حضرت مولانا محمد رضا خان بریلوی

حضرت مولانا محمد رضا خان بریلوی  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

مولانا نقی علی خاں علیہ الرحمۃ کے سب سے چھوٹے بیٹے مولانا محمد رضا خاں علیہ الرحمۃ تھے۔ آپ نے تعلیم و تربیت اپنے برادر بزرگ امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ سے حاصل کی ۔ مولانا محمد رضا  خان جید عالم تھے اور علم الفرائض میں زبردست مہارت رکھتے تھے۔ دار الفتاء بریلی میں جب کثرت سے فتوے آنے لگے تو علم الفرائض سے متعلق فتوؤں کا جواب مولانا محمد رضا خاں لکھتے تھے۔ اس سے  ثابت ہوتا ہے۔کہ آپ کو علم الفرائض سے شغف خاص تھا۔

          مولانا محمد رضا خاں کی شادی سکینہ بیگم دختر غلام علی خاں ساکن خواجہ قطب بریلی سے ہوئی ۔ علم و فضل کے علاوہ حسن انتظام میں تکتائے زمانہ تھے۔ امام احمد رضا خاں کے آپ اس طرح قوت بازو بنے کہ اپنی جاگیر کے علاوہ امام احمد رضا کی جاگیر کا انتظام بھی آپ ہی کرتے تھے۔ آپ نے امام احمد رضا خاں کو خدمت دینی کیلئے مسثنیٰ کردیا تھا۔ آپ کاشت وزراعت کے علاوہ ضروریات زندگی کی تمام اشیاء فراہم کرتے تھے حتی ٰ کہ امام احمد رضا کی دختر ان کی شادیوں کا اول تا آخر خود ہی انتظام کرتے تھے۔ ان تمام امور میں وہ خود مختار تھے اور امام احمد رضا ان پر کلی طور پر اعتماد رکھتے تھے۔ ترکہ و وراثت کے فتوے لکھنے کے علاوہ آپ امام احمد رضا کی تصنیفات ملاحظہ کرتے اور ان کی تصدیق و تائید کرتے۔ امام احمد رضا کی کثیر تصانیف پر آپ نے تائیدی و تصدیقی دستخط کیے ہیں۔ آپ وصال ۱۵ اکتوبر 1939ء کو ہوا[1]اور اپنے آبائی قبرستان میں جانب شرق لب سڑک دفن کئے گئے جس پر مفتی اعظم  ہند مصطفیٰ رضا خاں سے مقبرہ تعمیر کرایا تھا۔ حیات اعلیٰحضرت میں مولانا محمد رضا خاں کو مولانا نقی علی خاں کے تلامذہ میں شامل کیاگیا  ہے جبکہ مولانا محمد رضا خاں اپنے والد مولانا نقی علی خاں کے انتقال کے وقت صرف چار سال کے تھے۔[2](ممکن ہے کہ مولانا نقی علی خاں نے آپ کی بسم اللہ کرائی ہو اس اعتبار سے آپ کو مولانا نقی علی خاں کا شاگردکہا جاسکتا ہے )حالانکہ آپ  کو اپنے برادر بزرگ امام احمد رضا خاں سے ہی شرف تلمذ حاصل تھا۔

(مولانا   نقی علی خاں

حیات اورعلمی و ادبی کارنامے)

 

[1] فیصلہ مصنف شھر بریلی مقدمہ 1944/48 مولوی تقدس علی خاں بنام مصطفٰی رضا خاں مفضلہ 22 جنوری 1947ء

[2] مقدمہ منعمف شھر بریلی مقدمہ 1884/411

تجویزوآراء