Shaheed e Uhud Syedna Hanzala Bin Abi Aamir

غسیل الملائکہ شہید غزوہ احد حضرت سیدنا حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

نام و نسب:

          حنظلہ بن ابی عامر الراہب عمرو بن صیفی بن زید بن امیہ بن  ضیعہ۔

          جب کہ بعض اہل علم نے آپ  کا نام و نسب یوں بیان کیا ہے: حنظلہ رضی اللہ عنہ بن عمرو ابی عامر الراہب بن صیفی بن نعمان بن مالک بن امیہ بن ضبیعہ بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس بن حارثہ۔ آپ انصار کے اوس قبیلے سے ہیں۔

          آپ کا والد عمر و بن صیفی، مدینہ منورہ میں راہب کی حیثیت سے معروف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرمﷺ کو جس منصب، مرتبے اور اعزازات سے نوازا تھا۔ حنظلہ رضی اللہ عنہ کے والد ابو عامر صیفی اور رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی ابن سلول کو اس کی وجہ سے آپ سے از حد بغض  تھا۔ عبد اللہ بن ابی تو بظاہر  ایمان لے آیا البتہ اس نے اپنے نفاق کو پوشیدہ رکھا۔ جب کہ آپ کا والد ابو عامر صیفی مدینہ منورہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلاگیا اور غزوۂ احد کے موقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں شرکت کے لیے کفار قریش کا ہم نوابن کر آیا۔ تو رسول اللہﷺ نے اسے“  فاسق ابو عامر ”قرار دیا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کے ہاتھوں مکہ مکرمہ فتح کرایا تو یہ وہاں سے راہِ فرار اختیار کر کے سر زمین روم کی طرف جا کر ہر قل سے جا ملا۔ اور کفر  کی حالت میں مر گیا۔

          کنانہ بن عبد یالیل اور علقمہ بن علاثہ بھی اس کے ہمراہ روم چلے گئے تھے۔ ابو عامر کی  میراث اور ترکے کے بارے میں ان کے مابین اختلاف ہوا تو دونوں نے اپنا مقدمہ ہر قل کے سامنے پیش کیا۔ تو اس نے اس کا ترکہ کنانہ بن عبد یا لیل کو دینے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ یہ دونوں (ابو عامر اور کنانہ بن عبد یا لیل) شہری ہیں اور تم (علقمہ بن علاثہ) خانہ بدوش ہو۔

          ابو عامر  راہب، فاسق کی وفات ہر قل کے ہاں  نو یا دس ہجری میں ہوئی۔ اسی ابو عامر،  راہب، فاسق کے بیٹے کا نام حنظلہ ہے اور وہ غسیل الملائکہ کے لقب سے ملقب ہیں۔ آپ نے غزوۂ احد میں ابو سفیان بن حرب کے ہاتھوں قتل ہو کر جامِ شہادت نوش فرمایا۔  ابو سفیان کا  بیٹا غزوۂ بدر میں قتل ہوا تھا۔ آپ کو قتل کرنے کے بعد ابو سفیان نے کہا: حنظلہ کے بدلے حنظلہ (قتل ہوا)۔ بعض اہل علم کے مطابق آپ نے شداد بن اسود بن شعوب لیثی کے ہاتھوں جامِ شہادت نوش فرمایا۔

          معصب زبیری کا بیان کہ ابو سفیان نے جنگ کے دوران حنظلہ رضی اللہ عنہ کو للکارا تھا تو  حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اسے پچھاڑ کر نیچے گرالیا تھا اور اس کے اوپر چڑھ بیٹھے تھے۔ اتنے میں شداد بن اسود بن شعوب ادھر آنکلا۔ اس نے ابو سفیان کا ساتھ دیا اور حنطلہ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔

اس بارے میں ابو سفیان نے ایک طویل قصیدہ کہا، اس کا ایک بیت یوں ہے:

(ترجمہ) "اگر میں چاہتا تو سرخ گھوڑا مجھے دشمن سے نجات دلا دیتا  اور میں میدانِ جنگ سے فرار ہو جاتا اور شداد بن اسود بن شعوب کا زیرِ بارِ احسان نہ ہوتا۔"

حنظلہ رضی اللہ عنہ نے غزوہ کے لیے روانگی سے قبل اپنی اہلیہ  سے مباشرت کی تھی کہ اچانک روانگی کا اعلان ہو گیا۔ رسول اللہﷺ کے ارشاد کی تعمیل اورشوقِ جہاد کی سر شادی میں انہیں  غسل کا خیال تک نہ رہا۔ جب آپ شہادت سے سرفراز ہو چکے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولِ اکرم کو اطلاع دی گئی کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ کو فرشتوں نے غسل دے دیا ہے۔

عروہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان  ہے کہ رسول اللہﷺ نے ان کی زوجہ سے دریافت کیا کہ  غزوہ کے لیے آتے وقت حنظلہ رضی اللہ عنہ کس حالت  میں تھے تو انہوں نے بتلایا کہ وہ  جنبی تھے۔

میں نےابھی ان کے سر کی ایک جانب کو دھویا  تھا کہ انہوں نے غزوہ کے لیے روانگی کا سنا تو وہ اسی حالت  میں روانہ ہو گئے اور شہید ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے اللہ کے فرشتوں کو دیکھا کہ اسے غسل دے رہے تھے۔

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ اوس کے لوگ اظہار تفاخر  کے طور پر کہا کرتے تھے کہ ہم ایسے معزز لوگ ہیں کہ ہمارے قبیلے کے ایک فرد کو  فرشتوں نے غسل دیا ہے اور ہمارے ہی  قبیلے کا ایک فرد عاصم رضی اللہ عنہ بن ثابت بن ابی اقلح ہے جس کی شہادت کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم مبارک کو کفار کی دست بُرد سے محفوظ رکھنے کی خاطر  شہد   کی مکھیوں کا یا بھیڑوں کا پورا جھنڈ بھیج دیا تاکہ کافر ان کے جسم کی بے حرمتی نہ کر سکیں۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اس  قدر تیز  بارش  برسائی کہ بارش کا پانی ان کےجسم کو بہا لے گیا اور وہ دشمن کے ہاتھ نہ  آسکا۔

عروہ مزید کہا کرتے تھے کہ ہمارے ہی قبیلے کا ایک فرد خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جس اکیلے کی گواہی کو اللہ کے رسول ﷺ نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے۔ اسی لیے ان کا لقب "ذوالشہادتین" یعنی دو گواہیوں والا ہے۔ اور ہمارے ہی قبیلے کا ایک فرد سعد بن معاذ رضی اللہ ہے جس کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا عرش جھوم اٹھا اور اس کی نماز جنازہ میں ستر ہزار فرشتے شامل ہوئے۔

تو اس کے بالمقابل خزرج والوں نے کہا کہ ہمیں یہ شرف حاصل ہے کہ  ہمارے قبیلے کے چار ایسے خوش نصیب لوگ ہیں کہ وہ عہد رسالت میں مکمل قرآن پڑھ اور یاد کر چکے  تھے یعنی زید بن  ثابت، ابو زید ، معاذ بن جبل اور ابی  بن کعب  (رضی اللہ عنھم اجمعین)۔ ابو  عمر ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اے قبیلہ اوس کےلوگو! صرف تمہارے ہی قبیلے کے لوگ عہد رسالت میں پورا قرآن نہیں پڑھ چکے تھے بلکہ انصار کے علاوہ دیگر بہت سے مسلمان بھی عہد رسالت میں پورا قرآن یاد کر چکے تھے۔ مثلاً عبد اللہ بن مسعود، سالم مولیٰ ابی حذیفہ اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رضی اللہ عنھم اجمعین)۔

خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ ﷺ نے  دو گواہیوں کے برابر قرار دیا اور ان  کا لقب "ذوالشہادتین" ہے۔ ان کے متعلق عمارہ خزیمہ سے روایت ہے، ان کے چچا کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نے سواء بن حارث بن ظالم، بدوی سے ایک گھوڑا خریدا اور اس سے فرمایا: تم  میرے ساتھ آؤ تاکہ میں تمہیں اس گھوڑے کی قیمت  ادا کروں۔ رسول اللہﷺ تیز تیز چلے جب کہ اعرابی آپ کے پیچھے سست رفتار سے جا رہا تھا۔ کچھ لوگ اس  بدوی سے گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔ ان میں سے کسی نے رسولِ اکرم ﷺ کی لگائی ہوئی قیمت  سے زیادہ قیمت لگا دی۔ وہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ رسول اللہﷺ اس سے اس  گھوڑے کا سودا کر چکے ہیں۔ وہ لالچ میں آ گیا اس نے رسول اللہﷺ کو زور سے پُکار کر  آواز دی اور بولا: اگر گھوڑا خریدنا ہے تو  صاف صاف بات کرو ورنہ میں اسے  کسی دوسرے کے ہاتھ بیچ دوں۔ آپ نے اس  سے فرمایا: کیا میں تمہارے ساتھ اس کا سودا نہیں کر چکا؟ بدوی نے کہا: اللہ کی قسم! بالکل نہیں۔ آپ نے میرے ساتھ اس کا سودا طے نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: میں تمھارے ساتھ اس قدر قیمت کے عوض سودا طے کر چکا ہوں۔  بدوی کہنے لگا: کوئی گواہ پیش کرو۔ اتنے خزیمہ بن  ثابت رضی اللہ عنہ وہاں آگئے، ساری بات سن کر کہنے لگے: میں گواہی دیتا  ہوں کہ تو نے یہ گھوڑا رسول اللہﷺ کے ہاتھ بیچا ہے۔

نبیﷺ خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم بنیاد پر یہ گواہی دیتے ہو حالانکہ ہمارے  سودا طے کرتے وقت تو تم موجود نہ  تھے؟ انہوں نے کہا:  اللہ کے رسول! میں آپ سے آسمان کی خبریں سن کر ان کی تصدیق کرتا اور ان  کے سچے ہونے پر ایمان رکھتا  ہوں، آپ ہمیشہ حق اور سچ ہی کہتے ہیں، ہم تو اس سے بھی بڑی بڑی باتوں پر آپ کی تصدیق کرتے ہیں، آپ اس  دنیوی معاملے میں غلط بات نہیں کہہ سکتے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اکیلے خزیمہ رضی اللہ کی گواہی کو دو گواہیوں کے برابر قرار دیا۔

(سنن ابی داؤد، باب اذا علم الحاکم صدق شھادۃ الواحد یجوزنہ ان یقضی بہ، کتاب البیوع، حدیث: ۷، ۳۶،سنن النسائی، البیوع، حدیث : ۴۶۰۱، مسند احمد ۵/۲۱۵/۲۱۶)

یاد رہے کہ رسول اللہﷺ کے گھوڑوں میں سے ایک گھوڑے کا نام "المرتجز" ہے یہ وہی گھوڑا ہے جو آپ نے اس بدوی سے خریدا تھا۔

(القاموس فی باب الزاء وفصل الراء۔ مختصر سنن ابی داؤد للمنذری)

(شہدائے بدر و احد)

مزید

Comments