Poetry  

Sahar Chamki Jamal e Fasl e Gul

سحر چمکی جمالِ فصلِ گل آرائشوں پر ہےنسیمِ روح پرور سے مشامِ جاں معطر ہے قریب طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیامرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیںقدم اُن کے گنہگاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے ارے او سونے والے دِل ارے اوسونے والے دِلسحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے سہانی طرز کی طلعت نرالی رنگ کی نکہتنسیمِ صبح سے مہکا ہوا پُر نور منظر ہے تعالیٰ اﷲ یہ شادابی یہ رنگینی تعالیٰ اﷲبہارِ ہشت جنت دشتِ طیبہ پر ن...

Huzoor e Kaaba Hazir Hain

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہےبڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوری پر ہے نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ قابل منہ دِکھانے کےمگر اُن کا کرم ذرّہ نواز و بندہ پرور ہے خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیںیہ اُونچا گھر ہے اِس کی بھیک اندازہ سے باہر ہے تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد پھر پھر کرطوافِ خانۂ کعبہ عجب دلچسپ منظر ہے خدا کی شان یہ لب اور بوسہ سنگِ اسود کاہمارا منہ اور اِس قابل عطاے ربِ اکبر ہے جو ہیبت سے رُکے مجرم تو رحمت نے کہا بڑھ کرچلے آ...

Bagh e Jannat Mein Nirali

اغِ جنت میں نرالی چمن آرائی ہےکیا مدینہ پہ فدا ہو کے بہار آئی ہے اُن کے گیسو نہیں رحمت کی گھٹا چھائی ہےاُن کے اَبرو نہیں دو قبلوں کی یکجائی ہے سنگریزوں نے حیاتِ ابدی پائی ہےناخنوں میں ترے اِعجازِ مسیحائی ہے سر بالیں اُنھیں رحمت کی اَدا لائی ہےحال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے جانِ گفتار تو رفتار ہوئی رُوحِ رواںدم قدم سے ترے اِعجازِ مسیحائی ہے جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حسن و جمالاے حسیں تیری اَدا اُس کو پسند آئی ہے تیرے جلوؤں میں یہ عالم ...

Imam ul AuliaHazrat Ahmad Kabir Rifaee

تم ہو حسرت نکالنے والےنامرادوں کے پالنے والے میرے دشمن کو غم ہو بگڑی کاآپ ہیں جب سنبھالنے والے تم سے منہ مانگی آس ملتی ہےاور ہوتے ہیں ٹالنے والے لبِ جاں بخش سے جِلا دل کوجان مردے میں ڈالنے والے دستِ اقدس بجھا دے پیاس مریمیرے چشمے اُبالنے والے ہیں ترے آستاں کے خاک نشیںتخت پر خاک ڈالنے والے روزِ محشر بنا دے بات مریڈھلی بگڑی سنبھالنے والے بھیک دے بھیک اپنے منگتا کواے غریبوں کے پالنے والے ختم کر دی ہے اُن پہ موزونیواہ سانچے میں ڈھالنے والے اُن کا ...

Ya Khuda Har Dam Nigah Main Un Ka Kashaana Rahe

یا خدا ہر دم نگہ میں ان کا شانہ رہےدونوں عالم میں میں خیال روئے جانا نہ رہے اے عرب کے چاند تیرے ذرے کا ذرہ ہوں میںتا ابد پر نور میرے دل کا کاشانہ رہے کیوں معطر ہو نہ خوشبو سے دعا لم کا دماغپنجۂ قدرت ترے گیسو کا جب شانہ رہے جس مکاں کی اپنی پائے پاک سے عزت بڑھائیںکیوں نہ سب امراض کا وہ گھر شفا خانہ رہے زندگی میں بعد مردن انکے نام پاک سےیا خدا آباد میرے دل کا ویرانہ ہے عین ایماں ہے یہی اور ہے ہر اک مومن پہ فرضان کے نام پاک کا دنیا میں مستانہ ...

Teri Wehshaton Se Aaye Dil

دمِ اضطراب مجھ کو جو خیالِ یار آئےمرے دل میں چین آئے تو اسے قرار آئے تری وحشتوں سے اے دل مجھے کیوں نہ عار آئےتو اُنھیں سے دُور بھاگے جنھیں تجھ پہ پیار آئے مرے دل کو دردِ اُلفت وہ سکون دے الٰہیمری بے قراریوں کو نہ کبھی قرار آئے مجھے نزع چین بخشے مجھے موت زندگی دےوہ اگر مرے سرھانے دمِ احتضار آئے سببِ وفورِ رحمت میری بے زبانیاں ہیںنہ فغاں کے ڈھنگ جانوں نہ مجھے پکار آئے کھلیں پھول اِس پھبن کے کھلیں بخت اِس چمن کےمرے گل پہ صدقے ہو کے جو کبھی ب...

Parde Jis Waqt Uthain Jalwa e Zaibai K

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کےوہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے دُھوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کیخطبے ہوتے ہیں جہانبانی و دارائی کے حُسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوےگل و آئینہ بنے محفل و زیبائی کے ذرّۂ دشتِ مدینہ کی ضیا مہر کرےاچھی ساعت سے پھریں دن شبِ تنہائی کے پیار سے لے لیے آغوش میں سر رحمت نےپائے انعام ترے دَر کی جبیں سائی کے لاشِ احباب اِسی دَر پر پڑی رہنے دیںکچھ تو ارمان نکل جائیں جبیں سائی کے جلو گر ہو جو کبھی چشمِ تمنائی میںپردے آنکھوں...

Do Alam Goonjtey Hain Naara e Allah hoo Akbar Se

دو عالم گونجتے ہیں نعرۂ اللہ اکبر سےاذانوں کی صدائیں آرہی ہیں مفت کشور سے کروں یادِ نبی میں ایسے نالے دیدۂ ترسےکہ دھل جائیں گناہ لا تعداد میرے رجسٹر سے خدا نے نور مولیٰ سے کیا مخلوق کو پیدا سبھی کون و مکاں مشتق ہوئے اس ایک مصدر سے وہ صورت جس سےحق کا خاص جلوہ آشکارہ ہےاسے تشبیہ دے سکتے ہیں کب ہم ماہ و اختر سے کچھ ایسا جوش پر ہے مَنْ رَّأنِیْ قَدْرَأَلْحَقَّخجل ہیں مہرومہ بھی آپ کے روئے منور سے نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے بعد ان کے نبی کوئیہوا...

Jaan se Tang Hain Qaidi Gham e Tanhai Ki

جان سے تنگ ہیں قیدی غمِ تنہائی کےصدقے جاؤں میں تری انجمن آرائی کے بزم آرا ہوں اُجالے تری زیبائی کےکب سے مشتاق ہیں آئینے خود آرائی کے ہو غبارِ درِ محبوب کہ گردِ رہِ دوستجزو اعظم ہیں یہی سرمۂ بینائی کے خاک ہو جائے اگر تیری تمناؤں میںکیوں ملیں خاک میں اَرمان تمنائی کے وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ کے چمکتے خورشیدلامکاں تک ہیں اُجالے تری زیبائی کے دلِ مشتاق میں اَرمانِ لقا آنکھیں بندقابلِ دید ہیں انداز تمنائی کے لبِ جاں بخش کی کیا بات ہے سبحان اﷲتم ن...

Kare Chara Sazi Ziarat Kisi Ki

کرے چارہ سازی زیارت کسی کیبھرے زخم دل کے ملاحت کسی کی چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کیکہ دیدارِ حق ہے زیارت کسی کی نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کینہ ہوتی کسی کو زیارت کسی کی عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کیہمیں کیا خدا کو ہے اُلفت کسی کی ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑےسہارا لگا دے جو رحمت کسی کی کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گیخدا کو ہے جتنی محبت کسی کی دمِ حشر عاصی مزے لے رہے ہیںشفاعت کسی کی ہے رحمت کسی کی رہے دل کسی کی محبت میں ہر دمرہے دل میں ہر دم محب...

Muradain Mil Rahi Hain

مرادیں مل رہی ہیں شاد شاد اُن کا سوالی ہےلبوں پر اِلتجا ہے ہاتھ میں روضے کی جالی ہے تری صورت تری سیرت زمانے سے نرالی ہےتری ہر ہر اَدا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے بشر ہو یا مَلک جو ہے ترے دَر کا سوالی ہےتری سرکار والا ہے ترا دربار عالی ہے وہ جگ داتا ہو تم سنسار باڑے کا سوالی ہےدَیا کرنا کہ اس منگتا نے بھی گُدڑی بچھا لی ہے منور دل نہیں فیضِ قدومِ شہ سے روضہ ہےمشبکِ سینۂ عاشق نہیں روضہ کی جالی ہے تمہارا قامتِ یکتا ہے اِکّا بزمِ وحدت کاتمہاری ذاتِ بے ہمت...

Nahi Woh Sadma Yeh Dil Ko Kis Ka

نہیں وہ صدمہ یہ دل کو کس کا خیالِ رحمت تھپک رہا ہےکہ آج رُک رُک کے خونِ دل کچھ مری مژہ سے ٹپک رہا ہے لیا نہ ہو جس نے اُن کا صدقہ ملا نہ ہو جس کو اُن کا باڑانہ کوئی ایسا بشر ہے باقی نہ کوئی ایسا ملک رہا ہے کیا ہے حق نے کریم تم کو اِدھر بھی للہ نگاہ کر لوکہ دیر سے بینوا تمہارا تمہارے ہاتھوں کو تک رہا ہے ہے کس کے گیسوے مشک بو کی شمیم عنبر فشانیوں پرکہ جاے نغمہ صفیر بلبل سے مشکِ اَذفر ٹپک رہا ہے یہ کس کے رُوے نکو کے جلوے زمانے کو کر رہے ہیں روشنیہ ک...

Na mayoos ho mere Dukh Dard Waley

نہ مایوس ہو میرے دُکھ درد والےدرِ شہ پہ آ ہر مرض کی دوا لے جو بیمار غم لے رہا ہو سنبھالےوہ چاہے تو دَم بھر میں اس کو سنبھالے نہ کر اس طرح اے دلِ زار نالےوہ ہیں سب کی فریاد کے سننے والے کوئی دم میں اب ڈوبتا ہے سفینہخدارا خبر میری اے ناخدا لے سفر کر خیالِ رُخِ شہ میں اے جاںمسافر نکل جا اُجالے اُجالے تہی دست و سوداے بازارِ محشرمری لاج رکھ لے مرے تاج والے زہے شوکتِ آستانِ معلّٰییہاں سر جھکاتے ہیں سب تاج والے سوا تیرے اے ناخداے غریباںوہ ہے کون جو ڈو...

Alam Main Kiya Hai Jis KI K Tujh Ko Khabar Nahi

عالم میں کیا ہے جس کی کہ تجھ کو خبر نہیںذرہ ہے کو نسا تری جس پر نظر نہیں ارض و سما نہیں ہیں کہ شمس و قمر نہیںکس چیز پر حبیب خدا کا اثر نہیں نجدی شقی خبیث لعیں کا یہ قول ہےمخلوق کی تو کیا انہیں اپنی خبر نہیں قائل ہو علم غیب نبی کا وہ کیوں شقیمرتد کے دل میں حب نبی کا اثر نہیں دنیا میں ہو ذلیل تو عقبیٰ میں خوار ہوجو خاک پائے حضرت خیر البشر نہیں انوار کا درہ دہے بزم رسول میںمنکر ہے بے بصر اسے آتا نظر نہیں یہ علم غیب ہے کہ رسول کریم نےخبریں وہ...

Umangey Josh Per Aaein Iradey Gudgudate Hain

امنگیں جوش پر آئیں ارادے گدگداتے ہیںجمیلِ قادری شاید حبیب حق بلاتے ہیں جگا دیتے ہیں قسمت چاہتے ہیں جس کی دم بھرمیںوہ جس کو چاہتے ہیں اپنے روضے پر بلاتے ہیں انہیں مل جاتا ہے گویا وہ سایہ عرش اعظم کاتری دیوار کے سایہ میں جو بستر جماتے ہیں مقدر اس کو کہتے ہیں فرشتے عرش سے آکرغبار رفرش طیبہ اپنی آنکھوں میں لگاتے ہیں خدا جانے کہ طیبہ کو ہمارا کب سفر ہوگامدینے کو ہزاروں قافلے ہر سال جاتے ہیں شہ طیبہ یہ قوت ہے ترے در کے گداؤں میںوہ جس کو چاہتے ہیں شاہ ...

Ap k Dar Ki Ajab Toqeer Hai

آپ کے دَر کی عجب توقیر ہےجو یہاں کی خاک ہے اِکسیر ہے کام جو اُن سے ہوا پورا ہوااُن کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے جس سے باتیں کیں اُنھیں کا ہو گیاواہ کیا تقریرِ پُر تاثیر ہے جو لگائے آنکھ میں محبوب ہوخاکِ طیبہ سرمۂ تسخیر ہے صدرِ اقدس ہے خزینہ راز کاسینہ کی تحریر میں تحریر ہے ذرّہ ذرّہ سے ہے طالع نورِ شاہآفتابِ حُسن عالم گیر ہے لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیںاَبرِ جودِ شاہِ عالم گیر ہے مجرمو اُن کے قدموں پر لوٹ جاؤبس رِہائی کی یہی تدبیر ہے یا نبی مشکل کشا...

Kiya Khuda Daad Ap Ki Imdaad Hai

کیا خداداد آپ کی اِمداد ہےاک نظر میں شاد ہر ناشاد ہے مصطفےٰ تو برسرِ اِمداد ہےعفو تو کہہ کیا ترا اِرشاد ہے بن پڑی ہے نفس کافر کیش کیکھیل بگڑا لو خبر فریاد ہے اس قدر ہم اُن کو بھولے ہائے ہائےہر گھڑی جن کو ہماری یاد ہے نفسِ امارہ کے ہاتھوں اے حضورداد ہے بیداد ہے فریاد ہے پھر چلی بادِ مخالف لو خبرناؤ پھر چکرا گئی فریاد ہے کھیل بگڑا ناؤ ٹوٹی میں چلااے مرے والی بچا فریاد ہے رات اندھیری میں اکیلا یہ گھٹااے قمر ہو جلوہ گر فریاد ہے عہد جو اُن سے کیا روز...

Dil Kehta Hai Har Waqt Sifat Un Ki Likha Kar

دل کہتا ہے ہر وقت صفت ان کی لکھا کرکہتی ہے زباں نعمت محمد کی پڑھا کر اس محفل میلاد میں اے بندۂ سرکارجب آکے درود اس شہ عالم پہ پڑھا کر خالی کبھی پھیرا ہی نہیں اپنے گدا کواے سائلو مانگو تو ذرا ہاتھ اٹھا کر خود اپنے بھکاری کی بھرا کرتے ہیں جھولیخود کہتے ہیں یا رب مرے منگتا کا بھلا کر اعدا سے جفا پر ہو جفا اور یہ دعا دیںیارب انہیں ایمان کی تو آنکھ عطا کر کفار بداطوار سے پڑھواتے ہیں کلمہ اک چاشنی لذت دیدار چکھا کر اے ابر کرم بارش رحمت تری ہوجائےہوجائ...

Hum ne Taqseer Ki Aadat Karli

ہم نے تقصیر کی عادت کر لیآپ اپنے پہ قیامت کر لی میں چلا ہی تھا مجھے روک لیامرے اﷲ نے رحمت کر لی ذکر شہ سن کے ہوئے بزم میں محوہم نے جلوت میں بھی خلوت کر لی نارِ دوزخ سے بچایا مجھ کومرے پیارے بڑی رحمت کر لی بال بیکا نہ ہوا پھر اُس کاآپ نے جس کی حمایت کر لی رکھ دیا سر قدمِ جاناں پراپنے بچنے کی یہ صورت کر لی نعمتیں ہم کو کھلائیں اور آپجو کی روٹی پہ قناعت کر لی اُس سے فردوس کی صورت پوچھوجس نے طیبہ کی زیارت کر لی شانِ رحمت کے تصدق جاؤںمجھ سے عاصی ک...

Rubaiyat e Naatiya

رباعیات نعتیہپیشہ مِرا شاعری نہ دعویٰ مجھ کوہاں شرع کا البتہ ہے جنبہ مجھ کومولیٰ کی ثنا میں حکم مولیٰ کا خلاف لوزینہ میں سیر تو نہ بھایا مجھ کو دیگرہوں اپنے کلام سےنہایت محظوظبیجا سے ہے المنتہ للہ محفوظ قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھییعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ دیگرمحصُور جناندانی دعالی میں ہےکیا شبہ رضا کی بے مثالی میں ہےہر شخص کو اِک وصف میں ہوتا ہے کمالبندے کو کمال بے کمالی میں ہے دیگرکس منھ سے کہوں رشک عنادل ہوں میں شاعر ہوں فصیح بے مماثل ہوں ...

Aya Hai Jo Zikr e Mahjabeena

آیا ہے جو ذکرِ مہ جبیناںقابو میں نہیں دلِ پریشاں یاد آئی تجلیِ سرِ طورآنکھوں کے تلے ہے نور ہی نور یا رب یہ کدھر سے چاند نکلااُٹھا ہے نقاب کس کے رُخ کا کس چاند کی چاندنی کھِلی ہےیہ کس سے میری نظر ملی ہے ہے پیشِ نگاہ جلوہ کس کایا رب یہ کہاں خیال پہنچا آیا ہوں میں کس کی رہ گزر میںبجلی سی چمک گئی نظر میں آنکھوں میں بسا ہے کس کا عالمیاد آنے لگا ہے کس کا عالم اب میں دلِ مضطرب سنبھالوںیا دید کی حسرتیں نکالوں اللہ! یہ کس کی انجمن ہےدنیا میں بہشت کا...

Nazar Ek Chaman Se Do Char Hai

نظر اِک چمن سے دو چار ہے نہ چمن چمن بھی نثار ہے عجب اُس کے گل کی بہار ہے کہ بہار بلبلِ زار ہے نہ دلِ بشر ہی فگار ہے کہ مَلک بھی اس کا شکار ہےیہ جہاں کہ ہَژدہ ہزار ہےجسے دیکھو اس کا ہزار ہے نہیں سر کہ سجدہ کُناں نہ ہو نہ زباں کہ زمزمہ خواں نہ ہونہ وہ دل کہ اس پہ تپاں نہ ہو نہ وہ سینہ جس کو قرار ہے وہ ہے بھینی بھینی وہاں مہک کہ بسا ہے عرش سے فرش تک وہ ہے پیاری پیاری وہاں چمک کہ وہاں کی شب بھی نہار ہے کوئی اور پھول کہاں کھلے نہ جگہ ہے جوششِ حُسن سے...

Jaiegi Hansti Hoi Khuld Main Ummat Un Ki

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کیکب گوارا ہوئی اﷲ کو رِقّت اُن کی ابھی پھٹتے ہیں جگر ہم سے گنہگاروں کےٹوٹے دل کا جو سہارا نہ ہو رحمت اُن کی دیکھ آنکھیں نہ دکھا مہرِ قیامت ہم کوجن کے سایہ میں ہیں ہم دیکھی ہے صورت اُن کی حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ پہ نہیں کچھ موقوفجس نے جو پایا ہے پایا ہے بدولت اُن کی اُن کا کہنا نہ کریں جب بھی وہ ہم کو چاہیںسرکشی اپنی تو یہ اور وہ چاہت اُن کی پار ہو جائے گا اک آن میں بیڑا اپناکام کر جائے گی محشر میں شفاعت اُن کی ...

Mubarak Ho Wo Shah Pardey Se

مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہےگدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے چکوروں سے کہو ماہِ دل آرا ہے چمکنے کوخبر ذرّوں کو دو مہرِ منور آنے والا ہے فقیروں سے کہو حاضر ہوں جو مانگیں گے پائیں گےکہ سلطانِ جہاں محتاج پرور آنے والا ہے کہو پروانوں سے شمع ہدایت اب چمکتی ہےخبر دو بلبلوں کو وہ گل تر آنے والا ہے کہاں ہیں ٹوٹی اُمیدیں کہاں ہیں بے سہارا دلکہ وہ فریاد رس بیکس کا یاور آنے والا ہے ٹھکانہ بے ٹھکانوں کا سہارا بے سہاروں کاغریبوں کی مد...

Mubarak Ho Wo Shah Pardey Se

مبارک ہو وہ شہ پردہ سے باہر آنے والا ہےگدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے چکوروں سے کہو ماہِ دل آرا ہے چمکنے کوخبر ذرّوں کو دو مہرِ منور آنے والا ہے فقیروں سے کہو حاضر ہوں جو مانگیں گے پائیں گےکہ سلطانِ جہاں محتاج پرور آنے والا ہے کہو پروانوں سے شمع ہدایت اب چمکتی ہےخبر دو بلبلوں کو وہ گل تر آنے والا ہے کہاں ہیں ٹوٹی اُمیدیں کہاں ہیں بے سہارا دلکہ وہ فریاد رس بیکس کا یاور آنے والا ہے ٹھکانہ بے ٹھکانوں کا سہارا بے سہاروں کاغریبوں کی مد...

Na Ho Aram Jis Bimar Ko

نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سےاُٹھا لے جائے تھوڑی خاک اُن کے آستانے سے تمہارے دَر کے ٹکڑوں سے پڑا پلتا ہے اِک عالمگزارا سب کا ہوتا ہے اِسی محتاج خانے سے شبِ اسریٰ کے دُولھا پر نچھاور ہونے والی تھینہیں تو کیا غرض تھی اِتنی جانوں کے بنانے سے کوئی فردوس ہو یا خلد ہو ہم کو غرض مطلبلگایا اب تو بستر آپ ہی کے آستانے سے نہ کیوں اُن کی طرف اللہ سو سو پیار سے دیکھےجو اپنی آنکھیں مَلتے ہیں تمہارے آستانے سے تمہارے تو وہ اِحساں اور یہ نافرمانیاں ا...

Woh Sarware Kishware Risalat

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کےلیے تھے بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارکمَلک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنادل کا بولتے تھے وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے یہ چھوٹ پڑتی تھی اُن کے رُخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکیوہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئنے تھے نئی دلھن کی پھبن میں کعبہ نکھر کےسنورا، سنور کے...

Shukr e Khuda K Aj Ghari Us Safar Ki Hai

شکرِ خدا کے آج گھڑی اُس سفر کی ہے جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے گرمی ہے تپ ہے درد ہے کلفت سفر کی ہے نا شکر! یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے کس خاکِ پاک کی تو بنی خاکِ پا شفاتجھ کو قسم جنابِ مسیحا کے سر کی ہے آبِ حیاتِ روح ہے زرقا کی بوند بوند اکسیرِ اعظمِ مسِ دل خاکِ در کی ہے ہم کو تو اپنے سائے میں آرام ہی سے لائے حیلے بہانے والوں کو یہ راہ ڈر کی ہے لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں یوں ہی سُنا کیے ہر بار دی وہ امن کہ غیرت حضر کی ہے وہ دیکھو جگمگاتی ہے شب...

Ajab Rang Par Hai Bahare Madina

عجب رنگ پر ہے بہارِ مدینہکہ سب جنتیں ہے نثارِ مدینہ مبارک رہے عندلیبو تمھیں گلہمیں گل سے بہتر ہے خارِ مدینہ بنا شہ نشیں خسروِ دو جہاں کابیاں کیا ہو عز و وقارِ مدینہ مری خاک یا رب نہ برباد جائےپسِ مرگ کر دے غبارِ مدینہ کبھی تو معاصی کے خِرمن میں یا ربلگے آتشِ لالہ زارِ مدینہ رگِ گل کی جب نازکی دیکھتا ہوںمجھے یاد آتے ہیں خارِ مدینہ ملائک لگاتے ہیں آنکھوں میں اپنیشب و روز خاکِ مزارِ مدینہ جدھر دیکھیے باغِ جنت کھلا ہےنظر میں ہیں نقش و نگارِ مدینہ ...

Ajab Karam Shah e Wala

عجب کرم شہ والا تبار کرتے ہیںکہ نا اُمیدوں کو اُمیدوار کرتے ہیں جما کے دل میں صفیں حسرت و تمنا کینگاہِ لطف کا ہم انتظار کرتے ہیں مجھے فسردگئ بخت کا اَلم کیا ہووہ ایک دم میں خزاں کو بہار کرتے ہیں خدا سگانِ نبی سے یہ مجھ کو سنوا دےہم اپنے کتوں میں تجھ کو شمار کرتے ہیں ملائکہ کو بھی ہیں کچھ فضیلتیں ہم پرکہ پاس رہتے ہیں طوفِ مزار کرتے ہیں جو خوش نصیب یہاں خاکِ دَر پہ بیٹھتے ہیںجلوسِ مسندِ شاہی سے عار کرتے ہیں ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھا دیں گےجو دم ...

Nigah e Lutf K Umeedwar Hum Bhi Hain

نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیںلیے ہوئے یہ دلِ بے قرار ہم بھی ہیں ہمارے دستِ تمنا کی لاج بھی رکھناترے فقیروں میں اے شہر یار ہم بھی ہیں اِدھر بھی توسنِ اقدس کے دو قدم جلوےتمہاری راہ میں مُشتِ غبار ہم بھی ہیں کھلا دو غنچۂ دل صدقہ باد دامن کااُمیدوارِ نسیمِ بہار ہم بھی ہیں تمہاری ایک نگاہِ کرم میں سب کچھ ہےپڑئے ہوئے تو سرِ رہ گزار ہم بھی ہیں جو سر پہ رکھنے کو مل جائے نعلِ پاکِ حضورتو پھر کہیں گے کہ ہاں تاجدار ہم بھی ہیں یہ کس شہنشہِ والا کا صدقہ بٹ...

Kon Kehta Hai k Zeenat Khuld Ki Achi Nahi

کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیںلیکن اے دل فرقتِ کوے نبی اچھی نہیں رحم کی سرکار میں پُرسش ہے ایسوں کی بہتاے دل اچھا ہے اگر حالت مری اچھی نہیں تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب درکار ہےچودھویں کے چاند تیری چاندنی اچھی نہیں کچھ خبر ہے میں بُرا ہوں کیسے اچھے کا بُرامجھ بُرے پر زاہدو طعنہ زنی اچھی نہیں اُس گلی سے دُور رہ کر کیا مریں ہم کیا جئیںآہ ایسی موت ایسی زندگی اچھی نہیں اُن کے دَر کی بھیک چھوڑیں سروری کے واسطےاُن کے دَر کی بھیک اچھی سروری اچ...

Khawaja Shamsuddin Muhammad Koswi

ترے دَر پہ ساجد ہیں شاہانِ عالمتو سلطانِ عالم ہے اے جانِ عالم یہ پیاری ادائیں یہ نیچی نگاہیںفدا جانِ عالم ہو اے جانِ عالم کسی اور کو بھی یہ دولت ملی ہےگداکس کے دَر کے ہیں شاہانِ عالم میں دَر دَر پھروں چھوڑ کر کیوں ترا دَراُٹھائے بَلا میری احسانِ عالم میں سرکارِ عالی کے قربان جاؤںبھکاری ہیں اُس دَر کے شاہانِ عالم مرے دبدبہ والے میں تیرے صدقےترے دَر کے کُتّے ہیں شاہانِ عالم تمہاری طرف ہاتھ پھیلے ہیں سب کےتمھیں پورے کرتے ہو ارمانِ عالم مجھے...

Sheikh Muhammad Meer Ilyas Mian Meer Baalai Peer Qadri

اے مدینہ کے تاجدار سلاماے غریبوں کے غمگسار سلام تری اک اک اَدا پر اے پیارےسَو دُرودیں فدا ہزار سلام رَبِّ سَلِّمْ کے کہنے والے پرجان کے ساتھ ہو نثار سلام میرے پیارے پہ میرے آقا پرمیری جانب سے لاکھ بار سلام میری بگڑی بنانے والے پربھیج اے میرے کِردگار سلام اُس پناہِ گناہ گاراں پریہ سلام اور کروڑ بار سلام اُس جوابِ سلام کے صدقےتا قیامت ہوں بے شمار سلام اُن کی محفل میں ساتھ لے جائیںحسرتِ جانِ بے قرار سلام پردہ میرا نہ فاش حشر میں ہواے مرے حق کے راز ...

Hazrat Khawaja Muhammad Mehmood Urf Rajan Bin Khawaja Ilmuddin

اے دینِ حق کے رہبر تم پر سلام ہر دممیرے شفیعِ محشر تم پر سلام ہر دم اِس بے کس و حزیں پر جو کچھ گزر رہی ہےظاہر ہے سب وہ تم پر ، تم پر سلام ہر دم دُنیا و آخرت میں جب میں رہوں سلامتپیارے پڑھوں نہ کیوں کر تم پر سلام ہر دم دِل تفتگانِ فرقت پیاسے ہیں مدتوں سےہم کو بھی جامِ کوثر تم پر سلام ہر دم بندہ تمہارے دَر کا آفت میں مبتلا ہےرحم اے حبیبِ دَاور تم پر سلام ہر دم بے وارثوں کے وارث بے والیوں کے والیتسکینِ جانِ مضطر تم پر سلام ہر دم للہ اب ہماری فریاد...

Bazm e Mehshar Munaqid Kar

بزم محشر منعقد کر مہر سامان جمال دل کے آئینوں کو مدت سے ہے ارمان جمال اپنا صدقہ بانٹتا آتا ہے سلطان جمال جھولیاں پھیلائے دوڑیں بے نوایان جمال جس طرح سے عاشقوں کا دل ہے قربان جمال ہے یونہی قربان تیری شکل پر جان جمال بے حجابانہ دکھا دو اک نظر آن جمال صدقے ہونے کے لئے حاضر ہیں خواہان جمال تیرے ہی قامت نے چمکایا مقدر حسن کا بس اسی اِکّے سے روشن ہے شبستان جمال روح لے گی حشر تک خوشبوئے جنت کے مزے گر بسا دے گا کفن عطر گریبانِ جمال مر گئے عشاق لی...

Hazrat Molana Hakeem Muhammad Ramazan Ali Qadri

طور نے تو خوب دیکھا جلوۂ شان جمال اس طرف بھی اک نظر اے برق تابان جمال اک نظر بے پردہ ہو جائے جو لمعان جمال مر دم دیدہ کی آنکھوں پر جو احسان جمال جل گیا جس راہ میں سرد خرامان جمال نقش پا سے کھل گئے لاکھوں گلستان جمال ہے شب غم اور گرفتاران ہجران جمال مہر کر ذرّوں پہ اے خورشید تابان جمال کر گیا آخر لباسِ لالہ و گل میں ظہور خاک میں ملتا نہیں خون شہیدانِ جمال ذرّہ ذرّہ خاک کا ہو جائے گا خورشید حشر قبر میں لے جائیں گے عاشق جو ارمانِ جمال ہو گیا...

Rehmat na kis tarah Ho Gunahgar Ki Taraf

رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرفرحمٰن خود ہے میرے طرفدار کی طرف جانِ جناں ہے دشتِ مدینہ تری بہاربُلبل نہ جائے گی کبھی گلزار کی طرف انکار کا وقوع تو کیا ہو کریم سےمائل ہوا نہ دل کبھی اِنکار کی طرف جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلیمنہ پھیر بیٹھیں ہم تری دیوار کی طرف منہ اُس کا دیکھتی ہیں بہاریں بہشت کیجس کی نگاہ ہے ترے رُخسار کی طرف جاں بخشیاں مسیح کو حیرت میں ڈالتیںچُپ بیٹھے دیکھتے تری رفتار کی طرف محشر میں آفتاب اُدھر گرم اور اِدھرآن...

Tum Zate Khuda Se Na Juda

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہوسینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہوجو بھیک لیے راہِ گدا دیکھ رہا ہو گر وقتِ اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہوجتنی ہو قضا ایک ہی سجدہ میں اَدا ہو ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیواررُتبہ سے تنزل کرے تو ظلِّ ہُما ہو موقوف نہیں صبح قیامت ہی پہ یہ عرضجب آنکھ کھلے سامنے تو جلوہ نما ہو دے اُس کو دمِ نزع اگر حور بھی ساغرمنہ پھیر لے جو تشنۂ دیدار ترا ہو فردوس کے باغوں سے اِدھر مل نہیں سکتاجو کوئی مدی...

Kuch Gham Nahi Agarchey Zamana Ho Bar Khilaf

کچھ غم نہیں اگرچہ زمانہ ہو بر خلافاُن کی مدد رہے تو کرے کیا اَثر خلاف اُن کا عدو اسیرِ بَلاے نفاق ہےاُس کی زبان و دل میں رہے عمر بھر خلاف کرتا ہے ذکرِ پاک سے نجدی مخالفتکم بخت بد نصیب کی قسمت ہے بر خلاف اُن کی وجاہتوں میں کمی ہو محال ہےبالفرض اک زمانہ ہو اُن سے اگر خلاف اُٹھوں جو خوابِ مرگ سے آئے شمیم یاریا ربّ نہ صبحِ حشر ہو بادِ سحر خلاف قربان جاؤں رحمتِ عاجز نواز پرہوتی نہیں غریب سے اُن کی نظر خلاف شانِ کرم کسی سے عوض چاہتی نہیںلاکھ ا...

Aaein Baharain Barsey Jhaley

آئیں بہاریں برسے جھالےنغمہ سرا ہیں گلشن والے شاہد گل کا جوبن اُمڈادل کو پڑے ہیں جان کے لالے ابرِ بہاری جم کر برساخوب چڑھے ہیں ندّی نالے کوئل اپنی کُوک میں بولیآئے بادل کالے کالے حسنِ شباب ہے لالہ و گل پرقہر ہیں اُٹھتے جوبن والے پھیلی ہیں گلشن میں ضیائیںشمع و لگن ہیں سرو اور تھالے عارضِ گل سے پردہ اٹھابلبلِ مضطر دل کو سنبھالے جوشِ طبیعت روکے تھامےشوقِ رُؤیت دیکھے بھالے سن کے بہار کی آمد آمدہوش سے باہر ہیں متوالے بوٹے گل رویانِ کم سنپیارے پیار...

Tawanai Nahi Sadma Uthaney Ki Zara Baaqi

توانائی نہیں صدمہ اُٹھانے کی ذرا باقینہ پوچھو ہائے کیا جاتا رہا کیا رہ گیا باقی زمانے نے ملائیں خاک میں کیفیتیں ساریبتا دو گر کسی شے میں رہا ہو کچھ مزا باقی نہ اب تاثیر مقناطیس حسن خوب رویاں میںنہ اب دل کش نگاہوں میں رہا دل کھینچنا باقی نہ جلوہ شاہد گل کا نہ غل فریادِ بلبل کانہ فضل جاں فزا باقی نہ باغِ دل کشا باقی نہ جوبن شوخیاں کرتا ہے اُونچے اُونچے سینوں پرنہ نیچی نیچی نظروں میں ہے اندازِ حیا باقی کہاں وہ قصر دل کش اور کہاں وہ دلربا جلسےنہ اس ک...

Khoosboo e Dasht e Taiba se Bus Jaey

خوشبوے دشتِ طیبہ سے بس جائے گر دماغمہکائے بوے خلد مرا سر بسر دماغ پایا ہے پاے صاحبِ معراج سے شرفذرّاتِ کوے طیبہ کا ہے عرش پر دماغ مومن فداے نور و شمیم حضور ہیںہر دل چمک رہا ہے معطر ہے ہر دماغ ایسا بسے کہ بوے گل خلد سے بسےہو یاد نقشِ پاے نبی کا جو گھر دماغ آباد کر خدا کے لیے اپنے نور سےویران دل ہے دل سے زیادہ کھنڈر دماغ ہر خارِ طیبہ زینتِ گلشن ہے عندلیبنادان ایک پھول پر اتنا نہ کر دماغ زاہد ہے مستحقِ کرامت گناہ گاراللہ اکبر اتنا مزاج اس ق...

Madine Main Hai Woh Saman e Bargah e Rafee

مدینہ میں ہے وہ سامانِ بارگاہِ رفیععروج و اَوج ہیں قربانِ بارگاہِ رفیع نہیں گدا ہی سرِ خوانِ بارگاہِ رفیعخلیل بھی تو ہیں مہمانِ بارگاہِ رفیع بنائے دونوں جہاں مجرئی اُسی دَر کےکیا خدا نے جو سامانِ بارگاہِ رفیع زمینِ عجز پہ سجدہ کرائیں شاہوں سےفلک جناب غلامانِ بارگاہِ رفیع ہے انتہاے علا ابتداے اَوج یہاںورا خیال سے ہے شانِ بارگاہِ رفیع کمند رشتۂ عمر خضر پہنچ نہ سکےبلند اِتنا ہے ایوانِ بارگاہِ رفیع وہ کون ہے جو نہیں فیضیاب اِس دَر سےسبھی ہیں ...

Khak e Taiba ki agar Dil main Ho

خاکِ طیبہ کی اگر دل میں ہو وقعت محفوظعیبِ کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ دل میں روشن ہو اگر شمع وِلاے مولیٰدُزدِ شیطا ں سے رہے دین کی دولت محفوظ یا خدا محو نظارہ ہوں یہاں تک آنکھیںشکل قرآں ہو مرے دل میں وہ صورت محفوظ سلسلہ زُلفِ مبارک سے ہے جس کے دل کوہر بَلا سے رکھے اﷲ کی رحمت محفوظ تھی جو اُس ذات سے تکمیل فرامیں منظوررکھی خاتم کے لیے مہر نبوت محفوظ اے نگہبان مرے تجھ پہ صلوٰۃ اور سلامدو جہاں میں ترے بندے ہیں سلامت محفوظ واسطہ حفظِ الٰہی ...

Chasm e Dil Chahey jo Anwaar se Rabt

چشمِ دل چاہے جو اَنوار سے ربطرکھے خاکِ درِ دلدار سے ربط اُن کی نعمت کا طلبگار سے میلاُن کی رحمت کا گنہگار سے ربط دشتِ طیبہ کی جو دیکھ آئیں بہارہو عنادِل کو نہ گلزار سے ربط یا خدا دل نہ ملے دُنیا سےنہ ہو آئینہ کو زنگار سے ربط نفس سے میل نہ کرنا اے دلقہر ہے ایسے ستم گار سے ربط دلِ نجدی میں ہو کیوں حُبِّ حضورظلمتوں کو نہیں اَنوار سے ربط تلخیِ نزع سے اُس کو کیا کامہو جسے لعل شکر بار سے ربط خاک طیبہ کی اگر مل جائےآپ صحت کرے بیمار سے ربط ا...

Sun lo Khuda Ke Waste

سن لو خدا کے واسطے اپنے گدا کی عرضیہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض اُن کے گدا کے دَر پہ ہے یوں بادشاہ کی عرضجیسے ہو بادشاہ کے دَر پہ گدا کی عرض عاجز نوازیوں پہ کرم ہے تُلا ہواوہ دل لگا کے سنتے ہیں ہر بے نوا کی عرض قربان اُن کے نام کے بے اُن کے نام کےمقبول ہو نہ خاصِ جنابِ خدا کی عرض غم کی گھٹائیں چھائی ہیں مجھ تیرہ بخت پراے مہر سن لے ذرّۂ بے دست و پا کی عرض اے بے کسوں کے حامی و یاور سوا ترےکس کو غرض ہے کون سنے مبتلا کی عرض اے کیمیاے دل میں ترے دَ...

Khuda ki khalq main Sab Anbiya Khaas

خدا کی خلق میں سب انبیا خاصگروہِ انبیا میں مصطفےٰ خاص نرالا حُسنِ انداز و اَدا خاصتجھے خاصوں میں حق نے کر لیا خاص تری نعمت کے سائل خاص تا عامتری رحمت کے طالب عام تا خاص شریک اُس میں نہیں کوئی پیمبرخدا سے ہے تجھ کو واسطہ خاص گنہگارو! نہ ہو مایوسِ رحمتنہیں ہوتی کریموں کی عطا خاص گدا ہوں خاص رحمت سے ملے بھیکنہ میں خاص اور نہ میری اِلتجا خاص ملا جو کچھ جسے وہ تم سے پایاتمھیں ہو مالکِ مُلکِ خدا خاص غریبوں بے نواؤں بے کسوں کوخدا نے در تمہارا ک...

Janab e Mustafa houn jis se Naakhus

جنابِ مصطفےٰ ہوں جس سے نا خوشنہیں ممکن ہو کہ اُس سے خدا خوش شہِ کونین نے جب صدقہ بانٹازمانے بھر کو دَم میں کر دیا خوش سلاطیں مانگتے ہیں بھیک اُس سےیہ اپنے گھر سے ہے اُن کا گدا خوش پسندِ حقِ تعالیٰ تیری ہر باتترے انداز خوش تیری ادا خوش مٹیں سب ظاہر و باطن کے امراضمدینہ کی ہے یہ آب و ہوا خوش فَتَرْضٰی کی محبت کے تقاضےکہ جس سے آپ خوش اُس سے خدا خوش ہزاروں جرم کرتا ہوں شب و روزخوشا قسمت نہیں وہ پھر بھی نا خوش الٰہی دے مرے دل کو غمِ عشقنشاط...

Hazrat Sheikh Sirajuddin Chishti

ہوں جو یادِ رُخِ پُر نور میں مرغانِ قفسچمک اُٹھے چہِ یوسف کی طرح شانِ قفس کس بَلا میں ہیں گرفتارِ اسیرانِ قفسکل تھے مہمانِ چمن آج ہیں مہمانِ قفس حیف در چشمِ زدن صحبتِ یار آخر شداب کہاں طیبہ وہی ہم وہی زندانِ قفس روے گل سیر ندیدیم و بہار آخر شدہائے کیا قہر کیا اُلفتِ یارانِ قفس نوحہ گر کیوں نہ رہے مُرغِ خوش اِلحانِ چمنباغ سے دام ملا دام سے زِندانِ قفس پائیں صحراے مدینہ تو گلستاں مل جائےہند ہے ہم کو قفس ہم ہیں اسیرانِ قفس زخمِ دل پھول بن...

Jitna Mere Khuda Ko Hai

جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیزکونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز خاکِ مدینہ پر مجھے اﷲ موت دےوہ مردہ دل ہے جس کو نہ ہو زندگی عزیز کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیااب تو یہ گھر پسند ، یہ دَر ، یہ گلی عزیز جو کچھ تری رِضا ہے خدا کی وہی خوشیجو کچھ تری خوشی ہے خدا کو وہی عزیز گو ہم نمک حرام نکمّے غلام ہیںقربان پھر بھی رکھتی ہے رحمت تری عزیز شانِ کرم کو اچھے بُرے سے غرض نہیںاُس کو سبھی پسند ہیں اُس کو سبھی عزیز منگتا کا ہاتھ اُٹھا تو م...

Sair e Gulshan Kon Dekhe

سیر گلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کرسوے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر سر گزشتِ غم کہوں کس سے ترے ہوتے ہوئےکس کے دَر پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر بے لقاے یار اُن کو چین آ جاتا اگربار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر کون کہتا ہے دلِ بے مدعا ہے خوب چیزمیں تو کوڑی کو نہ لوں اُن کی تمنا چھوڑ کر مر ہی جاؤں میں اگر اُس دَر سے جاؤں دو قدمکیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر کس تمنا پر جئیں یا رب اَسیرانِ قفسآ چکی بادِ صبا باغِ مدینہ چھوڑ کر...

Marhaba Izat o Kamal e Huzoor

مرحبا عزت و کمالِ حضورہے جلالِ خدا جلالِ حضور اُن کے قدموں کی یاد میں مریےکیجیے دل کو پائمالِ حضور دشتِ ایمن ہے سینۂ مؤمندل میں ہے جلوۂ خیالِ حضور آفرنیش کو ناز ہے جس پرہے وہ انداز بے مثالِ حضور مَاہ کی جان مہر کا ایماںجلوۂ حُسنِ بے زوالِ حضور حُسنِ یوسف کرے زلیخائیخواب میں دیکھ کر جمالِ حضور وقفِ انجاح مقصدِ خدامہر شب و روز و ماہ و سالِ حضور سکہ رائج ہے حکم جاری ہےدونوں عالم ہیں مُلک و مالِ حضور تابِ دیدار ہو کسے جو نہ ہوپردۂ غیب میں ...

Agar Chamka Muqadar Khaak Paey

اگر چمکا مقدر خاک پاے رہرواں ہو کرچلیں گے بیٹھتے اُٹھتے غبارِ کارواں ہو کر شبِ معراج وہ دم بھر میں پلٹے لامکاں ہو کربَہارِ ہشت جنت دیکھ کر ہفت آسماں ہو کر چمن کی سیر سے جلتا ہے جی طیبہ کی فرقت میںمجھے گلزار کا سبزہ رُلاتاہے دُھواں ہو کر تصور اُس لبِ جاں بخش کا کس شان سے آیادلوں کا چین ہو کر جان کا آرامِ جاں ہو کر کریں تعظیم میری سنگِ اسود کی طرح مومنتمہارے دَر پہ رہ جاؤں جو سنگِ آستاں ہو کر دکھا دے یا خدا گلزارِ طیبہ کا سماں مجھ کوپھرو...

Houn agar Madhe Kaf e Paa Se Munawar

ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذعارضِ حور کی زینت ہو سراسر کاغذ صفتِ خارِ مدینہ میں کروں گل کاریدفترِ گل کا عنادِل سے منگا کر کاغذ عارضِ پاک کی تعریف ہو جس پرچے میںسو سیہ نامہ اُجالے وہ منور کاغذ شامِ طیبہ کی تجلّی کا کچھ اَحوال لکھوںدے بیاضِ سحر اک ایسا منور کاغذ یادِ محبوب میں کاغذ سے تو دل کم نہ رہےکہ جدا نقش سے ہوتا نہیں دَم بھر کاغذ ورقِ مہر اُسے خط غلامی لکھ دےہو جو وصفِ رُخِ پُر نور سے انور کاغذ تیرے بندے ہیں طلبگار تری رحمت کےسن گن...

Rang e Chaman Pasand

رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسندصحرائے طیبہ ہے دلِ بلبل کو توُ پسند اپنا عزیز وہ ہے جسے تُو عزیز ہےہم کو ہے وہ پسند جسے آئے تُو پسند مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاساے جان کر لے ٹوٹے ہوئے دل کو تو پسند ہیں خانہ زاد بندۂ احساں تو کیا عجبتیری وہ خُو ہے کرتے ہیں جس کو عدُو پسند کیوں کر نہ چاہیں تیری گلی میں ہوں مٹ کے خاکدنیا میں آج کس کو نہیں آبرو پسند ہے خاکسار پر کرمِ خاص کی نظرعاجز نواز ہے تیری خُو اے خوبرو پسند قُلْ کہہ کر اپ...

Zaat e Wala Pe Baar Baar Durood

ذاتِ والا پہ بار بار درودبار بار اور بے شمار درود رُوئے اَنور پہ نور بار سلامزُلفِ اطہر پہ مشکبار درود اُس مہک پر شمیم بیز سلاماُس چمک پہ فروغ بار درود اُن کے ہر جلوہ پر ہزار سلاماُن کے ہر لمعہ پر ہزار درود اُن کی طلعت پر جلوہ ریز سلاماُن کی نکہت پہ عطر بار درود جس کی خوشبو بہارِ خلد بسائےہے وہ محبوبِ گلعذار درود سر سے پا تک کرور بار سلاماور سراپا پہ بے شمار درود دل کے ہمراہ ہوں سلام فداجان کے ساتھ ہو نثار درود چارۂ جان درد مند سلاممرھم...

Sahaab e Rehmat e Baari Hai Baarweeh Tareekh

سحابِ رحمتِ باری ہے بارھویں تاریخکرم کا چشمۂ جاری ہے بارھویں تاریخ ہمیں تو جان سے پیاری ہے بارھویں تاریخعدو کے دل کو کٹاری ہے بارھویں تاریخ اِسی نے موسمِ گل کو کیا ہے موسمِ گلبہارِ فصلِ بہاری ہے بارھویں تاریخ بنی ہے سُرمۂ چشمِ بصیرت و ایماںاُٹھی جو گردِ سواری ہے بارھویں تاریخ ہزار عید ہوں ایک ایک لحظہ پر قرباںخوشی دلوں پہ وہ طاری ہے بارھویں تاریخ فلک پہ عرش بریں کا گمان ہوتا ہےزمینِ خلد کی کیاری ہے بارھویں تاریخ تمام ہو گئی میلادِ انبیا ک...

Jo Noor Bar Hoa Aaftab e Husn e Maleeh

جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیحہوئے زمین و زماں کامیابِ حُسنِ ملیح زوال مہر کو ہو ماہ کا جمال گھٹےمگر ہے اَوج ابد پر شبابِ حُسنِ ملیح زمیں کے پھول گریباں دریدۂ غمِ عشقفلک پہ بَدر دل افگار تابِ حُسنِ ملیح دلوں کی جان ہے لطفِ صباحتِ یوسفمگر ہوا ہے نہ ہو گا جوابِ حُسنِ ملیح الٰہی موت سے یوں آئے مجھ کو میٹھی نیندرہے خیال کی راحت ہو خوابِ حُسنِ ملیح جمال والوں میں ہے شورِ عشق اور ابھیہزار پردوں میں ہے آب و تابِ حُسنِ ملیح زمینِ شور بنے تختہ...

Dasht e Madina KI Hai Ajab

دشتِ مدینہ کی ہے عجب پُر بہار صبحہر ذرّہ کی چمک سے عیاں ہیں ہزار صبح منہ دھو کے جوے شِیر میں آئے ہزار صبحشامِ حرم کی پائے نہ ہر گز بہار صبح ﷲ اپنے جلوۂ عارض کی بھیک دےکر دے سیاہ بخت کی شب ہاے تار صبح روشن ہے اُن کے جَلوۂ رنگیں کی تابشیںبلبل ہیں جمع ایک چمن میں ہزار صبح رکھتی ہے شامِ طیبہ کچھ ایسی تجلیاںسو جان سے ہو جس کی اَدا پر نثار صبح نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پاک سےجوشِ فروغ سے ہے یہاں تار تار صبح آتے ہیں پاسبانِ درِ شہ فلک سے روزستر...

Tum Zate Khuda Se Na Juda

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہواﷲ کو معلوم ہے کیا جانیے کیا ہو یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہووہ دو کہ ہمیشہ مرے گھر بھر کا بھلا ہو جس بات میں مشہورِ جہاں ہے لبِ عیسیٰاے جانِ جہاں وہ تری ٹھوکر سے اَدا ہو ٹوٹے ہوئے دم جوش پہ طوفانِ معاصیدامن نہ ملے اُن کا تو کیا جانیے کیا ہو یوں جھک کے ملے ہم سے کمینوں سے وہ جس کواﷲ نے اپنے ہی لیے خاص کیا ہو مِٹی نہ ہو برباد پسِ مرگ الٰہیجب خاک اُڑے میری مدینہ کی ہوا ہو منگتا تو ہیں منگتا کوئی شاہوں میں...

Kiya Muzda e Jaan Bakhs

کیا مژدۂ جاں بخش سنائے گا قلم آجکاغذ پہ جو سو ناز سے رکھتا ہے قدم آج آمد ہے یہ کس بادشہِ عرش مکاں کیآتے ہیں فلک سے جو حسینانِ اِرم آج کس گل کی ہے آمد کہ خزاں دیدہ چمن میںآتا ہے نظر نقشۂ گلزارِ اِرم آج نذرانہ میں سر دینے کو حاضر ہے زمانہاُس بزم میں کس شاہ کے آتے ہیں قدم آج بادل سے جو رحمت کے سرِ شام گھرے ہیںبرسے گا مگر صبح کو بارانِ کرم آج کس چاند کی پھیلی ہے ضیا کیا یہ سماں ہےہر بام پہ ہے جلوہ نما نورِ قدم آج کھلتا نہیں کس جان...

Dunya O Deen K Is K Maqasid Husool Hain

دنیا و دیں کے اس کے مقاصد حصول ہیںجس کی مدد پہ حضرت فضل رسول ہیں منکر تری فضیلت و جاہ و جلال کی بے دیں ہیں یا حسود ہیں یا بوالفضول ہیں حاضر ہوئے ہیں مجلس عرسِ حضور میںکیا ہم پہ حق کے لطف ہیں فضل رسول ہیں کافی ہے خاک کرنے کو یک نالۂ رسادفتر اگرچہ نامۂ عصیاں کے طول ہیں خاکِ درِ حضور ہے یا ہے یہ کیمیایہ خارِ راہ ہیں کہ یہ جنت کے پھول ہیں ذوقِ نعت ...

Ya Rab Too Hai Sab Ka Mola

یا ربّ تو ہے سب کا مولیٰسب سے اعلی سب سے اولیٰ تیری ثنا ہو کس کی زباں سےلائے بشر یہ بات کہاں سے تیری اک اک بات نرالیبات نرالی ذات نرالی تیرا ثانی کوئی نہ پایاساتھی ساجھی کوئی نہ پایا تو ہی دے اور تو ہی دلائےتیرے دیے سے عالم پائے تو ہی اوّل تو ہی آخرتو ہی باطن تو ہی ظاہر کیا کوئی تیرا بھید بتائےتو وہ نہیں جو فہم میں آئے پہلے نہ تھا کیا اب کچھ تو ہےکوئی نہیں کچھ سب کچھ تو ہے تو ہی ڈبوئے تو ہی اچھالےتو ہی بگاڑے تو ہی سنبھالے تجھ پر ذرّہ ذرّہ ظاہرن...

Isey Kehte Hain Khizar Qom

اِسے کہتے ہیں خضر قوم بعض احمق زمانہ میںیہ وہ ہے آٹھ سو کم کر کے جو کچھ رہ گیا باقی مزارِ پیر نیچر سے بھی نکلے گی صدا پیہمچڑھا جاؤ گرہ میں ہو جو کچھ پیسا ٹکا باقی نئی ہمدردیاں ہیں لوٹ کر ایمان کی دولتنہ چھوڑا قوم میں افلاس عقبیٰ کے سوا باقی ظروفِ مے کدہ توڑے تھے چن کر محتسب نے سبالٰہی رہ گیا کس طرح یہ چکنا گھڑا باقی مریدوں پر جو پھیرا دست شفقت پیر نیچر نےنہ رکھا دونوں گالوں پر پتا بھی بال کا باقی مسلماں بن کے دھوکے دے رہا ہے اہل ایماں کو...

Rubaiyat

جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہومختار ہو مالکِ خدائی تم ہوجلوہ سے تمہارے ہے عیاں شانِ خداآئینۂ ذاتِ کبریائی تم ہو (دیگر) یارانِ نبی کا وصف کس سے ہو اَداایک ایک ہے ان میں ناظمِ نظمِ ہدیٰپائے کوئی کیوں کر اس رُباعی کا جواباے اہلِ سخن جس کا مصنف ہو خدا (دیگر) بدکار ہیں عاصی ہیں زیاں کار ہیں ہمتعزیر کے بے شبہ سزاوار ہیں ہمیہ سب سہی پر دل کو ہے اس سے قوتاللہ کریم ہے گنہگار ہیں ہم (دیگر) خاطی ہوں سیاہ رُو ہوں خطاکار ہوں میںجو کچھ ہو حسنؔ سب کا سزاو...

Assalam Aey Khosrawey Dunya O Deen

السلام اے خسروِ دنیا و دیںالسلام اے راحتِ جانِ حزیں السلام اے بادشاہِ دو جہاںالسلام اے سرورِ کون و مکاں السلام اے نورِ ایماں السلامالسلام اے راحتِ جاں السلام اے شکیبِ جانِ مضطر السلامآفتاب ذرّہ پرور السلام درد و غم کے چارہ فرما السلامدرد مندوں کے مسیحا السلام اے مرادیں دینے والے السلامدونوں عالم کے اُجالے السلام درد و غم میں مبتلا ہے یہ غریبدم چلا تیری دُہائی اے طبیب نبضیں ساقط رُوح مضطرجی نڈھالدردِ عصیاں سے ہوا ہے غیر حال بے سہاروں کے سہارے ہیں...

Aey Rahat e Jaan Jo Tere Qadmoun Se Laga Ho

اے راحتِ جاں جو ترے قدموں سے لگا ہوکیوں خاک بسر صورتِ نقشِ کفِ پَا ہو ایسا نہ کوئی ہے نہ کوئی ہو نہ ہوا ہوسایہ بھی تو اک مثل ہے پھر کیوں نہ جدا ہو اﷲ کا محبوب بنے جو تمھیں چاہےاُس کا تو بیاں ہی نہیں کچھ تم جسے چاہو دل سب سے اُٹھا کر جو پڑا ہو ترے دَر پراُفتادِ دو عالم سے تعلق اُسے کیا ہو اُس ہاتھ سے دل سوختہ جانوں کے ہرے کرجس سے رطبِ سوختہ کی نشوونما ہو ہر سانس سے نکلے گل فردوس کی خوشبوگر عکس فگن دل میں وہ نقشِ کفِ پَا ہو اُس دَر کی طرف اس لیے می...

Janib e Maghrib Woh Chamka Aaftab

جانبِ مغرب وہ چمکا آفتاببھیک کو مشرق سے نکلا آفتاب جلوہ فرما ہو جو میرا آفتابذرّہ ذرّہ سے ہو پیدا آفتاب عارضِ پُر نور کا صاف آئینہجلوۂ حق کا چمکتا آفتاب یہ تجلّی گاہِ ذاتِ بحت ہےزُلفِ انور ہے شب آسا آفتاب دیکھنے والوں کے دل ٹھنڈے کیےعارضِ انور ہے ٹھنڈا آفتاب ہے شبِ دیجور طیبہ نور سےہم سیہ کاروں کا کالا آفتاب بخت چمکا دے اگر شانِ جمالہو مری آنکھوں کا تارا آفتاب نور کے سانچے میں ڈھالا ہے تجھےکیوں ترے جلووں کا ڈھلتا آفتاب ناخد...

Hazrat Sheikh Abdullah Shattari

معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیاجب اِشارہ ہو گیا مطلب ہمارا ہو گیا ڈوبتوں کا یا نبی کہتے ہی بیڑا پار تھاغم کنارے ہو گئے پیدا کنارا ہو گیا تیری طلعت سے زمیں کے ذرّے مہ پارے بنےتیری ہیبت سے فلک کا مہ دوپارا ہو گیا اللہ اللہ محو حُسنِ روے جاناں کے نصیببند کر لیں جس گھڑی آنکھیں نظارا ہو گیا یوں تو سب پیدا ہوئے ہیں آپ ہی کے واسطےقسمت اُس کی ہے جسے کہہ دو ہمارا ہو گیا تیرگی باطل کی چھائی تھی جہاں تاریک تھااُٹھ گیا پردہ ترا حق آشکارا ہو گیا ...

Jate Hain Soey Madina Ghar Se Hum

جاتے ہیں سوے مدینہ گھر سے ہمباز آئے ہندِ بد اختر سے ہم مار ڈالے بے قراری شوق کیخوش تو جب ہوں اِس دلِ مضطر سے ہم بے ٹھکانوں کا ٹھکانا ہے یہیاب کہاں جائیں تمہارے دَر سے ہم تشنگیِ حشر سے کچھ غم نہیںہیں غلامانِ شہِ کوثر سے ہم اپنے ہاتھوں میں ہے دامانِ شفیعڈر چکے بس فتنۂ محشر سے ہم نقشِ پا سے جو ہوا ہے سرفرازدل بدل ڈالیں گے اُس پتھر سے ہم گردن تسلیم خم کرنے کے ساتھپھینکتے ہیں بارِ عصیاں سر سے ہم گور کی شب تار ہے پر خوف کیالَو لگائے ہیں رُخِ ...

Kya Theek Ho Rukh e Nabavi Per Misal e Gul

کیا ٹھیک ہو رُخِ نبوی پر مثالِ گلپامال جلوۂ کفِ پا ہے جمالِ گل جنّت ہے ان کے جلوہ سے جو یائے رنگ و بواے گل ہمارے گل سے ہے گل کو سوالِ گل اُن کے قدم سے سلعۂ غالی ہوئی جناںواللہ میرے گل سے ہے جاہ و جلالِ گل سنتا ہوں عشقِ شاہ میں دل ہوگا خوں فشاںیا رب یہ مژدہ سچ ہو مبارک ہو فالِ گل بلبل حرم کو چل غمِ فانی سے فائدہکب تک کہے گی ہائے وہ غنج و دَلالِ گل غمگیں ہے شوقِ غازۂ خاکِ مدینہ میںشبنم سے دھل سکے گی نہ گردِ ملالِ گل بلبل یہ کیا کہا میں کہاں فصلِ گل...

Kiya Karein Mehfil e Dildaar Ko Kiyoun Kar Deikhain

کیا کریں محفل دلدار کو کیوں کر دیکھیںاپنے سرکار کے دربار کو کیوں کر دیکھیں تابِ نظارہ تو ہو ، یار کو کیوں کر دیکھیںآنکھیں ملتی نہیں دیدار کو کیوں کر دیکھیں دلِ مردہ کو ترے کوچہ میں کیوں کر لے جائیںاثرِ جلوۂ رفتار کو کیوں کر دیکھیں جن کی نظروں میں ہے صحراے مدینہ بلبلآنکھ اُٹھا کر ترے گلزار کو کیوں کر دیکھیں عوضِ عفو گنہ بکتے ہیں اِک مجمع ہےہائے ہم اپنے خریدار کو کیوں کر دیکھیں ہم گنہگار کہاں اور کہاں رؤیتِ عرشسر اُٹھا کر تری دیوار کو کیوں کر دی...

Woh Uthi Deikh Lo Gird e Sawari

وہ اُٹھی دیکھ لو گردِ سواری عیاں ہونے لگے انوارِ باری نقیبوں کی صدائیں آ رہی ہیںکسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگےچلے آتے ہیں کہتے آگے آگے فدا جن کے شرف پر سب نبی ہیںیہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں یہی والی ہیں سارے بیکسوں کےیہی فریاد رس ہیں بے بسوں کے یہی ٹوٹے دلوں کو جوڑتے ہیںیہی بند اَلم کو توڑتے ہیں اَسیروں کے یہی عقدہ کشا ہیںغریبوں کے یہی حاجت روا ہیں یہی ہیں بے کلوں کی جان کی کلانہیں سے ٹیک ہے ایمان کی کل شکیب بے قرارا...

Dil Main Ho Yaad Teri

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہوپھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو آستانے پہ ترے سر ہو اَجل آئی ہواَور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو خاک پامال غریباں کو نہ کیوں زندہ کرےجس کے دامن کی ہوا بادِ مسیحائی ہو اُس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحتخاکِ طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو تاج والوں کی یہ خواہش ہے کہ اُن کے دَر پرہم کو حاصل شرفِ ناصیہ فرسائی ہو اک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کووہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے...

Hai Pak Rutba Fikr Say Us Bay Niaz Ka

ہے پاک رُتبہ فکر سے اُس بے نیاز کاکچھ دخل عقل کا ہے نہ کام اِمتیاز کا شہ رگ سے کیوں وصال ہے آنکھوں سے کیوں حجابکیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا لب بند اور دل میں وہ جلوے بھرئے ہوئےاللہ رے جگر ترے آگاہ راز کا غش آ گیا کلیم سے مشتاقِ دید کوجلوہ بھی بے نیاز ہے اُس بے نیاز کا ہر شے سے ہیں عیاں مرے صانع کی صنعتیںعالم سب آئینوں میں ہے آئینہ ساز کا اَفلاک و ارض سب ترے فرماں پذیر ہیںحاکم ہے تو جہاں کے نشیب و فراز کا اس بے کسی میں دل کو مرے ٹی...

Saaqi Kuch Apney Baadakashoun Ki Khabar Bhi Hai

ساقی کچھ اپنے بادہ کشوں کی خبر بھی ہےہم بے کسوں کے حال پہ تجھ کو نظر بھی ہےجوشِ عطش بھی شدّتِ سوزِ جگر بھی ہےکچھ تلخ کامیاں بھی ہیں کچھ دردِ سر بھی ہےایسا عطا ہو جام شرابِ طہور کاجس کے خمار میں بھی مزہ ہو سُرور کا اب دیر کیا ہے بادۂ عرفاں قوام دےٹھنڈک پڑے کلیجہ میں جس سے وہ جام دےتازہ ہو رُوح پیاس بجھے لطف تام دےیہ تشنہ کام تجھ کو دعائیں مدام دےاُٹھیں سرور آئیں مزے جھوم جھوم کرہو جاؤں بے خبر لبِ ساغر کو چوم کر فکرِ بلند سے ہو عیاں اقتدارِ اوجچہک...

Aasman Gar Tere Talwo Ka

آسماں گر ترے تلووں کا نظارہ کرتاروز اک چاند تصدق میں اُتارا کرتا طوفِ روضہ ہی پہ چکرائے تھے کچھ ناواقفمیں تو آپے میں نہ تھا اور جو سجدہ کرتا صَرصرِ دشتِ مدینہ جو کرم فرماتیکیوں میں افسردگیِ بخت کی پرواہ کرتا چھپ گیا چاند نہ آئی ترے دیدار کی تاباور اگر سامنے رہتا بھی تو سجدہ کرتا یہ وہی ہیں کہ گرِو آپ اور ان پر مچلواُلٹی باتوں پہ کہو کون نہ سیدھا کرتا ہم سے ذرّوں کی تو تقدیر ہی چمکا جاتامہر فرما کے وہ جس راہ سے نکلا کرتا دُھوم ذرّوں می...

Asiyon Ko Dar Tumhara Mil Gaya

عاصیوں کو دَر تمہارا مل گیابے ٹھکانوں کو ٹھکانا مل گیا فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کیمل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیا کشفِ رازِ مَنْ رَّاٰنِی یوں ہواتم ملے تو حق تعالیٰ مل گیا بے خودی ہے باعثِ کشفِ حجابمل گیا ملنے کا رستہ مل گیا اُن کے دَر نے سب سے مستغنی کیابے طلب بے خواہش اِتنا مل گیا ناخدائی کے لیے آئے حضورڈوبتو نکلو سہارا مل گیا دونوں عالم سے مجھے کیوں کھو دیانفسِ خود مطلب تجھے کیا مل گیا خلد کیسا کیا چمن کس کا وطنمجھ کو صحراے مدینہ مل گی...

Jo Ho Sir Ko Rasai Un K Dar Tak

جو ہو سر کو رَسائی اُن کے دَر تکتو پہنچے تاجِ عزت اپنے سر تک وہ جب تشریف لائے گھرسے در تکبھکاری کا بھرا ہے دَر سے گھر تک دُہائی ناخداے بے کساں کیٔکہ سلاکبِ اَلم پہنچا کمر تک الٰہی دل کو دے وہ سوزِ اُلفتپُھنکے سنہک جلن پہنچے جگر تک نہ ہو جب تک تمہارا نام شاملدعائںے جا نہںا سکتںے اَثر تک گزر کی راہ نکلی رہ گزر مںقابھی پہنچے نہ تھے ہم اُن کے دَر تک خدا یوں اُن کی اُلفت مںں گما دےنہ پاؤں پھر کبھی اپنی خبر تک بجائے چشم خود اُٹھتا نہ ہو آڑجمالِ یار سے...

Kahoun Kiya Haal Zahid Gulshan e Taiba Ki Nuzhat Ka

کہوں کیا حال زاہد، گلشن طیبہ کی نزہت کاکہ ہے خلد بریں چھوٹا سا ٹکڑا میری جنت کا تعالیٰ اللہ شوکت تیرے نامِ پاک کی آقاکہ اب تک عرشِ اعلیٰ کو ہے سکتہ تیری ہیبت کا وکیل اپنا کیا ہے احمد مختار کو میں نےنہ کیوں کر پھر رہائی میری منشا ہو عدالت کا بلاتے ہیں اُسی کو جس کی بگڑی وہ بناتے ہیںکمر بندھنا دیارِ طیبہ کو کھلنا ہے قسمت کا کھلیں اسلام کی آنکھیں ہوا سارا جہاں روشنعرب کے چاند صدقے کیا ہی کہنا تیری طلعت کا نہ کر رُسواے محشر، واسطہ محبوب کا ی...

Tasawur Lutf Daita Hai Dahaan e Pak Sarwar Ka

تصور لطف دیتا ہے دہانِ پاک سرور کابھرا آتا ہے پانی میرے منہ میں حوضِ کوثر کا جو کچھ بھی وصف ہو اُن کے جمالِ ذرّہ پرور کامرے دیوان کا مطلع ہو مطلع مہرِ محشر کا مجھے بھی دیکھنا ہے حوصلہ خورشید محشر کالیے جاؤں گا چھوٹا سا کوئی ذرّہ ترے دَر کا جو اک گوشہ چمک جائے تمہارے ذرّۂ دَر کاابھی منہ دیکھتا رہ جائے آئینہ سکندر کا اگر جلوہ نظر آئے کفِ پاے منور کاذرا سا منہ نکل آئے ابھی خورشید محشر کا اگر دم بھر تصور کیجیے شانِ پیمبر کازباں پہ شور ہو ...

Qibla Ka Bhi Rukh e Naiko Nazar Aaya

قبلہ کا بھی کعبہ رُخِ نیکو نظر آیاکعبہ کا بھی قبلہ خمِ اَبرو نظر آیا محشر میں کسی نے بھی مری بات نہ پوچھیحامی نظر آیا تو بس اِک تو نظر آیا پھر بندِ کشاکش میں گرفتار نہ دیکھےجب معجزۂ جنبشِ اَبرو نظر آیا اُس دل کے فدا جو ہے تری دید کا طالباُن آنکھوں کے قربان جنھیں تو نظر آیا سلطان و گدا سب ہیں ترے دَر کے بھکاریہر ہاتھ میں دروازے کا بازو نظر آیا سجدہ کو جھکا جائے براہیم میں کعبہجب قبلۂ کونین کا اَبرو نظر آیا بازارِ قیامت میں جنھیں ک...

Mujrim e Haibat Zada Jab Fard e Isyan

مجرمِ ہیبت زدہ جب فردِ عصیاں لے چلالطفِ شہ تسکین دیتا پیش یزداں لے چلا دل کے آئینہ میں جو تصویرِ جاناں لے چلامحفل جنت کی آرائش کا ساماں لے چلا رہروِ جنت کو طیبہ کا بیاباں لے چلادامنِ دل کھینچتا خارِ مغیلاں لے چلا گل نہ ہو جائے چراغِ زینتِ گلشن کہیںاپنے سر میں مَیں ہواے دشتِ جاناں لے چلا رُوے عالم تاب نے بانٹا جو باڑا نور کاماہِ نو کشتی میں پیالا مہرِ تاباں لے چلا گو نہیں رکھتے زمانے کی وہ دولت اپنے پاسپَر زمانہ نعمتوں سے بھر کے داماں لے ...

Aisa Tujhe Khaliq Ne

ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایایوسف کو ترا طالبِ دیدار بنایا طلعت سے زمانے کو پُر انوار بنایانکہت سے گلی کوچوں کو گلزار بنایا دیواروں کو آئینہ بناتے ہیں وہ جلوےآئینوں کو جن جلوؤں نے دیوار بنایا وہ جنس کیا جس نے جسے کوئی نہ پوچھےاُس نے ہی مرا تجھ کو خریدار بنایا اے نظم رسالت کے چمکتے ہوئے مقطعتو نے ہی اُسے مطلعِ انوار بنایا کونین بنائے گئے سرکار کی خاطرکونین کی خاطر تمہیں سرکار بنایا کنجی تمھیں دی اپنے خزانوں کی خدا نےمحبوب کیا مالک و مخ...

Tumhara Naam Musibat Mein Jab Liya Hoga

تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہو گاہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہو گا گناہگار پہ جب لطف آپ کا ہو گاکیا بغیر کیا ، بے کیا کیا ہو گا خدا کا لطف ہوا ہو گا دستگیر ضرورجو گرتے گرتے ترا نام لے لیا ہو گا دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبیکہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہو گا خداے پاک کی چاہیں گے اگلے پچھلے خوشیخداے پاک خوشی اُن کی چاہتا ہو گا کسی کے پاوں کی بیڑی یہ کاٹتے ہوں گے کوئی اسیرِغم اُن کو پکارتا ہو گا کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤنہیں تو دَ...

Ye Ikram Hai Mustafa Par Khuda Ka

یہ اکرام ہے مصطفےٰ پر خدا کاکہ سب کچھ خدا کا ہوا مصطفےٰ کا یہ بیٹھا ہے سکہ تمہاری عطا کاکبھی ہاتھ اُٹھنے نہ پایا گدا کا چمکتا ہوا چاند ثور و حرا کااُجالا ہوا بُرجِ عرشِ خدا کا لحد میں عمل ہو نہ دیوِ بلا کاجو تعویذ میں نقش ہو نقشِ پا کا جو بندہ خدا کا وہ بندہ تمہاراجو بندہ تمہارا وہ بندہ خدا کا مرے گیسوؤں والے میں تیرے صدقےکہ سر پر ہجومِ بَلا ہے بَلا کا ترے زیرِ پا مسندِ ملکِ یزداںترے فرق پر تاجِ مُلکِ خدا کا سہارا دیا جب مرے ناخدا نےہوئی...

Wah Kya Martaba Hua Tera

واہ کیا مرتبہ ہوا تیراتو خدا کا خدا ہوا تیرا تاج والے ہوں اِس میں یا محتاجسب نے پایا دیا ہوا تیرا ہاتھ خالی کوئی پھرا نہ پھرےہے خزانہ بھرا ہوا تیرا آج سنتے ہیں سننے والے کلدیکھ لیں گے کہا ہوا تیرا اِسے تو جانے یا خدا جانےپیش حق رُتبہ کیا ہوا تیرا گھرہیں سب بند دَرہیں سب تیغایک دَر ہے کھلا ہوا تیرا کام توہین سے ہے نجدی کوتو ہوا یا خدا ہوا تیرا تاجداروں کا تاجدار بنابن گیا جو گدا ہوا تیرا اور میں کیا لکھوں خدا کی حمدحمد اُسے وہ خدا ہوا ت...

Pur Noor Hai Zamana Subhe Shabe Wiladat

پرُ نور ہے زمانہ صبح شبِ ولادتپرَدہ اُٹھا ہے کس کا صبح شبِ ولادت جلوہ ہے حق کا جلوہ صبح شبِ ولادتسایہ خدا کا سایہ صبح شبِ ولادت فصلِ بہار آئی شکلِ نگار آئیگلزار ہے زمانہ صبح شبِ ولادت پھولوں سے باغ مہکے شاخوں پہ مُرغ چہکےعہدِ بہار آیا صبح شبِ ولادت پژ مُردہ حسرتوں کے سب کھیت لہلہائےجاری ہوا وہ دریا صبح شبِ ولادت گل ہے چراغِ صرَصَر گل سے چمن معطرآیا کچھ ایسا جھونکا صبح شبِ ولادت قطرہ میں لاکھ دریا گل میں ہزار گلشننشوونما ہے کیا کیا صبح...

Sir se Paa Tak Har Ada Hai Lajawab

سر سے پا تک ہر اَدا ہے لاجوابخوبرویوں میں نہیں تیرا جواب حُسن ہے بے مثل صورت لاجوابمیں فدا تم آپ ہو اپنا جواب پوچھے جاتے ہیں عمل میں کیا کہوںتم سکھا جاؤ مرے مولیٰ جواب میری حامی ہے تری شانِ کریمپُرسشِ روزِ قیامت کا جواب ہے دعائیں سنگِ دشمن کا عوضاِس قدر نرم ایسے پتھر کا جواب پلتے ہیں ہم سے نکمّے بے شمارہیں کہیں اُس آستانہ کا جواب روزِ محشر ایک تیرا آسراسب سوالوں کا جوابِ لاجواب میں یدِ بیضا کے صدقے اے کلیمپر کہاں اُن کی کفِ پا کا جواب...

Tera Zahoor Hoa Chasm e Noor Ki Ronaq

ترا ظہور ہوا چشمِ نور کی رونقترا ہی نور ہے بزمِ ظہور کی رونق رہے نہ عفو مںچ پھر ایک ذرّہ شک باقیجو اُن کی خاکِ قدم ہو قبور کی رونق نہ فرش کا یہ تجمل نہ عرش کا یہ جمالفقط ہے نور و ظہورِ حضور کی رونق تمہارے نور سے روشن ہوئے زمنی و فلکییہ جمال ہے نزدیک و دُور کی رونق زبانِ حال سے کہتے ہںد نقشِ پا اُن کےہمںن ہںے چہرۂ غلمان و حور کی رونق ترے نثار ترا ایک جلوۂ رنگںحبہارِ جنت و حور و قصور کی رونق ضاا زمنو و فلک کی ہے جس تجلّی سےالٰہی ہو وہ دلِ ن...

Tooba Main Jo Sab Se Unchi

طوبیٰ میں جو سب سے اونچی نازک سیدھی نکلی شاخمانگوں نعتِ نبی لکھنے کو روحِ قدس سے ایسی شاخ مولیٰ گلبن رحمت زہرا سبطین اس کی کلیاں پھولصدّیق و فاروق و عثماں، حیدر ہر اک اُس کی شاخ شاخِ قامتِ شہ میں زلف و چشم و رخسار و لب ہیںسنبل نرگس گل پنکھڑیاں قُدرت کی کیا پھولی شاخ اپنے اِن باغوں کا صدقہ وہ رحمت کا پانی دےجس سے نخلِ دل میں ہو پیدا پیارے تیری ولا کی شاخ یادِ رخ میں آہیں کرکے بَن میں مَیں رویا آئی بہارجھومیں نسیمیں، نیساں برسا، کلیاں چٹکیں، مہکی ش...

Tumhare Zare Ke Parto

تمھارے ذرّے کے پرتو ستارہائے فلکتمھارے نعل کی ناقص مثل ضیائے فلک اگرچہ چھالے ستاروں سے پڑ گئے لاکھوںمگر تمھاری طلب میں تھکے نہ پائے فلک سرِ فلک نہ کبھی تا بہ آستاں پہنچاکہ ابتدائے بلندی تھی انتہائے فلک یہ مٹ کے ان کی رَوِش پر ہوا خود اُن کی رَوِشکہ نقش پا ہے زمیں پر نہ صوتِ پائے فلک تمھاری یاد میں گزری تھی جاگتے شب بھرچلی نسیم ہوئے بند دیدہائے فلک نہ جاگ اٹھیں کہیں اہلِ بقیع کچی نیندچلا یہ نرم نہ نکلی صدائے پائے فلک یہ اُن کے جلوے نے کیں گرمیاں ش...