بتقریب سالگرہ

بے بی سلمیٰ بنت عظیم جی صالح جی ساکن کلکتہ

ٓٓٓٓ------------------------

نسیمِ صبح وہ اُٹھلاتی کیوں ادھر آئی

یہ کیسی کیف و مسرت کی اک لہر آئی

ہر ایک لب پہ تبسم یہ کیسا رقصاں ہے

عظیم جی کے یہاں کیوں ہجوم یاراں ہے

سنا ہے سالگرہ ہے دلاری بے بی کی

مچی ہے دھوم عزیزوں میں پیاری بے بی کی

بفرطِ شرم نرالا ہی اس کا عالم ہے

پسینہ رخ پہ جو بہتاہے رشکِ شبنم ہے

کچھ اس ادا سے ہوئی وہ انجمن آرا

کہ مہ و شانِ جہاں میں ہو جیسے وہ یکتا

وہ بولتی ہے تو بلبل کوئی چہکتی ہے

خرام کرتی ہے تو برق سی چمکتی ہے

وہ کتنی بھولی ہے اور نیک ہے بے بی

غرض کے اپنے محاسن میں ایک ہے بے بی

دعا آخر میں ہے بارگاہِ رحماں میں

الٰہی روز ترقی کر اس کے ایماں میں

٭…٭…٭

تجویزوآراء