خالد محمود خالد صاحب  

یہ نوازشیں یہ عنائتیں

اُن کی بخشش کا ٹھکانا ہی نہیں ہے کوئی
ہر گنہ گار پہ رحمت کی نظر رکھتے ہیں
کون کس حال میں ہے کس نے پکارا ان کو
میرے سرکار دو عالم کی خبر رکھتے ہیں

یہ نوازشیں یہ عنائتیں غمِ دو جہاں سے چھڑا دیا

غمِ مصطفیٰ ترا شکریہ مجھے مرنا جینا سکھا دیا

 

...

رحمت لقب ہے اور

فیض سرکار کا نِرالا ہے
نام بھی اُن کا لاج والا ہے
ان کے ہی دم قدم کی برکت سے
بزمِ کونین میں اُجالا ہے

رحمت لقب ہے اور جو بیکس نواز ہے

مجھ کو تو بس اسی کی غلامی پہ ناز ہے

 

...