Sahabiyat (respected female companions of the Holy Prophet)  

بسرہ دختر صفوان بن نوفل بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب،قرشیہ اسدیہ،یہ ابو عمر اور ابو نعیم کا قول ہے،مگر ابن مندہ نے ان کا نسب یوں لکھا ہے،بسرہ دختر صفوان بن امیہ بن محرث بن خُمل بن شق بن عامر بن ثعلبہ بن حارث بن مالک بن کنانہ، مگر سلسلہ اوّل درست ہے،ان کی والدہ کا نام سالمہ دخترِ امیہ بن حارثہ بن اوقص سلمیہ اور وہ ورقہ بن نوفل کی بھتیجی تھیں، اور عقبہ بن معیط کی ماں جائی بہن،اور جناب بسرہ مغیرہ بن ابوالعاص کی زوجہ تھیں،اور دو اول...

بقیرہ،یہ خاتون مقاع بن ابو حدر اسلمی کی بیوی تھیں،ابن ابی خثیمہ کا قول ہے،کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اسلمیہ تھیں یا نہعبدالوہاب بن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے سفیان بن عینیہ سے،انہوں نے ابن اسحاق سے،انہوں نے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ، کہ انہوں نے بقیرہ سے روایت کی،حضور ِ اکرم نے فرمایا،جب تم سنو، کہ تمہارے قرب و جوار میں کوئی لشکر زمین میں دھنس گیا ہے،تو سمجھ لو کہ یہ قیامت کا سایہ ہے،تینوں نے ذکر...

بہیہ،ایک روایت میں بہیہ دختر بسر مذکور ہے،عبداللہ بن بسر مازنی کی ہمشیرہ تھیں،ان کا عرف صماء تھا،ابو زرعہ سے منقول ہے کہ انہیں وحیم نے بتایا ،کہ اس خاندان کے چار آدمی حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے،بسر اور ان کے دو بیٹے،عبداللہ اور عطیہ اور بیٹی صماء ، دارقطنی کا قول ،کہ صماء دختر بسر کا نام بہیمیہ تھا، اس خاتون نےرسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی،کہ آپ نے ہفتے کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا،لیکن فرض ر...

بہیہ دختر عبداللہ البکریہ از بکر بن وائل،یہ خاتون اپنے والد کے ساتھ دربار رسالت میں حاضر ہوئیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بیعت کی،اور مصافحہ کیا،لیکن خواتین سے صرف بیعت فرمائی،پھر آپ نے ان کی طرف دیکھا،دعا فرمائی،اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا،نیز ان کی اولاد کے لئے دعا فرمائی،چنانچہ ان کے ساٹھ اولادیں ہوئیں ، چالیس مرد تھے اور بیس عورتیں،ان میں سے بیس شہید ہوئے تھے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ...

Aljarbaa Binte Qasama

الجرباء دختر قسامہ بن قیس بن عبید بن طریف بن مالک،یہ خاتون حنظلہ بن قسامہ کی بہن اور زینب دخترِ حنظلہ کی پھوپھی تھیں، ابو عمر نے زینب کے ترجمے میں تو ان کا ذکر کیا ہے،لیکن یہاں ان کا ذکر نہیں کیا،ہاں زبیر بن ابوبکر نے ان کا ذکر کیا ہے،کہ وہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور طلحہ بن عبداللہ نے ان سے نکاح کیا اور ان سے ام اسحاق نامی ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ ...

درہ دختر ابو لہب قرشیہ ہاشمیہ،انہوں نے اسلام قبول کر کے ہجرت کی،یہ خاتون حارث بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب کی زوجہ تھیں،ان کے بطن سے عقبہ،ولید اور ابو مسلم پیداہوئے۔ محمد بن اسحاق نے نافع اور زید بن اسلم سے ،انہوں نے ابن عمر سے،انہوں نے سعید بن ابو سعید مقبری اورابن منکدرسے،انہوں نے ابوہریرہ سے،انہوں نے ابوہریرہ سے،انہوں نے عمار بن یاسر سے روایت کی کہ درہ دختر ابو لہب ہجرت کر کے مدینے آئیں اور رافع بن معلی زرقی کے مکان میں قیا...

Al Sabah Binte Hadrami

الصبعتہ دخترحضرمی،بقول جعابی حضری کا نام عبداللہ بن عمار بن ربیعہ تھا،یہ خاتون علاء بن حضرمی کی ہمشیرہ اور طلحہ بن عبیداللہ کی والدہ تھیں،جعفر نے ان کا ذکر اس حدیث میں جو عبداللہ بن رافع نے اپنے والد سے روایت کی،کیاہے،وہ بیان کرتے ہیں کہ صبعہ دختر حضرمی گھر سے نکلیں،اور میں نے انہیں اپنے بیٹے طلحہ بن عبیداللہ کو یہ کہتے سنا،کہ عثمان بن عفان کا محاصرہ سخت ہوگیا ہے،کیا اچھا ہو،اگر تو اس معاملے میں مصالحت کے لئے گفتگو کرے،تاکہ یہ مصیبت ...

Ashifaa Binte Abdullah

الشفاء دخترعبداللہ بن عبد شمس بن خلف بن صداد بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوئی قرشیہ عدویہ ام سلیمان بن ابو حثمہ،ایک روایت میں ان کا نام لیل مذکور ہے،قدیم الاسلام ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلّم سے بیعت کی،اور ہجرت کی،ان کی والدہ کا نام فاطمہ دختر ابو وہب بن عمرو بن عائد بن عمر بن مخزوم تھا،یہ خاتون عقلمند اور فاضلہ تھیں،اور حضوراکرم ان کے یہاں تشریف لایا کرتے تھے،انہوں نے آپ کے لئے ایک بستر اور چادر رکھی ہوئی تھی،جس میں ...

As Samaa Binte Basar

الصماء دختر بسرمازینہ از بنومازن بن منصور،عبداللہ بن بسرکی بہن تھیں،یہ ابوعمر کا قول ہے،ایک روایت میں صماء دختر بسر ہے،بقول ابو نعیم پہلی روایت درست ہے،ابراہیم بن محمد وغیرہ باسنادہم ابوعیسٰی سلمی سے ،انہوں نے حمید بن مسعدہ سے،انہوں نے سفیان بن حبیب سے ،انہوں نے ثوربن یزید سے انہوں نے خالد بن معدان سے،انہوں نے عبداللہ بن بسر سے،انہوں نے اپنی بہن سے روایت کی،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم نے فرمایا،بیعت کے دن سوائے فرضی روزے کے تم رو...

ضباعہ دختر حارث انصاریہ،ام عطیہ کی ہمشیرہ ،ان سے ام عطیہ نے آگ پر پکی ہوئی چیز کے کھانے سے،ترکِ وضوکی روایت کی،ابوعمر نے ان کا مختصراًذکر کیا ہے،لیکن ابن مندہ اور ابو نعیم نے ترجمہ مفردہ میں ان کا ذکر نہیں کیا،بلکہ ان کا ذکر اس حدیث میں کیاہے،جس میں آگ پر پکّی ہوئی اشیاء کے کھانے پر ترکِ وضو کا ذکر ہے،اور اسی حدیث میں اشتراط فی الحج کا ذکر ہے،ہم اس کا ذکر کریں گے۔ ابو نعیم نے طبرانی سے،انہوں نے علی بن عبدالعزیز سے،انہوں نے خل...