اصول ترجمہ قرآن کریم

اصولِ ترجمۂ قرآنِ کریم

تحریر: علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمۃ

اصل موضوع پرگفتگوکرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتاہے کہ قرآن کریم، تفسیر اور ترجمہ کے معانی اور تعریفات ذکرکردی جائیں تاکہ اصل مطلب کےسمجھنےاورسمجھانے میں آسانی رہے۔

قرآن کریم:

عربی لغت میں قرآن، قراءت کا ہم معنی مصدرہے جس کا معنی پڑھناہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ عَلَیۡنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ ﴿ۚۖ۱۷﴾ فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ﴿ۚ۱۸﴾

(پارہ29،سورۃ القیمۃ،آیت:17-18)

بےشک اس کا محفوظ کرنااورپڑھناہماے ذمہ ہے، تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو۔(کنزالایمان)

پھرمعنی مصدری سے نقل کرکے اللہ تعالیٰ کے نبی اکرمﷺپرنازل کیےہوئے مُعجِز کلام کانام قرآن رکھاگیا، یہ مصدرکااستعمال ہے مفعول کے معنی میں جیسے خلق بمعنی مخلوق عام طورپرآتاہے۔

[محمدعبدالعظیم زرقانی،علامہ،مناہل العرفان(داراحیاء الکتب العربیتہ، مصر) ج۱،ص۷]

تفسیر:

عربی زبان میں تفسیرکامعنی ہےواضح کرنااوربیان کرنااسی معنی میں کلمۂ تفسیرسورۂ فرقان کی اس آیت میں آیاہے:

وَلَا یَاۡتُوۡنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰکَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیۡرًا ﴿ؕ۳۳﴾

(پارہ19،سورۃ الفرقان،آیت:33)

اور وہ کوئی کہاوت تمہارے پاس نہ لائیں گے مگر ہم حق اور اس سے بہتر بیان لے آئیں گے۔

اصطلاحی طورپرتفسیر وہ علم ہے جس میں انسانی طاقت کے مطاق قرآن پاک سے متعلق بحث کی جاتی ہےکہ وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرتاہے۔

جب یہ کہاگیاکہ تفسیرمیں قرآنِ کریم سے بحث ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی مراد پر دلالت کرنے کے اعتبارسے تواس قیدسے درج ذیل علوم خارج ہوگئےانہیں تفسیرنہیں کہاجائے گا۔

علمِ قراءت:

اس علم میں قرآنِ کریم کے احوال ہی سے بحث ہوتی ہے لیکن قرآن پاک کےکلمات کے ضبط اور ان کی ادائی کی کیفیت پیشِ نظر ہوتی ہے۔

علمِ رسمِ عثمانی:

اس علم میں قرآن کریم کے کلمات کی کتابت سے بحث کی جاتی ہے۔

علمِ کلام:

اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ قرآن پاک مخلوق ہے یا نہیں۔

علمِ فقہ:

اس علم میں بحث کی جاتی ہے کہ حیض و نفاس اور جنابت کی حالت میں قرآنِ پاک کا پڑھنا حرام ہے۔

[محمدعبدالعظیم زرقانی،علامہ:مناہل العرفان،ج۱،ص۷۱۔۴۷۰]

علمِ صرف:

اس علم میں کلمات کی ساخت سے بحث ہوتی ہے۔

علمِ نحو:

اس میں کلمات کے معرب(اعراب لگانا)ومبنی ہونے اور ترکیبِ کلمات سے بحث ہوتی ہے۔

علم ِمعانی:

اس میں کلامِ فصیح کے موقع محل کے مطابق ہونے سے بحث کی جاتی ہے۔

علمِ بیان:

اس میں ایک مطلب کو مختلف طریقوں سے بیان کرنے کی بحث ہوتی ہے۔

علمِ بدیع:

اس میں وہ امورزیرِبحث آتےہیں جن کا تعلق الفاظ کے حسن و خوبی سے ہوتاہےغرض یہ کہ صرف علمِ تفسیر ہی وہ علم ہے جس میں طاقتِ انسانی کے مطابق قرآنِ پاک کے ان معانی اور مطالب کو بیان کیاجاتاہے جو اللہ تعالیٰ کی مراد ہیں۔

طاقتِ انسانی کی قید کا مطلب یہ ہے کہ متشابہات کے مطالب اور اللہ تعالیٰ کی واقعی مراد کا معلوم نہ ہونا علمِ تفسیر کے خلاف نہیں ہے،اللہ تعالیٰ کی مراد اسی حد تک بیان کی جائے گی جہاں تک انسانی طاقت اورعلم ساتھ دے گا۔

وہ علم جن کی مفسّر کوحاجت ہے:

علمائےاسلام نے مفسرکے لیے درج ذیل علوم میں مہارت لازمی قراردی ہے:

(۱)لغت (۲)صرف (۳)نحو (۴)بلاغت (۵)اصول فقہ

(۶)علم التوحید (۷)قصص (۸)ناسخ و منسوخ (۹)علمِ وہبی (۱۰)اسباب ِنزول کی معرفت

(۱۱)قرآن کریم کے مجمل اور مبہم کوبیان کرنے والی احادیث۔

وہبی علم، عالمِ باعمل کو عطاکیاجاتاہے، جس شخص کے دل میں بدعت، تکبر،دنیا کی محبت یا گناہوں کی طرف میلان ہو،اسے علم ِوہبی سے نہیں نوازاجاتا۔

ارشادربانی ہے:

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ

(پارہ 9،سورۃ الاعراف،آیت:146)

اور میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیردوں گا جو زمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔کنزالایمان

امام شافعی فرماتے ہیں:

شَکوتُ اِلٰی وَکِیعٍ سُوءَ حِفظِی

فَاَرشَدَ نِی اِلٰی تَركِ المَعَاصِی

وَاَخبَرَنِی بِاَنَّ العِلمَ نُور

وَنُورُ اللّٰہِ لَایُھدٰ ی لِعَاصِی

 

میں نےامام وکیع کے پاس حافظے کی خرابی کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے گناہوں کے ترک کرنے کی ہدایت فرمائی۔

اورمجھے بتایاکہ علم نورہے اور اللہ تعالیٰ کا نورگناہگارکو عطانہیں کیاجاتا۔

یہ علوم اور ان کے علاوہ دیگر شرائطِ تفسیرکے اعلیٰ مراتب کے لیے ضروری ہیں۔عمومی طور پر اتنا علم کافی ہے جس سے قرآنِ پاک کے مطالب اجمالی طورپر سمجھےجاسکیں اور انسان اپنے مولائے کریم کی عظمت اور اس کے پیغام سے آگاہ ہوسکے۔

تفسیرکے اعلیٰ مراتب کے لیے چند امورنہایت ضروری ہیں:

۱۔قرآن ِکریم میں واقع کلماتِ مفردہ کی تحقیق، لغت ِعربی کے استعمالات کے مطابق کی جائے،کسی بھی محقق کو چاہیے کہ کلماتِ قرآن کی تفسیر ان معانی سے کرے جن میں وہ کلمات نزولِ قرآن کے زمانے میں استعمال ہوتے تھے۔بہترین طریقہ یہ ہے کہ دیکھا جائے کہ یہ لفظ قرآنِ پاک کے مختلف مقامات میں کن معانی میں استعمال ہوا ہے، پھر سیاق وسباق اور موقع محل کے مطابق اس کا معنی بیان کیاجائے،قرآنِ پاک کی بہترین تفسیر وہ ہے جو خود قرآنِ پاک سے کی جائے۔

۲۔بُلَغاء کے کلام کا وسیع اور گہرامطالعہ کرکے ان کے کلام کے بلند پایہ اسالیب ، نکات اور محاسن کی معرفت حاصل کی جائے اور متکلم کی مراد تک رسائی حاصل کی جائے، اس طریقےسے ہم اللہ تعالیٰ کی مراد مکمل طور پر سمجھنےکادعویٰ تونہیں کرسکتے، تاہم کلام الٰہی کے مطالب تک اس قدررسائی حاصل کی جاسکتی ہے جس سے ہم ہدایت حاصل کر سکیں۔اس سلسلے میں علم نحو،معانی اور بیان کی حاجت ہے،لیکن صرف ان علوم کے پڑھ لینے سے کام نہیں چلے گابلکہ ان علوم کی روشنی میں بُلَغاء کے کلام،قرآنِ کریم اور حدیث شریف کاوسیع مطالعہ بہت ضروری ہے۔

۳۔اللہ تعالیٰ نےاپنی آخری کتاب میں مخلوق کے بہت سے احوال اور ان کی طبیعتوں کا بیان کیا ہے اور یہ بھی بتایاہے کہ اللہ تعالیٰ کاطریقہ ان کے بارے میں کیارہا؟ سابقہ امتوں کےبہترین واقعات اور ان کی سیرتیں بیان کیں،اس لیے قرآن پاک کا مطالعہ کرنے والے کے لیےضروری ہے کہ سابقہ قوموں کے ادواراوراطوار سے واقف ہو اور اسے معلوم ہو کہ طاقتورکون تھا اور کمزورکون؟ اس طرح عزت کس کو ملی اور ذلت کسے نصیب ہوئی؟علم اور ایمان کس کے حصے میں آیا اور کفروجہل کس کو ملا؟نیز عالم کبیر یعنی عناصر(آگ، ہوا،پانی اور مٹی) اور افلاک کے احوال سے باخبر ہو، اس مقصدکے لیے بہت سے فنون درکارہیں،ان میں سے اہم علم تاریخ اپنے تمام شعبوں سمیت ہے۔

قرآن پاک میں اممِ سابقہ، سننِ الٰہیہ اور اللہ تعالیٰ کی ان آیات کا اجمالاًذکرکیاگیا ہے جو آسمانوں اور زمین ،آفاق اور نفوس میں پائی جاتی ہیں،یہ اس ہستی کابیان کردہ اجمال ہے جس کا علم ہرشے کو احاطہ کیے ہوئے ہے،اس نے ہمیں غوروفکراورزمین میں سیر کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ہم اس کے اجمال کی تفصیل کو سمجھ کر ترقی کے زینے طے کرسکیں، اب اگر ہم کائنات پر ایک سرسری نظر ڈالناہی کافی جان لیں تویہ ایسے ہی ہوگاجیسے کہ ایک شخص کسی کتاب کی جلد کی رنگینی اور دلکشی کو دیکھ کر خوش ہوجائے اور اس علم و حکمت سے غرض نہ رکھ جواس کتاب میں ہے۔

۴۔فرض کفایہ اداکرنےوالےمفسرپرلازم ہے کہ وہ یہ حقیقت معلوم کرےکہ قرآن ِپاک نے تمام انسانوں کو کس طرح ہدایت دی ہے، اسے معلوم ہوناچاہیے کہ نبی اکرم ﷺکے زمانے میں تمام انسان خواہ وہ عربی ہوں یاعجمی،کس حال میں تھے؟ کیونکہ قرآنِ پاک کااعلان ہے کہ سب لوگ گمراہی اور بدبختی میں مبتلاتھے اور نبی اکرمﷺ ان سب کی ہدایت و سعادت کے لیے مبعوث ہوئے تھے،اگرمفسراس دورکے انسانوں کے حالات (عقائدومعمولات)سے کما حقہ،آگاہ نہیں ہوگا تو قرآنِ حمید نے ان کی جن عادتوں کو قبیح قرار دیاہے انہیں مکمل طورپر کیسے جان سکے گا؟

حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص احوالِ جاہلیت سے جس قدر زیادہ جاہل ہے اس کے بارے میں اتنا ہی زیادہ خوف ہے کہ وہ اسلام کی رسی کو تارتار کردے، مطلب یہ ہے کہ جو شخص اسلام کی آغوش میں پیداہوا،پلابڑھااور اسے پہلے لوگوں کے حالات معلوم نہیں ہیں تو اسے پتانہیں چلےگاکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت وعنایت نے کس طرح انقلاب برپاکیااور کس طرح انسانوں کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کےجگ مگ راستے پرکھڑاکردیا؟

۵۔نبی اکرمﷺ کی سیرت طیبہ کا وسیع مطالعہ ہوناچاہیے،نیزصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرتوں سے بخوبی آگاہ ہوناچاہیےاور پتہ ہوناچاہیے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم علم و عمل کے کس مرتبےپر فائزتھےاوردنیاوی و اخروی معاملات کس طرح انجام دیتے تھے؟

[محمدعبدالعظیم زرقانی،علامہ:مناہل العرفان (ملخصًا)ج۱،ص۵۲۲۔۵۱۹]

ترجمہ۔۔۔عربی لغت کی روشنی میں:

عربی زبان میں لفظ ترجمہچارمعنوں کے لیے استعمال ہوتاہے:

ا۔کلام کااس شخص تک پہنچاناجس تک کلام نہیں پہنچا۔

ایک شاعرنے لفظِ ترجمہ اسی معنی میں استعمال کیاہے:

اِنَّ الثَّمَانِینَ ۔۔۔۔۔وَبَلَغتُھَا

قَدْ اَحْوَجَتْ سَمعِی اِلٰی تَرجُمَانٖ

بے شک میں اسّی سال کی عمرکوپہنچ چکاہوں اس عمرنے مجھےترجمان کا محتاج بنادیاہے۔

(یعنی مجھے مخاطب کی بات سنائی نہیں دیتی، اس لیے میں ایسے شخص کا محتاج ہوں جو خاص طور پر مجھےوہ بات سمجھائے)۔

۲۔کلام جس زبان میں ہے اسی زبان میں اس کی تفسیر کرنا۔

اسی معنی کے اعتبار سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکوترجمان القرآن کہاجاتاہے۔

۳۔کسی دوسری زبان میں کلام کی تفسیرکرنا۔

لسان العرب اور قاموس میں ہے کہ ترجمان:کلام کے مفسر کو کہتے ہیں، شارحِ قاموس نے جوہری کے حوالے سے بیان کیا کہ تَرْجَمَہٗ وَ تَرْجَمَ عَنْہُ کامطلب یہ ہے کہ ایک شخص کسی کے کلام کامطلب دوسری زبان میں بیان کرے۔

البتہ تفسیرابن کثیر اور تفسیربغوی سے معلوم ہوتاہے کہ لفظ ترجمہ،عربی زبان میں مطلقاً بیان کرنے کو کہتے ہیں خواہ اسی زبان میں ہو جس میں اصل کلام ہے یا دوسری زبان میں۔

۴۔کلام کوایک زبان سے دوسری زبان کی طرف نقل کرنا۔

لسان العرب میں ترجمان پہلے حرف پر پیش یازبر،وہ شخص ہے جو کلام کو ایک زبان سے دوسری زبان کی طرف نقل کرے۔

قاموس سے معلوم ہوتاہےکہ ترجمان کا تلفظ تین طرح کیاجاسکتاہے۔

  • تاء اور جیم دونوں پر پیش(تُرجُمان)
  • دونوں پر زبر(تَرجَمان)
  • تاء پر زبراور جیم پیش(تَرجُمان)

چونکہ ان چاروں معنوں میں بیان پایاجاتاہے، اس لیے وسعت دیتے ہوئے ان چار معنوں کے علاوہ ہراس چیز پر ترجمہ کا اطلاق کردیاجاتاہے جس میں بیان ہو ،مثلاً کہاجاتاہے۔

تَرْجَمَ لِھٰذَا البَابِ بکَذَا، مصنف نے اس باب کا یہ عنوان مقرر کیا۔

تَرْجَمَ لِفَلَانٍ، فلاں شخص کا تذکرہ لکھا۔

تَرْجَمَۃُ ھٰذَا البَابِ کَذَا، اس باب کا مقصد اورخلاصہ یہ ہے۔

[محمدعبدالعظیم زرقانی،علامہ:مناہل العرفان(ملحضا)ج۲/ص۶۔۵]

یادرہےکہ تَرجَمَۃرباعی مجردکے باب فَعَلَلَۃٌسےہے، اس لیے ترجمہ کرنے والے کو مُتَرجِم اورقرآن پاک کو مُتَرجَم کہاجائے گا مُتَرَجِّم اور مُتَرَجَّم میں جیم کومشددپڑھنا غلط ہے۔

ترجمہ کا عرفی معنی:

لغوی اعتبارسے لفظ ترجمہ چار معنوں میں استعمال ہوتاہے۔جن کا ذکرابھی ابھی کیاگیا ہے۔ عرف عام میں لفظ ترجمہ سے چوتھامعنی مرادلیاجاتاہے یعنی ایک کلام کامعنی کسی دوسری زبان میں بیان کرنا۔

علامہ محمد عبد العظیم زرقانی کہتے ہیں کہ ترجمہ کا عرفی معنی یہ ہےکہ کلام ایک زبان میں ہو اور اُس کا مطلب دوسری زبان میں اس طرح بیان کیاجائےکہ اس کلام کے تمام معانی اور مقاصد بھی اداکردیے جائیں۔

[محمدعبدالعظیم زرقانی،علامہ:مناہل العرفان(ملخصًا)ج۲،ص۷]

اورظاہر ہے کہ کسی بھی کلام کا اور خاص طور پر قرآن مجید کا ایساترجمہ نہیں کیاجاسکتا جس میں اصل کلام کے تمام معانی اور مقاصد اداکردیےجائیں۔اسی لیے علامہ محمدعبدالعظیم زرقانی قرآنِ پاک کے ترجمہ کو ناجائز قراردیتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ تفسیر میں اصلِ کلام کے تمام معانی کااداکرنا ضروری نہیں ہے بلکہ بعض مقاصد کا اداکرنا کافی ہے،اس لیے قرآن ِپاک کی تفسیر تو کی جاسکتی ہے ترجمہ نہیں کیاجاسکتا۔

دنیابھرکی مختلف زبانوں میں قرآن پاک کا ترجمہ کیاگیاہے اور کوئی بھی ترجمہ کرنے والا یہ دعویٰ نہیں کرتاکہ میں نے قرآن مجید کے تمام معانی اور مقاصد کو اپنی زبان میں منتقل کردیا ہے، اوریہ ہوبھی نہیں سکتا، تو اس بحث کی حاجت ہی نہیں رہتی کہ ایساترجمہ جائز ہے یا نہیں؟ اس سے پہلے لسان العرب اور شرح قاموس کے حوالے سے بیان کیا گیاہے کہ ترجمہ کا مطلب ایک کلام کے معنی کو دوسری زبان میں بیان کرنا ہے، یہ قید علامہ زرقانی نے اپنی طرف سے لگائی ہے کہ اصل کلام کے تمام معنی اور مقاصد بھی اداکیے جائیں، ظاہر ہے کہ اس قید کے اضافے میں ان سے اتفاق نہیں کیاجاسکتا، جو شخص بھی قرآن مجید کاترجمہ کرے گاوہ بعض معانی اور مقاصد ہی کو بیان کرے گا،اگرایسے ترجمہ کو تفسیری ترجمہ کہا جائےتو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

 

اقسامِ ترجمہ

عرفی معنی کے لحاظ سے ترجمہ کی دو قسمیں ہیں:

(۱)لفظی (۲)تفسیری

لفظی ترجمہ میں اصل کلام کے کلمات کی ترتیب کوملحوظ رکھاجاتاہے اور ایک ایک کلمہ کی جگہ اس کا ہم معنی لفظ رکھ دیاجاتاہے،جیسے شاہ رفیع الدین محدث دہلوی اورتفسیر ِنعیمی میں مفتی احمدیارخان نعیمی اورتفسیرالحسناتمیں علامہ ابوالحسنات سیدمحمداحمدقادری نے کیا ہے، اس ترجمہ کو حرفی ترجمہ بھی کہا جاتاہے۔

تفسیری ترجمہ میں تحت اللفظ ایک ایک کلمہ کا ترجمہ نہیں کیاجاتابلکہ مطالب ومعانی کو بہتر اور مؤثراندازمیں پیش کیاجاتاہے، اسے معنوی ترجمہ اور تفسیری ترجمہ کہاجاتاہے، یہ ترجمہ تفسیرتونہیں ہے جیسے کہ آئندہ سطورمیں بیان کیاجائےگا،لیکن مقاصد کو بہتراندازمیں پیش کرنے کے اعتبارسے تفسیر کے مشابہ ضرورہے۔

ترجمہ اور تفسیر میں فرق:

ترجمہ لفظی ہو یاتفسیری، وہ تفسیرسے الگ چیزہے، ترجمہ اور تفسیر میں متعددوجوہ سے فرق ہے۔

ا۔ترجمہ کے کلمات مستقل حیثیت رکھتےہیں،یہاں تک کہ ان کلمات کواصل جگہ رکھاجاسکتاہے،جب کہ تفسیر ہمیشہ اپنے اصل سے متعلق ہوتی ہے،مثلاً ایک مفرد یا مرکب لایاجاتاہے پھر اس کی شرح کی جاتی ہے اور شرح کا تعلق اصل کے ساتھ ایسے ہوتا ہے جیسے خبرکامبتدا کے ساتھ، پھردوسری جزکی اسی طرح شرح کی جاتی ہے،ابتداسے انتہا تک یہی سلسلہ جاری رہتاہے،تفسیراپنےاصل سے اس طرح متعلق ہوتی ہے کہ اگر تفسیر کو اصل سے جداکردیاجائے تو وہ بے معنی ہوکر رہ جائے گی، اسے اصل کی جگہ نہیں رکھاجا سکتا۔

۲۔ترجمہ میں اضافہ نہیں کیاجاسکتا،کیونکہ ترجمہ توہوبہو اصل کی نقل ہے، اس لیے دیانت داری کا تقاضاہے کہ نقل کسی کمی بیشی کے بغیراصل کے مطابق ہو،برخلاف تفسیرکے کہ اس میں اصل کی وضاحت ہوتی ہے،مثلاً بعض اوقات مفسرکو الفاظ لغویہ کی شرح کی ضرورت پیش آئے گی، خصوصاً اس وقت جب کہ ان کے وضعی معانی مراد نہ ہوں، اسی طرح کہیں دلائل پیش کئے جائیں گے اور کہیں حکمت بیان کی جائے گی۔

یہی وجہ ہےکہ اکثر تفسیروں میں لغوی،اعتقادی،فقہی اور اصولی مباحث بیان کی جاتی ہیں، کائناتی اور اجتماعی مسائل زیرِ بحث لائے جاتے ہیں، اسبابِ نزول اور ناسخ و منسوخ کاذکرکیا جاتاہےجبکہ ترجمہ میں ان مباحث و مسائل کی گنجائش نہیں ہوتی۔

۳۔عرفی ترجمہ میں یہ دعویٰ کیاجاتاہےکہ اصل کلام کے تمام معانی اور مقاصد بیان کردیے گئے ہیں۔(یہ علامہ محمدعبدالعظیم زرقانی کی ذاتی رائے ہے)لیکن تفسیرمیں صرف وضاحت مقصود ہوتی ہے۔

  • خواہ اجمالاً ہو یا تفصیلاً،
  • تمام معانی اور مقاصد پر مشتمل ہو یا بعض پر۔

اس کا دارومدار ان حالات پر ہے جن میں مفسرگزررہاہے اور ان لوگوں کی ذہنی سطح پر ہے جن کے لیے تفسیر لکھی گئی ہے۔

۴۔عرف عام کے مطابق ترجمہ میں اس اطمینان کادعویٰ کیاجاتاہے کہ مترجم کے نقل کردہ تمام معانی اور مقاصد،اصل کلام کے مدلول ہیں اور قائل کی مرادہیں۔تفسیر میں یہ دعویٰ نہیں کیاجاتا،بعض اوقات مفسردلائل کے پیشِ نظر اطمینان اور وثوق کا دعویٰ کرتا ہے اور جب اسے قوی دلائل میسرنہیں ہوتےتووہ اطمینان کا دعویٰ نہیں کرتا، کبھی وہ بعض احتمالات کا ذکرکرتاہے، کبھی چنداحتمالات ذکرکردیتاہےجن میں سے بعض کو ترجیح حاصل ہوتی ہے، بعض اوقات وہ تصریح یا ترجیح سے گریزکرتاہے اور کبھی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ کسی کلمے یا جملے کے بارے میں کہہ دیتاہے کہ اس کا قائل ہی بہترجانتاہے کہ اس سے مراد کیاہے؟ جیسے کہ بہت سے مفسرین حروفِ مقطعات اور قرآنی متشابہات کے بارے میں کہہ دیتے ہیں۔

[محمدعبدالعظیم زرقانی،علامہ:مناہل العرفان(ملخصًا)ج۲/۱۲۔۱۰]

اس جگہ اس موقف کااعادہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ قرآن پاک کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کرنےوالےعلماکایہ موقف ہرگزنہیں ہوتاکہ ہم قرآن پاک کے تمام معانی اور مطالب کو دوسری زبان میں منتقل کررہے ہیں،کیونکہ ایساترجمہ کرناممکن ہی نہیں ہے اور انسانی طاقت سے باہر ہے۔

وہ چند امورجن کے بغیر ترجمہ نہیں کیاجاسکتا:

اس سے پہلے بیان کیاجاچکاہے کہ مفسر کے لیے کن علوم میں دسترس ضروری ہے؟ قرآنِ حمیدکے ترجمہ کے لیے بھی ان علوم میں مہارت لازمی ہے،ان کے علاوہ مترجم کے لیے جو امور ضروری ہیں ان میں سے چندایک درج ذیل ہیں:

ا۔مترجم کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس زبان میں ترجمہ کررہاہے اس زبان اور عربی لغت کے معانی وضعیہ سے آگاہ ہو،اسے معلوم ہو کہ کونسالفظ کس معنی کے لیے وضع کیاگیاہے؟

۲۔اسےدونوں زبانوں کے اسالیب اور خصوصیات کابھی پتاہو۔

۳۔کسی آیت کے متعدد مطالب ہوں توان میں سے راجح مطلب کو اختیارکرے۔

۴۔اللہ تعالیٰ کی عظمت وجلالت کوپیش نظر رکھےاور ترجمہ میں کوئی ایسا لفظ نہ لائے جو بارگاہ الٰہی کے شایانِ شان نہ ہو،مثلاًاس آیت کاترجمہ کیاجاتاہے:

اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَھوَ خٰدِعُھمْ ۔

[ پارہ5،سورۃ النساء،آیت:142]

البتہ منافق دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور وہی ان کو دغادے گا۔

اللہ تعالیٰ کی طرف دغاکی نسبت کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے اس لیے اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:

بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ تعالیٰ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا۔(کنزالایمان)

منافقین اللہ تعالیٰ کو دغا نہیں دے سکتے کیونکہ وہ تو عالم الغیب والشھادۃ ہے،وہ ہرظاہر اور مخفی امرکوجانتاہے،اسےکون دھوکہ دےسکتاہے؟ہاں منافقین دھوکہ دینے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں،اگرچہ انہیں اس میں کامیابی نہیں ہوسکتی، وَھُوَ خَادِ عُھُم کاکتناعمدہ اور صحیح ترجمہ ہے؟کہ:

وہی انہیں غافل کرکے مارے گا۔

یہ معنی نہیں کہ وہی ان کو دغادےگا۔

۵۔مقامِ انبیا علیہم السلام کی عظمت اور تقدس کو ملحوظ رکھاجائے،ارشادربانی ہے:

حَتّٰۤی اِذَا اسْتَایۡــَٔسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوۡۤا اَنَّہُمْ قَدْ کُذِبُوۡا

[ پارہ13،سورۃ یوسف،آیت:110]

اس آیت کاترجمہ بعض لوگوں نے یہ کیا:

یہاں تک کہ جب ناامید ہوگئےرسول اورخیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہاگیاتھا

اس ترجمہ میں دوباتیں قابل غورہیں:

۱۔رسولان گرامی کی طرف مایوسی کی نسبت کی گئی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْکٰفِرُوۡنَ

[ پارہ13،سورۃ یوسف،آیت:87]

بے شک اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے مگرکافر لوگ۔

۲۔اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی نسبت کہاگیا:

اورخیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہاگیاتھا۔

معاذاللہ!انبیاکرام علیہم السلام معصوم ہیں ان کے گوشۂ خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کہاگیاتھاوہ جھوٹ تھا۔

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی خالہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے پوچھا:

وَظَنُّوۡۤا اَنَّہُمْ قَدْ کُذِبُوۡا

[ پارہ13،سورۃ یوسف،آیت:110]

کیارسولوں نے یہ گمان کیا کہ انھیں جھوٹ کہاگیاتھا؟

انہوں نے فرمایا:

مَعَاذَاللّٰہِ لَم تَکُنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذٰ لِكَ بِرَبِّھَا،وَظَنَّتِ الرُّسُلُ اَنَّ اَتبَاعَھُم قَد کَذَّ بُوھُم

[محمدبن اسماعیل بخاری،امام:بخاری شریف(مطبع رشیدیہ، ہند)ج۲/ص۶۸۰]

اللہ کی پناہ!رسولانِ گرامی اپنے رب کے بارے میں یہ گمان کرسکتے تھے،رسولوں نے گمان کیاکہ اُن کےپیروکاروں نے انہیں جھٹلادیاہے۔

حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی قراءت قَد کُذِّ بُوْاہےذال مشدّد ومکسور کے ساتھ۔اس صورت میں معنی یہ ہے کہ رسولوں نے گمان کیا کہ انہیں ان کی قوم کی طرف سے جھٹلادیاگیاہے،دوسری قرأت میں قَد کُذِ بُواہےاب اگرظَنُّواکی ضمیررسولوں کی طرف راجع کریں تومعنی یہ ہوگاکہ رسولوں نے گمان کیاکہ انہیں جھوٹ کہاگیا، اس صورت میں مطلب یہ ہوگاکہ رسولوں کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں جو کچھ کہاگیاتھاوہ جھوٹ تھا،اسی مطلب کو سامنے رکھتےہوئےحضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا:

معاذاللہ!اللہ تعالیٰ کے رسول اپنے رب کی نسبت یہ گمان نہیں کرسکتے۔

ام المؤمنین کاانکاراسی صورت سے متعلق ہےجب کہ ظَنُّوْاکی ضمیررسولوں کی طرف راجع کی جائے،ورنہ امام حفص کی قرأت میں قَدْ کُذِ بُوْا ذال کی تخفیف کے ساتھ ہے، اس قرأت کے مطابق ظَنُّوْاکی ضمیررسولوں کی طرف نہیں بلکہ ان کی قوم کے افراد کی طرف راجع ہے،اب ترجمہ یہ ہوگا کہ لوگوں نے گمان کیا کہ انہیں (رسولوں کی طرف سے) جھوٹ کہاگیاتھا اور اس ترجمہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔

امام احمدرضابریلوی قدس سرّہٗ العزیزنے اس آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اہلِ علم اسے پڑھ کر داد دیے بغیرنہیں رہ سکتے،ملاحظہ ہو:

یہاں تک جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہاتھا۔(کنزالایمان)

یعنی رسولوں کی مایوسی ظاہری اسباب سے نہ تھی نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اورلوگوں نے گمان کیا کہ انہیں عذاب وغیرہ کے بارے میں جھوٹ کہاگیاتھا،انبیاءکرام علیہم السلام کا دامن ِعصمت اس خیال سے ہرگزداغ دارنہ تھا۔

۶۔اسلام کے قطعی اور یقینی عقائدکو ملحوظ رکھاجائےاور انہیں ذراسی ٹھیس بھی نہ لگنے دی جائے۔ارشادربانی ہے:

فَظَنَّ اَنۡ لَّنۡ نَّقْدِرَ عَلَیۡہِ

[ پارہ17،سورۃ الانبیآء،آیت:87]

اس کاترجمہ یہ کیا گیا:پھرسمجھانہ پکڑسکیں گےاس کو۔

اس آیت میں سیدنایونس علیہ السلام کاذکرہے،ترجمہ میں ان کی طرف اس امر کی نسبت کی گئی ہے کہ انہوں نے سمجھاکہ اللہ تعالیٰ انہیں نہ پکڑسکے گا،اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا انکار ہے جس کی نسبت حضرت یونس علیہ السلام کی طرف کرناکسی طرح بھی جائزنہیں ہے، مغالطہ اس لیے پیداہواکہ قَدَ رَ۔ یَقدِ رُکااستعمال دومعنوں میں ہوتاہے۔

۔۔۔قادرہونا

۔۔۔تنگی کرنا

مترجم نے سمجھاکہ اس جگہ پہلامعنی مراد ہے جو قطعاً غلط ہے اس موقع اور عصمتِ انبیا کے مطابق صرف دوسرامعنی ہے۔

علامہ محمدبن مکرم افریقی فرماتے ہیں:

جس شخص نے اس آیت میں قدر کو قدرت سے ماخوذ مان کر کہاکہ حضرت یونس علیہ السلام نے یوں گمان کیاکہ اللہ تعالیٰ ان کو نہ پکڑ سکے گا،تویہ ناجائزہے اور اس معنی کا گمان کرنا کفر ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ظن کرناشک ہے اور اس کی قدرت میں شک کرنا کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاعلیہم السلام کو اس قسم کے گمان سے محفوظ اور معصوم رکھا ہے، ایسی تاویل وہی کرے گاجو عرب کے کلام اوراُن کی لغات سے جاہل ہوگا۔

[محمدبن مکرم افریقی،علامہ مام:لسان العرب(دارصادر،بیروت)ج۵ص۷۷]

اس تفصیل کے بعد امام احمدرضابریلوی کاترجمہ دیکھیے ایمان تازہ ہوجائے گا:

توگمان کیا(یونس علیہ السلام نے)کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے۔

ایک دوسری آیت کریمہ دیکھیے!

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمۡ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوۡدُنَّ فِیۡ مِلَّتِنَا

[ پارہ13،سورۃ ابراہیم،آیت:13]

اس کا ترجمہ اس طرح کیاگیاہے:

ان کفارنے اپنے رسولوں سے کہا کہ ہم تم کو اپنی زمین سےنکال دیں گے یا یہ کہ تم ہمارے مذہب میں لوٹ آؤ۔

لوٹ آؤ کا واضح مطلب یہ ہے کہ حضراتِ رسولانِ گرامی علیہم السلام معاذاللہ! پہلے کافروں کے مذہب میں شامل تھے،حالانکہ انبیاکرام علیہم السلام کبھی بھی کافروں کے مذہب میں شامل نہیں ہوتے۔اس جگہ مغالطے کی وجہ یہ ہے کہ عَادَیَعُودُ کااستعمال دو طرح ہوتاہے:

فعل تام:اس وقت اس کامعنی لوٹناہوگا۔

فعل ناقص:اس وقت یہ صَارَکےمعنی میں ہوگااور ہوجانے کے معنی پر دلالت کرے گا۔

پہلامعنی مناسب ہے یا دوسرا؟ظاہر ہے کہ مذکورہ ترجمہ میں پہلامعنی مراد لینے کے بناپر غلطی ہوئی ہے، جب کہ اس جگہ دوسرامعنی مراد اور موزوں ہے،اسی لیے امام احمدرضا بریلوی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیاہے:

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا ہم ضرور تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر ہوجاؤ۔(کنزالایمان)

۷۔قرآن پاک عربی زبان کاوہ شاہکارہے جو مرتبۂ اعجازپر فائزہے،کسی بھی مترجم کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اس کا ترجمہ معجزانہ کلام سے کرے،تاہم علمِ معانی اور بیان کے مسائل ومباحث سے باخبرایساترجمہ توکرہی سکتاہے جس سے اعجاز قرآنی کی جھلک دکھائی دے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ

[ پارہ01،سورۃ البقرۃ،آیت:02]

عام طورپر اس آیت کا ترجمہ کچھ اس طرح کیاجاتاہے کہ:

یہ کتاب اس میں کوئی شک نہیں ہے۔

اس ترجمےپر دوسوال واردہوتے ہیں:

ذٰ لِكَکی وضع، بعید کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کرتے ہوئےوہ کتابکہناچاہیےتھانہ کہیہ کتاب۔

اس میں کوئی شک نہیں واقع کے خلاف ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں بہت سے لوگوں نے شک کیا اور آج بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

امام احمدرضابریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ترجمہ دیکھیے جو اعجازقرآن کو واضح طور پر آشکارا کرتاہے:

وہ بلند رتبہ کتاب(قرآن)کوئی شک کی جگہ نہیں۔(کنزالایمان)

اس ترجمہ پر پہلاسوال توظاہر ہے کہ واردہی نہیں ہوتا،دوسرے سوال کا جواب بھی دے دیا کہ اگرچہ قرآن پاک کے بارے میں بہت سے لوگوں نے شک کیاہے لیکن وہ کوئی شک کی جگہ نہیں ہے،کوئی بھی منصف عاقل،عربی زبان کے اسلوب اور نزاکتوں سے واقف اس کا مطالعہ کرے تو اسے ماننا پڑے گاکہ یہ ربانی کلام ہے کسی انسان کی فکر کا نتیجہ نہیں ہے۔

۸۔جس زبان میں ترجمہ کیاجائے اس کے اسلوب اور مزاج کو پیشِ نظر رکھاجائے۔ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیۡۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا

[ پارہ28،سورۃ التحریم،آیت:12]

اس کا ترجمہ یوں کیا گیا!اور مریم بیٹی عمران کی جس نے روکے رکھااپنی شہوت کی جگہ کو۔

یہ امر محتاج بیان نہیں ہے کہ اس ترجمہ میں اردوزبان کی شائستگی اور مزاج کو ملحوظ نہیں رکھا گیا،اس کی بجائےیہ ترجمہ کتنادلکش ہے۔

اورعمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی۔

۹۔قرآن پاک میں بیان کردہ کسی بھی واقعے کی واقعی تفصیلات سے آگاہی ضروری ہے ورنہ ترجمہ کرتے وقت کہیں بھی غلطی واقع ہوسکتی ہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے:

فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیۡرِ عَنۡ ذِکْرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ﴿۳۲﴾۟

رُدُّوۡہَا عَلَیَّ ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢابِالسُّوۡقِ وَالْاَعْنَاقِ ﴿۳۳﴾

[ پارہ23،سورۃ صٓ،آیت:31]

عام طورپرمترجمین نے تَوَارَت بِالحِجَابِ کاترجمہ یہ کیاہے:

سورج چھپ گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی نمازعصرقضاہوگئی،انہوں نے گھوڑوں کو طلب کیا اور ان کی پنڈلیاں اور گردنیں کاٹ دیں۔

اس ترجمے سے دو سوال واردہوتے ہیں:

حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں کو ملاحظہ فرمارہے تھےکہ نماز قضاہوگئی، اس میں گھوڑوں کا کیا قصورتھا؟ کہ انہیں ہلاک کردیاگیا۔

گھوڑوں کی گردنیں اور ٹانگیں کاٹ کر مال کے ضائع کرنے کا کیاجواز تھا؟ یہ بھی تو ہوسکتاتھاکہ تمام گھوڑے خیرات کردیتے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس آیت کی تفسیرکرتے ہوئے فرمایاہے:

عَن ذِکرِ رَبِّی مِن ذِکرِ طَفِقَ مَسحًا یَمسَحُ اَعرَافَ الخَیلِ وعَرَاقِیبَھَا

[محمدبن اسماعیل بخاری،امام:صحیح بخاری،ج۲/ص۷۱۰]

یعنی عَن بمعنی مِن ہے،اورطَفِقَ مَسحًا کامعنی یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام گھوڑوں کی ایال (گردن کے بالوں)اور ان کے ٹخنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔

اس اقتباس سے واضح ہوگیاکہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے گھوڑوں کو ہلاک نہیں کیا تھا، جب یہ حقیقت ہی نظروں سے اوجھل ہوتو ترجمہ کیسے صحیح ہوسکتاہے؟آئیےصحیح ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:

توسلیمان نے کہامجھےان گھوڑوں کی محبت پسندآئی ہے اپنے رب کی یاد کے لیے پھر انہیں چلانے کا حکم دیایہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے۔پھرحکم دیاانہیں میرے پاس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔(کنزالایمان)

غرض یہ کہ قرآن پا ک ایسی عظیم الشان اور لافانی کتاب کاترجمہ کرناہرکس وناکس اور ہر عالم کاکام نہیں ہے،مترجم کے لیے جو امورضروری ہیں ان کا مختصر تذکرہ آپ کے سامنے پیش کیاگیاہے،اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن پاک کے پڑھنے،اسے سمجھنےاور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔اٰمین بحرمۃ سیدالمرسلینﷺ والحمدللّٰہ رب العالمین۔


متعلقہ

تجویزوآراء