پسندیدہ شاعری  

تیرے پائے کا کوئی ہم نے نہ پایا خواجہ

تیرے پائے کا کوئی ہم نے نہ پایا خواجہ

تیرے پائے کا کوئی ہم نے نہ پایا خواجہ

تو زمیں والوں پہ اللہ کا سایا خواجہ

 

ہے قلم رو میں ترے ہند کی پوری اقلیم

ہند کے سارے ولی تیری رعایا خواجہ

 

مکر شیطاں سے مریدوں کو بچالیتے ہو

اس لیے پیر تمہیں اپنا بنایا خواجہ

 

جوشِ مستی میں کئی آئے ہیں ایسے لمحے

میں بہک جاتا مگر تم نے بچایا خواجہ

 

بے خودی میں ،میں خودی کو ہی خدا کہہ دیتا

شکر ہے تم نے مگر یاد دلایا خواجہ

 

میری کشتی ابھی ساحل سے لگی جاتی ہے

اک ذرا تم نے اگر ہاتھ لگایا خواجہ

 

براطِ عشق پہ مضراب عمل سے تم نے

نغمہ توحید کا کیا خوب سنایا خواجہ

 

سیؔد خستہ کو امید حضوری کب تھی

صدقے جاؤں ترے کیا خوب بلایا خواجہ

...

آمدم با کمال عجزو نیاز

آمدم با کمال عجزو نیاز

آمدم با کمال عجزو نیاز

بردر خواجۂ غریب نواز

 

خواجۂ خواجگاں معین الدین

محرم سرّ حق و محرم راز

 

آنکہ صیب کمال رحمت او

رفت رفت از ہند تا عراق و حجاز

 

نتواں کرد شمۂ مد حش

فکر صد سال گر کند پرواز

 

بر جبینش شدہ حبیب اللہ

مات فی حبہ ز غیب طراز

 

گوغریبم و لے چہ  باک مرا

بر غریباں نواز دارم ناز

 

رحم کن رحم اے غریب نواز

بر من مبتلائے سوز و گداز

 

وائے برمن کہ جمع نمودم

از پئے حشر ہیچ برگ و ساز

 

وائے برمن کہ گشت از دستم

نہ ادا حق روزۂ و نہ نماز

 

خستہ و پا شکستہ از  شابا

کن بسویم تو دست لطف دراز

 

دارم امید واثق از کرمت

کہ بہ ہر دوسرا شوم ممتاز

 

از عنایات خود مکن محروم

کن برویم تو بابِ رحمت باز

 

لطف کن من اسے شہنشۂِ دیں

آمدم برورست زادہِ دراز

 

خواہم از جیب خاص تو نظر سے

دور کن از رُخم حجاب مجاز

 

جود تو عام بر انام بود

ذرہ ذرہ ہمیں کند آواز

 

من فقیرم تو شاہ من ہستی

از نوالِ خودم مشرف ساز

 

ختم با لخیر کار من گرداں

کو بنام تو کردہ ام آغاز

...

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے

زندگی یہ نہیں ہے کسی کے لیے
زندگی ہے نبی کی نبی کے لئے

نہ سمجھ مرتے ہیں زندگی کے لئے
جینا مرنا ہے سب کچھ نبی کے لئے

چاندنی چار دن ہے سبھی  کے لئے
ہے صدا چاند عبدالنبی کے لئے

اَنْتَ فَیْھِمْ کے دامن میں منکر بھی ہیں
ہم رہے عشرتِ دائمی کے لئے

عشق کر لو یہاں منکر و چار در
مر کے ترسو گے اس زندگ کے لئے

داغِ عشقِ نبی لے چلو قبر میں
ہے چراغِ لحد روشنی کے لئے

نقشِ پائے سگانِ نبی دیکھیے
یہ پتہ ہے بہت رہبری کے لئے

وہ بلاتے ہیں کوئی یہ آواز دے
دم میں جا پہنچوں میں حاضری کے لئے

اے نسیمِ صبا ان سے کہہ دے ذرا
مضطرب ہے گدا حاضری کے لئے

جن کے دل میں ہے عشقِ نبی کی چمک
وہ ہیں نجم زماں روشنی کے لئے

اختؔرِ قادری خلد میں چل دیا
خلدوا ہے ہر اک قادری کے لئے

شاعر مفتی اختر رضا خاں قادری ﷫

...