فاروق اختؔر چشتی مالیگ  

حق اندیش اور حق نِگر اعلیٰ حضرت﷫

ہو تعریف کیا مختصر اعلیٰ حضرت﷫

فاروق اختؔر چشتی مالیگ (بی۔ایس۔سی، بی۔ایڈ) ۷۲۶۔ہزار کھولی، مالیگاؤں

حق اندیش اور حق نِگر اعلیٰ حضرت﷫
ہیں باطل سے حق کی سِپر اعلیٰ حضرت﷫
ہیں اِس دور کے آپ ہی بو حنیفہ﷜
زمانہ ہے تقلید پر اعلیٰ حضرت﷫
بنا مسلکِ حق کی پہچان جب سے
بریلی ہوا نام ور اعلیٰ حضرت﷫
ضخامت فتاویٰ کی ہے یا کرامت
ہر اک لفظ محتاط تر اعلیٰ حضرت﷫
ریاضی ہو، سائنس ہو، فلسفہ ہو
نظر کی، ہوئے سہل تر اعلیٰ حضرت﷫
ہیں اسلاف کے آپ ہی خلفِ لائق
چلے اُن کی ہی راہ پر اعلیٰ حضرت﷫
تراجم ہیں قرآن کے یوں تو کتنے
مگر ترجماں سربسر اعلیٰ حضرتﷺ
اک عنوان سو سو حوالے سے ثابت
دباتے ہیں منکر کا سَر اعلیٰ حضرت﷫
تصانیف بارِ شتر سے زیادہ
ہو تعریف کیا مختصر اعلیٰ حضرت﷫
’’حدائق‘‘ ہیں ’’بخشش‘‘ کے کیسے سجائے
ہر اک شعر مقبول تر اعلیٰ حضرت
صنائع بدائع کی کثرت، مگر ہے
شریعت بھی پیش نظر اعلیٰ حضرت﷫
سخن ور ہیں ایسے کہ حسّانِؔ دوراں
ہیں اقباؔل و غالؔب کدھر اعلیٰ حضرت﷫
سلام آپ نے جانِ رحمتﷺ پہ لکھا
جہاں میں ہے مقبول تر اعلیٰ حضرت﷫
نبیﷺ کی محبت عطا کی نہ ہوتی
تو ہوتی نہ یہ چشم تر اعلیٰ حضرت﷫
یہ اختؔر نرا شاعرِ بے عمل ہے
دعاؤں کا مشتاق تر اعلیٰ حضرت﷫

...

رضائے احمدﷺ، رضاؔ سے سیکھی، رضائے احمد رضا میّسر

عطائے احمد رضا

فاروق اختؔر چشتی مالیگ

۷۲۶/ ہزار کھولی، مالیگاؤں

رضائے احمدﷺ، رضاؔ سے سیکھی، رضائے احمد رضا میّسر
بریلوی! ناز کر، تجھے ہے ولائے احمد رضا میّسر
ہے رنگِ تحریر منفرد، پُر دلیل، پُر مغز، مُر معانی
قلم تھا انیسویں صدی میں برائے احمد رضا میّسر
’’حدائق بخشش‘‘اپنا نغمہ، ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ہے جادہ
ہے ’’کنزِ ایمان‘‘ بیش قیمت عطائے احمد رضا میّسر
رہے گا تا حشر کیوں نہ اسلام! تیرا پرچم بلند و بالا
تجھے ملے غوث﷜ اور خواجہ﷫، اب آئے احمد رضا میّسر
بہ صورتِ نورؔی اہلِ سنت کو جانشین ان کا مل چکا ہے
اور آج ہے ازہرؔی میاں کو قبائے احمد رضا میّسر
بہ شکل مفتیِ اعظم ہند،اُن کے جلوے ہیں مَیں نے دیکھے
ہوئی ہے لاریب ایک لمحہ لقائے احمد رضا میّسر
سجایا حسّاؔن اور جامؔی نے خونِ دل سے جسے اے اختؔر
ہوئی ہے اس نعت کے چمن کو صبائے احمد رضا میّسر

...

چاہت، محبت اور عقیدت رضا کی ہے

اِس دور اِس صدی کو بھی حاجت رضا کی ہے

فاروق اختؔر چشتی مالیگانوی

چاہت، محبت اور عقیدت رضا کی ہے
شہرت، قبولِ عام، فضیلت رضا کی ہے
عصری علوم، فقہ و تصوف، سُخن وری
ہر شعبہ میں عظیم مہارت رضا کی ہے
مفتی نعیمِؔ دین، بہاریؔ سے ذی وقار
تاریخِ علم و فضل، رفاقت رضا کی ہے
تزئینِ نظم و نثر کوئی سیکھے آپ سے
کیا ہی فصاحت اور بلاغت رضا کی ہے
ہے رشکِ فارسی، عربی، نعت و منقبت
اُردو ادب پہ ایک عنایت رضا کی ہے
گھر کے زمین دار، سِپہ گر تھا خاندان
سرمایۂ کتب ہے جو ثروت رضا کی ہے
لائے کوئی ’’حدائق بخشش‘‘ کا کیا جواب
ہر شعر، ہر کلام میں ندرت رضا کی ہے
’’ایمان کا خزانہ‘‘ ہمیں دے گئے ہیں آپ
ہے کنزِ آخرت جو عقیدت رضا کی ہے
’’الامن والعلیٰ‘‘ میں مِلا سُنیوں کو امن
تصنیف، پاس بانِ شریعت رضا کی ہے
تصنیف ہے جو ’’ترکِ موالات‘‘ آپ کی
شانِ صواب دیدِ سیاست، رضا کی ہے
ہے معترفِ تمام ’’فتاویٰ‘‘ کے خوشہ چیں
بے مثل و باکمال فقاہت رضا کی ہے
شاگردِ داغؔ بن کے تو چمکے حسن رضا
اندازِ نعت گوئی میں نسبت رضا کی ہے
تحقیق جامعات میں جاری ہے، رات دن
اعلیٰ ترین علم میں قامت رضا کی ہے
دین حنیف میں ہیں ’’امامت کے چار باغ‘‘
بے داغ، بے خزاں حنفیّت رضا کی ہے
شاہد ہیں سب اکابرِ مارہرہ آپ کے
رشکِ اکابرین ولایت رضا کی ہے
’’کلکِ رضا ہے خنجرِ خوں خوار برق بار‘‘
باطل سے کوئی پوچھے جو ہیبت رضا کی ہے
گستاخ سر پٹکتے رہے، کیا جواب دیں؟
عشق رسولﷺ آخری حجت رضا کی ہے
زیرِ لوائے حمد یہی ہوگی حشر میں
سُنی بریلوی جمعیت رضا کی ہے
ہم سُنیوں کو کاش ہو ادراک آج بھی
کیا کیا تقاضا کرتی محبت رضا کی ہے
مفلس، غریب، نانِ جویں کو ترستے تھے
نعمت کھلانے والی، وصیت رضا کی ہے
ہیں چودھویں صدی کے مجدد بلا شبہہ
اس دور، اس صدی کو بھی حاجت رضا کی ہے
اشعار تاب دار رقم ہوں گے خود بخود
اختؔر! رضا کے ذکر میں شوکت رضا کی ہے

...