Shaheed e Uhud Syedna Husail Bin Jabir

شہید غزوہ احد حضرت سیدنا حُسیل بن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:۔

       حِسل رضی اللہ عنہ(حُسَیل)بن جابر بن ربیعہ بن فروہ بن حارث بن مازن بن قطیعہ بن عبس ، المعروف یمان عبسی ، آپ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے والد ہیں۔

          آپ کے آباء و اجداد میں ایک یمان بن حارث بن قطیعہ بن عبس بن بغیض ہیں۔ اس لیے آپ ‘‘یمان’’اور ‘‘قطیعہ’’ کی نسبت سے ‘‘القطیعی’’ اور ‘‘عبس’’ کی نسبت سے ‘‘العبسی’’ بھی کہلاتے ہیں۔ یمان کا اصل نام جروہ بن حارث بن قطیعہ بن عبس ہے۔

          جروہ کو یمان کہنے کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ان سے اپنی قوم میں کسی فرد کا قتل ہوگیا تھا۔ تو یہ اپنی جان بچانے کی خاطر وہاں سے فرار ہو کر مدینہ منورہ آخر بنو عبد الاشہل کے حلیف بن گئے  تو ان کی قوم کے لوگوں نے ‘‘یمانی ’’لوگوں کے ساتھ حِلف کا معادہ کرنے کی بنا پر انہیں‘‘یمان’’کہنا شروع کردیا۔

          حذیفہ رضی اللہ عنہ کے والد جن کا نام حِسل یا حُسیل رضی اللہ عنہ تھا، وہ بھی یمان کے نام سے معروف ہوئے۔

          حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جن دونوں غزوۂ بدر ہوا۔ جنگ سے پہلے میں اور میرے والد دونوں جارہے تھے کہ کفار قریش کے ہتھے چڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جارہے ہو؟تم وہاں جا کر ہمارے خلاف جنگ میں شامل ہوجاؤ گے۔ ہمیں چونکہ ان حالات کے بارے کچھ علم نہ تھا۔ ہم نے کہا کہ ہمیں تو کسی بات کا علم ہی نہیں۔ انہوں نے ہم سے قسمیں لیں کہ ہم ان کے خلاف لڑائی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل نہیں ہوں گے۔ وہاں سے چل کر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  پاس پہنچے اور سارے احوال بیان کیے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنا کیا ہوا عہد پورا کرو اور ہمیں لڑائی میں شرکت کی اجازت نہ دی۔حِسل یعنی یمان رضی اللہ عنہ ان کا بیٹا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور صفوان رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کی معیت میں غزوۂ احد میں شریک ہوئے۔ ہز یمت کے بعد جب مشرکین نے پیچھے سے مسلمانوں پر غفلت میں ان پر حملہ کردیا اور بھگڈر مچ گئی۔ تو بعض مسلمانوں نے غلط فہمی سے حسل (یمان)کو لشکر اعداء کافر دسمجھ لیا اور لاعلمی میں ان پر حملہ کردیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ منظر دیکھا تو چِلّاتے رہ گئے کہ اللہ کے بندو ! یہ دشمن نہیں بلکہ میرے والد ہیں۔  مگر جوش میں کسی نے ان کی بات کی طرف توجہ نہ کی اور یہ مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ شرعی ضابطے کے تحت ان کے قاتلوں پر دیت کا ادا کرنا لازم آتا تھا مگر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں معاف کردیا۔

رضی اللہ عنہ و ارضاہ آمین۔

 (شہدائے بدر و احد)

 

مزید

Comments