Sahabiyat (respected female companions of the Holy Prophet)  

Arvi Binte Rabia

اروی دختر ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب،جو یحییٰ اور واسع پسران حسبان منقذ کی والدہ تھیں، ان کی حدیث عطاف بن خالد نے اپنی والدہ سے،انہوں نے اپنی والدہ اروی سے سنی،عبدالقدوس بن ابراہیم نے عطاف بن خالد سے ،انہوں نے اپنی والدہ سے،اور انہوں نے ان کی والدہ اثیمہ سے،جو عطاف کی دادی اروی تھیں،ابو نعیم کے بقول وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئیں، جب وہ ابھی چھوٹی عمرکی بچی تھیں۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے،لیکن ابو عمر نے اپنے ...

Arvi Binte Abul Aas

اروی رضی اللہ عنہا،دختر ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس،بقول جعفر یہ ان عورتوں میں سے تھیں، جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی،جعفر نے باسنادہ زاہر سے ،انہوں نے ابنِ اسحاق سے روایت کی،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیاہے،اس نسب سے معلوم ہوتا ہے،کہ یہ خاتون حضرت عثمان اور مروان کی پھوپھی تھیں۔ ...

Arvi Binte Abdul Mutalib

اروی رضی اللہ عنہا،دختر عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف قریشیہ ہاشمیہ،رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں،ابو جعفر نے انہیں اور ان کی بہن عاتکہ کو صحابیات میں شمار کیا ہے،ان کے علاوہ اور کوئی بھی اس کا قائل نہیں ابن اسحاق او ر ان کے ہمنوا کہتے ہیں،کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھیوں میں سے سوائے صفیہ اور ایمان لائی تھیں،محمد بن حارث بن تیمی کا قول ہے،کہ جب طلیب بن عمری اسلام لائے،تو اپنی والدہ اروی کی خدمت میں ...

Arvi Binte Kareez

اروی دختر کریز بن عبد شمس،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا نسب یہی لکھاہے،لیکن صحیح یوں ہے، کریز بن ربعیہ بن عبد شمس،یہ خاتون حضرت عثمان کی والدہ تھیں،اور ان کی والدہ ام حکیم بیضادختر عبدالمطلب تھیں ،جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پھوپھی تھیں،ان کی وفات حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی۔ یحییٰ بن محمودنے اجازۃً باسناد ہ تا ابوبکر بن ابی عاصم،انہوں نے عبداللہ بن شبیب سے،انہوں نے ابراہیم بن یحییٰ بن ہانی سے،انہوں...

اسماء دختر حارث،جو خطاب مخزومی کی بیوی تھیں،زیاد بن عبداللہ نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ قبولِ اسلام بہ موقعہ فتح مکہ خطاب مخزومی اور ان کی بیوی اسمأ دخترِ حارث کا نام لیا ہے،ابوموسیٰ نے کتابتہً انہوں نے ابوعلی سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے ابراہیم بن یوسف سے،انہوں نے زیاد بن عبداللہ بکائی سے،انہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی،ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے ذکرکیا ۔ ...

اسماء دختر شکل ،یحییٰ بن محمود نے باسنادہ مسلم بن حجاج سے،انہوں نے یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ سے،انہوں نے ابوالاحوص سے،انہوں نے ابراہیم بن مہاجر سے،انہوں نے صفیہ دخترِ شیبہ سے،انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی،کہ اسماء دختر شکل حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور دریافت کیا،یا رسول اللہ ہمیں بعد از اختتام حیض،غسل،طہارت کس طرح کرنا چاہئیے،پھر حدیث بیان کی۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے،ابو علی نے بھ...

اسماء دخترالصلت سلمیہ،ان کے متعلق اور ان کے نام کے متعلق اختلاف ہے،احمد بن صالح مصری نے اسماءدختر صلت سلمیہ لکھاہے،جو ازواجِ مطہرات سے تھیں،قتادہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، ابنِ اسحاق نے اسماء دختر صلت سلمی لکھاہے،جن سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا، اور پھر طلاق دے دی،علی بن عبدالعزیز جرجانی کے بقول ان کا نام اور نسب یوں تھا،سناء دختر صلت بن حبیب بن حارثہ بن ہلال بن حرام بن سماک بن عوف بن امراءالقیس بن بہہ بن سلیم سلمیہ،حضور...

اسماء دختر سلمہ،ایک روایت میں سلامہ بن محزمہ بن جندل بن ابیر بن نہشل بن وارم تمییہ دارمیہ مذکور ہے،بقولِ ابو عمران کی کنیت ام الجلاس تھی،ابنِ مندہ اور ابو نعیم نے ان کانام اسماء دخترِ محزبہ تمییہ لکھا ہے،وہ جلاس اور عیاش کی والدہ تھیں،یہ دونوں ابو ربعیہ کے بیٹے تھے،ان سے عبداللہ بن عیاش اور ربیع دخترِ معوذ نے روایت کی،اور ابن مندہ اور ابو نعیم نے عبداللہ بن حارث کی وہ حدیث روایت کی،جو انہوں نے عبداللہ بن عیاش بن ابو ربعیہ سے روایت کی...

اسماء،مقینۂ عائشہ،جعفر مستغفری نے ان کا ذکر کیا ہے،(مقینہ کے معنی مشاطہ کے ہیں ،جو دلہن کا بناؤسنگار کرتی ہے)اور لکھا ہے،بشرطیکہ ان کی روایت کردہ حدیث درست ہو۔ ولید بن مسلم نے اوزاعی سے،انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے،انہوں نے کلاب بن تلاد سے،انہوں نے اسماء سے جو جناب عائشہ کی مشاطہ تھیں،روایت کی ،کہ جب ہم نے جناب عائشہ کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلوت کے لئے بٹھایا،تو جلد ہی رسولِ کریم تشریف لے آئے،اور دودھ اور کھجور ہ...

اسماء دخترعمروبن عدی بن تابی بن سواد بن غنم بن کعب بن سلمہ،ام امنیع انصاریہ سلمیہ ،یہ ان خواتین سے ہیں،جنہوں نے عقبہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی،یہ معاذ بن جبل کی عمہ زاد بہن تھیں۔ عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری نے اپنے والد کعب سےروایت کی،جو بیعت عقبہ میں موجود تھے، ان کاکہنا ہے،کہ ہم عقبہ کے پاس ایک گھاٹی میں بیعت کے لئے جمع ہوئے،تعداد میں ستّر مرد تھے، اور دوعورتیں ایک نسیبنہ دختر کعب ام عمارہ تھیں،اور دوسری اس...