت اسلامی سے بیعت ہوئے اور ۹ برس تک مبلغ بن کر کام کیا۔ خود عمامہ باندھا، سنتوں پر عمل کرنے لگے اور تبلیغ بھی کرتے رہے درس دیا، قافلہ کے ساتھ تبلیغی سفر کیا ، گلی کوچوں میں صلوٰۃ و سنت کی دعوت دی۔

انجمن اشاعت اسلام:

بلدیہ ٹائون سعید آباد میں چند نوجوانوں کو جمع کرکے انجمن اشاعت اسلام کے نام سے تنظیم قائم کی۔ اس کے تحت لائبریری کا قیام عمل میں اایا، مدرسہ لگنے لگا اور دینی کتابوں کی مفت اشاعت ہونے لگی۔ جہاں سے آخر یہ جنگ کیوں؟ ، اسوہ حسنہ از: مولانا حشمت علی خان لکھنوی ، اچھا برتائو وغیرہ کتابچے شائع ہوئے۔

جمیعت علمائے پاکستان:

۱۹۸۰ء کو احباب کے اسرار پر اپنے اہل خانہ کے ہمراہ سعید آباد بلدیہ ٹائون میں رہائش اختیار کی۔ اس کے بعد جمعیت علمائے پاسکتان میں کام کرنے لگے اور ۱۹۸۸ء کے انتکابات میں جمعیت کی پارلیمانی کمیٹی نے محمد سلیم قادری کو بلدیہ ٹائون سے صوبائی الیکشن کے امیدوار کا ٹکٹ دیا۔

۱۹۸۹ء کو سلیم قادری کے والد محمد ابراہم قریشی کا انتقال ہوا۔

سنی تحریک کا قیام:

سلیم قادری کے دل میں  مسلک کیلئے تڑپ تھی وہ کچھ کرنا چاہتے تھے ، یہی تڑپ انہیں مختلف پلیٹ فارم پر لے گئی لیکن انہیں تسلی نہ وہئی وہ جس اندا زمیں تحریک چلانا چاہتے تھے وہ ادارے موزوں نہیں تھے۔ اسلئے انہوں نے اہلسنت و جماعت کے غیور جوانوں کی جماعت تیار کی جو آگے چل کر ’’سنی تحریک‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ اس پلیٹ فارم سے وہ اپنے انداز میں کام کرنے لگے اغراض و مقاصد کے تحت منزل کی جانب بڑھتے چلے گئے۔ حقوق اہلسنّت کے حصول کی جنگ عمر بھر لڑتے رہے کبھی بھی اپنے منشور سے  نہیں ہٹے۔

سنی تحریک کے قیام کا خیال کیوں آیا؟ اس سوال کے جواب میں ایک انٹرویو میں سلیم قادری نے اس طرح جواب دیا: سنی تحریک کا پانچ سال پہلے آغاز کیا… میرے نزدیک ایک ایسی ٹیم تیار کرنا تھا جو جہاں جیسی ضرورت ہو ویسا ہی جواب دے سکے، ایک ایسی تنظیم جو روایتی تنظیموں سے ہٹ کر ہو جو قانونی طور پر بھی کاروائی کریں اور مساجد کی انتظامیہ سے رعب و دبدبہ سے بھی بات کریں۔ تاکہ وہ بات سن کر عمل کریں۔ اس تحریک کے قیام کے پیچھے بہت سارے عوامل تھے۔ باطل فرقوں کا اہلسنّت کے حقوق غصب کرنا، مساجد اہلسنّت پر قبضے، مزارات اہلسنّت پر قبضے، نصاب تعلیم کو دیکھا تو وہاں تحریک پاکستان میں کام کرنے والے علماء اہلسنت کا ذکر نہیں ملتا، حکومت کے قبضہ میں مزارات اولیاء اللہ ہیں ان کے نذرانہ کی رقم ان بزرگوں کی تعلیم پر خرچ نہیں ہوتی بلکہ مخالفین ان پر پلتے ہیں۔ بچاس برس سے ہم امن کے نام پر مار کھا رہے ہیں ایسے بے شمار مسائل تھے جنہوں نے سنی تحریک کے قیام پر مجبور کردیا۔ مسلک کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں ہونے والی زیادتی کے کاتمہ کیلئے میں ہر شعبے میں  بیداری چاہتا ہوں۔

آپ نے سنی تحریک کے مقاصد میں کہاں تک کامیابی ھاصل کی ہے؟ آپ نے جواب میں بتایا: سنتی تحریک جو مقاصد لے کر چلی تھی ان میں کامیاب ہوتی جارہی ہے۔ حکومت جو پہلے اہل سنت کو کچھ نہیں سمجھتی تھی آج ہر معاملے میں ہماری رضا مندی کو ضروری سمجھتی ہے۔ کراچی میں تعلیم کے شعبے میں بہت فائدہ ہوا ہے اور کراچی کے تعلیمی ادارو ں میں سنی لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا جاتا ہے۔ اخبارات جو ہمارے خلاف مواد شائع کرتے رہتے تھے اب ایسا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ مولوی فضل الرحمن دیوبندی کے انتخابی حلقہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ۱۲ ربیع الاول کو دیو بندی جلوس نکالتے تھے مگر سنیوں کو جلوس نکالنے کی انتظامیہ اجازت نہیں دیتی تھی گذشتہ سال وہاں پہلی بار عید میلاد النبی ﷺ پر جلوس نکالا گیا اسی طرح ہم نے کئی اپنی مساجد مخالفین کے قبضہ سے خالی کرالیں ہیں۔

(انٹرویو: ماہنامہ اخبار اہلسنّت لاہور اکتوبر ۱۹۹۷ئ)

خطابت:

آپ سنی تحریک کے نہ صرف قائد تھ بلکہ پر جوش خطیب تھی تھے آپ کی تقریر روایتی تقریر نہیں تھی بلکہ ایک درد دل کا پیغام تھا۔ آپ کا خطاب اذھان کو جھنجوڑنے والا آلہ تھا۔ غافل لوگوں کو بیدار کرنے والا ولولہ تھا، ملک کے جس بھی علاقے میں گئے سنیت کا درد بانٹتے رہے، گیرت مند نوجوانوں کا قافلہ در قافلہ تیار کرتے رہے۔ انہیں متحد کیا، منظم کیا، ان مین سنی سوچ بانٹی ، بلکہ انہیں عزت سے جینے کا قرینہ سکھایا۔ نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون سیکٹر ۱۹ ڈی میں ۱۴ سال فی سبیل اللہ خطاب کیا۔

قائد سنی تحریک کی تقریر کا انداز ملاحظہ کیجئے:

اے سنیت کا درد رکھنے والو! کیا تم چاہتے ہو کہ مقام عظمت مصطفی ﷺ کا تحفظ ہو، مقام عظمت صحابہ کا تحفظ ہو، مقام عظمت اولیاء کا تحفط ہو، حقوق اہلسنّت کا تحفط ہو ، تمہاری مساجد کا تحفط ہو، ایک سنی کو زخم آئے چاہے وہ کسی شہر کا رہنے والا ہو تو پاکستان میں بسنے والا ہر سنی اس زخم کو اپنا زخم سمجھے اور اس ظلم کے خلاف سراپا احتجاج بن جائے تو سنو! اے سنیت کا درد رکھنے والو! تمہیں بیدار ہونا ہوگا۔ حقوق اہلسنت کی اس جنگ میں تکالیف کا سامنا ہوگا کیونکہ تحریکیں پھولوں کا بستر نہیں ہوتیں کانٹوں کی سیج ہوتی ہیں۔ اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ بھی دینا ہوگا ۔ سرکار مدینہ ﷺ کی خوشنودی کی خطر ہمیں بڑی سے بڑی قربانیاں دینی ہیں۔ ہوسکتا ہے میں بھی اس راہ میں مارا جائوں مگر اے سنیت کا درد رکھنے والو! اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مولانا حمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے دیئے گئے اس مشن کی خاطر ہاں ہاں جناب اعلیٰ حضرت کی روشن کی گئی شمع کی خاطر ہمیں اپنا سب کچھ قربان کرنا ہوگا۔ ہوسکتا ہے ہم اس راہ میں آپ سے جدا ہوجائیں مگر تمہیں اس مشن کی تکمیل کیلئے جد و جہد جاری رکھنی ہوگی تو کیا اے سنیت کا درد رکھنے والو! تم اس جد و جہد میں ہمارا ساتھ دوگے۔ تو ہر طرف سے اس طرح جواب آنے لگے۔

سلیم بھائی قدم برھائو ہم تمہارے ساتھ ہیں

جوانیاں لٹائیں گے، مسجدیں بچائیں گے

وصال:

۲۳ صفر المظفر ۱۴۲۲ھ بمطابق ۱۸ مئی ۲۰۰۱ء بروز جمعۃ المبارک قائد سنی تحریک محمد سلیم قادری نے نورانی رحمت مسجد بلدیہ ٹائون میں نماز جمعہ کی امامت کیلئے تیاری کی، غسل کیا، سفید لباس زیب تن کیا، سر پر عمامہ کا تاج سجانئے بعض رشتہ داروں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکلے ۔ ایک بج کر ۳۵ منٹ سیکٹر ۱۹ ڈی پر ایک بڑا اسپیڈ بریکر آیا ، اب کیا ہوگیا کہ آنا فاناً چاروں طرف سے گولیاں چلائی گئیں سلیم قادری نے اپنے کمسن بچوں بلال رضا قادری اور اویس رضا قادری کو سیٹ کے نیچے پائوں میں جھکا دیا اور اپنے سینے کو آگے کردیا اور سلیم قادری گولیوں کی زد مین آکر شہید ہوگئے۔ انا للہ ونا الیہ راجعون

(ماہنامہ سنی ترجمان ۲۰۰۱ء خصوسی شمارہ)

غیرت کا درس تیرا، غیرت کا تو امام

مذہب کا تو مجاہد، شمشیر بے نیام

دوسرے روز بعد نماز مغرب عید گاہ قصابان (ایم اے جناح رود) کی شاہراہ پر  نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کی امامت تحریک کے سینئر رہنما افتخار بھٹی نے کروائی۔ نماز جنازہ میں سنی تحریک کے کارکنان، عوام اہل سنت کے علاوہ اہل سنت و جماعت کی مقتدر شخصیات نے شرکت کی۔ مثلاً علاہ شاہ احمد نورانی، علامہ شاہ تراب الحق قادری، پروفیسر شاہ فرید الحق، مولانا حسن حقانی، مفتی محمد جان نعیمی، مولان اقاری رضاء المصطفی اعظمی، سید عبداالقادر شاہ صاحب (دعوت اسلامی کے نگراں) وغیرہ کے علاوہ سنی ، سیاسی و رفاہی تنظیموں کے رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔ سلیم قادری اور ان کے رفقاء کو اہل سنت خدمت کمیتی ہسپتال (سعید آباد بلدیہ ٹائون کراچی) کے صحن میں دفن کیا گیا۔ جہاں روضہ تعمیر ہوگا۔ رفاہی سلسلہ مین سلیم قادری شہید نے ’’اہل سنت خدمت کمیٹی‘‘ قائم کی تھی جس کے زیر اہتمام ہسپتال سعید آباد میں تعمیر کروایا تھا ہسپتال کی میت گاڑیاں اور ایمبولینس آج بھی خدمت خلق میں پیش پیش ہیں۔

میں وہ سنی ہوں ’’جمیل قادری‘‘مرنے کے بعد

میرا لاشہ بھی کہے گا الصلوٰۃ والسلام

محترم طارق سلطانپوری نے قطعہ تاریخ وصال کہا:

وہ محسود اشرار تھا خیر فطرت        وہ روشنی جس سے خائف تھی ظلمت

تگ و تاز کا اس کی مقصود یہ تھا                جہانگیر ہو عظمت اہل سنت

تڑپ ، پیچ و تاب اضطراب مسلسل     سراپا وہ تحریک جہد و جسارت

زیادہ ہو جاہ و حشم اہل حق کا          بڑھے اور بھی عزت اہل سنت

تلافی بظاہر ہے دشوار اس کی                 ہوا ہے جو افسوس نقصان ملت

رکھا جائے گایاد بزم وفا میں         وہ مرد بلند ہمت و پاک طینت

زروئے ’’مجاہد ‘‘سن وصل اس کا            کہا’’پیکر جراٗت اہل سنت

۱۳۸۲۴۰:۱۴۲۲


(انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)

مزید

تجویزوآراء