حضور سید محمد مدنی اشرفی جیلانی  

ساقئی کوثر مراجب میر میخانہ بنا

ساقئی کوثر مراجب میر میخانہ بنا
چاند و سورج خم بنے ہر نجم پیمانہ بنا
حسن فطرت کے ہر اک جلوے سے بیگانہ بنا
دل بڑا ہشیار تھا اس در کا دیوانہ بنا
اس بہانے ہی سے جا پہنچوں لب اعجاز تک
یاالہی خاک کر کے مجھ کو پیمانہ بنا
اپنے عقل و ہوش کھونے کا صلہ مل ہی گیا
میرا افسانہ سراپا ان کا افسانہ بنا
اللہ اللہ رفعت اشک غمِ ہجر نبیﷺ
جونہی ٹپکا آنکھ سے تسبیح کا دانہ بنا
آج بھی سورج پلٹ سکتا ہے تیرے واسطے
اپنے دل کو الفت احمد کا کاشانہ بنا
چاند کی رفعت کو چھولینا کہاں کی عقل ہے
عقل یہ ہے چاند کو خود اپنا دیوانہ بنا
میرے دل میں حب احمد کے ہیں گل بوٹے کھلے
اب اسے کعبہ سمجھ واعظ کہ بت خانہ بنا
جام و ساغر سے بھی جائیگی کہیں تشنہ لبی
جرعۂ دست کرم کو میرا پیمانہ بنا
جانے کتنی ٹھوکریں کھاتا ہوا آیا ہوں میں
مجھ کو محروم تمنا میرے مولیٰ نہ بنا
ہاتھ ملتی رہ گئی رنگینئ حسنِ مجاز
دل مرا شمع رخ احمد کا پروانہ بنا
دھو کے اپنے نطق کو مدح نبی کے آب سے
اپنی ہر ہر بات اے اخؔتر حکیمانہ بنا

...

خدائے برتر و بالا ہمیں پتہ کیا ہے

خدائے برتر و بالا ہمیں پتہ کیا ہے
ترے حبیب مکرمﷺ کا مرتبہ کیا ہے
جبین حضرت جبریئل  پرکفِ پا ہے
ہے ابتدا کا یہ عالم تو انتہا کیا ہے
خدا کی شانِ جلال و جمال کے مظہر
ہر ایک سمت ہے تو ہی ترے سوا کیا ہے
کوئی بلال﷜ سے پوچھے خُبیب﷜ سے سمجھے
خمارِ الفتِ محبوب کبریاﷺ کیا ہے
سمجھ لو عہد رسالت کے جاں نثاروں سے
کمال صدق و صفا رشتۂ وفا کیا ہے
بشر کے بھیس میں لاکالبشر کی شان رہی
یہ معجزہ جو نہیں ہے تو معجزہ کیا ہے
غمِ فراق نبیﷺ میں جو آنکھ سے نکلے
خدا ہی جانے ان اشکوں کا مرتبہ کیا ہے
کرم کرم کہ کریمی ہی شان ہے تیری
ترے کرم کے مقابل مرِی خطا کیا ہے
جو میری جان سے زیادہ قریب ہیں مجھ سے
انھیں کو ڈھونڈ رہا ہوں مجھے ہوا کیا ہے
فقط تمہاری شفاعت کا آسرا ہے حضورﷺ
ہمارے پاس گناہوں کے ماسوا کیا ہے
چلو دیارِ مدینہ جو دیکھنا چاہو
زمیں سے عرش معلیٰ کا فاصلہ کیا ہے
بخاری پڑھ کے بھی شانِ محمدِ عربیﷺ
سمجھ نہ پائے اگر تم تو پھر پڑھا کیا ہے
وہ دیکھو گنبد خضریٰ ہے رو برو تیرے
نثار کر دے دل و جان دیکھتا کیا ہے
کھڑا ہے اختؔر عاصی درِ مقدس پر
حضورﷺ آپ کی رحمت کا فیصلہ کیا ہے

...

بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں

بڑے لطیف ہیں نازک سے گھر میں رہتے ہیں
میرے حضورﷺ میری چشم تر میں رہتے ہیں
ہمارے دل میں ہمارے جگر میں رہتے ہیں
انہی کے گھر ہیں یہ وہ اپنے گھر میں رہتے ہیں
یہ واقعہ ہے لباسِ بشر بھی دھوکا ہے
یہ معجزہ ہے لباسِ بشر میں رہتے ہیں
مقام ان کا نہ فرش زمیں نہ عرش بریں
وہ اپنے چاہنے والوں کے گھر میں رہتے ہیں
ملائکہ بھی عقیدت سے دیکھتے ہیں انھیں
جو خوش نصیب نبیﷺ کے نگر میں رہتے ہیں
یقین والے کہاں سے چلے کہاں پہونچے
جواہل شک ہیں اگر میں مگر میں رہتے ہیں
خدا کے نور کو اپنی طرح سمجھتے ہیں
یہ کون لوگ ہیں کس کے اثر میں رہتے ہیں
رہیں وہ اپنوں سے غافل ارے معاذ اللہ
خوشا نصیب ہم انکی نظر میں رہتے ہیں
وہ اور ہی تھا جو قوسین پر نظر آیا
مَلک تو اپنی حد بال وپر میں رہتے ہیں
جو اخؔتر ان کے تصور میں صبح و شام کریں
کہیں بھی رہتے ہوں طیبہ نگر میں رہتے ہیں

...

حسن خورشید نہ مہتاب کا جلوہ دیکھو

حسن خورشید نہ مہتاب کا جلوہ دیکھو
آؤ احمد کے کفِ پاکا تماشہ دیکھو
دیکھنے والو دیارِ شہِ بطحا دیکھو
فرش کی گود میں ہے عرش معلیٰ دیکھو
چہرۂ ماہ کو بے داغ تو ہو لینے دو
اس میں پھر جاکے کہیں عکس کفِ پا دیکھو
زاہد و خار صفت خلد بھی ہو جائے گی
کاش تم کوچۂ شاہنشۂ بطحا دیکھو
خواہش جلوۂ سینا بھی بجا ہے لیکن
طور بھی رشک کرے جس پہ وہ جلوہ دیکھو
میری تقصیر ہے کیا تیرے کرم سے بھی فزوں
دیکھو تم اپنا کرم ہاتھ نہ میرا دیکھو
خالِ رخِ زلفِ معنبر کی سیاہی کا امیں
خوش نصیبو مرا تاریک نصیبہ دیکھو
ان کے غم سے میری آنکھوں کو ملا اوج فلک
نوک غمزہ پہ چمکتا ہے ستارہ دیکھو
چشم خاطر کو جو ہو نور بصیرت مقصود
دیکھنے والو ذراگنبد خضریٰ دیکھو
کس نے سرکایا نقابِ رخِ روشن اخؔتر
ہر طرف ایک قیامت سی ہے برپا دیکھو

...

سوچتا ہوں کیا کہوں میں، کیا نظر آنے لگا

سوچتا ہوں کیا کہوں میں، کیا نظر آنے لگا
وہ ریاض برزخ کبریٰ نظر آنے لگا
تو نے اعجاز کمال بندگی دیکھا نہیں
بھیس میں بندہ کے خود مولا نظر آنے لگا
نور و بشریٰ مل گئے اور بن گیا نوری بشر
رہ کے پردے میں وہ بے پردہ نظر آنے لگا
پھوٹتے ہی ان کے ہونٹوں پہ تبسم کی کرن
غیرت خورشید ہرذرہ نظر آنے لگا
جاکے موسیٰ  سے بھی کہہ دو وہ بھی آکر دیکھ لیں
اس کے رخ پہ میم کا پردہ نظر آنے لگا
اے غم ہجر نبی ﷺ صدبار تیرا شکریہ
دل مرا کعبہ کا بھی کعبہ نظر آنے لگا
میں نے سمجھا عرشِ اعظم ہی اتر کر آگیا
جب تمہارا گنبد خضریٰ نظر آنے لگا
آنکھ جب تک بند تھی اک آدمی سمجھا تجھے
اور جب وا ہوگئی کیا کیا نظر آنے لگا
تو فنا فی الحق ہوا، پھر کیا ہوا، میں کیا کہوں
قطرہ دریا میں گیا دریا نظر آنے لگا
انکی یادوں میں جو ٹپکا اشک اخؔتر آنکھ سے
منزلت میں عرش کا تارا نظر آنے لگا


...

کس لئے فکر کریں حشر کے دن کیا ہوگیا

کس لئے فکر کریں حشر کے دن کیا ہوگیا
سامنے ان کے جو کچھ ہوگا وہ اچھا ہوگا
جذبۂ عشق بتا وقت وہ کیسا ہوگا
سامنے جب مرے سرکارﷺ کا روضہ ہوگا
انکے ہوتے ہوئے ظلمت کا تصور کیسا؟
قبر میں میری اجالا ہی اجالا ہوگا
نفسی نفسی کے سوا جب نہ سُجھائی دیگا
رَبِّ ہَب لی کی صدا کوئی لگاتا ہوگا
میں تو غرقاب تھا ساحل سے لگایا کس نے؟
میرا مولا ، میرا آقا ، میرا داتا ہوگا
اے حسین بن علی ﷠ تیری شہادت کو سلام
دین حق اب نہ کسی دور میں تنہا ہوگا
رب نے چاہا تو قیامت میں سبھی دیکھیں گے
ان کے قدموں میں پڑا اخؔتر خستہ ہوگا

...

ضَیائے ماہ نہ خورشید کے جمال میں ہے

ضَیائے ماہ نہ خورشید کے جمال میں ہے
جو بات میرے نبیﷺ آپکے بلال﷜ میں ہے
جواب سل میں طلب کی رفاقتِ جنت
کمال ہوش ربیعہ
ترے سوال میں ہے
خدا بھی جس کو رؤف رّحیم کہتا ہے
مرا نبیﷺ ہے وہی! حشر کس خیال میں ہے
غلاف کعبہ کہاں گنبد رسولﷺ کہاں
فراق میں ہے کہاں رنگ جو وصال میں ہے
رہی خدا کو بھی منظور اس کی خوشنودی
نہ پوچھ مجھ سے کہ کیا آمنہ
کے لالﷺ میں ہے
یہ راز آیہ تطہیر سے کھلا اخؔتر
ردا کے نیچے جو ہے ظل ذوالجلال میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

...