Hazrat Sheikh Abul Fatah Jonpuri

حضرت شیخ ابوالفتح جونپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

 آپ اپنے جد امجد قاضی عبدالمقتدر کے تلمیذ و مرید تھے اور اپنے دادا ہی کے طریقہ پر قائم رہے جوبڑے عقل مند عالم تھے اور انہی کی وصیت کے مطابق درس و تداریس اور عوام کو فائدہ پہنچانے میں مشغول رہے۔ عربی زَبان میں قصیدے اور فارسی زَبان میں اشعار کہا کرتے تھے۔ آپ کے قاضی شہاب الدین سے اصول علمِ کلام اور فقہی مسائل میں بہت مناظر ہوئے تھے۔ سیاہ بلی کے پسینہ کو شیخ پلید کہتے تھے اور قاضی صاحب طاہر اور یہ بات ان رسائل کے اندر بھی موجود ہے جو اس بحث پر لکھے گئے ہیں۔ آپ کی اولاد میں سے بعضوں کا بیان ہے کہ شیخ ابوالفتح موالیوں کی طرح بد زَبان تھے وہ اپنے مخالفوں کو غصہ کی حالت میں گالیاں دیتے تھے۔ ممکن ہے کہ مناظرے کے وقت ان کی یہ حالت ہوجاتی ہو یا دیدہ و دانستہ دشمنوں کو بُرا کہتے ہوں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے گھر میں سونے کی بارش ہوا کرتی تھی۔ اگرچہ یہ بات عام لوگوں میں مشہور ہے لیکن آپ کے ملفوظات میں جو آپ کے خلفاء نے لکھے ہیں کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ ہی اس واقعہ کی ان کی اولاد سے تصدیق ہوتی ہے۔ سوائے شیخ عبدالوہاب کے جو آپ کی اولاد میں سے بڑے بزرگ تھے وہ فرماتے ہیں کہ شیخ ابوالفتح نے اپنے دادا قاضی عبدالمقتدر کے ملفوظات جمع کیے ہیں اس میں لکھا ہے کہ قاضی شاہ جو قاضی عبدالمقتدر کے خلفاء میں سے تھے وہ ایک دن شیخ نصیرالدین محمود کے پاس دہلی تشریف لائے اور فرمایا کہ میں ایک دن قاضی عبدالمقتدر کے پاس گیا۔ اس وقت ان کے گھر میں تین روز سے فاقہ تھا جس کا قاضی صاحب نے مجھ سے ذکر بھی کیا تھا چنانچہ میں ان کے ہاں سے اُٹھ کر باہر آگیا۔ ان کے اس جانکاہ واقعہ سے میں خود بڑی پریشانی کی حالت میں ان کے گھر کے سامنے بیٹھ گیا کہ پندرہ بیس روپوں کی ان کےگھر میں بارش ہوئی۔ میں نے ان تمام سکوں کو اُٹھا لیا اور قاضی صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو وہ روپے پیش کیے اور تمام واقعہ بھی سنادیا لیکن وہ مجھ پر سخت ناراض ہوئے میں نے بہت اصرار کیا کہ اگر ان تمام کو قبول نہیں فرماتے تو ان میں سے کچھ تو ضرور قبول فرمالیجیے لیکن میں جتنا اصرار کرتا آپ کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا، بالاخر انھوں نے ایک روپیہ بھی قبول نہیں کیا، پس یہ فی الواقع شیخ عبدالمقتدر کی کرامت تھی۔

لوگوں میں مشہور ہے کہ اس کے بعد قاضی عبدالمقتدر کے معتقدین نے وہ روپے قاضی صاحب سے ایک بڑی رقم دے کر خرید لیے تھے، شیخ ابوالفتح ابتداً تو دہلی میں رہتے تھے، لیکن امیر تیمور کے غدر کے وقت دہلی کے دوسرے بزرگوں اور بڑے لوگوں کے ہمراہ جونپور تشریف لے گئے تھے، اس کس مپرسی کے عالم میں قاضی شہاب الدین بھی دہلی سے جونپور آئے تھے۔ شیخ ابوالفتح۱۴؍ محرم الحرام ۷۷۲ھ میں بمقام دہلی اس دنیا میں تشریف لائے اور بروز جمعہ۱۳؍ ربیع الاول ۸۵۸ھ میں جان جانِ آفریں کے حوالہ کی۔

شیخ ابو الفتح جونپوری[1]: عالم فاضل،فصیح بلیغ،جامع معقول و منقول اور اپنے جد امجد قاضی عبد المقتدر کے شاگرد مرید تھے اور مطابق ان کی وصیت کے ہمیشہ درس وفادۃ عللوم میں مشغول رہتے تھے،اکثر عربی و فارسی قصائد کہا کرتے تھے۔قاضی شہاب الدین سے آپ کے اصول کلامیہ اور فروع فقہیہ میں بہت مباحثے ہوئے خصوصاً زباد گربہ یعنی مشک بلائی کے باب میں جو بلی کے عرق سے ٹپکتا ہے شیخ اس کو پلید کہتے تھے اقر قاضی شہاب الدین اس کی طہارت کا حکم دیتے تھے چنانچہ اس بحث میں کئی رسالے تصنیف ہوئے۔شیخ موصوف پہلے دہلی میں رہا کرتے تھے لیکن امیر تیمور کے وافعہ میں  بہ ہمراہی دیگر اکابر کے جونپور میں چلے گئے اور قاضی شہاب الدین بھی اسی واقعہ میں دہلی سے جونپور میں پہنچے۔کہتے ہیں کہ شیخ کے گھر میں زر بر سا تھا لیکن سوائے شیخ عبد الوہاب کے آپ کی دوسری اولاد اس واقعہ کی قائل نہیں۔آپ ۱۴محرم ۷۷۲ھ میں پیدا اور یوم جمعہ ۱۳ربیع الاول ۸۵۸ھ میں فوت ہوئے۔’’بحر رحمت‘‘ تاریخ وفات ہے۔

1۔ ابو الفتح بن عبد الحی بن عبد المقتدرین رکن الدین شریحی الکندی الدہلوی چم جونپوری ولادت ۷۷۲ھ(مرتب)


 (حدائق الحنفیہ)

مزید

Comments