حضرتِ مسعود غازی

منقبت در مدح حضرت سید سالار مسعود غازی علیہ الرحمہ

ٓ---------------------------

حضرتِ مسعود غازی اختر برج ھدیٰ

بے کسوں کا ہمنوا وہ سالکوں کا مقتدا

 

ساقیٔ صہبائے الفت راز دانِ معرفت

بادشہ ایسا وہ جس کی ایک دنیا ہے گدا

 

آسمانِ نور کا ایسا درخشندہ قمر

جس کی تابش سے منور سارا عالم ہوگیا

 

نائب شاہِ شہیداں وہ محافظ نور کا

جس نے سینچا ہے لہو سے گلشن دین خدا

 

استقامت کا وہ کوہِ محکم و بالا تریں

جس کے آگے کوہِ آفات و مصائب جھک گیا

 

سادگی میں بھی ہے وہ سردارِ خوباں دیکھئے

کیا مقدس ذات ہے جس کی نرالی ہر ادا

 

نوشۂ بزمِ جناں وہ بندۂ ربِ جہاں

حور و غلماں جس کی خدمت پر مقرر ہیں سدا

 

تیرے نورِ فیض سے خیرات دنیا کو ملی

ہم کو بھی جَدِّ معظم کا ملے صدقہ شہا

 

یا الٰہی تیرے بندے کے درِ پر نور پر

گردشِ ایام کا میں تجھ سے کرتا ہوں گلہ

 

یا الٰہی بے نیاز دہر تو کردے مجھے

دور کردے میرے دل سے الفتِ ہر ماسوا

 

اللہ اللہ یہ نصیبِ اخترِؔ شیریں سخن

فیض مولا سے ہے وہ سالار کا مدحت سرا

٭…٭…٭


متعلقہ

تجویزوآراء