مولانا حسن رضا خان صاحب  

نامیؔ خستہ نہ نالم بچہ رو

نامیؔ خستہ نہ نالم بچہ رو
کوہ افتاد دریغا افتاد

دلم از فرقت استادم سوخت
ازلبم چوں نہ برآید فریاد

ہر کہ پُرسید زمن باعث غم
گفتمش سوئے جناں رفت استاد

سال فوتش ز جوابم جوئید
دیگر امروز نمید ارم یاد

۱۳۲۶ھ
تمت٭

...

تحفہ‘ کہ ہے گوہر لآلی

تحفہ‘ کہ ہے گوہر لآلی
فرماتے ہیں اس میں یوں معالی

جب زیب زماں ہوئے وہ سرور
تھی ساٹھ برس کی عمر مادر

یہ بات نہیں کسی پہ مخفی
یہ عمر ہے عمرِ نا اُمیدی

اس اَمر سے ہم کو کیا عجب ہو
مولود کی شان کو تو دیکھو

نومید کے درد کی دوا ہے
مایوس دلوں کا آسرا ہے

کیا کیجیے بیان دستگیری
ہے جوش پہ شانِ دستگیری

گرتے ہوؤں کو کہیں سنبھالا
ڈوبے ہوؤں کو کہیں نکالا

سب داغ الم مٹا دیے ہیں
بیٹھے ہوئے دل اُٹھا دیے ہیں

نومید دلوں کی ٹیک ہے وہ
امداد میں آج ایک ہے وہ

یاوَر جو نصیب ہے ہمارا
قسمت سے ملا ہے کیا سہارا

طوفانِ اَلم سے ہم کو کیا باک
ہے ہاتھ میں کس کا دامنِ پاک

آفت کا ہجوم کیا بلا ہے
کس ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ہے

بالفرض اگر غلامِ سرکار
دریاے الم میں ہو گرفتار

خود بحر ہو اس خیال میں گُم
دُکھ دے نہ اسے میرا تلاطُم

سوچے یہی سیل کی روانی
پھر جائے نہ آبرو پہ پانی

طوفان ہو اس قلق میں بے تاب
موجیں بنیں ماہیانِ بے آب

گرداب ہو گرد پھر کے صدقے
ساحل لبِ خشک سے دعا دے

ہو چشمِ حباب اشک سے تر
ہر موج کہے یہ ہاتھ اُٹھا کر

رکھ لے میری اے کریم تُو لاج
غیرت سے نہ ڈوبنا پڑے آج

وسائلِ بخشش

...

مولانا عبدِ حق محدث

مولانا عبدِ حق محدث
وہ سرورِ انبیا کے وارث

ہے اُن کی کتاب پاک ’اخبار‘
تحریر ہے اس میں ذکرِ اخیار

مرقوم ہے اس میں یہ روایت
چمکا جو وہ ماہِ قادریت

آیا رمضان کا زمانہ
روزوں کا ہوا جہاں میں چرچا

کی شہرِ صیام کی یہ توقیر
دن میں نہ پیا حضور نے شِیر

گو عالمِ شِیر خوارگی تھا
پر پاسِ شریعتِ نبی تھا

جب تک نہ ہو پیروِ شریعت
کیا جانے حقیقتِ طریقت

جو راہ نہ پوچھے مصطفی سے
کس طرح وہ جا ملے خدا سے

جس شخص نے راستہ کو چھوڑا
منزل کی طرف سے منہ کو موڑا

جو آپ ہی راہ گُم کیے ہو
کیا راہ بتائے وہ کسی کو

خود گم سے کوئی پتا نہ پوچھے
گمراہ سے راستہ نہ پوچھے

رہبر کی جو اقتدا نہ بھولا
وہ بھول کے راستہ نہ بھولا

وسائلِ بخشش

...

فرماتے ہیں ’تحفہ‘ میں معالی

فرماتے ہیں ’تحفہ‘ میں معالی
ہیں ابن حضور پاک(۱) راوی

فرماتے ہیں ابن مصطفی(۲) یہ
بچپن کا ہے میرے ماجرا یہ

طفلی میں جو چاہتا کبھی جی
اطفال میں ہوں شریک بازی

دیتا کوئی غیب سے یکایک
آواز اِلَیَّ یَا مُبَارَک (۳)

سن کر یہ صدا جو خوف آتا
میں گود میں والدہ کی جاتا

تھی پہلے جو یہ صداے عشرت
سنتا ہوں اب اُس کو وقتِ خلوت

کچھ تو نے سنا حسنؔ یہ کیا تھا
یہ کون اُنہیں بلا رہا تھا

ہاں کیوں نہ ہوں وہ کمال محبوب
اللہ کو ہے جمالِ محبوب

کیوں کر ہو ثناے خوب رویاں
قربان اَداے خوب رویاں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) شیخ عبدالرزاق رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ ۲۱ منہ
(۲) مراد است از ذات پاک حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ۔۲۱منہ
(۳) یعنی اے میرے مالک! میری طرف آ۔


جیلاں میں طلب کے ساتھ یہ کد
معراج میں اُدْنُ یَا مُحَمَّدْ

مژدہ ہو تجھے مرے دل زار
تو بھی ہے انہیں کا کفش بردار

کیا ظلمتِ گور اُسے دبائے
قسمت سے جو ایسے چاند پائے

پردے سے یہ کس نے منہ نکالا
پھیلا ہے جہان میں اُجالا

ہر لُمعہ صباے مہ سے بہتر
ہر جلوہ ہزار مہر دربر

لو آؤ سیاہ نامے والو
دل سے غمِ تیرگی نکالو

ہے روزِ سیاہ کا دل سے غم دُور
تاریکیِ قبر کا اَلم دُور

یاں ضعف سے جس کو چکر آیا
آنکھوں کے تلے نہ تھا اندھیرا

جب دُور ہو یاں سے کالے کوسوں
پھر شاکیِ بختِ تیرہ کیا ہوں

اس کو نہ کہو قمر کا جلوہ
کیا جلوہ وہ رات بھر کا جلوہ

یہ شمع نہیں جو جھلملائے
خورشید نہیں جو ڈوب جائے

کب ہے یہ تجلّیِ کواکب
شب بھر ہے تعلّیِ کواکب

دن رات جو ایک سا عیاں ہے
یہ جلوۂ حسن گل رُخاں ہے

ہر وقت چمک رہے ہیں اَنوار
ہر شے میں جھلک رہے ہیں انوار

اُٹھ جاتی ہیں جس طرف نگاہیں
روشن ہیں تجلّیوں سے راہیں

دل محوِ جمال جلوۂ طور
یا پیش نگاہِ سورۂ نور

وسائلِ بخشش

...