Mashaikh-e-Qadria  

پنجاب کے طبقۂ امراء سے تھے۔ ترکِ علائق کر کے راہِ سلوک میں قدم رکھا اور شاہ سردار قادری﷫  کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوکر تکمیلِ سلوک کی اور خرقۂ خلافت پایا۔ مرشد کے کامل تریں اور فاضل تریں خلفاء سے تھے۔ وفاتِ مرشد کے بعد سجادہ نشین ہُوئے اور تمام عمر ارشاد و ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۲۵۴ھ میں وفات پائی۔ جنابِ شیخ مسلم خان والا چوں تاریخِ وصالِ او بجتم   بہ جنّت رفت زیں دنیائے پر شور ندا آمد ز دل ’’محبوب منظور‘&l...

عبدالوہاب نام، متقی لقب، والد کا نام شیخ ولی اللہ تھا۔ اصل وطن مالوہ تھا۔ ان کے والد ہندوستان کے اکابر صوفیا و صلحا سے تھے۔ حوادثِ زمانہ نے ترکِ وطن پر مجبور کیا۔ برہان پور آگئے، یہیں فوت ہوئے۔ شیخ عبدالوہاب کو چھوٹی عمر ہی میں سلوک و معرفت اور سیر و سیاحت کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ بیس سال کی عمر میں وطن سے نکلے۔ گجرات، دکن، سراندیپ سے ہوتے ہوئے مکہ معظّمہ پہنچے۔ یہاں حضرت شیخ<href="#_ftn1" name="_ftnref1" title="">[1] علی متقی چشتی قادری شاذل...

حضرت شیخ بہلول دریائی کے مرید و خلیفہ تھے۔ ان کا دادا کلجس رائے ہندو تھا اور فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مُسلمان ہوا تھا۔ حسین کا باپ عثمان نامی دین دار آدمی تھا۔ بافندگی پیشہ تھا۔ شیخ حسین ۹۴۵ھ میں پیدا ہوئے۔ سات برس کے ہوئے تو لاہور کے ایک فاضل حافظ ابو بکر کے حلقۂ درس میں شامل ہوکر قرآن شریف حفظ کرنا شروع کیا۔ چھ سات پارے حفظ بھی کر لیے تھے اور کچھ دینیات میں بھی استعداد بہم پہنچالی تھی کہ اسی اثنا میں شیخ بہلول واردِ لاہور ہُوئے۔ ایک روز شیخ اب...

اپنے زمانے میں مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔ سکونت اکبر آباد میں تھی۔ صاحبِ فضل و کمال تھے۔ علم و عمل، زہد و تقوٰی، ریاضت و عبادت میں لاثانی، صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ تمام عمر درس و تدریس میں گزاری۔ ۱۰۵۰ھ میں وفات پائی۔ مزار اکبرآباد میں ہے۔...

آپ حضرت شاہ سلیمان قادری﷫ کے اکابر خلیفوں سے تھے۔ آپ مادرزادولی اللہ، صاحب جذب اور صحو و سُکر اور محبت و عشق اور شوق و ذوق اور زہد و ریاضت تھے۔ ولایت کے بادشاہ اور صاحبِ خوارق و کرامات تھے۔ طریقہ نوشاہیہ قادریہ کے امام اور پیشوا تھے۔ فقر میں مقاماتِ بلد اور شانِ ارجمند رکھتے تھے۔ آپ کے والد بزرگوار حاجی علماءالدین بڑے عابد بزرگ تھے۔ سات(۷) حج کیے ہوئے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بی بی جیونی موضع گھوگا نوالی میں سکونت رکھتی تھیں۔ جب آپ بی بی جیونی کے ش...

شیخ کبیر بابا فرید گنج شکر کی اولاد امجاد سے ہیں۔ سلسلۂ چشتیہ میں اپنے والد ماجد کے مرید و خلیفہ تھے نیز حضرت سید مبارک حقانی گلیانی اوچی﷫ سے بھی اخذِ فیض کیا تھا اور خرقۂ خلافت پایا تھا۔ روایت ہے: جب آپ حضرت سید مبارک حقانی﷫ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آئے تو وہ اس انتہائے استغراق اور جذب و سکر میں صحرائے لکھی میں مراقبہ و مجاہدہ میں مشغول تھے۔ اس حالت میں کسی کو اُن کے سامنے جانے کی تاب نہ ہوتی تھی۔ جب شیخ چشتی وہاں پہنچے تو خدام نے انہیں حضرت...

سید بہاول شیر گیلانی حجروی﷫ کے فرزندِ ارشد تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی ہی سے پائی تھی۔ تمام بھائیوں میں علومِ ظاہری و باطنی میں درجۂ کمال رکھتے تھے۔ ان کے خُسرشاہ کمال بخاری﷫ بھی جن کا مزار قصبۂ چونیاں میں ہے اور پیرِ جہانیاں کے خطاب سے مشہورِ زمانہ ہیں۔ اپنے عہد کے کامل و اکمل بزرگ گزرے ہیں۔ جب آپ کے پدر بزرگوار نے رحلت فرمائی تو اتفاق سے آپ اس وقت حجرہ میں نہیں تھے۔ آپ کے غیر حاضری ہی میں انھیں دفن کردیا گیا۔ جب آپ سفر سے واپس آئے تو دی...

باپ کا نام سید ابدال بن سیّد نصر تھا۔ سید عبدالرزاق فرزندِ حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم﷜ تک سلسلۂ نسب منتہی ہوتا ہے۔ عالم و فاضل اور صاحب حال و قال بزرگ تھے۔ قلعۂ رتہوڑ میں سکونت رکھتے تھے۔ صاحبِ اخبار لاخیار لکھتے ہیں: سب سے پہلےسیّد اسماعیل﷫ کے بزرگ ہندوستان میں تشریف لائے۔ ان سے پہلے حضرت غوثیہ کی اولاد میں سے کسی نے ہندوستان کی جانب رُخ نہیں کیا تھا۔ اگر کیا بھی تھا تو قیام نہیں کیا تھا۔ آپ کی ذاتِ بابرکات سے ایک خلقِ کثیر نے علم و ہ...

بقول صاحب اخیار الاخیار سیّد محمد  بن سیّد زین العابدین بن سیّد عبدالقادر ثانی اوچی کے فرزند تھے۔ اپنے بھائیوں کے ساتھ لاہور آکر سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ اپنے زمانے کے مقتدائے عالَم تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ ۹۹۴ھ میں دیارِ بنگال میں وفات پائی۔ الہ بخش آں ولیٔ دینِ احمد بجتم از خرد سالِ وصالش   ز دنیا شد چو در خلدِ معلّیٰ ز فیاضِ زمانہ گشت پیدا ۹۹۴ھ ...

سلسلۂ قادریہ کے مشائخ سے ہیں۔ سیوستان وطن تھا۔ اپنے زمانے کے صاحب کمال و یکتائے روزگار بزرگ گزرے ہیں۔ عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ اور فقر و استغنا میں بے مثال تھے۔ تجرید و تفرید کا یہ عالم تھا کہ تمام عمر آبادی سے دُور ایک ویرانہ میں یادِ الٰہی میں بسر کردی۔ قوت لایموت جنگل کے درختوں اور پتوں سے حاصل کرتے۔ یا کبھی تنور میں اپنے لیے ایک آدھ روٹی پکالیتے تھے۔ لباس صرف ایک تہ بند اور چادر تھا جس سے سر اور جسم ڈھانپ لیتے تھے۔ جو تنور بنا رکھا تھا اُسے...