تازہ ترین تاریخی مقامات  

مسجد نبوی کے قدیم بابرکت ستون

۱۔ ستون حنانہ: یہ کھجور کا تنا تھا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ اب یہ ستون محراب نبوی سے ملحق ہے۔ کھجور کا یہ تنا سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق میں رویا بھی تھا۔ ۲۔ ستون حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا: امُ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس ستون کی نشان دہی کی اور فرمایا کہ اگر لوگوں کو اس مقام کی خیر و برکت کا علم ہو جائے تو وہ یہاں نماز اور نوافل ادا کرنے کے لیے قرعہ اندازی...

مقامِ اُحد

مزار سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ: آپ کا مزار اُحد شریف کے دامن میں واقع ہے۔ ساتھ ہی سیّدنا مصعب بن عمیررضی اللہ عنہ اور سیّدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے مزارات ہیں نیز بیشتر شہدائے اُحد بھی وہیں آرام فرما ہیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں جو شخص ان شہدائے اُحد سے گزرے اور اُن کو سلام کرے یہ قیامت تک اس پر سلام بھیجتے رہتے ہیں۔ شہدائے اُحد اور بالخصوص مزار سیّد الشہداء سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ سے بارہا جواب سلام کی آواز سنی...

مدینہ منورہ کی بائیس مساجد

مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح میں کم و بیش بائیس مساجد ایسی ہیں جو سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں۔ ان میں سے کچھ شہید کر دی گئی ہیں۔ اور کچھ باقی ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے۔ مسجد غمامہ: مسجد نبوی شریف کے باب السلام سے کچھ فاصلہ پر اونچے قبوں والی ایک نہایت ہی خوب صورت مسجد آتی ہے۔ ہمارے پیارے مکی و مدنی آقا ا نے اس مقام پر نماز عید ادا فرمائی ہے۔ یہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کے لیے دعا فرمائی...

مدینہ منورہ کے کنویں

مدینہ منورہ میں کئی ایک کنوئیں تھے ان میں سے بعض کا تو نشان بھی نہیں رہا۔چند کا ذکر ذیل میں دیا جاتا ہے۔ بیر خاتم: یہ قدیم کنواں مسجد قبا کے بالکل سامنے تھا اس کنوئیں میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی گر گئی تھی۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر تشریف لاتے اور کنویں میں قدمین مبارک ڈال کر بیٹھتے۔ بیر حاء: باب مجیدی کے سامنے ڈاک خانہ والی گلی میں اصطفا منزل کے عقب میں تھا اس کا شیریں پانی پینے کے لائق تھا۔ توسیع کے نتیجے میں مسجد نبوی شر...

بدر شریف

مدینہ پاک سے تقریبا ایک سو پچاس کلومیٹر پر واقع ہے۔ بدر شریف پہنچنے سے قبل دائیں جانب پہاڑ کے دامن میں واقع سیّدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا مزار شریف ہے۔ اسی جگہ تھوڑی ہی دور ’’ابا سعید‘‘ گاؤں میں سیّدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کا مزار ہے جب کہ باقی شہدائے بدر علیہم الرضوان کے مزارات میدان میں واقع ہیں۔...

حدیبیہ اور بیعت رضوان

’’حدیبیہ‘‘جہاں صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان کے علاوہ پیارے کریم آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ظہور بھی ہوا۔۵؍ہجری ’’غزوہ خندق‘‘ یعنی ’’احزاب‘‘کے ایک سال بعد ۶؍ ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کرنے کے ارادہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ہمراہ مکۃ المکرمہ کا سفر فرمایا اس سفر میں صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی۔ راستہ میں مکۃ المکرمہ کے قریب &r...

مقام عرفات

مکۃ المکرمہ شہر، حرم شریف کی حدود میں ہے، اس شہر کے اطراف وجوانب میں حرم شریف کی حدود مختلف فاصلوں تک ہیں، مثلاً : اگر ہم بیت اللہ شریف کو مکۃ المکرمہ کا مرکز سمجھیں تو مدینہ منورہ کے راستے میں ’’تنعیم‘‘ کے مقام تک ۷ کلومیٹر ( ۴ میل، ۶۱۵گز)۔ طائف کے راستہ میں قبل عرفات ۲۲ کلومیٹر ( ۱۳ میل ۱۱۷۹گز)جبکہ ’’جعرانہ‘‘ کے مقام تک ۲۸ کلومیٹر( ۱۷میل ۷۰۱گز)۔جدّہ کے راستے میں ’’حدیبیہ‘‘ ...

مسجد نمرہ

یہ عرفات کے میدان میں واقع ہے آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجتہ الوداع کے موقع پر یہاں ظہر و عصر جمع کر کے ادا فرمائی تھیں۔...