کنزالایمان اورشانِ الوہیت

کنزالایمان اورشانِ الوہیت

تحریر:پروفیسرمحمداسلم پرویز

انسان جب روشن خیالی زعم میں مبتلاہوکرہمہ جہتی مساوات کا پرستار ہوجاتاہے تو اسے نبی اور پیغمبربھی ہمہ جہتی مساوات کے نظریہ کے تحت اپنے جیسے عیب دارنظرآنے شروع ہوجاتے ہیں وہ ظاہر پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہل دل کے جذبات کو مجروح کررہاہوتاہے پھرایسی ہی رومیں بہہ کر بندے کا اپنے خداسے تعلق بھی کم سے کم تر اور کمزورترہوتاچلاجاتاہے۔ ایسے عالم میں انسان کو یہ خیال بھی آناشروع ہوجاتے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقدس اور عظیم کلام قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کچھ زیادہ علم کی ضرورت نہیں ہے بس ایک عام پڑھالکھا آدمی جسے عربی بھی آتی ہو وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق قرآن مجید کا ترجمہ کرسکتاہے۔ ایسی فضا میں پروان چڑھنے والے علماء بھی اسی غیرذمہ دارانہ رجحان اور محبت واحترام کے ماحول سے ناآشنارویوں کا شکارہوجاتے ہیں اور تقدیس الوہیت کے نازک احساس کو دانستہ طور پر نظراندازکردیتے ہیں تو اہل دل کی روحین پریشانی کے عالم میں سرگرداں کسی ایسے دل دردمند رکھنے وال اور روح قرآن سے شناساانسان کی تلاش میں رہتی ہیں جو اس کرب انگیز ماحول میں تقدیس و تعظیم کے جذبات کی روشنی پھیلائے اور فرحت وانبساط کی خوشبو سے چمن عشق ومحبت میں بہارآفرینی کا سبب بنے۔لوگوں کو عقلیت پسندی کے معتبرپہلوؤں کی رفاقت کے ساتھ ساتھ ادب و احترام کے زریں احساسات کی اپنائیت بھی تقسیم کرے اور لوگوں کوظاہر پرستی کی تنگنائے سے نکال کر حسن تاویل کی لذتوں سے آشناکرتے ہوئے انہیں باطن بینی کی نعمت عظمیٰ کے شوق سے بھی سرشار کرے۔

ایسے عالم میں اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں کو جوش آیا اور محبت کی پیاسی روحوں کے چین اور ان کی تشنگی کودورکرنے کاسامان پیداکردیا۔روحِ قرآن سے آشنادل و دماغ رکھنے والی ہستی کو حقیقت کے متلاشیوں کے درمیان لے آیا اور اپنے حبیب لبیب حضرت محمدواحمدﷺ کی رضاکاامین بناکراپنے زمانہ میں معیارِ محبّ واحترام ٹھہرایااور اس عاشقِ رسولﷺ نے احمد رضانام پایا۔

امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ترجمہ قرآن‘‘کنزالایمان’’میں تقدیس الوہیت کے تمام تر تقاضوں کو پیش نظررکھتے ہوئے قرآنی آیات کا ایساترجمہ کیاجیسے انگوٹھی میں صحیح بیٹھنے والا نگینہ۔اردو کی تمام ترنزاکتوں اور احتیاطوں کا لحاظ رکھتےہوئے ادب واحترام کے جملہ اصولوں اور خداوربندے کے تعلق کی پاسداری کرتے ہوئے ایساترجمہ کیاجو سہل ممتنع میں اپنی مثال آپ ہے۔زبان و ادب کے رمزشناسوں نے جس کی زبان کو کوثروتسنیم سے دھلی ہوئی زبان قرار دیا۔

ڈاکٹرسیدحمیدشطاری‘‘قرآن مجیدکے اردوتراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ’’(۱۹۱۴ءتک) مطبوعہ حیدرآباد دکن انڈیااشاعت ستمبر۱۹۸۲ء صفحہ ۴۷۷ میں اپنی رائے لکھتے ہیں:

‘‘مولوی احمدرضابریلوی کا ترجمہ عام تحت الفظ ترجموں کے اندازکانہیں ہے۔عبارت میں ربط اور تسلسل قائم رکھنے کی ایسی کوشش کی گئی ہے کہ پڑھتے وقت اسکے لفظ ہونے یانہ ہونے کا دھیان ہی نہیں ہوتا۔ یہ ترجمہ مفہوم قرآن کے قریب ہے’’۔

پروفیسر ڈاکٹرمحمد مسعود احمد ‘‘معارف رضا’’۲۰۰۴ء میں فرماتے ہیں:

‘‘قرآن حکیم کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور پھر باطن ہے اور یہ سلسلہ لامتناہی ہے۔ ظاہر بین نگاہ اس گہرائی میں اترسکتی ہی نہیں۔ ترجمہ کرتے وقت مترجم کی ایک ذہنی فضا ہوتی ہے، باکمال مترجم کی اس ذہنی فضا میں ستارے ڈھلتے ہیں۔علم ودانش کی وسعت کے ساتھ ساتھ یہ فضابھی وسیع ہوتی جاتی ہے ورنہ مترجم لغت میں اٹک کر رہ جاتاہے بلکہ اس کے لیے مختلف المعانی لفظ کے لئے یہ تمیز کرنابھی مشکل ہوجاتاہے کہ کس معنی کا انتخاب کرے اور کن معانی کو چھوڑدے۔وہ ایک معنی کی تنگنائے میں گم ہوکر رہ جاتاہےایسی محدودنظررکھنے والا مترجم ہرگزقرآن جیسی عظیم کتاب کے ترجمے کا حق نہیں رکھتا۔جس طرح نگینے جڑنے والازیورات میں رنگ برنگے چھوٹے برے نگینے بٹھاتاچلاجاتاہےٹھیک اسی طرح باکمال مترجم الفاظ کے سامنے الفاظ بٹھاتاچلاجاتاہے بلکہ کبھی کبھی تو الفاظ خودبخود بیٹھتے چلے جاتے ہیں۔اردو کے مترجمین قرآن میں امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ اپنے تبحرعلمی کی وجہ سے بے نظیر اور بے مثال معلوم ہوتے ہیں۔ جس نے ان کا مطالعہ کیا ہے اور مختلف علوم وفنون اور مختلف زبانوں میں ان کی مطبوعات ومخطوطات اور شروح وحواشی دیکھے ہیں وہ اس امر کی تصدیق کرسکتاہے۔ وہ ایک باخبرہوشمنداورباادب مترجم تھے، ان کے ترجمے کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ انہوں نے آنکھیں بند کرکے ترجمہ نہیں کیا بلکہ وہ جب کسی آیت کا ترجمہ کرتے تھے تو پورا قرآن، مضامینِ قرآن اور متعلقاتِ قرآن ان کے سامنے ہوتے تھے۔آپ کے ترجمۂ قرآن میں برسوں کی فکری کاوشیں پنہاں ہیں۔مولاتعالیٰ کاکرم ہے کہ وہ اپنے بندے کو ایسی نظر عطافرمادےجس کے سامنے علم ودانش کی وسعتیں سمٹ کر ایک نقطہ پر آجائیں، فی البدیہہ ترجمہ قرآن میں ایسی جامعیت کا پیداہوجاناعجائبات عالم میں سے ایک عجوب ہے، ا س سے مترجم کی عظمت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ کسی حسین کے کمال حسن کا اس وقت پتہ چلتاہے جب کوئی اور حسین اس کے پہلو میں بٹھایاجائے۔اردوکے تمام ترتراجم قرآن میں اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ (امام احمدرضا)کاترجمہ نہایت ہی حسین معلوم ہوتاہے’’۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو توحید کا علم بردارکہتے رہے ان کے تراجم قرآن شان وحدانیت کے برعکس دکھائی دیئےاور یہ لوگ جسے توحیدسے ناآشناقراردیتے رہے ان کا ترجمہ قرآن اللہ تعالیٰ کی تقدیس کے فیضان سے بارگاہِ قدسیت و سبوحیت میں اعتبارعطاکرگیا اور اس کی رحمتوں کا مستحق ٹھہرا۔شان وتقدیس الوہیت کے حوالے سے مختلف مترجمین قرآن کے متعلقہ چندآیاتِ قرآنی کے تراجم پیش کیے جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ کون سا ترجمہ قرآن درست ہے۔کس ترجمہ میں شانِ تقدیس الٰہی کی پاسداری کی گئی ہے اور قرآن مجید کے بےمثال ادبی ومعنوی حسن کی ترجمانی کی گئی ہے۔

[۱]استھزاء اورتمسخر کی نسبت

‘‘اللہ یستھزئی بھم’’(سورہ بقرہ، آیت ۱۵، رکوع۲،پہلاپارہ)

اللہ ہنسی کرتاہے ان سے۔ (مولانامحمودالحسن)

انہیں اللہ بنارہاہے۔ (عبدالماجددریابادی)

اللہ جل شانہٗ ان سے دل لگی کرتاہے۔ (وحیدالزماں)

ان(منافقوں)سے خداہنسی کرتاہے۔ (مولانافتح محمد)

اللہ ان سے مذاق کررہاہے۔ (مولانامودودی)

اللہ ان سے استہزاء فرماتاہے(جیساکہ اس کی شان کے لائق ہے۔(امام احمدرضا)

امام احمدرضانے ترجمہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے استہزاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہونے

سے اس کی کیفیت مجہول ہوگئی اور اس کے معنی کوخداتعالیٰ کی منشاپرچھوڑدیاکیونکہ وہ ہنسی، مذاق اور دل لگی نہیں کرتاہے اور نہ ہی لوگوں کو بنارہاہے۔وہ ایسے برے اوصاف سے متصف نہیں ہوسکتا۔ان الفاظ کو اس کی طرف منسوب کرناغلط ہے۔لفظ‘‘یستھزئی’’ منسوب الی اللہ ہونے کی صورت میں متشابہات کے قبیل سے ہوجاتاہے جس کے معنی اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے۔دوسرے تراجم شانِ الوہیت کے منافی ہیں۔ جب کہ امام احمدرضاکاترجمہ تقدیس الوہیت کا پاسدارہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہنسی، مذاق اور دل لگی جیسے کام کرنے سے بلند وبالاہے ۔یہ اوصاف مخلوق کے تو ہوسکتے ہیں مگراللہ تعالیٰ سے نسبت تفعیل پیدانہیں کرسکتے۔

‘‘فیسخرون منھم ط سخراللہ منھم’’(سورہ توبہ،آیت ۷۹،رکوع۱۶،پ۱۰)

پھران پر ٹھٹھے کرتے ہیں اللہ نے ان سے ٹھٹھاکیاہے۔ (مولانامحمودالحسن)

سوان سے یہ تمسخر کرتے ہیں، اللہ ان سے تمسخرکرتاہے۔ (عبدالماجددریابادی)

اوران لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس (راہ خدامیں دینے کے لیے)اس کے سوا کچھ نہیں ہے جو وہ اپنے اوپرمشقت برداشت کرکے دیتے ہیں۔اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتاہے۔ (مولانامودودی)

توان سے ہنستے ہیں، اللہ ان کی ہنسی کی سزادےگا۔ (امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ)

جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو مسلمانوں نے اپنی اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق مال پیش کیا۔جن مسلمانوں نے زیادہ مال پیش کیامنافقین ان کا مذاق اڑاکرکہتےکہ یہ ریاکار ہیں اور جن غریب مسلمانوں نے تھوڑامال پیش کیا تو ان کا تمسخراڑاتے کہ اتناتھوڑاسامان توکنجوسی ہے۔اصل میں تومنافقین کا مقصدہی مسلمانوں کامذاق اڑانا اور ان پر ہنسناتھامگر اللہ تعالیٰ ٹھٹھا۔تمسخراورمذاق اڑانے جیسے قبیح اوصاف سے پاک ہے۔یہاں تمسخرکامعنی جزائے تمسخر ہےیعنی اللہ تعالیٰ ان کو ٹھٹھاکرنے، تمسخرکرنے اور مذاق اڑانے کی سزادےگا۔ امام احمدرضا کا ترجمہ شانِ الوہیت کے تقاضوں کے قریب ترین ہے۔

[۲]مددونصرت کی نسبت

‘‘نحن انصاراللہ’’۔(سورہ آل عمران،آیت ۵۲،رکوع۱۳،پارہ۳،اورسورہ الصّفت، آیت ۱۴، رکوع۱۰،پارہ۲۸)

ہم ہیں مددکرنے والے اللہ کی۔ (مولانامحمودالحسن)

ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ (عبدالماجددریابادی)

ہم اللہ کے مددگارہیں۔ (مولانامودودی)

ہم اللہ کے دین کے مددگارہیں۔ (امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے پوچھ رہے ہیں کہ کو ن شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کے سلسلے میں میری مددکرےگاجس کے جواب میں آپ کے حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے دین کی مددکرنے کے لیےآپ کے ساتھ ہیں۔صرف امام احمدرضاشانِ الوہیت کی اس نزاکت کو نبھاسکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کی کسی قسم کی مددکامحتاج نہیں ہے۔ باقی ترجم دیکھنےسےفوری طورپرزہن میں آتاہے کہ معاذاللہ اللہ تعالیٰ بھی انسانوں کی مدد لینے کامحتاج ہے حالانکہ وہ سب کی مدد کرنے والااور سب کی حاجتیں پوری کرنے والے ہے وہ خودکسی کا محتاج نہیں ہے۔امام احمدرضاکے ترجمہ سے یہ وہم پیداہی نہیں ہوتا۔

[۳]مکر کی نسبت

‘‘ومکرواومکراللہ واللہ خیرالمکرین’’(آل عمران، آیت ۵۲،رکوع۱۳،پ۳)

اورمکر کیا ان کافروں نے اور مکر کیا اللہ نے اور اللہ کا مکرسب سے بہترہے۔(مولانامحمودالحسن)

اوروہ(یعنی یہودقتل عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں) ایک چال چلےاورخدابھی (عیسیٰ علیہ السلام کو بچانےکے لیے)چال چلااور خداخوب چال چلنے والاہے۔ (مولانافتح محمد)

اورکافروں نے مکرکیااور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر والاہے۔ (امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ)

اس مقام کی نزاکت کو نہ سمجھنےکے باعث عام مترجمین نے مکر، فریب، داؤاور چال جیسے الفاظ کی نسبت رب قدوس کی بے عیب ذات کی طرف کردی۔ اس سے ایک عام انسان جو مراد قرآن سے ناآشناہے وہ اس غلط فہمی کا شکارہوجائے گاکہ (معاذاللہ) اللہ تعالیٰ بھی عام انسانوں کی طرح مکرکرکےمکاراور چال چل کرچال باز ہوگیا۔یادرکھئے، مکرکامطلب ہوتاہے کسی کو شر پہنچانے میں حیلہ کرنااور اللہ تعالیٰ کاکسی کو شرپہنچانے میں حیلہ کرنا محال ہے اس لیے مفسرین نے اس کامعنی یہاں جزائے مکر کیاہے یعنی اللہ تعالیٰ مکر کی جزادیتاہے۔ دوسرا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ مکر کا معنی تدبیر محکم و کامل ہے پھر بعد میں اسے کسی کو عذاب پہنچانے، ہلاک کرنے میں خفیہ تدبیر کرنے کے معنوں میں استعمال کیاجانے لگااور یہ معنی اللہ تعالیٰ کے حق میں ممتنع نہیں ہے۔امام احمدرضاکاترجمہ اسی دوسرےمطلب کے مطابق ہے کہ ‘‘اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی’’۔اس سے عام اردودان بھی قرآن کی مراد سمجھ سکتاہے اور اللہ تعالیٰ کی شان تقدیس بھی محفوظ رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر عیب ثابت ہونے کا خدشہ بھی ختم ہوجاتاہے۔

‘‘ویمکرون ومکراللہ واللہ خیر الماکرین’’۔ (انفال، آیت ۳۰،رکوع۱۸،پ۹)

اوروہ بھی داؤکرتے تھے اور اللہ بھی داؤکرتاتھااوراللہ کاداؤ سب سے بہتر ہے۔(مولانامحمودالحسن)

ادھرتووہ چال چل رہے تھے اور ادھر خداچال چل رہا تھااور خداسب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔ (مولانامودودی)

اوروہ اپناسامکرکرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتاتھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ہے۔(امام احمد رضارحمتہ اللہ علیہ)

اللہ تعالیٰ کی طرف داؤچال کے لفظوں کی نسبت کرناجوعام طور پر اردومیں برے معنوں اور قبیح اوصاف کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ،نامناسب ہے۔ وہ برے وصف سے متصف ہونے سے پاک ہے۔ برے وصف میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات سے نسبت وقوعی توکیانسبت امکانی ہی پیداکرسکے۔ کسی چیزپر قابو پانے کے لیے مکر سے کام لینا اس سے عاجزی کی وجہ سے ہوتاہے اگر کھلم کھلا اس پرقابوپایاجاسکتاہے تو مکر کی ضرورت نہیں رہتی۔ اوراللہ تعالیٰ کا عاجز ہونامحال ہے لہٰذا اس کے لیے مکر بھی محال ہوا۔ امام احمد رضا کا ترجمہ اس احتمال کورد کردیتاہےاورواضح کرتاہے کہ جب مکر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی تو اس سے مراد جزائےمکرہوگی جو کہ خفیہ تدبیر ہے جس سے مکار لوگوں کی کوششوں کو رسوااورناکام کیاجائے اور ان کی امیدوں پر پانی پھیردیاجائے۔

‘‘قل اللہ اسرع مکرا’’۔(سورہ یونس، آیت ۲۱، رکوع ۸،پارہ۱۱)

کہہ دے اللہ سب سے جلدبتاسکتاہےحیلے۔ (مولانامحمودالحسن)

کہہ دو خدابہت جلد حیلہ کرنے والاہے۔ (مولانافتح محمد)

ان سے کہو اللہ اپنی، چال میں تم سے زیادہ تیزہے۔ (مولانامودودی)

فرمادو اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے جلد ہوجاتی ہے۔ (امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ)

حیلے بنانااور چالیں چلنااللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں۔ اسی وجہ سے مفسرین نے مکر لفظ کو مجاز پر محمول کیا ہے اور مکرسے جزائے مکرمراد لی ہے۔ کفار نے جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا مکر سے مقابلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے مکراپنی خفیہ تدبیر سے شدیدجواب دیا۔ اس کی خفیہ تدبیر دنیا میں کفار کی ذلت اور رسوائی ہے جب کہ آخرت میں شدید عذاب۔ اللہ تعالیٰ حیلہ بازی، مکاری اور چالبازی سے بھی پاک ہے۔ اس سے واضح ہواکہ اللہ تعالیٰ مکر نہیں بلکہ اپنی خفیہ تدبیر کرتاہے جس سے کفار کو عذاب دے گااور قیامت کے دن رسواکرے گا۔

[۴]علم اور جھل کی نسبت

‘‘ولما یعلم اللہ الذ ین جاھدوامنکم ویعلم الصبرین’’۔(سورہ آل عمران، آیت ۱۴۲،رکوع۵، پارہ۴)

اورابھی تک معلوم نہیں کیا کہ اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں اور معلوم نہیں کیاثابت رہنے والوں کو۔(مولانامحمودالحسن)

ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اورنہ صبرکرنے والوں کوجانا۔(عبدالماجد دریابادی)

حالانکہ ابھی خدانے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم نہیں کیا اور یہ بھی مقصود ہے کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کومعلوم کرلے۔(مولانافتح محمد)

اورابھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیااور نہ صبر کرنے والوں کی آزمائش کی۔ (امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ)

اس مقام پر امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ کاترجمہ قرآن مراد قرآن کے قریب ترین ہے بلکہ عین مطابق ہے کہ یہاں اللہ کے علم کی نفی کیسے ہوسکتی ہے۔ یوں کہنا کہ ابھی تک اللہ نے معلوم نہیں کیا، اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالناہے کہ‘‘معلوم نہیں’’کہنےسے جہل لازم آتا ہے اور خداکوجاہل کہنے میں ایمان کاکیاحصہ؟ اس کی ذات جہل سے پاک اور منزہ ہے اور اس کاعلم وسیع۔ وہ اپنے علم وسیع کی بناپر چیزوں کو ان کے وقوع سے پہلے بھی جانتاہے۔ بلکہ یہاں نفی علم کے بجائے نفی جہاد مراد ہے اور مقصود بھی یہی ہے کیونکہ اس سے پہلے آرہاہے ‘‘کیاتم گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤگےابھی تو اللہ نے تمہیں جہاد میں آزمایابھی نہیں اور نہ صبر کرنے والوں کی آزمائش کی ہے۔ گویایہاں نفی جہاد و صبر ہے نہ کی نفی علم۔ ان معانی کی وضاحت کوامام احمد رضارحمتہ اللہ علیہ کا ترجمہ کیسی خوبی سے ظاہر کررہا ہے دیکھنےکی چیزہے جب کہ دوسرے تراجم سےاللہ تعالیٰ کے علم کی نفی کا اظہارہورہاہے۔

‘‘ولیعلم اللہ الذ ین اٰمنو’’۔(آل عمران، آیت ۱۴۰، رکوع ۵، پارہ ۴)

اوراس لیے کہ معلوم کرے اللہ جن کو ایمان ہے۔ (مولانامحمودالحسن)

تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لیویں۔ (مولانااشرفعلی تھانوی)

تاکہ اللہ ایمان والوں کوجان لے۔ (عبدالماجد دریابادی)

اور اس لیے کہ اللہ پہچان کرادے ایمان والوں کی۔ (امام احمد رضا)

یہاں علم کا تعلق اس کے وجودِ خارجی سے ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ پہلے ہی جانتاہے اسے خارج میں ظاہر فرمائے۔دوسرےیہاں علم کا مجازی معنی جداکرنااور تمیزکرناہے۔ اس طرح معنی یہ ہوا کہ ایمان پر ثابت قدم رہنےوالوں کو ان کے غیروں سے ممتاز کردے۔ اللہ تعالیٰ غزوۂ احدکاذکر فرمارہاہے کہ مسلمانو!اگر تمہیں احدمیں تکلیف پہنچی ہے تو کفار کو بدرمیں اسی طرح تکلیف پہنچی ہے۔ یہ راحت اور تکلیف کے دن ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد زیربحث آیت کا ذکر ہے۔جس سے واضح ہے کہ یہاں صدمہ اٹھائے ہوئے ایمان پر ثابت قدم رہنے والوں اور ایمان پر پھرجانے والوں کی پہچان کرانامقصود ہے۔ دوسرے تراجم سے ظاہر ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ پہلے نہیں جانتاتھا کہ کون ایمان والارہے گااور کون ایمان سے پھر جائے گا بلکہ غزوۂ احد کے بعدمعلوم کیا اور جانا۔مگرامام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ کے ترجمہ پر غور کریں تو کوئی سطحی ذہن رکھنےوالابھی اس وہم و گمان میں مبتلانہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ آزمائش اور تجربے کے بعدجانتاہے، پہلے علم نہیں رکھتا۔

‘‘ولیعلم المومنین ولیعلم الذ ین نافقوا’’۔(آل عمران، آیت ۱۲۶۶،۱۲۶۷، رکوع ۸،پ۴)

اور اس واسطے کہ معلوم کرے ایمان والوں کو اور تاکہ معلوم کرے ان کو جو منافق تھے۔(مولانامحمود الحسن)

تاکہ اللہ مومنین کوجان لے اور ان لوگوں کو بھی جنہوں نے منافقت کی(عبدالماجد دریابادی)

یہ مقصود تھا کہ خدامومنوں کو اچھی طرح معلوم کرے اور منافقوں کو بھی معلوم کرے(مولانافتح محمد)

اور اس لیے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی اور اس لیے کہ پہچان کرادے ان کی جو منافق ہوئے۔ (امام احمد رضارحمتہ اللہ علیہ)

یہاں بھی امام احمدرضا کا ترجمہ قرآن مناسب ترین ہے جو باطل وہم وگمان کو رد کرتاہے ورنہ دوسرے تراجم کو دیکھ کر یہ وہم ہوسکتاہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم اس واقعہ کے بعد حاصل ہوا حالانکہ ایساسوچناایمان کو ضائع کرتاہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظاہر فرمادے مومنوں کے ایمان اور منافقوں کے نفاق کو۔گویا دونوں گروہوں کی پہچان کرادے۔

‘‘ولیعلمن اللہ الذ ین اٰمنو ولیعلمن المنٰفقین’’۔(العنکبوت، آیت ۱۱، رکوع ۱۳،پارہ ۲۰)

البتہ معلوم کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اور البتہ معلوم کرلےگاجو لوگ دغاباز ہیں۔(مولانامحمودالحسن)

اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو معلوم کرکے رہے گااور منافقوں کوبھی معلوم کرکےرہےگا(مولانااشرف علی تھانوی)

اورضروراللہ ظاہر کردے گاایمان والوں کو اور ضرورظاہر کردے گامنافقوں کو(امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

اللہ تعالیٰ منافقین کاذکر کرتے ہوئے ان کا حال بیان کرتاہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے۔مگر جب انہیں اللہ کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے تو اسے خداکاعذاب قراردے کر اسلام کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی مدد آئے تو پھروہ ضرور کہیں گے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ خوب نہیں جانتاجوکچھ دنیا والوں کے دلوں میں ہے؟ اس کے بعد زیربحث آیۂ کریمہ ارشادفرماتاہے۔ اس پس منظر کے ساتھ دیکھیں توآیت کا مطلب نہایت واضح طورپریہ ظاہر ہوتاہے کہ یہاں مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان فرق و امتیاز مقصود ہے۔ دونوں کی پہچان کرانا ہی مراد ہے۔ اس مقصد اور مراد کو امام احمد رضاکاترجمہ بخوبی پوراکرتاہے۔دوسرے تراجم سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چیزوں کو ان کے واقع ہونے سےپہلے نہیں جانتابلکہ اس کا علم چیزوں کے وقوع کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ بڑھتارہتاہےمگرحقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیزخارج نہیں ہے کیونکہ بعض چیزوں کو کسی وقت نہ جاننانقص ہے اور اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک ہے۔

[۵]لزوم ووجوب اور ذمہ کی نسبت

‘‘انماالتوبۃ علی اللہ’’۔(سورۃ النساء، آیت ۱۷، رکوع ۱۴،پارہ ۴)

توبہ قبول کرنااللہ کو ضرور۔ (مولانامحمودالحسن)

توبہ جس کا قبول کرنااللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ (مولانااشرفعلی تھانوی)

اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق ہے۔ (مولانامودودی)

وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا۔ (امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

اللہ تعالیٰ پر کوئی چیزلازم ضرور اور حق وذمہ نہیں رکھتی ہے۔ کیونکہ کسی چیزکولازم و ضرور اور ذمہ کرناوجوب کے مترادف ہےاور اللہ تعالیٰ پر کوئی چیزواجب نہیں۔ یہاں توبہ سے مراد وہ توبہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے کسی چیز کو ذمہ و ضرورٹھہراتاہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس پرکچھ لازم وضروری نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ لزوم سے پاک ہے۔ یہ معنی ہی مقصد کے مطابق ہےکہ وہ اپنے فضل سے اپنے آپ پر بندوں کی توبہ قبول کرنالازم کیے ہوئے ہے۔ اس طرح امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ کا ترجمہ تمام اوہام باطلہ کو رد کردیتاہے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی شانِ تقدیس کواجاگرکرتاہے۔

‘‘ومامن دآبۃ فی الارض الاعلی اللہ رزقھا’’۔ (سورہ ہود،آیت۶، رکوع۱، پ۱۲)

اورکوئی نہیں چلنے والا زمین پر مگراللہ پر ہے اس کی روزی۔ (مولانامحمودالحسن)

اورکوئی جاندارروئے زمین پر چلنے والا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو۔(مولانااشرف علی تھانوی)

اورزمین پر کوئی چلنے پھرنے والانہیں مگر اس کارزق خداکے ذمہ نہ ہو۔(مولانافتح محمد)

زمین پر چلنے والاکوئی جانورایسانہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو۔ (مولانامودودی)

اور زمین پر چلنے والاکوئی ایسانہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو۔(امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ)

اللہ تعالیٰ پرکوئی چیز واجب، ذمہ اور لازمی نہیں ہے کیونکہ اس سے اس کی مجبوری اور اضطرار ظاہرہوتاہے۔اور وہ کسی بھی قسم کے جبرواضطرار سے پاک ہے یعنی کوئی اسے مجبور نہیں کر سکتا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شانِ الوہیت کے تقاضوں کے پیش نظر صرف اور صرف اپنے فضل و کرم سے ہرجاندارکی روزی کو اپنے ذمہ لیا ہے نہ کہ بوجہ واجب ہونے کے۔ امام احمد رضا کے ترجمہ نے اس مشکل کو لفظِ کرم سے حل کردیا کہ اللہ تعالیٰ مجبورنہیں بلکہ فضل و احسان فرمانےوالاہے۔ جب کہ دوسرے تراجم سے اللہ تعالیٰ کی اس شان کا اظہار نہیں ہوتا ہے بلکہ ان سے یہ تاثر ملتاہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ پر اضطراراً واجب ہو۔(معاذاللہ)

[۶]خدع کی نسبت

‘‘ان المنفقین یخادعون اللہ وھو خادعھم’’۔(سورۃ النساء،آیت۱۴۲، رکوع۲۱، پ۵)

البتہ منافق دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغادے گا۔ (مولانامحمودالحسن)

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک)خداکودھوکادیتے ہیں(یہ اس کو کیا دھوکہ دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والاہے۔(مولانافتح محمد)

منافق اللہ تعالیٰ کے ساتھ دھوکےبازی کررہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھاہے۔بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیناچاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کرکے مارے گا۔ (امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ)

اللہ تعالیٰ سے کسی چیزکومخفی یاپوشیدہ رکھناممکن نہیں ہے لہٰذا اسے دھوکااور فریب دینابھی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اس سے دغابازی کی جاسکتی ہےاسی طرح اللہ تعالیٰ کسی کو دغا، فریب یا دھوکادے یہ بھی درست نہیں ۔دھوکاکھانالاعلمی کی دلیل ہے اور دھوکادینا عیب ونقص کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ لاعلمی اور عیب دونوں سے پاک اور منزّہ ہے۔منافقین باطن میں کفر رکھتےتھے اور ظاہراًایمانداربنتے تھے تاکہ دنیامیں ان پر کافروں کے احکام نافذ نہ ہوں۔ حقیقت میں وہ فکر آخرت سے یااپنے انجام سے غافل ہوگئے تھے وہ اپنے گمانِ باطل میں اللہ تعالیٰ کو دھوکایا فریب دیا چاہتے تھےورنہ حقیقتہً ایساکرناممکن نہیں تھاکیونکہ اللہ تعالیٰ ذہن کے خیالوں اور دلوں کے وسوسوں تک سے باخبرہےاس طرح اس سے دھوکابازی بھی محال ہے۔اللہ تعالیٰ دغابازی نہیں کرےگااور نہ کسی کو دھوکادے گابلکہ منافقوں کو ان کے خدع کی جزادےگا۔منافقین کا دورخاپن انہیں آخرت کی فکر سے غافل کردےگااور انجام کار وہ دوزخ کاایندھن بنیں گے۔ گویااللہ تعالیٰ انہیں دھوکا نہیں دے گابلکہ انہیں ایسی غفلت کی موت مارے گاجس کے دنیامیں اپنے آپ کو سزاوارکرچکے تھے۔امام احمدرضا کا ترجمہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی، مستقل اور لامتناہی علم کو ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے عیب و نقص سے پاک ہونے کی شان کو بھی بڑی خوبصورتی سے ظاہر کرتاہے۔

‘‘یخٰد عون اللہ والذ ین آمنو’’۔(البقرہ، آیت ۹، رکوع۲،پہلاپارہ)

دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اورایمان والوں سے(مولانامحمودالحسن)

چال بازی کرتے ہیں اللہ سے اور ان لوگوں سے جوایمان لاچکے ہیں۔(مولانااشرف علی تھانوی)

وہ اللہ اورایمان والوں کے ساتھ دھوکابازی کررہے ہیں۔ (مولانامودودی)

فریب دیناچاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کگ۔(امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ)

امام احمد رضا کے ترجمہ سے پتاچلتاہے کہ منافقین ظاہراً ایمان لاکراور باطناً کافررہ کر اللہ تعالیٰ اور ایمان والوں کو اپنے خیال میں دھوکادیناچاہتے ہیں حقیقت میں وہ دھوکادے نہیں سکتے۔ مگر دوسرے تراجم سے یہ تاثر ملتاہے کہ منافقین واقعی اللہ تعالیٰ سے دغابازی اور چال بازی کرتےہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کودھوکادینا ممتنع ہے کیونکہ وہ دلوں کی چھپی ہوئی باتیں تک جانتا ہے پھر اسے دغادیناکیسےممکن ہے؟اس طرح امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ کے ترجمہ نے مراد قرآن کو واضح کردیااور شانِ الوہیت کی مطابقت بھی برقراررکھی۔

[۷]دل یاجی کی نسبت

‘‘تعلم مافی نفسی ولااعلم مافی نفسک’’۔ (المائدہ، آیت ۱۱۴،رکوع۶،پ۷)

توجانتاہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتاجو تیرے جی میں ہے۔(مولانامحمودالحسن)

توجانتاہے جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتاجو کچھ تیرے دل میں ہے۔(عبدالماجد دریابادی)

توتومیرے دل تک کی بات جانتاہے اور(البتہ)میں تیرے دل کی بات نہیں جانتا۔(وحیدالزماں)

آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتاجو کچھ آپ کے دل میں ہے۔(مولانامودودی)

توجانتاہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتاجو تیرے علم میں ہے۔(امام احمدررضا رحمتہ اللہ علیہ)

دل اور جی جسم کے ایک ٹکڑے کانام ہے۔اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے اور اس کے اجزاء سے بھی۔جن آیات میں اللہ تعالیٰ سے انسانی اجزاء کے نام منسوب ہیں وہ متشابہات میں سے ہیں۔ جن کے معنی اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتاہےلہٰذاہاتھ،پنڈلی، نفس یادل کے الفاظ سب اللہ تعالیٰ سے منسوب ہوں گے تو ان کی تاویل کرناپڑےگی۔کیونکہ اس کے لیے بلاتکلف دل یاجی ثابت کرنے سے جسمیت لازم آتی ہےجو اس کے لیے محال ہے۔ جس طرح ہاتھ کے لیے مفسرین دستِ قدرت یاقوت و طاقت مراد لیتے ہیں۔ جب نفس یا دل کے لفظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے گی تو اس کامعنی علم لیاجائےگا۔اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایاکہ اے عیسیٰ ابن مریم!کیاتونے لوگوں سے کہہ دیاتھاکہ مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی اگر میں نے ایساکہاہوتوضرورتجھے معلوم ہوگا۔ اس کے بعد زیربحث حصہ آیت کے۔ کہ تو جانتاہے جو میرے جی میں ہے(یعنی چھپی ہوئی باتوں کو،دل کے خیالوں کو)اور میں نہیں جانتاجو تریے علم وسیع ولاتحصی میں ہے۔اس کے فوراً بعد اس آیت کا آخری حصہ ہے کہ بے شک توہی ہے سب کا خوب جاننے والا۔اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے علم کی لامتناہی وسعتوں کے مقابلے میں اپنے عجز کا اظہار کیا ہے۔امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ کا ترجمہ روحِ قرآن کا صحیح ترجمان ہے۔

[۸]مستور ومحاط ہونےاور جسمانی اجزاء کی نسبت

‘‘ھل ینظرون الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام و الملئکۃ’’۔(سورہ البقرہ،آیت۲۱۰،رکوع۲۵،پارہ۲)

کیاوہ اس کی راہ دیکھتے ہیں کہ آوے ان پر اللہ ابرکے سائبانوں میں اور فرشتے۔(مولانامحمودالحسن)

یہ لوگ صرف اس امرکے منتظرہیں کہ حق تعالیٰ اور فرشتے بادل کے سائبانوں میں ان کے پاس آویں۔ (مولانااشرف علی تھانوی)

کیااب وہ اس کے منتظر ہیں کہ ‎اللہ بادلوں کاچترلگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آموجودہو۔(مولانامودودی)

کاہے کے انتظار میں ہیں مگریہی کہ اللہ کا عذاب آئے چھائے ہوئے بادلوں میں اور فرشتے اتریں۔(امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

یہاں بھی امام احمدرضا کا ترجمہ مراد قرآن کے مطابق ہے اور جملہ تفاسیر اس کی ہمنوا ہیں۔ اس میں اللہ کے آنے کو اس کے امر اور عذاب کے آنے کے معنوں میں بیان کیا ہے۔ دوسرے تراجم میں یہ ذکر ہے کہ اللہ آئے، خودسامنے آموجودہو۔جو شان الوہیت کے لائق نہیں کیونکہ سامنے آموجودہوناجسمیت کو چاہتاہے جس سے اللہ تعالیٰ پاک اور منزہ ہے۔ اس لیے کسی مفسرنے خود اللہ تعالیٰ کے آنے کاذکر نہیں کیاہے بلکہ اس کے آنے سے اس کے امروعذاب کا آنامرادلیاہے کیونکہ وہ سائبانوں یا دوسری چیزوں میں مستور و محاط اور مظروف ہونے سے پاک ہے۔

‘‘یوم یکشف عن ساق’’۔ (سورہ القلم،آیت ۴۲،رکوع۴،پارہ ۲۹)

جس دن کہ کھولی جائے پنڈلی۔ (مولانامحمودالحسن)

جس دن (حق تعالیٰ کی)پنڈلی کھولی جائے گی۔ (وحیدالزماں)

جس دن پنڈلی سے کپڑااُٹھایاجائے گا۔ (مولانافتح محمد)

جس دن ایک ساق کھولی جائے گی جس کے معنی اللہ ہی جانتاہے(امام احمد رضارحمتہ اللہ علیہ)

اس آیت میں لفظ ‘‘ساق’’متشابہات کے قبیل سے ہے۔ جس کے معنی اللہ و رسول جل جلالہ و صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نہیں جانتاان پر ایمان لاناضروری ہے۔ اس کی کیفیت ہمارے لیے مجہول ہے۔دیگرمترجمین کے تراجم کا امام احمدرضاکے ترجمہ سے تقابل کیاجائے تو امام احمدرضا کاترجمہ منشائے الٰہی ومراد قرآن کا مظہر ہے۔دیگر مترجمین نے‘‘ساق’’ کا معنی پنڈلی کیا اور ظاہری معنی مراد لے کر پنڈلی کو بطور جزوبدن اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب مانا، اسے کپڑوں میں ملبوس ٹھہرایااور قدیم و بے نیاز ہستی کو محتاج الی الحادث ثابت کردیا۔ مخلوق کی صفات خداکے لیے ممکن نہیں کیونکہ اس کی صفات ذاتی، مستقل اور قدیم جبکہ بندوں کی صفات عطائی، غیر مستقل اور عارضی و حادث ہیں۔خداتعالیٰ جسم،اجزائے جسم اور متعلقات جسم سے پاک ہے۔امام احمدرضاکاترجمہ باطل نظریات کو رد کرتاہےاور تقدیس الوہیت کاپاسدارہے۔

[۹]استواء کی نسبت

‘‘ثم استوی علی العرش’’۔(الاعراف،آیت ۵۴،رکوع۱۴،پارہ۸)

پھرقائم ہواعرش پر۔ (مولانا محمودالحسن)

پھرعرش پر قائم ہوا۔ (مولانااشرفعلی تھانوی)

پھرتخت پر چڑھا۔ (وحیدالزماں)

پھرتخت پر بیٹھا۔ (مولاناثناء اللہ امرتسری)

پھرتختِ (شاہی)پرقائم ہوا۔ (مولانافتح محمد)

پھرتختِ سلطنت پر جلوہ گرہوا۔ (مولانامودودی)

پھرعرش پر استواء فرمایاجیسااس کی شان کے لائق ہے۔(امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ)

ایک کم پڑھالکھاآدمی جب اللہ تعالیٰ کے عرش پر قیام کرنے،تخت پر چڑھنے، بیٹھنے، قائم ہونے اور جلوہ گرہونے کو پڑھےگاتواس کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کے لیے جسمیت، جہت اور مکان کاخیال آئے گا۔ کسی چیز پرقائم ہونا،چڑھنا،بیٹھنا او رجلوہ گرہونامخلوق کی صفات ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ جسمیت، جہت اور مکان سے پاک ہے۔ یہ آیت اصل میں متشابہات کی قسم سے ہیں۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا استواء عرش پر بلاکیف ہے۔امام احمدرضا کا ترجمہ غلط خیال کو پیداہی نہیں ہونےدیتا۔ اس سے واضح ہوتاہےکہ آئتہ مبارکہ کو ظاہر پر رکھناممکن ہی نہیں بلکہ یہی مناسب ہے کہ یوں کہاجائےکہ عرش پر استواء فرمایا جیسااس کی شان کے لائق ہے۔

[۱۰]استواکی نسبت

‘‘ثم استوی علی العرش’’۔؟؟؟؟(الاعراف، آیت ۵۴،رکوع۱۴،پارہ۸)

بےشک میراداؤپکا ہے۔ (مولانامحمودالحسن)

میری چال کاکوئی توڑنہیں۔ (مولانامودودی)

بے شک میری خفیہ تدبیربہت پکی ہے۔ (امام احمدرضا)

داؤیاچال عیب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سےنسبت تفعیل پیدانہیں کرسکتے۔ اردو میں یہ الفاظ برے معنوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرمارہاہےکہ جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ہم ان لوگوں کو آہستہ آہستہ اپنی حکمت وتدبیر سے مقام ہلاکت تک لے جائیں گےاس لحاظ سے وہ جانتے بھی نہیں ہوں گے کہ ان کو اس دنیامیں مہلت دینا میری خفیہ تدبیرہے۔اس کے بعد ان کی شدیدپکڑہوگی۔ چونکہ ظاہراً کسی کو مہلت دینامیری خفیہ تدبیر ہے۔اس کےبعدان کی شدید پکڑہوگی۔چونکہ ظاہراً کسی کو مہلت دینااس پر احسان ہوتاہے مگرمہلت کی آزمائشی سہولت سے فائدہ نہ اٹھانااور اپنی اصلاح نہ کرناحقیقت میں شرمندگی اوررسوائی بھی ہوتی ہےاس وجہ سے اسے کید سے مشابہت ہے لہٰذا اس پر گرفت یا خفیہ تدبیرکوکیدکہاگیاہے۔یہاں کید بمعنی داؤیاچال نہیں بلکہ خفیہ تدبیرکےہےاور یہی معنی شانِ الوہیت کے مناسب ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جملہ عیوب ونقائص سے منزہ ہے۔امام احمدرضاکاترجمہ اسی خوبصورت تاثر کولیے ہوئے ہے۔

[۱۱]کید کی نسبت

‘‘کذالک کد نا لیوسف’’۔(سورہ یوسف، آیت۷۶،رکوع۳،پارہ۱۳)

یوں داؤبتادیاہم نے یوسف کو۔ (مولانامحمودالحسن)

ہم نے یوسف کویہی تدبیر بتائی۔ (امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ )

جس طرح اللہ تعالیٰ خود کسی سے مکر نہیں کرتا، کسی سے داؤنہیں کرتااور کسی سے چالبازی نہیں کرتابالکل اسی طرح وہ کسی کوداؤ یاچالبازی سکھانے کے عیب سے بھی پاک ہے۔ سکھائےگابھی کسے،اپنے پیغمبر کو؟اگرپیغمبرنعوذباللہ داؤکرنے والایاچالبازہوجائے تو اس کے پیغام پر کو اعتبار کرے گا۔اس طرح توکلام ربانی بھی شکوک ٹھہرجائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس وبال فکرسے محفوظ رکھے۔یہاں کید کامجازی معنی خفیہ تدبیرمراد ہے۔ اس آیتہ کریمہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کوتدبیر سکھانے کاذکر ہےکہ وہ کس طرح اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس حسنِ نیت کے ساتھ اور بھائی بلکہ پورے خاندان کے آرام کی خاطر، مستقل طور پر رکھ سکتے ہیں۔واقعۂ یوسف علیہ السلام کے اس حصہ میں خاندان کے افراد کو اکٹھا کرنے کی تدبیربھی ہے۔امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ کا ترجمہ خدائے قدوس جل جلالہ اور اس کے پیغمبر علیہ السلام کی عظمتوں کا پاسدارہے۔

[۱۲]نسیان کی نسبت

‘‘نسواللہ فنسیھم’’۔ (سورہ توبہ،آیت۶۷،رکوع۱۵،پارہ۱۰)

بھول گئے اللہ کو سو وہ بھول گیا ان کو۔ (مولانامحمودالحسن)

انہوں نے خداکوبھلادیاتوخدانے ان کو بھلادیا۔ (مولانافتح محمد)

یہ اللہ کوبھول گئے تو اللہ نے انہیں بھلادیا۔ (مولانامودودی)

وہ اللہ کوچھوڑ بیٹھےتو اللہ نے انہیں چھوڑدیا۔ (امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

یہاں منافقین کاذکرہورہاہےکہ وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھے یعنی اس کی اطاعت اور رضاطلبی کو چھوڑ دیا، اس کی عبادت وثناءکوترک کردیاتواس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم وثواب سے محروم کردیااورانہیں اپنی رحمت واحسان سے یادکرنا چھوڑدیا۔

اللہ تعالیٰ بھولنےسے مبریٰ ہے۔انسان کے نسیان یا بھولنے پر مذمت نہیں کیونکہ انسان کو نسیان پر طاقتِ ضبط یا قابونہیں۔مگراللہ تعالیٰ کابھول جانامحال ہے۔بھول چوک نقصان و کمزوری ہے وہ خداہی کیا جو کمزور ہو۔اس طرح امام احمدرضاکاترجمہ شان الوہیت کے عین مطابق ہے۔ اور جملہ تفاسیراس کی ہمنواہیں۔

‘‘بمانسیتم لقآء یومکم ھذاج انانسینکم’’۔(سورہ السجدہ،آیت۱۴،رکوع۱۵،پارہ۲۱)

تم نے بھلادیاتھااس اپنے دن کے ملنےکوہم نے بھی بھلادیاتم کو۔ (مولانامحمودالحسن)

تم اپنے اس دن کے آنے کو بھول رہے تھے ہم نے تم کو بھلادیا۔(مولانااشرفعلی تھانوی)

پس اس دن کوبھولنےکی وجہ سے عذاب کامزہ چکھوہم تم کو بھول گئے۔(مولاناثناءاللہ امرتسری)

تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیاہم نے بھی اب تمہیں فراموش کردیاہے۔(مولانامودودی)

تم اپنےاس دن کی حاضری بھولے تھےہم نے تمہیں چھوڑ دیا۔(امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

اس آیت میں لفظ نسیان کافروں کی طرف منسوب ہونے کی صورت میں بھولنے، بھلانے اور فراموش کرنےکے معنوں میں استعمال کرنادرست ہوگامگرجب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوگی تو بھولنے،بھلانےاور فراموش کرنے کے معنی درست نہیں ہوں گے کیونکہ بھولناعیب ہے اور اللہ تعالیٰ ہرعیب سے پاک ہے۔ جب کافروں نے اس کی اطاعت وعبادت ترک کردی اور اس کی حمدوثناکرنابھول گئے تو اللہ تعالیٰ نے بھی کافروں کواپنے ثواب و کرم سے محروم کردیااور انہیں اپنی رحمت واحسان سے یادکرناچھوڑدیا۔بھولنانقص اور عیب کا اطلاق بھی محال ہے۔اس طرح امام احمدرضا کا ترجمہ قرآن اللہ تعالیٰ کی شان قدوسیت کے عین مطابق ہے۔

[۱۳]روح کی نسبت

‘‘ونفخت فیہ من روحی’’۔(سورہ حجر،آیت۳۰،رکوع۳،پارہ۱۴)

اورپھونک دوں اس میں اپنی جان سے۔ (مولانامحمودالحسن)

اور اس میں اپنی جان ڈال دوں۔ (مولانااشرفعلی تھانوی)

اوراس میں اپنی بے بہاچیزیعنی روح پھونک دوں۔ (مولانافتح محمد)

اوراس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں۔ (مولانامودودی)

اوراس میں اپنی طرف کی خاص معززروح پھونک دوں۔(امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرمارہاہے کہ میں بجتی ہوئی مٹی سے انسان بنانےوالاہوں، جب اس کی تخلیق مکمل کرلوں تو اس میں ارواحِ خلائق میں سے ایک معززومحترم روح ڈال دوں تاکہ وہ عزت و حرمت والی زندگی حاصل کرلے۔مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں‘‘من روحی’’میں ‘‘من تبعیضیہ’’ہےیعنی میں اس میں ایک احترام واعزاز کی حامل اور معززروح ڈال دوں جومیرے تخلیق کردہ ارواح کا بعض ہوگاجس طرح بیت اللہ حقیقتاً اللہ تعالیٰ کاگھرنہیں بلکہ اضافت تشریفی ہے۔(گھراسے کہتے ہیں جہاں اور جس میں کوئی شخص رہتاہواور گھراس شخص کے وجود کااحاطہ کیے ہوئے ہو۔ذات باری تعالیٰ کااحاطہ ناممکن ہے)۔اسی طرح ‘‘من روحی’’میں اللہ تعالیٰ کی روح اس کی اپنی جان نہیں بلکہ مراد وہ روح ہے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے۔ لیکن اس سے منسوب ہونے کی وجہ سے معززہوگی۔

امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ کاترجمہ اس مطلب کو پوری طرح واضح کررہاہے جب کہ دیگر تراجم میں اپنی جان پھونک دوں، اپنی جان ڈال دوں، اپنی روح پھونک دوں یااپنی روح سے کچھ پھونک دوں جیسےالفاظ ملتے ہیں۔ جن سے خدشات پیداہوتےہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جان (روح)کیسےڈال دی؟جب اپنی روح دوسرے میں ڈال دی توخود بے روح یا بے جان رہا؟کیااس کی روح کسی جسم میں منتقل ہوکراس کی ذات سے جداہوگئی؟(معاذاللہ) حالانکہ اللہ تعالیٰ جسم سے پاک ہے۔ جسم کاہونامخلوق کی صفت ہے اور مخلوق اور اس کی صفات زوال پذیرہیں اور حادث ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کوزوال محال ہے۔ وہ قدیم ہے حادث نہیں۔ حادث ہونامخلوق کے لیے ہے۔امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ نے اپنی طرف کی خاص معزز روح کے لفظوں سے مذکورہ خدشات کی پیدائش کاامکان ہی ختم کردیا اورقرآنی مطلب بھی واضح ہوگیا۔یادرہےیہاں ‘‘پھونک دوں’’کے الفاظ سے مراد ملائکہ سے مشورہ نہیں یا اس کی مرضی نہیں پوچھی جارہی ہےبلکہ انہیں خبردی جارہی ہے کہ جب میں ایساکرلوں تو تم سارے میرےظلم کے مطابق آدم علیہ السلام کو سجدہ کروگے گویاروح آدم علیہ السلام کو شرافت وتکریم عطاکی گئی۔

‘‘و نفخ فیہ من روحہ’’۔(السجدہ،آیت ۹،رکوع۱۴،پارہ۲۱)

اورپھونکی اس میں اپنی ایک جان۔ (مولانامحمودالحسن)

اوراس میں اپنی روح پھونکی۔ (مولانااشرفعلی تھانوی)

اوراس کے اندراپنی روح پھونک دی۔ (مولانامودودی)

اوراس میں اپنی طرف کی روح پھونکی۔ (امام احمدرضا)

امام احمدرضاکےترجمےسےمعلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی طرف سے تخلیق کی گئی ارواح میں سے ایک روح عطافرمائی یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی روح انسان کو حاصل ہوگئی یاانسان میں حلول کرگئی(معاذاللہ) مگردوسرے تراجم سے یہ وہم ضرور ہوتاہے کہ الہ تعالیٰ نے اپنی روح انسان کے اندرپھونک دی تو کیا خداپھربھی ہمیشہ کی طرح زندہ رہا؟ کیا خدا کی روح منتقل ہوسکتی ہے؟ جو چیزمنتقل ہوسکےیاتغیرپذیر ہووہ حادث ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ حدوث، تغیراور انتقال جیسے عیوب سے پاک ہے وہ قدیم و لازوال ہے۔ امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ کاترجمہ تقدیس الوہیت کا پاسبان ہے۔

[۱۳]آڑ،حجاب یاپردہ نسبت

‘‘وماکان لبشر ان یکلمہ اللہ الاوحیااومن ورائی حجاب’’۔(سورہ الشوریٰ،آیت۵۱،رکوع۶،پارہ۲۵)

اورکسی آدمی کی طاقت نہیں کہ اس سے باتیں کرے اللہ مگراشارہ سے یا پردہ کے پیچھے سے۔(مولانامحمودالحسن)

کسی بشرکی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماوےمگریاتوالہام سے یاحجاب کےباہر سے۔(مولانااشرفعلی تھانوی)

یہ کسی بشرکامرتبہ نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگرہاں یاتووحی سے یاکسی آڑسے(عبدالماجد دریابادی)

اورکسی آدمی کے لیے ممکن نہیں کہ خدااس سے بات کرے مگرالہام کے ذریعےسے یا پردے کے پیچھے سے۔(مولانافتح محمد)

کسی بشرکایہ مقام نہیں کہ اللہ اس سے روبروبات کرلے۔ اس کی بات یا تووحی(اشارے) کے طور پر ہوتی ہے یا پردے کے پیچھے سے۔(مولانامودودی)

اورکسی آدمی کونہیں پہنچتاکہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگروحی کے طور پر یایوں کہ وہ بشر پردۂ عظمت کے ادھرہو۔ (امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

اللہ تعالیٰ کاپردےکےپیچھےسے،حجاب کے باہر سے یاکسی آڑ سے کلام کرنااس وقت صحیح ہوسکتاہے جب کہ اسے ایک معین مکان اور معین جہت سے مختص کرکے متصف ماناجائے حالانکہ اللہ تعالیٰ مکان وجہت سے پاک ہے۔امام احمدرضا کا ترجمہ ان سب اعتراضات کو اٹھا رہاہے۔ جب کوئی شخص کلام کو سنتاہواور منتظم کو نہ دیکھتاہوتوبغیر دیکھےسننے اور کلام کرنے والاشخص بالکل اس شخص کی طرح ہے جو پردےکے پیچھےسے کلام کرے۔اس سے واضح ہوا کہ اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھےسےکلام نہیں فرماتااورنہ اس کی شان کے لائق ہے کہ وہ پردے کے پیچھےہوالبتہ وہ انسان یا شخص جو اللہ تعالیٰ سے کلام کرے اور اسے نہ دیکھ نہ سکے تو وہ سمجھتاہےکہ گویاوہ انسان پردے کے پیچھےہے۔اللہ تعالیٰ پردہ ہونےیاپردے کےپیچھے ہونے سے منزہ ہے۔امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ کا ترجمہ‘‘وہ بشرپردۂ عظمت کے ادھر ہو’’ کتنا درست ہے۔

‘‘ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ’’۔(الانفال،آیت ۲۴،رکوع۱۷،پارہ۹)

اللہ آڑبن جایاکرتاہے آدمی اور اس کے قلب کے درمیان میں۔(مولانااشرفعلی تھانوی)

اللہ آدمی اوراس کے دل کے بیچ میں آڑہوجاتاہے۔ (وحیدالزماں)

خداانسان کے دل پرپردہ ہوجاتاہے۔ (مولاناثناء اللہ امرتسری)

اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتاہے۔ (مولانامودودی)

اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتاہے۔(امام احمدرضا رحمتہ اللہ علیہ)

ایک شے جو دو اشیاء کے درمیان حائل ہواوربیچ میں آڑ بن جائے وہ دواشیاء کے درمیان گھری ہوئی ہوتی ہے۔اور وہ دونوں چیزیں درمیان والی چیزپر حاوی ہواکرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ چونکہ گھرنہیں سکتااور کوئی چیزاس پرحاوی نہیں ہوسکتی اس لیے ایسے تراجم جن سے اللہ تعالیٰ کے گھرنےیااس کی ذات کا احاطہ ہونےاور اس پر کسی چیزکے حاوی ہوجانےکاتاثرملے، وہ مناسب نہیں ہیں۔ان تراجم سے شان الوہیت کی نفی ہوتی ہے۔مگرامام احمدرضاکے ترجمہ سے قرآن کی بہترین ترجمانی ہوتی ہےاور اس سے ایساکوئی غلط تاثرنہیں ابھرتااللہ تعالیٰ جہت و مکان کے تصور، گھرنے، محدودہونے،احاطہ ہونے جیسے عیوب سے پاک ہے اور کوئی اس پر حاوی نہیں ہوسکتا۔

[۱۴]گھات یاتاک کی نسبت

‘‘ان ربک لبالمرصاد’’۔(سورہ الفجر،آیت۱۶،رکوع۱۴،پارہ۳۰

بےشک تیرارب لگاہے گھات میں۔ (مولانامحمودالحسن)

بےشک آپ کا رب گھات میں ہے۔ (مولانااشرفعلی تھانوی)

بےشک تمہاراپروردگارتاک میں ہے۔ (مولانافتح محمد)

تمہارارب گھات لگائے ہوئےہیں۔ (مولانامودودی)

بےشک تمہارے رب کی نظرسے کچھ غائب نہیں۔ (امام احمدرضارحمتہ اللہ علیہ)

یہ کلام استعارہ تمثیلیہ کےطورپرہےجس کا مقصد ومطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں کو سزا دے گاکیونکہ وہ ان کے اعمال کونظرمیں رکھتاہے۔عموماًبزرگ حضرات شرارتیں کرنے والےبچوں سے مخاطب ہوکرتنبیہانہ اندازمیں کہتے ہیں کہ بچو!میں تمہیں دیکھ رہاہوں۔ اس سے مقصدیہ ہوتاہےکہ شرارتوں سےبازآجاؤ۔تمہاری سب حرکتیں میری نگاہ میں ہیں اگر باز نہ آئے توسزاپاؤگے۔خداتعالیٰ گنہگاروں کومتنبہ فرمارہاہےکہ تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں ہے۔جن مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ رب گھات میں،تاک میں ہے یا گھات لگائےہے،مناسب شانِ الٰہی نہیں ہے۔گھات میں ہونے سے مراد دوسرے سے نظر بچاکر چوری چھپےبیٹھناہےاور چھپ کر دوسرے پرحملہ کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کاچھپ کر بیٹھنا اور دوسرے پرگھات میں حملہ آورہونااس کی شان کے لائق نہیں۔اس لیے کہ وہ انسانوں جیسی بیٹھنےاور چھپنے کی صفات سے پاک ہے۔نظربچاکر چوری چھپےگھات یا تاک میں بیٹھنا تو خوف اور بزدلی کی دلیل ہوتاہے۔ایسااس لیے کیاجاتاہے کہ بتاکریاسامنے سے حملہ کیاتو شکست کا خوف یا جان کاخطرہ ہوسکتاہے۔یہ کمزوری بہت بڑانقصان ہے۔اور خداتعالیٰ ہرعیب ونقصان سے منزہ ہے۔اسی وجہ سے امام احمدرضاکاترجمہ شان وتقدیس الوہیت کا پاسدارہے۔توحید پر امام احمدرضاکے کامل وراسخ ایمان کی یہ عملی دلیل ہے کہ آپ کا ترجمہ قرآن کنزالایمان کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف نہیں ہےاور اسے جملہ معتبرتفاسیر کی تائیدبھی اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف نہیں ہےاور اسے جملہ معتبر تفاسیرکی تائید بھی حاصل ہے۔قرآن مجیدکی اوربھی بہت سی آیات کے ترجمہ میں مشہور و معروف مترجمین نے احتیاط سے کام نہیں لیاہےمگرامام احمدرضانے وہاں بھی کمالِ ادب و احتیاط کا مظاہرہ فرمایاہے۔اختصار کے پیش نظر مذکورہ آیت کے تراجم پر ہی اکتفاکرتاہوں۔ ہدایت کے طالب کے لیے حکیمانہ اشارہ ہی کافی ہوتاہے۔

تجویزوآراء