صدرالافاضل نعیم الدین مراد آبادی  

کبھی تو مرے دل میں قرار دل ہو کر

کبھی تو مرے دل میں قرارِ دل ہو کر
کبھی ہو آتشِ غم سرد مشتعل ہو کر
پھر ایسا جلوہ دکھا حُسنِ بے مثالی کا
ہرے ہوں زخمِ دلِ زار مندمل ہو کر
مٹا دے مجھ کو کہ جلوہ نما ہو ہستی حق
مرے وجود کا پندار مضمحل ہو کر

...