Mashaikh-e-Qadria  

مولانا حافظ برخوردار﷫  کے دُوسرے فرزند ارجمند تھے۔ صاحب علم و فضل تھے۔ فنِ طبابت میں بھی مہارتِ کامل رکھتے تھے۔ ظاہری و باطنی طور پر مریضوں کی خبر گیری بھی کیا کرتے تھے۔ نقل ہے کہ جب آپ کے والد مولانا حافظ محمد برخوردار نے آپ کی شادی کرنے کے بعد شیخ سعد اللہ اور نصرت اللہ دونوں بھائیوں کو اپنے اپنے گھروں میں الگ کیا تو شیردار بھینس شیخ نصرت اللہ کو دی اور اس کا بچّہ (کٹّا) شیخ سعداللہ کو عطا فرمایا۔ یہ بات آپ کو گراں گزری اور عرض کیا: یا تو ...

سید شاہ سردار کے کامل و اکمل مرید و خلیفہ تھے۔ اپنے عہد میں علم و عمل، زہدو تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں ممتاز تھے۔ وفاتِ مرشد کے بعد سجادہ نشین ہوئے اور چھ سال تک درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ آپ کے حلقۂ درس سے پانچ سوحافظ، حفظِ قرآن کی نعمت سے مالا مال ہوکر نکلے۔ ۱۱۹۰ھ میں وفات پائی۔ مزار بابک وال میں ہے۔ چوں مصاحب بہ رحمتِ باری! جو وصالش ز ’’میر نعمت فقر‘‘ ۱۱۹۰ھ   یافت دربار گاہِ جنت بار! بارِ دی...

میر محمد شاہ نام، عبدالرزاق لقب تھا۔ جامع علومِ ظاہری و باطنی تھے۔ زہدو تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں وحید العصر اور تجرید و تفرید میں فرید الدہر تھے۔ کشف و کرامت میں بڑے اخفا سے کام لیتے تھے۔ بے حد مستغنی المزاج تھے۔ دنیا و اہلِ دنیا سے کچھ واسطہ نہ تھا۔ بقول صاحب اسرار الاولیاء ۱۱۸۴ھ میں وفات پائی۔ مزار حجرہ میں ہے۔ چار فرزند شاہ صدرالدین الملقب بہ شیرِ خدا، شاہ سعد الدین ثابت قدم، شاہ سیف الدین، شاہ طالب الدین اولاد سے تھے۔ شاہ سیف الدین حیاتِ و...

صاحبِ علم و عمل تھے۔ سخاوت و شجاعت، عبادت و ریاضت اور زہد و ورع میں مقامِ بلند اور درجۂ ارجمند رکھتے تھے۔ آپ کے آستانۂ عالیہ پر جو آتا تھا، محروم نہ جاتا تھا ایک خلقِ کثیر نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ شوقِ شہادت بیحد تھا۔ اسی شوق میں سپاہ گری کا پیشہ اختیار کرلیا تھا۔ کفار سے اکثر معرکہ آرا رہتے تھے۔ ۱۱۹۰ھ میں وفات پائی۔ مزار حجرہ میں ہے۔ قطعۂ تاریخِ ولادت و وفات: صدرِ عالم صدرِدیں صدر الصدور جلوہ گر شد از خرد ’’مہتاب خلد‘‘ ...

علم و فضل، صدق و صفا اور جُو دو سخا میں شہرۂ آفاق تھے۔ تمام عمر ظاہری و باطنی جہاد میں مصروف رہے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کی ذاتِ گرامی سے اکتسابِ فیض کیا۔ آپ تمام عمر درس و تدریس اور اشاعتِ دین متیں میں مصروف رہے۔ بقول صاحبِ اسرار الاولیاء ۱۱۹۵ھ میں وفات پائی۔ مزار حجرہ میں ہے۔ باسعادت شدر چو ازدارِ فنا ’’گوشۂ فیض‘‘ است تاریخش دگر ۱۱۹۵ھ   اسعدِ دورِ زماں شیخِ ظہور! سید الابرا ہادئ شمعِ نور ۱۱۹۵ھ ...

مشائخ قادریہ میں مرد صالح و مجیب الدعوات گزرے ہیں۔ سیّد صدرالدین بن سید عبدالرزاق صاحبِ حجرہ کے مرید خلیفہ تھے۔ حسنِ سیرت اور حسنِ صورت دونوں کے جامع تھے۔ ترکِ علائق، تجرید و تفرید اور عبادت و ریاضت میں مشہورِ زمانہ تھے۔ ایک خلقِ کثیر آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل تھی۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایت و تلقین میں مصروف رہے۔ ۱۲۱۵ھ میں وفات پائی۔ دو فرزند سیّد غلام نبی اور سیّد غلام علی اولاد سے تھے۔ دونوں صاحبزادے عابد و زاہد اور صاحبِ کرامت تھے۔ رف...

عالم و عامل اور عارفِ کامل تھے۔ زہد و تقویٰ، اور عبادت و ریاضت میں یگانۂ آفاق تھے۔ دعوتِ اسمائے الٰہی میں کامل و اکمل تھے۔ روزانہ خرچ اللہ تعالیٰ کے خزانۂ غیب سے حاصل ہوتا تھا۔ جو کوئی بھی حاضرِ خدمت ہوتا، محروم نہ جاتا۔ ۱۲۲۰ھ میں وفات پائی۔ وطن موضع لکھوال ضلع گجرات تھا۔ مزار لاہور میں ہے۔ حضرت مولانا مفتی غلام سرور رقم طراز ہیں: آپ کے نواسہ سیّد محمد شاہ گیلانی صاحبِ علم و فضل او مظہرِ کمالاتِ ظاہری و باطنی ہیں۔ کئی دفعہ شرفِ ملاقات حاصل ہوچکا ...

ترکِ علائق میں بے مثال اور اخلاقِ محمّدی کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ موضع لکھوال ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔ طویل عرصہ تک حضرت شیخ مخدوم سید علی ہجویری﷫ داتا گنج بخش کے مزارِ قدس پر معتکف رہے اور بے اندازہ فیوض و برکات حاصل کیے۔ پھر بہ ایمائے باطنی لاہور ہی میں مقیم ہوگئے اور تادمِ زیست ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۲۲۱ھ میں وفات پائی۔ چو از روئے ز میں مانندِ خورشید بیاں شد ’’فاضلِ برحق‘‘ وصالش ۱۲۲۱ھ   نہاں شد میر ش...

ساداتِ گیلان سے ہیں۔ سلسلۂ طریقت بھی حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم﷫  تک پہنچتا ہے۔ صاحبِ علم و عمل تھے۔ ۱۲۱۷ھ میں احمد آباد دکن سے لاہور آکر اپنے لیے ایک مختصر سی جگہ دریائے راوی کے کنارے تجویز کر کے سکونت اختیار کرلی تھی۔ شب و روز عبادت و ریاضت اور درس و تدریس میں مصروف رہتے تھے۔ نقل ہے ایک دفعہ دریا میں طغیانی آئی کہ پانی شہر لاہور کی فصیل تک پہنچ گیا حتّٰی کہ آپ کی خانقاہ بھی گرنی شروع ہوگئی۔ رنجیت سنگھ حاکمِ لاہور و پنجاب نے ...

اپنے عالی مرتبت والد حضرت محمد عظیم﷫ کے شاگرد اور مرید و خلیفہ تھے۔ پدر بزرگوار کے فیضِ نظر سے صاحبِ علم و فضل و خوارق و کرامت تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ سے استفادہ کیا۔ نقل ہے ایک دفعہ موسمِ برسات میں دریائے راوی بڑی طغیانی پر تھا۔ امواجِ دریاشہر لاہور کی فصیل سے ٹکرا رہی تھیں۔ حتّٰی کہ کشتی میں سفر کرنا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔ انہی ایّام میں حضرت سید علی ہجویری داتا گنج بخش کا سالانہ عرس آگیا۔ آپ نے اپنے مرید عمر الدین سے کہا: آج ہمیں عرس پر ج...