تازہ ترین تاریخی مقامات  

جنت المعلیٰ

مکہ مکرمہ کے مقدس   قبر ستان کو ‘‘جنت المعلی ’’کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔یہ قبرستان مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات میں سے ایک ہے جو مسجد حرام کی مشرقی جانب ایک پہاڑی کی گھاٹی میں    واقع ہے ۔جنت       المعلیٰ   کی شان بیان کرتے ہوئے حضور سید عالمﷺ نے فرمایا:۔ من اقبر فی ہذہ المقبرۃ بعث اٰمنا یوم القیمٰۃ "جو شخص مکہ مکرمہ کے قبرستان (جنت المعلیٰ )میں دفن کیا گیا ...

مسجد تنعیم(مسجد عائشہ)

۹       ھ میں جب حضور ﷺ حج کے لئے تشریف لائے ، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاساتھ تھیں، اپنی بیمار ی کے باعث آپ طواف ادا نہ کرسکیں ، حضور ﷺ تشریف لائے تو انہیں مغموم پایا۔ فرمایا! عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) پریشان نہ ہوں یہ عارضہ بناتِ آدم پر لکھا گیا ہے ۔ حضورﷺ نے ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرمایا، عائشہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیجائیں اور مقام تنعیم سے احرام باندھ کر عم...

غار جبل ثور

یہ وہ مقدس غار ہے جہاں مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رفیق خاص حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بوقت ہجرت تین رات قیام پذیر رہے۔ جبل ثور مکہ مکرمہ کی دائیں جانب مسفلہ سے آگے کم و بیش چار کلومیٹر پر واقع ہے۔ جبل ثور پر چار غار ہیں جن میں سے تیسرا غار ثور ہے دو نیچے اور ایک اس سے اوپر ہے۔ اس غار کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کے اندر جو کوئی بھی اونچی آواز میں بات کرے تو باہر آواز قطعی نہیں آتی اور جو کوئی غار کے باہر آہستہ بات بھی کرے تو غار...

مقام منیٰ

منیٰ کی وادی اور سرزمین معجزاتی ہے۔ اس کی تاریخ بھی قدیم ہے۔ انبیاء کرام اور مرسلین عظام یہاں تشریف لاتے رہے ہیں، مسجد خیف اُس عظیم قطعہ اراضی پر تعمیر کی گئی ہے کہ جہاں ۷۰ انبیاء کرام کے مزارات واقع ہیں اور اسی جگہ پیارے آقا مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں خطبہ ارشاد فرمایا تھا نیز یہیں نمازیں ادا فرمائی تھی۔ منیٰ میں واقع جمرات کی بھی تاریخی حقیقت ہے، جو اس طرح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ...

جبل ابو قبیس

یہ مقدس پہاڑ بیت اللہ شریف کے بالکل سامنے کوہ صفا کے قریب واقع ہے حدیث میں ہے کہ یہ دنیا کا سب سے پہلا پہاڑ ہے۔ حجراسود جنت سے یہیں نازل ہوا تھا۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پہاڑ پر جلوہ افروز ہو کر چاند کے دو ٹکڑے فرمائے تھے۔ یہاں مسجد بلال واقع تھی جو شہید کر دی گئی۔ یہاں سلطان عبدالمجید کا قلعہ تھا جو منہدم کر دیا گیا۔ اب یہ جگہ دیگر مقامات کی طرح سعودی شہزادگان کے قبضہ میں ہے اور وہ ہوٹل بنا رہے ہیں۔...

صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مکان مبارک

یہ مکان بھی مکہ مکرمہ کے متبرک مکانات سے ایک ہے اس کے دروازہ پر پتھر کندہ ہے۔ ھذہ الدارلرفیق رسول اللہ ﷺ فی الغار ورفیقہ فی الا سفار ترجمہ:   یہ مکان رسول اللہ ﷺ کے یار غار اور سفر کے ساتھی صدیق اکبر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کا ہے۔ اس مکان کے سامنے کی دیوار پر پتھر تھا جسے لوگ احترام سے دیکھتے تھے اسے ہاتھ لگا کر بر کت حاصل کرتے تھے۔ مشہور ہے جب حضورﷺ یہاں سے گزرتے تو یہ آپکو سلام کیا کرتا ،ہو سکتا ہے یہی پتھر ہووہ جس کے متعلق حضور ﷺ کا ار...

محلہ مسفلہ

یہ محلہ بڑا تاریخی ہے۔ حضرت سیّدنا اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ سیّدہ حاجرہ سلام اللہ علیہا نے اسے آباد کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی کچھ عرصہ قیام فرمایا۔ سیّدنا صدیق اکبر و فاروق اعظم اور سیّدنا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی اسی محلہ میں قیام پذیر تھے۔...

مکہ شریف کی مساجد

مسجد عائشہ: مسجد حرام سے شمال کی جانب چھ یا سات کلومیٹر وادی تنعیم میں واقع ہے، یہاں سے معتمرین عمرہ کا احرام باندھتے ہیں۔ مسجد جن: یہ مسجد جنت المعلیٰ کے قریب واقع ہے۔ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز فجر میں قرآن پاک کی تلاوت سن کر یہاں جنات مسلمان ہوئے تھے۔ ایک جن صحابی نے اپنے بھائی جن (جو کہ گستاخ رسول تھا) کو قتل کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسی جگہ اطلاع کی تھی۔ مسجد غم یا الاجابہ: وادی محصب کے پاس محلہ معابدہ میں واقع ہے، نبی ...

بیر جعرانہ یعنی کنویں کا بیان

شہداءِ حنین رضی اللہ عنہم کی تدفین سے فارغ ہوکر رسول اکرم محبوب معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’پانی تلاش کرو تاکہ یہاں سے عمرہ کی تیاری کے لیے احرام باندھا جاسکے‘‘۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ قریب میں ایک ہی کنواں ہے، لیکن پانی نشیب میں ہے اور کافی کوشش کے بعد جب میں پانی نکالنے میں کامیاب ہوگیا تو بہت مایوسی ہوئی کہ پانی نہایت تلخ اور کڑوا ہے۔ یہ سن کر معلم کتاب وحکمت صلی اللہ علیہ وس...