پسندیدہ تاریخی مقامات  

جبل ابو قبیس

یہ مقدس پہاڑ بیت اللہ شریف کے بالکل سامنے کوہ صفا کے قریب واقع ہے حدیث میں ہے کہ یہ دنیا کا سب سے پہلا پہاڑ ہے۔ حجراسود جنت سے یہیں نازل ہوا تھا۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہاڑ پر جلوہ افروز ہو کر چاند کے دو ٹکڑے فرمائے تھے۔ یہاں مسجد بلال واقع تھی جو شہید کر دی گئی۔ یہاں سلطان عبدالمجید کا قلعہ تھا جو منہدم کر دیا گیا۔ اب یہ جگہ دیگر مقامات کی طرح سعودی شہزادگان کے قبضہ میں ہے اور وہ ہوٹل بنا رہے ہیں۔...

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مکان مبارک

یہ مکان بھی مکہ مکرمہ کے متبرک مکانات سے ایک ہے اس کے دروازہ پر پتھر کندہ ہے۔ ھذہ الدارلرفیق رسول اللہ ﷺ فی الغار ورفیقہ فی الا سفار ترجمہ:   یہ مکان رسول اللہ ﷺ کے یار غار اور سفر کے ساتھی صدیق اکبر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کا ہے۔ اس مکان کے سامنے کی دیوار پر پتھر تھا جسے لوگ احترام سے دیکھتے تھے اسے ہاتھ لگا کر بر کت حاصل کرتے تھے۔ مشہور ہے جب حضورﷺ یہاں سے گزرتے تو یہ آپکو سلام کیا کرتا ،ہو سکتا ہے یہی پتھر ہووہ جس کے متعلق حضور ﷺ کا ار...

محلہ مسفلہ

یہ محلہ بڑا تاریخی ہے۔ حضرت سیّدنا اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ سیّدہ حاجرہ سلام اللہ علیہا نے اسے آباد کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کچھ عرصہ قیام فرمایا۔ سیّدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم اور سیّدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی اسی محلہ میں قیام پذیر تھے۔...

مکہ شریف کی مساجد

مسجد عائشہ: مسجد حرام سے شمال کی جانب چھ یا سات کلومیٹر وادی تنعیم میں واقع ہے، یہاں سے معتمرین عمرہ کا احرام باندھتے ہیں۔ مسجد جن: یہ مسجد جنت المعلیٰ کے قریب واقع ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز فجر میں قرآن پاک کی تلاوت سن کر یہاں جنات مسلمان ہوئے تھے۔ ایک جن صحابی نے اپنے بھائی جن (جو کہ گستاخ رسول تھا) کو قتل کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسی جگہ اطلاع کی تھی۔ مسجد غم یا الاجابہ: وادی محصب کے پاس محلہ معابدہ میں واقع ہے، نبی ...

بیر جعرانہ یعنی کنویں کا بیان

شہداءِ حنین رضی اللہ عنہم کی تدفین سے فارغ ہوکر رسول اکرم محبوب معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’پانی تلاش کرو تاکہ یہاں سے عمرہ کی تیاری کے لیے احرام باندھا جاسکے‘‘۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ قریب میں ایک ہی کنواں ہے، لیکن پانی نشیب میں ہے اور کافی کوشش کے بعد جب میں پانی نکالنے میں کامیاب ہوگیا تو بہت مایوسی ہوئی کہ پانی نہایت تلخ اور کڑوا ہے۔ یہ سن کر معلم کتاب وحکمت صلی اللہ علیہ وس...

شہداء حنین

یہ شہداءِ کرام یہاں جعرانہ میں چہار دیواری کے احاطہ میں آرام فرمارہے ہیں ان کی بارگاہ میں یوں سلام عرض کیجیے: السلام علیکم یا شھداء الحنین... السلام علیکم یا شھداء ویاسعداء... السلام علیکم یا صحابۃ رسول اللہ رضی اللہ تعالٰی عنکم اجمعین... السلام علیک سیدی ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنک... السلام علیک سیدی یزید بن زمعہ بن الاسود رضی اللہ عنک... السلام علیک سیدی سراقۃ بن الحرث عجلانی رضی اللہ عنک... السلام علیک سیدی ابا عامر اشعری رضی اللہ عنک. غزوہ...

مزار مبارک امُ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے تنعیم کے مقام سے تقریبا بارہ کلومیٹر آگے نواریہ کے مقام پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مزار پرُانوار واقع ہے۔ ’’نواریہ‘‘جس کا قدیم نام ’’سَرِف‘‘ ہے۔ یہاں ام المؤمنین سیّدہ میمونہ رضی اللہ عنہا آرام فرمارہی ہیں۔ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے آخری زوجہ محترمہ ہیں۔ آپ کے بعد رسول اکرم نورمجسم ہادیٔ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے نکاح نہیں فرمایا۔ سیّد...

شعب ابی طالب

وہ پہاڑی گھاٹی جہاں سرکار صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جملہ خاندان، بنو ہاشم کے ہمراہ تین سال محصور کر دیے گئے، مشرکین مکہ نے بنو ہاشم کا سوشل بائیکاٹ کیا تھا۔ یہ جگہ اس نام سے معروف نہیں ہے، شعب علی اور شعب عامر کے درمیان واقع تھی۔...

چبوترہ اصحاب صفہ

مسجد نبوی میں باب جبرائیل سے داخل ہوں تو مقام تہجد کے پیچھے کی جانب یہ چبوترہ موجود ہے۔ اس کے اطراف میں تقریبا دو فٹ اونچی پیتل کی جالی کا خوب صورت حصار بنا ہوا ہے۔ یہاں زائرین کرام تلاوت قرآن مجید بھی کرتے ہیں اور نماز بھی ادا کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحابہ کرام کا ایک گروہ اسلامی تعلیم کے حصول اور تطہیر قلوب کی خاطر صبح و شام قیام پذیر رہتا تھا۔ تاجدار مدینہ راحت قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس جب کہیں سے صدقہ پہنچتا تو آپ صلی اللہ علی...

بیت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا

آپ حضور سید عالم ﷺ کی چچازاد بہن ہیں ۔ حضور ﷺ آپ کے ہاں کثرت سےتشریف لایا کرتے تھے۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی آپ حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے مکان پر تشریف لائے ،غسل فرمایا اور نوافل ادا کیے۔ سفر معراج کاآغاز بھی اسی مکان سے ہوا۔۱۹۶۰؁ء میں یہ جگہ جدید حرم میں داخل کردی گئی ۔ (بلد الامین ، ص ۲۰۴ تا ۲۰۵) فائدہ:           بعض بزرگوں کو صدری طور پر اس جگہ کا علم ہے ۔ کوئی خاص علامت موجود نہیں ہے۔ (ایضا...