Mashaikh-e-Qadria  

حضرت حاجی محمّد نوشاہ گنج بخش ﷫ کے کبار خلیفوں سے تھے۔ آپ کی ذات پر مرشد کی توجہ و التفات بے حد و نہایت تھی جیسی کسی دوسرے خلیفے کے حال پر نہ تھی۔ یہی سبب تھا کہ آپ عرفان و حقیقت شناسی کے مقامِ اعلیٰ پر فائز ہُوئے۔ مرشد کو آپ پر اس قدر اعتماد تھا کہ اپنے مریدوں کو تہذیب و تکمیل کے لیے آپ کے سپرد کردیتے تھے اور یہ سلسلہ حضرت نوشاہ گنج بخش کی وفات کے بعد بھی جاری رہا کہ حضرت نوشاہ عالی جاہ کے بہت سارے خلیفے شیخ عبدالرحمٰان کی خدمت سے تکمیل کو پہنچے...

والد کا نام پیر محمد تھا۔ قوم کے باغبان تھے۔ لاہور سے نقلِ مکانی کر کے قصور جارہے تھے شاہ عنایت بھی قصور ہی پیدا ہوئے۔ یہیں ابتدائی تعلیم و تربیت پائی۔ قرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تکمیلِ علوم کے لیے قصور سے نکلے۔ لاہور پہنچ کر حضرت شاہ محمد رضا قادری شطاری لاہوری﷫  کے حلقۂ درس میں شامل ہُوئے۔ استاد کی زبردست شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہی کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ کی بیعت کر کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر تکمیلِ سلوک ...

مشائخ نوشاہیہ قادریہ میں اپنے فضل و کمال کے باعث بڑے عظیم المرتبت بزرگ گزرے ہیں۔ آپ نہایت بزرگ اور عابد و زاہد صاحبِ شوق تھے۔ ذوقِ وجد و سماع سے بھی معمور تھے۔ حضرت نوشہ گنج بخش صاحب﷫  کے مرید و خلیفہ اور داماد تھے۔ حضرت نوشہ صاحب کی دختر حضرت سائرہ ان کے نکاح میں تھیں۔ آپ کے چار فرزند تھے: ایک شیخ تاج الدین جواہل معرفت کے سر کے تاج تھے اور باطنی فیض شیخ نور محمد﷫  سے پایا۔ خواب میں حضرت ابو بکر صدیق﷜ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ دو دم شیخ ہد...

آپ حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے ہمدم یاروں اور محرم راز دوستوں اور مشہور خلیفوں سے تھے قاضی صاحب پہلے قصبۂ وزیرآباد میں عہدۂ قضا پر مامور تھے۔ پھر ترکِ علائق کر کے حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش﷫  کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر سلسلۂ قادریہ نوشاہیہ میں تکمیل پاکر خرقۂ خلافت سے سرفراز ہُوئے۔ اپنے علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں شہرۂ آفاق تھے۔ صاحبِ ذوق و شوق اور عشق و محبّت اور وجد و تواجد ہوگئے۔ مرشد کی وفات کے بعد...

مولانا حافظ محمد برخوردار کے فرزند ارجمند تھے اور حضرت شاہ حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے پوتے تھے۔ حضرت شیخ عبدالرحمٰن المشہور پاک سرہٗ سے تربیت و تکمیل پائی تھی۔ صاحب فضل و کمال تھے۔ حالتِ استغراق کا غلبہ رہتا تھا۔ گیارہ سال تک طعام نہیں کھایا۔ صائم الدہر اور قائم الیل تھے۔ صاحبِ تذکرہ نوشاہی بختاور نامی ایک شخص کی زبانی جو موضع ٹھٹھہ عثمان کا مقدم تھا، بیان کرتے ہیں کہ شیخ عنایت اللہ زیادہ تر اپنی زرعی اراضی پر رہا کرتے تھے اور وہاں اپنے رہنے کے ل...

سلسلۂ قادریہ میں عظیم القدر بزرگ گزرے ہیں۔ حضرت شیخ سعدی شاہ کے مرید و خلیفہ تھے عجیب و غریب احوال و مقامات کے مالک تھے۔ مجذوبوں میں مجذوب اور سالکوں میں سالک تھے۔ طبع عالی پر جذب و سُکر اور عشق ع محبّت کا غلبہ طاری رہتا تھا۔ قدرت نے آنکھیں بڑی خوبصورت دی تھیں اس لیے بارگاہِ مرشد س مرگ نینی یعنی آہُو چشم کا خطاب حاصل تھا۔ ۱۱۵۸ھ میں دفات پائی۔ مزار لاہور میں ہے شاہ نواز خاں صوبہ دار لاہور نے آپ کا مزار تعمیر کرایا تھا۔ چو سلطانِ دنیا  و د...

اپنے علمی اور روحانی فضل و کمال کے باعث مشائخ قادریہ میں بڑے عظیم المرتبت شیخ گزرے ہیں۔ صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ مکارمِ اخلاق میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ نقل ہے ایک دفعہ کسی حادثہ کے باعث آپ کے ساتھی سواروں میں سے ایک سوار کے گھوڑے کی آنکھ کا ڈھیلا نکل گیا۔ فرمایا: ابھی یہ ڈھیلا گھوڑے کی آنکھ میں رکھ کر پٹّی باندھ دو۔ تھوڑی دیر کے بعد فرمایا: گھوڑے کی آنکھ سے پٹّی کھول دو۔ چنانچہ پٹّی کھول کر گھوڑے کی آنکھ کو دیکھا گیا تو درست اور صحیح و سلامت تھ...

مولانا حافظ برخوردار ابن حضرت نوشاہی عالیجاہ﷫ ﷫ کے فرزند سوم تھے۔ صاحبِ علم و عمل تھے۔ زہد و ورع، عبادت و ریاضت ،اور سخاوت و شجاعت، میں شہرۂ آفاق تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے تھے آپ کے دادا حضرت نوشاہ گنج بخش نے آپ کے لیے دعائے درازی عمر فرمائی تھی۔ چنانچہ آپ نے طویل عمر پائی۔ بڑے پُر جلال تھے۔ ایک دفعہ حاکمِ پرگنہ نے ادائیگیِٔ مال  کے لیے اپنا پیادہ بھیجا۔ اس پر جلال میں آگئے۔ اُسی وقت حاکم پرگنہ کے پاس گئے۔ فرمایا کہ جب میں خودبخود مالیہ ادا کردیت...

مولانا حافظ برخوردار ابن حضرت نوشاہ عالیجاہ﷫ کے فرزندِ چہارم تھے۔ عالمِ متبحر اور عارفِ کامل و اکمل تھے۔ تحصیلِ علوم سیالکوٹ میں کی تھی۔ اپنے والدِ بزرگوار کی خدمت میں حاضر رہ کر سلسلۂ قادریہ نوشاہیہ کی تکمیل کی تھی اور ریاضت و مجاہدہ سے ولایت باطنی کو کمال تک حاصل کیا۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد احمد بیگ ﷫ سے بھی اخذِ فیض کیا تھا۔ ۱۱۷۰ھ میں وفات پائی۔ مزار ساہن پال میں اپنے والدِ گرامی کے مزار کے قریب ہے۔ رفت از دنیا چو در خلدِ بریں ’&...

ساداتِ عظام سے تھے۔ وطن قصبۂ قصور تھا۔ حضرت عنایت شاہ قادری شطاری﷫  کے عظیم المرتبت مُرید و خلیفہ تھے جن کا سلسلۂ بیعت حضرت شیخ محمد غوث گوالیاری﷫  تک جاپہنچتا ہے۔ اپنے زمانے کے عالم و فاضل، عابد و زاہد، عارفِ کامل اور شاعرِ بے بدل تھے۔ پنجابی زبان میں آپ کی کافیاں زبان زدِ خاص و عام ہیں۔ تمام کلام موحدانہ اور عارفانہ ہے اور اپنے اندر ایک عجیب لذت و تاثیر رکھتا ہے۔ قوال اب بھی آپ کے کلام سے مجالسِ سماع کو گرماتے ہیں۔ ۱۱۷۱ھ میں وفات پائی...