خالد محمود خالد صاحب  

بے عمل ہوں مرے پاس کچھ بھی نہیں

جو گدا محوِ یاس رہتے ہیں
اُن کے غم میں اُداس رہتے ہیں
دیکھنے کو وہ دُور ہیں خاؔلد
اپنے آقا کے پاس رہتے ہیں

بے عمل ہوں مرے پاس کچھ بھی نہیں میری جھولی میں اشکوں کی سوغات ہے

غفلتوں میں کٹی ہے مری زندگی آبرو لاج والے ترے ہاتھ ہے

 

...