تازہ ترین ضیائے بخشش  

تیری اوقات ہی کیا ہے کرے جو بات رفعت کی

تیری اوقات ہی کیا ہے کرے جو بات رفعت کی
سنی ہے میں نے قرآں سے حکایت ان کی مدحت کی

ابھی جی بھر کے دیکھا ہی کہاں  دیوارِ روضہ کو
صدائے جاں بلب کس نے سنائی پھر سے رحلت کی

امن کی جستجو تھی تو حرم کو چھوڑ کیوں آئے
شکایت کیا کریں خود سے خریدارِ  ہلاکت کی

بگڑتے گرتے پڑتے دل میں وہ جوشِ بلا دیکھا
ذرا سی چار باتیں کیا سنائیں ہم نے الفت کی

میرے ذوقِ جنوں پر ہنسنے والو کیا خبر تم کو
کہ مٹنے سے سیکھائی ہے رضانے بات شہرت کی

چلے تحت الثریٰ آؤ ترفُّع کے طلبگارو !
یہ سعدی نے گلستاں میں نکالی راہ رفعت کی

الٰہی صدقۂ موسیٰ وہ سامانِ نظر دینا
ملائک بات چھیڑیں جب عدالت میں زیارت کی

نہیں کچھ شور و غوغہ اور لٹانا جاں صحابہ کا
کہ پروانوں نے سیکھی ہے یہاں سے شان حکمت کی

مدد کی بھیک مانگے پھر رہے ہیں وہ بھی محشر میں
کہ جن کو استعانت پر عداوت تھی قیامت کی

یہ بھولا صبح کا بھٹکا مگر نہ شام کو لوٹا
وگرنہ دیکھتا یہ بھی کہیں تاویل رحمت کی

ذرا ایمان تو پرکھو ،  ذرا اعمال تو دیکھو
بڑے آئے شکایت کرنے والے اپنی قسمت کی

یہ چاہت ہے تری فاراں سبھوں میں انقلاب آئے
چراغوں سے سحر ہوتی نہیں ہے ایسی ظلمت کی

...

اُن کےدرکے سگ سے نسبت ہو گئی حاصل مجھے

اُن کےدرکے سگ سے نسبت ہو گئی حاصل مجھے
کیا دبا پائے بھلا پھر قوّتِ باطل مجھے

یہ تمنا ہے کہ کہہ دیں آپ عاشق ہے میرا
غرض کیا دنیا کہے کہتی رہے جاہل مجھے

میرے آقا نے پتا خود ہی بتایا حشر کا
پیاس کی شدت میں ملنا جانبِ ساحل مجھے

دشمنِ احمد پہ شدت کے فوائد کیا کہوں
رحمتِ عالم کی رحمت ہو گئی شامل مجھے

بے بس ان کو کہہ دیا اصحاب کو خاطی لکھا
کیا نہیں تھا رد ضروری یہ بتا غافل مجھے

حیف صد افسوس اس مسئلہ کو ذاتی کہہ دیا
فرضِ اُمت کیا یہی تھا؟ ہاں بتا اے دل مجھے

حفظِ ناموسِ رسالت کا جو مسئلہ ہو کہیں
اے خدا کر دے کرم سے ہر جگہ حائل مجھے

اپنے نانا حضرت طیب کے تیور میں کہو
اے جنونِ عشق لے چل اور اک منزل مجھے

پھر تو فاراں ہے شفاعت کے لئے کافی یہی
حُبٌّ لِلہ بُغْضٌ لِلہ پر رَکِھے عامل مجھے

...
مزید تازہ ترین

پسندیدہ شاعری  

مزید پسندیدہ