مدینہ منورہ کی بائیس مساجد

مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح میں کم و بیش بائیس مساجد ایسی ہیں جو سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں۔ ان میں سے کچھ شہید کر دی گئی ہیں۔ اور کچھ باقی ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔

مسجد غمامہ:

مسجد نبوی شریف کے باب السلام سے کچھ فاصلہ پر اونچے قبوں والی ایک نہایت ہی خوب صورت مسجد آتی ہے۔ ہمارے پیارے مکی و مدنی آقا ا نے اس مقام پر نماز عید ادا فرمائی ہے۔ یہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا فرمائی۔ دعا فرماتے ہی بادل گھرآئے اور بارش برسنی شروع ہوگئی۔

مسجد اِجابہ:

بقیع شریف سے کچھ آگے اس مقام پر ایک بار ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز ادا فرمائی اور تین دعائیں فرمائیں جن میں سے دو قبول ہوئیں اور ایک سے روک دیا گیا۔ وہ تین دعائیں یہ تھیں۔

۱۔       یااللہ عزوجل! میری امت قحط سالی کے سبب ہلاک نہ ہو۔ (قبول ہوئی)

۲۔      یااللہ عزوجل! میری امت غرق ہونے سے ہلاک نہ ہو۔ (قبول ہوئی)

۳۔      یااللہ عزوجل! میری امت آپس میں نہ لڑے۔

(دعا کرنے سے منع فرما دیا گیا)

مسجد قبلتین:

یہ مبارک مسجد ’’وادی عقیق‘‘ کے قریب ایک ٹیلہ پر واقع ہے۔ مساجد خمسہ بھی اس کے قریب واقع ہیں۔ تحویل قبلہ کا حکم یہیں نازل ہوا۔ اس مسجد میں دو محرابیں ہیں ایک بیت المقدس کی جانب دوسری کعبہ شریف کی جانب دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔

مسجد قبا:

مدینہ طیبہ سے تقریبا تین کلومیٹر جنوب مغرب کی طرف ’’قبا‘‘ ایک قدیمی گاؤں ہے۔ جہاں یہ متبرک مسجد بنی ہوئی ہے۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں اس کے فضائل نہایت اہتمام سے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ہر سنیچر کو حضور سراپا نور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پیدل تو کبھی سواری پر تشریف لا کر دوگانہ ادا فرماتے۔ یہاں پر دو رکعت نفل ادا کرنے پر ’’عمرہ‘‘ کا ثواب ملتا ہے۔

مسجد جمعہ:

قبا کے راستہ میں مشرق کی جانب بستان الجزع کے قریب ہے۔ اس جگہ بنو سالم آباد تھے سب سے پہلا جمعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مسجد میں پڑھا۔

مساجد خمسہ:

مدینہ طیبہ کے شمال مغرب کی طرف سلع پہاڑ کے دامن میں پانچ مسجدیں ایک دوسرے کے قریب قریب واقع ہیں۔ ایک مسجد ٹیلہ پر واقع ہے جس پر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں بھی ہیں۔ اسے ’’مسجد الفتح‘‘کہتے ہیں۔ ’’غزوۂ احزاب‘‘ کے موقع پر (جسے غزوۂ خندق بھی کہا جاتا ہے) حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد الفتح کے مقام پر تین دن پیر، منگل، بدھ مسلمانوں کی فتح و نصرت کے لیے دعا فرمائی۔ تیسرے دن فتح کی بشارت ملی اور ایسی فتح کامل حاصل ہوئی کہ اس کے بعد ہمیشہ کفار مغلوب رہے۔ حضرت جابر ص سے مروی ہے کہ جب مجھے مشکل پیش آتی ہے تو میں مسجد فتح میں جاکر دعا مانگتا ہوں تو مشکل حل ہو جاتی ہے۔ بقیہ چار مسجدوں کے نام یہ ہیں۔

۱۔       مسجد سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

۲۔      مسجد سیّدنا علی رضی اللہ عنہ

۳۔      مسجد سیّدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ (یہ اب وہاں متعارف نہیں ہے)

۴۔      مسجد سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

مسجد الذباب:

جبال ثنیتہ الوداع کے قریب واقع ہے۔ اسے مسجد الرابہ بھی کہتے ہیں۔

مسجد ابو ذر غفاری:

یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ا یک طویل سجدۂ شکر ادا کیا اس انعام پر کہ جو ایک درود پڑھے گا تو اللہ اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھے اور دس گناہ معاف فرمائے گا جو سلام بھیجے گا اللہ اس پر سلام فرمائے گا اس نشانی کو قائم رکھنے کے لیے یہ مسجد تعمیر کی گئی۔

مسجد بنی ساعدہ:

حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا فرمائی۔ اور اسی جگہ سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے لیے بیعت ہوئی۔

مسجد امُ ابراہیم:

محلہ عوالی میں مسجد بنی قریظہ سے شمال کی جانب واقع تھی۔ اب یہاں چار دیواری قائم ہے یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش ہے۔ یہاں امُ المومنین سیّدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قیام پذیر تھیں۔ اس جگہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نماز ادا فرمائی۔

مسجد بنی قریظہ:

مسجد فضیح سے مشرق کی جانب تھوڑے سے فاصلے پر ہے، بنو قریظہ کے یہودیوں کے محاصرے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ پر قیام فرمایا اور حضرت سعد ابن معاذ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں نے ثالث قرار دیا تھا۔ اور انہوں نے اسی جگہ فیصلہ سنایا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کی خلاف ورزی اور مشرکین مکہ کا ساتھ دینے کے جرم میں مردوں کو قتل کیا جائے، بچوں اور عورتوں کو قید کیا جائے۔

مسجد سجدہ یا مسجد الجیر:

بستان بحیری اور بساتین صدقہ کے درمیان میں تھی۔ اس جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی تھی اور بہت طویل سجدہ فرمایا تھا۔

مسجد اُبی:

بقیع سے متصل حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر واقع تھی۔

مسجد بنی حرام:

جبل سلع کی گھاٹی میں داہنی طرف واقع تھی، اس کے قریب غار سجدہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول بھی ہوا۔

مسجد مائدہ:

جہاں سیّدہ فاطمۃ الزہرا اور حسنین کریمین علیہم الرضوان کے لیے جنت سے خوان نعمت نازل ہوا۔

مسجد الفضیح:

یہ مسجد قبا شریف کے مشرق میں واقع ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کا محاصرہ فرمایا تو اس مسجد میں چھ دن چھ رات نماز ادا فرمائی۔ یہیں جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو انصار مدینہ نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے یہاں مسجد کے صحن میں ایک کنواں واقع ہے۔ جس میں شراب انڈیلی گئی۔ سن ۲۰۰۱؁ء میں یہ مسجد شہید کر دی گئی۔

مسجد بنی ظفر:

یہ حرہ غربیہ کے کنارے واقع ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ حضور سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا فرمائی۔ یہاں ایک بڑا پتھر واقع تھا جس پر اکثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا کر رونق افروز ہوتے۔ لیکن نجدی حکومت نے اس مقدس پتھر کو ریزہ ریزہ کر دیا۔

مسجد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ:

یہ مسجد غمامہ کے پاس ہی ہے یہاں کسی زمانہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قیام رہا ہے۔

مسجد عمرفاروق رضی اللہ عنہ:

یہ بھی مسجد غمامہ کے پاس ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہاں قیام پذیر رہے۔

مسجد علی رضی اللہ عنہ:

یہ بھی مسجد غمامہ کے قریب ہے۔

مسجد سقیا:

باب عنبریہ کے نزدیک مدینہ ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے پاس یہ مسجد واقع تھی۔


متعلقہ

تجویزوآراء