Mashaikh-e-Qadria  

نام شاہ محمد، کنیت اخوند، لقب لسان اللہ تھا۔ والد کا نام ملّا عبدی۔ جائے ولادت موضع ارکسان، ضلع روستاق۔ علاقہ بدخشاں۔ اوائل عمر ہی طلبِ حق کے لیے وطن سے نکلے۔ پہلے کشمیر آئے۔ یہاں تین سال رہے پھر ہندوستان کا قصد کیا۔ لاہور سے گزر کر آگرہ کو چلے گئے۔ راستہ میں حضرت میاں میر کے حالات سنے۔ اُن سے ملاقات کرنے کے لیے لاہور کا قصد کیا۔مگر رفقاء سفر نے نہ چھوڑا۔ مجبوراً آگرہ پہنچے۔ جستجوئے مرشد میں اِدھر اُدھر پھرے مگر مایوس ہو کر لاہور آئے اور حضرت میا...

شیخ رنگ بلاول کے مرید و خلیفہ تھے۔ مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔ رسولﷺ کے قدم شریف کا نقش جو انہیں اپنے مشائخ سے دست بدست ملا تھا۔ اُس کا روضہ لاہور میں بنوایا تھا۔ حرمین شریفین کی زیارت سے سات بار مشرف ہوئے تھے۔ اِن کا ایک دوست غلام رسول نامی سوداگر تھا اس نے بھی ارادۂ حج کیا اور آپ سے رخصت حاصل کرنے کے لیے حاضر ہُوا۔ آپ نے اجازت نہ دی۔ فرمایا: میں نے سات حج کیے ہیں جو سب کے سب مقبول ہیں اُن میں سے ایک کا ثواب تجھے بخشتا ہُوں۔ اُس نے عرض...

اپنے عہد میں جامع کمالات صوری و معنوی تھے۔ سلسلۂ قادریہ میں اپنے والدِ ماجد سے بیعت تھے۔ ماہِ جمادی الاخریٰ ۱۰۴۱ھ میں پیدا ہوئے اور ۹؍ رجب ۱۱۰۷ھ میں وفات پائی۔ مزار تکیہ املی والا لاہور میں ہے  حضرت جعفر شہِ دنیا و دیں مولدش ’’افضل مکمل‘‘ شدعیاں ۱۰۴۱ھ   سیّد اکبر مقدس متقی رحلتش ’’جعفر مقدس متقی‘‘ ۱۱۰۷ھ ...

سید بہاءالدین بہاول شیر کی اولادِ امجاد سے تھے۔ حضرت صفی الدین سیف الرحمٰن کی کوئی اولادِ نرینہ نہ تھی اور اس وقت تمام خاندان میں آپ ہی جوہرِ قابل تھے اس لیے متفقہ طور پر سجادہ نشین مقرر ہوئے۔ ذاتی فضل و کمال کے باعث اپنے عہد کے مشائخ قادریہ میں ممتاز الوقت تھے۔ صاحبِ تذکرہ حضراتِ حجرہ لکھتے ہیں۔ شیخ اشرف لاہوری جو صاحبِ دعوتِ اسمائے الٰہی اور امرائے عالمگیری سے تھے انہوں نے رؤ سائے قوم کھو کھر میں سے ایک شخص کی حسین و جمیل دختر کے ساتھ نکاح کرنا...

حضرت شیخ سید عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم قدس سرہٗ کی اولادِ امجاد سے ہیں۔ آپ کے آباؤاجداد میں سے سید یعقوب بعہدِ ابوالفتح مبارک[1] شاہ ایران سے ہندوستان آئے اور ملتان میں سکونت اختیار کر کے درس و تدریس کا شغل اختیار کیا۔ ان کی اولاد میں سید انجم الدین نے اپنے علمی فضل و کمال کے باعث بڑی شہرت پائی۔ ۹۳۴ھ میں دہلی آئے۔ باب کے دربار میں عزت و منزلت پائی۔ ان کے پڑوتے سیّد نظام الدین دہلی نے نقلِ مکانی کرکے لاہور آگئے، ان کے فرزند ملّا بایزید اپنی فضی...

عالم و فاضل، متوکل و متورع تھے۔ ریاضت و عبادت اور تجرید و تفرید میں شہرۂ آفاق تھے۔ تمام زندگی دائم الصوم اور قائم الّیل رہے۔ ان کے والدِ ماجد جب حج کے لیے جانے لگے تو انہیں نصیحت کی: اے فرزند گھر سے باہر نہ نکلنا۔ اپنے گھر ہی میں مصروفِ عبادت رہنا۔ چنانچہ اس نصیحت پر تمام عمل کیا۔ ایسے خانہ نشین ہوئے کہ مر کر ہی گھر سے نکلے۔ اورنگ زیب عالمگیر کو آپ سے بڑی عقیدت تھی۔ اکثر حاضرِ خدمت ہو کر فیوض و برکات حاصل کرتا تھا۔ ایک دفعہ نقد و جنس و جاگیر پیش ...

حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے اکابر مریدوں اور خلیفوں میں سے تھے۔ اصلی وطن کابل تھا۔ طلبِ خدا میں ہندوستان آکر حضرت نوشاہ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے تھے۔ ابتدا میں کچھ عرصہ عالمگیری[1] حکومت کے ملازم بھی رہے۔ پھر کلی طور پر ترکِ علائق اختیار کرلی۔ صاحبِ جزب و سکر اور عشق و محبت تھے۔ طبیعت میں بڑا سوز و گداز تھا۔ صاحبِ تذکرہ نوشاہی فرماتے ہیں کہ خواجہ فضیل صاحب کابل میں ’’وصی‘‘ کے لقب سے ملقب تھے۔ جس فاسق و فاجر پر حالتِ...

اپنے والد بزرگوار سیّد عبداللہ گیلانی کے فرزند اور مرید خلیفہ تھے۔ آپ کے جد امجد سیّد محمود بغداد سے نقلِ مکانی کر کے ہندوستان آکر ٹھٹھہ(سندھ) میں قیام پذیر ہو گئے۔ اِن کی وفات کے بعد سید حسن پشاور آکر مقیم ہوگئے۔ آپ صاحبِ فضل و کمال بزرگ تھے۔ زہد و ورع اور عبادت و ریاضت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ آپ کی زوجہ سیّد علی ہمدانی کی اولادِ امجاد سے تھیں جو اپنی بزرگی و عظمت میں رابعہ ثانی تھیں۔ آپ نے بڑی سیر و سیاحت کی تھی اور اکابر مشائخ سے فیوض و بر...

آپ سادات عظام اور شرفاء کرام میں سے تھے اور حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے یارانِ کبار اور محبانِ غم خوار اور خلفائے باوقار اور خدام نامدار میں سے تھے۔ مرشد کی اِن پر بڑی نظرِ ِعنایت رہاکرتی تھی۔ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ صرف دو شخص طلبِ خدا کے لیے میرے پاس سچّی نیت سے آئے ہیں۔ ایک محمد صالح اور دوسرے محمد صادق چھینہ ان دونوں دوستوں نے ہم سے کافی فیض حاصل کیا ہے۔ محمد صالح نے بقول صاحبِ ’’تذکرہ [1] نوشاہی‘‘ ۱۱۱۸ھ میں وفات پ...

اپنے والد بزرگوار سیّد عبداللہ گیلانی کے فرزند اور مرید خلیفہ تھے۔ آپ کے جد امجد سیّد محمود بغداد سے نقلِ مکانی کر کے ہندوستان آکر ٹھٹھہ(سندھ) میں قیام پذیر ہو گئے۔ اِن کی وفات کے بعد سید حسن پشاور آکر مقیم ہوگئے۔ آپ صاحبِ فضل و کمال بزرگ تھے۔ زہد و ورع اور عبادت و ریاضت میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ آپ کی زوجہ سیّد علی ہمدانی کی اولادِ امجاد سے تھیں جو اپنی بزرگی و عظمت میں رابعہ ثانی تھیں۔ آپ نے بڑی سیر و سیاحت کی تھی اور اکابر مشائخ سے فیوض و بر...