حضرت عبداللہ علیہ السلام

یہ بعثت کے بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے، طیّب اور طاہر انہیں کا لقب تھا، طفولیّت میں رحلت گرائے عالمِ بقا ہوئے، عاص بن وائل سہمی نے انہیں کی وفات پر کہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا  مر گیا، وہ ابتر یعنی بے نشان ہوجائے گا، اُسی وقت یہ سورۂ کوثر  شریف نازل ہوئی جس میں یہ آیت کریمہ آئی انّ شانئک ھو الابتر یعنی اے میرے رسول جو تمہارا  دشمن ہے وہی ابتر و بے نام و نشان ہوجائے گا، اور تمہارا  نام قیامت تک بلکہ ہمیشہ تک قائم رہے گا۔ [۱] [۱۔مدراج النبوۃ جلد دوم ۱۲]

(شریف التواریخ)

مزید

Comments